کیا خواجہ یونس کی ماں کو انصاف ملے گا؟

کیا سچن وازے بچ نکلے گا؟
کیا خواجہ یونس اور من سکھ ہیرن کو انصاف نہیں ملے گا؟
شکیل رشید(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)
من سکھ ہیرین کی بیوی وملا ہیرین نے مجھے ایک ماں کی یاد دلادی۔
وملا ہیرون کی آواز، کہ اس کے شوہرمن سکھ ہیرین کو اسسٹنٹ پولس انسپکٹر سچن وازے نے قتل کیا ہے ، ابھی ابھی بلند ہوئی ہے لیکن اس آواز نے مہاراشٹر کی ’ مہاوکاس اگھاڑی‘ کی سرکار کوہلا دیا ہے ، سچن وازے کو گرفتار کرلیا گیا ہے ، اور ممبئی کے پولس کمشنر کے عہدے سے پرم ویرسنگھ کو ہٹاکران کی جگہ ہیمنت ناگرالے کو دے دی گئی ہے۔ سیاسی گلیاروں میں ایک بھونچال سامچا ہوا ہے ۔ ریاستی وزیرداخلہ انیل دیشمکھ کو ہٹائے جانے کا مطالبہ زور پکڑرہا ہے ۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ صنعت کار مکیش امبانی کے مکان ’انٹیلیا‘ کے باہر ’اسکارپیوکار‘ سے برآمد ہونے والے دھماکہ خیز مواد اور من سکھ ہیرین کی خودکشی یا قتل کی واردات کے پس ِ پشت جو بھی ’ راز ‘ تھے یا ’ راز‘ ہیں، سچن وازے نے این آئی اے کے افسران کی تفتیش میں سب اُگل دیے ہیں ۔ یہ ’راز‘ کیا ہیں کسی کو نہیں معلوم اور شاید کسی کو معلوم بھی نہ ہوسکیں گے ، مگر جانکار یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ جو بھی ’راز‘ ہیں، ان کی بنیاد پر سیاسی وفاداریاں خریدی اور بیچی جائیں گی اور مہاراشٹر کی ادھوٹھاکرے کی حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی کوشش ہوگی ، یعنی آنے والے دنوں میں مہاراشٹر ایک بہت بڑے سیاسی بھونچال سے گزرسکتا ہے ۔۔۔ جب سمجھداری سے فیصلے نہیں لیے جاتے تب اسی طرح کے حالات پیدا ہوتے ہیں ۔ اور اس میں کیا شک ہے کہ ادھوٹھاکرے نے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے ، انیل دیشمکھ نے ریاستی وزیر داخلہ کے طور پر اور پرم ویر سنگھ نے پولس کمشنر کی حیثیت سے ’انٹیلیا‘ معاملے میں بھی اور من سکھ ہیرین کی خودکشی یا قتل کے معاملے میں بھی درست فیصلے نہیں کیے۔۔۔ لیکن اس پر بات کرنے سے قبل اس ’ماں‘ کا ذکر ضروری ہے جس کی یاد من سکھ ہیرین کی بیوہ وملاہیرین کی آواز نے دلادی ہے ۔ یہ کوئی اور نہیں مظلوم خواجہ یونس کی غمزدہ مگر ہمت اور جرات کی پیکر ماں ، آسیہ بیگم ہے ۔ ۷۲۔۷۳ سال کی یہ ماں تھکی نہیں ہے اور اپنے بیٹے خواجہ یونس کو انصاف دلانے کے لئے آج بھی کوشاں ہے ۔ میں نے کئی بار اس باہمت خاتون کو دیکھا ہے ۔ ممبئی میں جب خواجہ یونس معاملے کی شنوائی ہوتی تھی تو آسیہ بیگم اپنے شوہر سیّد خواجہ ایوب کے ہمراہ پربھنی سے آتی تھی ۔ سیّدخواجہ ایوب اب نہیں رہے ، وہ آخری دم تک اپنے بیٹے کو انصاف دلانے کے لئے دوڑتے بھاگتے رہے اور ایک دن خالقِ حقیقی سے جاملے ۔۔۔ من سکھ ہیرین کی بیوہ وملا کی طرح آسیہ بیگم کی آواز نے بھی سچن وازے کو معطل کرایا تھا۔۔۔ بامبے ہائی کورٹ سے معطلی کے احکامات جاری ہوئے تھے ۔ وازے کے ساتھ تین پولس کانسٹبلوں کو بھی معطل کیاگیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ 2دسمبر 2002ء کے روز گھاٹ کوپر میں ایک بیسٹ کی بس میںہوئے بم بلاسٹ ،جس میں دو افراد ہلاک او50 زخمی ہوئے تھے ، کے ایک ملزم 27 سالہ خواجہ یونس کو انہوں نے پولس حراست میں شدید ترین اذیتیں دیں ، ایسی اذیتیں کہ خواجہ یونس کو خون کی الٹیاں شروع ہوگئیں اور ا س کی موت ہوگئی۔ ۔۔ سچ وازے کی کہانی کچھ اور تھی ، اس کا اور تینوں پولس کانسٹبلوں کا یہ کہنا تھا کہ وہ ممبئی سے ایک گاڑی میں خواجہ یونس کو ’تفیش‘ کے سلسلے میں اورنگ آباد لے جارہے تھے کہ اس نے گاڑی سے کود کر فرار ہونے کی کوشش کی اور اس کوشش میں وہ ایک کھائی کے اندر جاگرا۔۔۔ خواجہ یونس کی لاش آج تک برآمد نہیں ہوئی ہے ۔ 7جنوری 2003ء کو خواجہ یونس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کی گئی تھی۔ اگر ڈاکٹر عبدالمتین کی صورت میں ایک عینی شاہد سامنے نہ آتا ۔۔۔اورنگ آباد کے ڈاکٹر عبدالمتین کو بھی گھاٹ کوپر بم بلاسٹ معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا۔۔۔تو شاید آج تک خواجہ یونس کو فرار ہی سمجھا جاتا ۔
ڈاکٹر عبدالمتین نے یہ گواہی دی تھی کہ اس نے سیل کے اندر سے خواجہ یونس کے چیخنے چلانے کی تیزآوازیں سنی تھیں اور اسے خون کی قئے کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ ڈاکٹر عبدالمتین کے مطابق خواجہ یونس کی موت 6 جنوری 2003ءکو ہوچکی تھی ۔ گھاٹ کوپر بم بلاسٹ کے تیسرے ملزم نے بھی اس گواہی کی تصدیق کی ۔ ڈاکٹر عبدالمتین نے 2018 ء میں مزید 4 مشتبہ پولس اہلکاران کے نام بتائے ہیں ۔ پرفل بھونسلے ، ہیمنت دیسائی، راجہ رام وہنمانے اور اشوک کھوت۔مئی 2003ء میں حراستی موت کا معاملہ سی آئی ڈی کو سونپ دیاگیا ۔ سی آئی ڈی نے اکتوبر 2006 میں اپنی تفتیش پوری کرکے 14 پولس والوں بشمول سچن وازے ،کے خلاف چارج شیٹ تیار کی ۔ افسوس کہ 2007ء کی کانگریس ۔ این سی پی کی ریاستی سرکار نے صرف 4 پولس والوں کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت دی ، باقی دس کو ’چھوڑ‘ دیا! 19 مارچ 2011 ء کو سچن وازے ، راجندر تیواری ، سنیل دیسائی اور راجہ رام نکم کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ۔۔۔
پہلےکانگریس ۔ این سی پی کی اور پھر شیوسینا ۔ بی جے پی کی سرکار نے تمام قصوروار پولس اہلکاران کو بچانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا تھا اور اب بھی سارا زور لگائے ہوئے ہے۔ خصوصی پبلک پروسیکیوٹر دھیرج میرازتک کو ہٹادیا گیاتھا ، مگر سچن وازے اور تینوں پولس کانسٹبلوں کی بحالی ممکن نہیں ہوسکی ۔ کانگریس کوسچن وازے سے کیسی ’ محبت‘ ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2007ء میں وازے نے پولس فورس سے ’استعفیٰ‘ دیا لیکن اس کے استعفے کو ’منظور‘ نہیں کیا گیا ۔ اب آئیں شیوسینا کی طرف ، جس کے وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے کی ایما پر پرم ویر سنگھ نے وازے اور دیگر معطل افسران کو بحال کیا تھا ، تو سچ یہ ہے کہ 2008ء میں سچن وازے نے شیوسینا میں ، ادھو ٹھاکرے کی موجودگی میں ، شمولیت اختیار کی تھی ، تب سے اب تک وازے شیوسینک ہی ہے ، اسی لئے وزیراعلیٰ نے شیوسینا پرمکھ کی حیثیت سے اپنے شیوسینک وازے کی بحالی کو ممکن بنایاتھا ۔ بہانہ کورونا کی وبا، کو بنایا گیا کہ اس وبا کے دوران پولس کو ہرافسر کی ، جو آج موجود ہیں ان کی بھی اور پہلے والوں کی بھی ، ضرورت ہے ،لہٰذا وازے اور تینوں معطل پولس کانسٹبلوں کو بحال کردیا گیا ۔ گویا یہ کہ وازے کو کانگریس ۔ این سی پی بھی ’پسند‘ کرتی تھی ، اسی لئے اسے بچاتی رہی ، اس کا استعفیٰ نامنظور کیا ، اور اسے اپنی مرضی سے ’ انکاؤنٹر‘ کرنے کا پروانہ دیئے رہی ۔۔۔ اور رہا معاملہ شیوسینا کا تو وازے شیوسینک ہے ہی ۔ سچن وازے اینڈ کمپنی پر خواجہ یونس قتل معاملے میں تین مقدمے ہیں ، ایک تو قتل کا مقدمہ ، جس میں صرف دوگواہیاں ہوئی ہیں اور 2018ء سے کوئی شنوائی نہیں ہوئی ہے ۔ آسیہ بیگم ہر دروازہ کھٹکھٹارہی ہے ۔۔دوسرا مقدمہ وازے کی بحالی کے خلاف ہے ، اور تیسرا مقدمہ وازے اینڈ کمپنی کو دوبارہ معطل کرنے کا ہے ، یہ دونوں ہی مقدمے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) لڑرہی ہے ۔جمعیۃ کی لیگل سیل کے سربراہ گلزار اعظمی کا کہنا ہے کہ اب وازے بچ نہیں سکے گا۔ خواجہ یونس مقدمہ کو آگے بڑھانے کی امید تو خالص ’سیکولر‘ کہلانے والی سرکاروں سے بھی نہیں تھی، ’مہاوکاس اگھاڑی‘ کی سرکار میں تو شیوسینا شامل ہے ، اور بی جے پی اس کے پیچھے پڑی ہے ۔ ممکن نہیں لگتا کہ خواجہ یونس قتل معاملے کی شنوائی جلد شروع ہوسکے گی ۔۔۔ پولس فورس پر بھی کوئی بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ، یہ آج تک وازے کو بچاتی آئی ہے ، آئندہ بھی بچائے گی ۔۔۔ خواجہ یونس کا قتل ہوا ہے ، یہ بات یقینی ہے ۔ خواجہ یونس کی لاش جلادی گئی ہے ، یہ ماننے والی بات ہے ۔۔۔ آسیہ بیگم کے خلاف ایک طرح سے پوری سرکار اور پولس فورس کھڑی ہے مگر اس خاتون نے اپنی لڑائی روکی نہیں ہے ۔۔۔ افسوس یہ ہیکہ اس خاتون کو نہ مسلمانوں کی سیاسی قیادت کا ساتھ ملا اور نہ ہی سماجی قیادت کا ، لوگوں نے اپنے اپنے سیاسی وسماجی مفادات کے لیے کچھ دن ساتھ ضرور دیا لیکن پھر آسیہ بیگم کو اکیلا چھوڑ دیا ۔۔۔ مگر باری تعالیٰ کی ذات تو ہے ، اسے ظلم پسند نہیں ہے ، لہٰذا ’ مکافات عمل‘ شروع ہوگیا ہے ۔ من سکھ ہیرین کی خودکشی کو قتل مان کر سچن وازے کی تفتیش شروع کردی گئی ہے ۔ پانچ مشتبہ کاریں اب تک برآمد ہوئی ہیں ۔ نوٹ گننے کی ایک مشین بھی ملی ہے ۔ پتہ چلا ہیکہ سچن وازے اس کار کو استعمال کرتا تھا جس سے دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا ہے ۔ معاملہ حالانکہ مقامی ہے لیکن این آئی اے کی ٹیم تفتیش میں شامل ہے ۔۔۔ مطلب مرکز اس معاملے میں ’دلچسپی‘ لے رہا ہے ۔ اس کا سیدھا مطلب یہی ہے کہ کوئی بڑا گیم پلان تھا! کیا؟ اس سوال کا جواب شاید نہ مل سکے ، اور یہ بھی ممکن ہے کہ سچن وازے بچ نکلے یا بچالیا جائے، لیکن یہ یقینی ہے کہ اب پولس فورس کا دروازہ اس پر نہیں کھلے گا ۔۔۔ اور بہت ممکن ہے ، بلکہ میری تو یہ دعا ہیکہ میری یہ بات غلط ثابت ہو ، سچن وازے نہ بچ سکے اور نہ بچایا جاسکے ، اسے سزا ملے ، تاکہ خواجہ یونس ، من سکھ ہیرین اور اُنہیں وازے نے جنہیں فرضی انکاؤنٹر میں مارا ہے، انصاف مل سکے ۔۔۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو ، آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں