شیوسینا کو مہاراشٹر میں روکنے کی بی جے پی کی یہ تکنیک

شیوسینا کو مہاراشٹر میں روکنے کی بی جے پی کی یہ تکنیک
سعید حمید
ممبئی 🙁 تحقیقات ایکسپریس بیورو ) سچن وازے ، پرم ویر سنگھ کے ذریعہ جو تنازعہ کھڑا کیا گیا ہے ،
اس کی TIMING پر غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ آسام ، اور خاص طور پر مغربی بنگال کے ریاستی الیکشن کی وجہ سے یہ سارا ہنگامہ پیدا کیا گیا ہے ، جو زیادہ سیاسی ہے ، تکنیکی یا قانونی کم ۔ مقصد یہ ہے کہ بی جے پی مخالف ریاستی حکومتوں کو یہ موقعہ نہیںدیا جائے کہ وہ ریاستی انتخابات پر ایک دوسرے کی مدد کریں ، جبکہ بی جے پی کو پورا پورا موقعہ ملے کہ وہ اپنی پوری قومی طاقت کسی ایک ریاست میں جہاں بی جے پی مخالف حکومت موجود ہے ، وہاں جھونک دے ۔ اس لئے ہم دیکھ رہے ہیں کہ مغربی بنگال میں ممبئی کے اشیش شیلار بھی پہنچ رہے ہیں ،
دیویندر فرنویس کو تو مغربی بنگال میں بی جے پی کی انتخابی منصوبہ بندی کا انچارج ہی بنادیا گیا ہے ۔
اور انہوں نے مغربی بنگال کے دورے بھی پچھلے مہینہ سے ہی شروع کردئیے ۔ اگر بھارت کی سیاست میں حقیقی جمہوریت باقی ہے ، تو جس طرح دیویندر فرنویس کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مغربی بنگال پہنچ کر بی جے پی کی حمایت اور ممتا بنرجی کی مخالفت میں کام کریں ۔
ویسا ہی ادھو ٹھاکرے ، سنجے راؤت و دیگر کو بھی حق حاصل ہے کہ وہ بھی ، جیسا کہ انہوں ے اعلان کیا تھا ، کہ وہ مغربی بنگال الیکشن میںاپنے امیدوار نہیں کھڑے کریں گے ، بلکہ ممتا بنرجی کی بھرپور حمایت کریں گے ، ان کو بھی اس کا موقعہ ملتا ۔ لیکن یہ اعلان ہی ان کے خلاف سازشوں کی وجہ بن گیا ۔
اس لئے اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ صنعت کار مکیش امبانی کے گھر کے پاس بارود کے ساتھ( GELATINE )
جو بے ضرر موٹر کار کھڑی کی گئی تھی ، اس سازش کا مقصد مہاراشٹر میں مغربی بنگال الیکشن کے وقت ایسا ہیجان یا اندرونی خلفشار پیدا کرنا تھا ، جس کے ذریعہ مہاراشٹر کی مہاوکاس اگھاڑی سرکار کو بظاہر کسی تنازعہ میں الجھا دیا جائے ،
اور نہ ہی ادھو ٹھاکرے ، سنجے راؤت اور نا ہی شرد پوار وغیرہ مغربی بنگال الیکشن میں ممتا بنرجی کی مدد و حمایت کیلئے پہنچ سکیں ۔
اس تھیوری کو اسبا ت سے بھی تقویت ملتی ہے کہ گذشتہ سال بہار میں الیکشن تھا ۔
اس وقت بھی بہار میں ہندوتوا دی ووٹ کاٹنے کیلئے شیوسینا نے بہار میں امیدوار کھڑے کرنے کا اعلان کیا تھا ۔تب سارا ملک جانتا ہے کہ فلم ایکٹر سشانت سنگھ راجپوت کی خود کشی کا معاملہ اس قدر اچھالا گیا ، اور اس میں ممبئی پولس و ٹھاکرے سرکار کو اس قدر الجھا دیا گیا ، کہ انہیں صرف اپنی ہی فکر لگ گئی ، وہ بہار الیکشن کو بھول گئے ۔
سسشانت سنگھ راجپوت کی خود کشی کو میڈیا ٹرائل کے ذریعہ قتل کا کیس ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ، اور پھر اس کیس میں سی بی آئی اور این سی بی جیسی سنٹرل ایجنسیوں کو بھی داخل کیا گیا ۔ کیوں ؟ مہاراشٹر سرکار کو میڈیا ٹرائل میں الجھا دیا جائے ، اور سشانت سنگھ کی خودکشی معاملہ کو بہار الیکشن میں کیش کیا جائے ۔
جب تک بہار الیکشن کی مہم جاری تھی ، سشانت سنگھ راجپوت کیس اندھے بھکتوں اور گودی میڈیا کیلئے چین و پاکستان سے بھی اہم معاملہ تھا ، لیکن جیسے ہی بہار الیکشن ختم ہوا ، آج کوئی سشانت سنگھ راجپوت کا نام لینا والا باقی نہیں ۔ کانگنا رناوت ، ارنب گو سوامی بھی اس کیس کو بھول چکے ۔ سی بی آئی انکوائری ، این سی بی انکوائری ، ای ڈی انکوائری میں کیا ملا ؟ کوئی سوال کرنے والا نہیں ۔شیوسینا سربراہ مہاراشٹر میں الجھ کر رہ گئے ، بہار نہیں جاسکے ، بی جے پی کا پلان کامیاب ہوگیا ۔
اب مغربی بنگال الیکشن میں جہاں ایک بی جے پی مخالف حکومت ہے ، جسے گرانے کا بی جے پی نے لمبا چوڑا پلان بنا رکھا ہے ، یہ کوشش ہے کہ ممتا بنرجی کی مدد کیلئے کوئی باہر والا نہیں پہنچے ۔ اس لئے ۔ سچن وازے ، پرم ویر سنگھ کے ذریعہ وہی تکنیک اختیار کی گئی ہے ، جس طرح سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کے معاملہ کو استعمال کیا گیا تھا ۔
مہاراشٹر سرکار کو الجھائے رکھو !!!
اور وازے کیس میںبھی این آئی اے شامل ہو گئی ہے ۔
پرم ویر سنگھ سینیئر آئی پی ایس افسر ہیں ، اور انہیں قانون کا علم ہے ، پھر بھی وہ بامبے ہائی کورٹ کیوں نہیں گئے ؟
ارنب گوسوامی کی طرح سیدھے سپریم کورٹ کیوں پہنچ گئے ؟ بہت ممکن ہے کہ اب سی بی آئی بھی مہاراشٹرکے معاملہ میں داخل ہوجائے ۔
گودی میڈیا بھی کام پر لگ چکا ہے ۔مہاراشٹر سرکار پوری طرح ٹارگیٹ پر ہے ۔
کم ازکم اس وقت تک جب تک ، مغربی بنگال کا الیکشن نہیں ہوجائے ، مہاراشٹر سرکار نشانہ بنی رہے گی ، اور روزانہ میڈیا ٹرائل جاری رہے گا ،ادوھو ٹھاکرے ، شردپوار وغیرہ اپنی سرکار کے دفاع میں الجھے رہیں گے ،
مغربی بنگال الیکشن ختم ہوگا ، اور پھر سچن وازے وغیرہ کو بھی سشانت سنگھ راجپوت کی طرح بھلا دیا جائے گا ۔
اورہاں ، اگلے سال (2020 ) اتر پردیش کا الیکشن ہے ، اسلئے کچھ اور بھیانک سازشوں کا نشانہ ، ممبئی بن جائے ، اور مہاراشٹر سرکار اس میں الجھ جائے ، ادھو ٹھاکرے ، شرد پوار وغیرہ یوپی نہیں جا سکیں ، اس کا بھی امکان ہے ۔
امید ہے کہ مہاراشٹرکے سابق وزیر اعلی دیویندر فرنویس مغربی بنگال کی طرح یوپی الیکشن میں بھی بی جے پی کی انتخابی مہم کے انچارج بنائے جائیں گے ، اور مہاراشٹر سرکار کے خلاف پروپگنڈہ جنگ جاری رہے گی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں