’’وازے نوازی ‘‘ مصیبت بن گئی

’’وازے نوازی ‘‘ مصیبت بن گئی
تکلف برطرف :سعید حمید
کتے کی دم ٹیڑھی ہی رہے گی ،
یہ بات سچن وازے نے ایک بار پھر سچ ثابت کردی ۔
جب اس نے یونیفارم پہنا تھا ،
تب خواجہ یونس کا قتل کیا ،
اس کے خلاف کیس بھی ہوا ،
لیکن،
انصاف نہیں ہوا ۔
شیو سینا نے ایم ملزم اور معطل پولس والے کو گلے لگایا ،
اور وہ ان کیلئے گلے کا پھندہ بن گیا ۔
اپنے اقتدار کا نے جا استعمال کرتے ہوئے شیوسینا نے
ایک عادی مجرم کو پھر سے وردی پہنائی ،
ہائی کورٹ کے احکامات کا بھی لحاظ نہیں رکھا ۔
وازے نوازی میں شیوسینا اس قدر آگے بڑھ گئی
کہ اس نے چودہ برس تک معطل رہنے والے ایک جونئر
پولس افسر سچن وازے کو جو اسسٹنٹ پولس انسپکٹر
کے عہدہ کا افسر ہے ،
کرائم برانچ کی ایک اہم شاخ کرائم انٹلی جنس یونٹ
کا انچارج بنا دیا ، جس کا سربراہ
عموما ً سینئر انسپکٹر درجہ کا ایک سینیر افسر ہوا کرتا ہے ۔
یہ وازے نوازی کی حد درجہ غیر مناسب مثال تھی ۔
کرائم برانچ کی حالیہ تاریخ میں کسی بھی یونٹ کا سربراہ کسی
اے پی آئی کی حیثیت والے افسر کو نہیںبنایا گیا ۔
اسلئے شیوسینا نے ’’ وازے نوازی ‘‘ میں حدیں پار
کرتے ہوئے ایسا غیر معمولی الٹ پھیر بھی کرائم برانچ
میں کردیا ، جو قطعی مناسب نہیں تھا ۔
اسلئے ،
سچن وازے کے جلوے کرائم برانچ میں کچھ اور تھے ۔
ایک داغی جونئر افسر کا کرائم برانچ میں رعب داب کچھ اور تھا ،
کیوں ؟
کیا وہ بہت ہی قابل افسر تھا ؟
جی نہیں، وہ تو ایک داغی افسر تھا ۔
اس سے قابل اور سینئر افسران ، کرائم کی ہی دیگر یونٹوں میں
کم اہم اور کمتر درجہ کی پوسٹ پر کام کر رہے تھے ،
اور شیوسینا سرکار کی تمام تر مہربانیاں ایک داغی ، جونئر افسر
پر کیوں تھی ؟
یہ سوال اہم ہے ، اور شیوسینا کو ا س کا جواب دینا ہوگا ۔
ظاہر ہے کہ یہ ’’وازے نوازی ‘‘ تھی ،
جس کا کوئی قابل قبول جواز نہیں ۔
۲۰۰۲ء کے گھاٹ کوپر بم بلاسٹ میںخواجہ یونس کو
بے قصور ہوتے ہوئے بھی گرفتار کیا گیا ،
حراست میں اس کا قتل کردیا گیا ،
اس کی لاش کو ٹھکانے لگا دیا گیا ،
اس کیس میں ایک ملزم کی حیثیت سے وہ بھی شامل تھا ۔
سچن وازے خواجہ یونس کیس میں مارچ ، ۲۰۰۴ ء میں معطل ہوا تھا ۔
۲۰۰۷ ء میں اس نے ممبئی پولس سے استعفی دے دیا ،
اس کے بعد ممبئی نے بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا کیا ۔
تب وازے کرائم برانچ سے باہر تھا ،
ممبئی پولس سے باہر تھا ،
اس کی وردی اتاری جا چکی تھی ۔
اس نے پولس فورس سے استعفی بھی دے دیا تھا ،
کیا کرائم برانچ کو کبھی اس کی کمی محسوس ہوئی ؟
کیا کرائم برانچ کو کبھی اس کی ضرورت محسوس ہوئی ؟
ممبئی میں اس ۲۰۰۶ ء میں دوران لوکل ٹرین بم بلاسٹ ہوئے ،
نومبر ۲۰۰۸ ء میں ممبئی پر بھیانک دہشت گردانہ حملہ بھی ہوا ۔
ممبئی پولس میں دوسرے افسران و سپاہی بھی موجود تھے ، اس کا کام نہیں رکا ۔
لیکن ،
شیو سینا کا اقتدار آتے ہی آخر ایسی کیا ضرورت محسوس ہوئی
کہ ہائی کورٹ کے احکامات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سرکار نے
جون ۲۰۲۰ ء میں سچن وازے کو دوبارہ واردی پہنائی ،
اور ممبئی کرائم برانچ میں ایک بڑے ، اہم عہدہ پر اس کی تقرری کردی ؟
شیوسینا نے وازے نوازی کی حدیں پار کردی ،
کیوں ؟
اسلئے کہ خاکی وردی اتارنے کے بعد وازے
نے شیو سینا کا جھنڈہ تھا ملیا تھا ؟
یقینا ً ،
نام نہاد انکاؤنٹر اسپیشلسٹ افسر سچن وازے نے
اپنے گلے میں سزا کا پھندہ دیکھ کر ہی
شیوسینا میں شمولیت اختیار کرلی تھی ،
بے گناہ خواجہ یونس قتل کیس کا ملزم سچن وازے تب
شیوسینا کیلئے کوئی سیاسی مسئلہ نہیں بناتھا ۔
بلکہ اس کی وجہ سے ہندوتوا وادی جماعت کو
کچھ سیاسی فائدہ بھی حاصل ہو سکتا تھا ،
اسلئے شیو سینا نے ’’ وازے نوازی ‘‘ شروع کردی ،
اور اسے پارٹی کا ترجمان بھی بنا دیا ۔
حالانکہ یہ کام اس کے بس کا بھی نہیں تھا ،
اور اس نے کبھی کیا بھی نہیں ۔
پھر بھی سچن وازے ماتو شری کے بہت قریب ہوگیا ،
کیوں ؟
شائد اس کا جواب بھی فرنویس ہی دے سکتے ہیں ۔
جنہوں نے یہ انکشاف کیا کہ ۲۰۱۸ ء میں بھی شیوسینا نے
کافی زور لگا دیا تھا ،
کہ وازے کو پولس فورس میں واپس لیا جائے ۔
لیکن ،
بامبے ہائی کورٹ کے حکم کے مدنظر فرنویس نے ایسا کرنے
سے قطعی انکار کردیا تھا ۔
وقت نے کروٹ لی ، اور شیوسینا کے ہاتھ میں اقتدار
کی لاٹری لگ گئی ، صاحبان اقتدار کی عقل پر پتھر پڑگئے ،
جو انہوں نے ’’ وازے نوازی ‘‘ میں ایسا کام کردیا ،
جو آج ان کے لیئے بہت بڑی پریشانی کا سبب بن گیا ۔
کتے کی دم ٹیڑھی ہی رہی ۔
وردی پہننے کے بعد سچن وازے نے ایک اور بے گناہ
شخص کا قتل کردیا ،
اس نے مکیش امبانی کے گھر کے پاس بارود بھریگاڑی رکھ دی ،
اور پھر اس کیس کو سلجھانے اور جھوٹی کارکردگی پر تمغہ لینے کا منصوبہ تھا ،
جو بگڑتا ہوا محسوس ہوا ، تو اس نے ایک اور قتل کردیا۔
آج ایک بار پھر سچن وازے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں ،
وازے نوازی نے شیوسینا کو پریشانی میں ڈال دیا ہے ،
آگے اورکیا ہوگا ؟ خدا جانے !!!!!

اپنا تبصرہ بھیجیں