وازے سے انیل دیشمکھ ہر مہینے ۱۰۰ کروڑ روپیے مانگتے تھے !

وازے سے انیل دیشمکھ ہر مہینے ۱۰۰ کروڑ روپیے مانگتے تھے !
وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کے نام سابق پولس کمشنر پرم ویر سنگھ کے خط میں سنسنی خیز الزام، مہاراشٹر کی وکاس اگھاڑی طوفان کی زد پر، وزیر داخلہ کے استعفے کے لیے بی جے پی کا زور دار مطالبہ
ممبئی ۔۲۰؍ مارچ: (نمائندہ خصوصی) اینٹیلیا معاملہ اب مزید الجھتا جارہا ہے، اس کیس میں روز نئے نئے انکشافات ہورہے ہیں۔ ممبئی پولس کے سابق کمشنر پرم ویر سنگھ نے وزیر اعلیٰ ادھوٹھاکرے کو خط لکھا ہے۔ خط میں مہاراشٹر کے وزیر داخلہ انیل دیشمکھ پر بڑا الزام عائد کیا ہے۔ خط میں الزام لگاتے ہوئے پرم ویر سنگھ نے لکھا ہے کہ سچن وازے سے ۱۰۰ کروڑ روپئے ہر ماہ جمع کرنے کو کہاگیا تھا۔ ممبئی پولس کمشنر پرم سنگھ نے ریاستی وزیر داخلہ انیل دیشمکھ کے خلاف سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ انیل دیشمکھ نے ہی سی آئی یو کے انچارج سچن وازے ۔ ڈی سی پی انفورسمنٹ بھجل کو اپنی رہائش پر طلب کر کے انہیں سو کروڑ روپئےماہانہ فنڈ جمع کرنے کا ہدف دیا تھا اس کے بعد انہوں نے اپنی سرکاری رہائش گاہ پرسچن وازے سے تنہا بھی ملاقات کی تھی ۔ وزیر داخلہ نے ممبئی کے ہوٹل بار اور ریسٹورنٹ کی بھی نشاندہی کی تھی اور کہا تھا کہ ۱۷۵۰ممبئی میں بار اور ریسٹورنٹ ہے یہاں سےدو تین لاکھ روپے وصول کئے جاسکتے ہیں اس سے ماہانہ چالیس سے پچاس کروڑ روپئے جمع ہونے کا انداز ہ ہے اور بقیہ پیسے دیگر ذرائع سے جمع کئے جاسکتے ہیں۔ اس میٹنگ میں سوشل سروس برانچ کےاے سی پی پاٹل اورڈی سی پی بھجبل بھی تھے ۔ وزیر داخلہ کی میٹنگ میں پالانڈے بھی تھا جو اے سی پی پاٹل کو پیسہ جمع کرنے پر مجبور کر رہا تھا ۔یہ اطلاع اے سی پی پاٹل اور بھجبل نے مجھے دی ۔مسلسل فنڈ جمع کرنے کا دباؤ وزیرداخلہ کے دفتر سے پالانڈے ڈال رہا تھا ۔پرم ویر سنگھ نے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے کو مکتوب ارسال کر کے بتایا سچن وازے کی مسلسل وزیر داخلہ سے مارچ ماہ میں ملاقاتیں بھی ہوئی پالانڈے کے فون کالز اورمیسج بھی اپنے مکتوب میں پرم ویر سنگھ نے ظاہرکیا ہے ۔ اس سنسنی خیز الزام کے بعد ریاستی سرکار ایک مرتبہ پھرغیر مستحکم ہو گئی ہے پرم ویر سنگھ نے مکتوب میں کئی سنگین الزامات عائد کئے آٹھ صفحات پر مشتمل اس مکتوب میں پرم ویر نے سارے راز منکشف کئے ہیں جس سے سرکارکی مصیبتیں بڑھ گئی ہیں۔ صنعتکار مکیش امبانی کے کیس میں پرم ویر سنگھ نے ایماندانہ تفتیش کا دعوی کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ کیس این آئی اے او ر اے ٹی ایس تحقیقات کر رہی ہے اس سے متعلق میں نے تمام تفصیلات سے وزیر اعلی ادھوٹھاکرے ۔ این سی پی لیڈر شردپوار اور وزرا کے ساتھ ہوئی ورشا بنگلہ میں میٹنگ میں پیش کر دی ہے ۔پرم ویر سنگھ انیل دیشمکھ کے لوک مت کے اس انٹرویو کے بعد یہ سنسنی خیزانکشاف کیا ہے جس میں پرم ویر سنگھ کے تبادلہ کو دیشمکھ نے بطور کارروائی قراردیا تھا اورکہا تھا کہ امبانی کیس میں ان کی غلطی ناقابل معافی ہے اسلئے تبادلہ کو معمولات کا تبادلہ قرار نہ دیا جائے۔ ادھر وزیرداخلہ انیل دیشمکھ نے پولس کمشنر پرم ویر سنگھ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے خود کو کارروائی سے بچانے کے لئے جھوٹا الزام قرار دیا اور کہا کہ پرم ویر سنگھ خو د کے دفاع کے لئے اس قسم کے جھوٹے الزامات عائد کر رہے ہیں ۔انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ مکیش امبانی اور من سکھ ہرین قتل کیس میں سچن وازے کا رول اور مشکوک کردار سامنے آنے کے بعد اس کی کڑی پرم ویر سنگھ سے بھی منسلک ہو رہی تھی ۔وہیں اس انکشاف کے بعد بی جے پی مہاراشٹر فعال ہوگئی ہے۔ ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے ادھو ٹھاکرے پر حملہ کرتے ہوئے کہاکہ پرم ویر سنگھ کے الزامات مکیش امبانی کے گھر کے باہر جلیٹن ملنے سے بھی زیادہ دھماکہ دار ہے۔ انہوں نےکہاکہ دیشمکھ کے عہدے پر رہتے ہوئے منصفانہ تحقیقات کیسے ہوسکتی ہے اس لیے انہیں عہدہ سے برخاست کردیاجائے۔ فڈنویس نے کہاکہ مہاراشٹر میں پولس کو مجرمانہ عمل پر مجبور کیاجارہا ہے۔ ان کے علاوہ بی جے پی لیڈر رام کدم سمیت کریٹ سومیا اور دیگر بی جے پی لیڈران نے بھی استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ کریٹ سومیا نے اپنے بیان میں کہاکہ ممبئی کے سابق پولس کمشنر نے کہا ہے کہ ممبئی میں جبراً وصولی چل رہی تھی اور سچن وازے وزیر داخلہ کے ایجنٹ تھے، بیئربار سے لے کر دیگر جگہوں سے پیسے وصولے جارہے تھے انل دیشمکھ کو اب ہٹا دیناچاہئے۔ پرم ویر سنگھ کے اس مکتو ب نے ایک بار پھر ہلچل مچا دی ہے جس سے ریاست میں سیاسی اتھل پتھل کا بھی امکان پیدا ہوگیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں