شیخ یاسین شہید مینارہ نور ہیں

افغانستان سے انخلاکا فیصلہ صدر جوبائیڈن کریں گے : امریکی وزیر دفاع
واشنگٹن ،23مارچ ( آئی این ایس انڈیا )
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر دفاع نے ایسے وقت میں دورہ کیا جب امریکہ معاہدے کے مطابق امریکی فوجیوں کی واپسی سے متعلق معاہدے کی تاریخ میں ایک ہفتہ رہ گیا۔ مزید تفصیلات کے مطابق لائڈ آسٹن نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ وہ اپنے تقرر کے بعد افغانستان کے پہلے سفر پر (صورتحال کے بارے میں) سننے اور سیکھنے آئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ دورہ میرے لیے بہت موزوں ثابت ہوا ہے اور (افغان امن عمل) کے جائزہ میں میری شرکت سے آگاہ ہوگا۔ صدر غنی کے ساتھ بات چیت کے بعد انہوں نے امریکی فوجیوں کے انخلا کے لیے یکم مئی کی آخری تاریخ کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ میرے باس (جوبائیڈن) کا دائر اختیار ہے۔ یہی وہ فیصلہ ہے جو صدر جوبائیڈن کسی وقت کریں گے۔ امریکی سیکرٹری دفاع اور ان کا وفد فوجی طیارے کی بجائے دوسرے طیارے پر افغانستان پہنچے اور سیکیورٹی کی وجہ سے دورہ افغانستان انتہائی خفیہ رکھا گیا۔ کابل میں صدارتی محل کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق دونوں فریقین نے افغانستان میں تشدد میں اضافے کی مذمت کی۔تاہم اعلامیے میں بھی یکم مئی کی آخری تاریخ کا کوئی ذکر نہیں تھا۔
شیخ یاسین شہید مینارہ نور ہیں، ان کا مشن جاری رکھیں گے:اسماعیل ھنیہ
دو حہ،23مارچ ( آئی این ایس انڈیا )
حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے جماعت کے بانی رہ نما الشیخ احمد یاسین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ الشیخ احمد یاسین فلسطینی قوم اور پوری مسلم امہ کے لیے مینارۂ نور ہیں۔ ان کی پھیلائی روشنی ہمیشہ قائم رہے گی۔ ان کا مشن جاری رکھا جائے گا۔الشیخ احمد یاسین کے یوم شہادت کے موقعے پر ایک بیان میں اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ الشیخ شہید ہمارے درمیان روشنی کا مینار تھے۔ ان کی دی روشنی ہمیشہ پورے آب وتاب کے ساتھ قائم رہے گی۔ ہم ان کی مبارک دعوت پر چل رہے ہیں۔ ان کی زندگی، جہاد، روشنی اور قربانیوں سے عبارت ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ہم ایک بار پھر الشیخ احمد یاسین کے یوم شہادت کو منار رہے ہیں۔ یہ دن ہمارے لیے ایک صدمے کا باعث ہے مگر ہم اپنے قاید اور رہ نما کے جہاد اور مزاحمت کیراستے کو ترک نہیں کریں گے۔ انہوںنے ہمیں حب الوطنی کے طریقے سکھائے اور قابض اور غاصب دشمن کے خلاف جہاد کا راستہ بتایا۔اسماعیل ھنیہ کا کہنا تھا کہ الشیخ احمد یاسین کی سیرت میں تین پہلو نمایاں ہیں اور وہ تینوں ہمارے
لیے نمونہ عمل ہیں۔ ان کی زندگی، جیل میں گذرے ان کے سال اور ان کی شہادت ہمارے لیے ایک مثال ہے۔ انہوںنے جیل کے اندر اور باہر ہرجگہ اور ہرلمحے یہی تاکید کی تمام تر مشکلات اور مصائب جھیلنے کے باوجود ہم اپنے وطن کی آزادی اور حق واپسی پر کوئی سودا اور سمجھوتا نہیں کریں گے اور اپنے مقدس وطن کی ایک انچ سے بھی دست بردار نہیں ہوں گے۔خیال رہے کہ الشیخ احمد یاسین کو اسرائیلی فوج نے 22 مارچ 2004کو 68 سال کی عمر میں بمباری کرکے شہید کردیا تھا۔ان کی شہادت نماز فجر کی ادائی کے بعد مسجد سے باہر نکلتے ہوئی جہاں ان کے ساتھ ان کے کئی محافظ بھی جام شہادت نوش کرگئے۔

کیٹاگری میں : اہم

اپنا تبصرہ بھیجیں