ساگر سرحدی- انساں کی جستجو میں اک انساں چلا گیا

ساگر سرحدی- انساں کی جستجو میں اک انساں چلا گیا
ساگر سرحدی ایک نیک دل انسان تھے. تقسیمِ ملک کے بعد دلی اور ممبئی میں تعلیم حاصل کی، ترقی پسند تحریک کے زیرِ اثر اپٹا سے وابستہ ہوئے اور تھیٹر کرتے رہے. خیال کی دستک میں کئی اہم ڈرامے ہیں جنھیں ہم اپنے کالج کے زمانے سے اسٹیج کرتے اور دیکھتے آرے ہیں.(اب بھی ہوتے رہتے ہیں)
کبھی کبھی، سلسلہ، چاندنی جیسی اہم فلمیں لکھیں پھر بنانے پر اتر آئے. بازار، لوری وغیرہ بنائیں.
اس زمانے میں عنایت اختر، سلام بن رزاق اور ابراہیم رنگلا کو ان کے قریب دیکھا. پھر دوریاں بڑھتی گئیں.
دونوں جانب سے دوریوں کے بڑھنے کی مختلف وجوہات سنائی جاتی رہیں.
سلام بن رزاق اور ساگر سرحدی میں آخری وقت تک تعلقات خوشگوار رہے تھے.
ساگر سرحدی نہایت ملنسار انسان تھے. جونیئر ادیبوں، تھیٹر کرمیوں کو ہمیشہ بڑھاوا دیتے. یہی وجہ ہے کہ ان کے ارد گرد نوجوان تھیٹر والوں کا ہالہ سا ہمیشہ بنا ہوتا.
ساگر صاحب کو کسی پروگرام میں بلانا اور ان کا آنا بہت آسان ہوا کرتا تھا. یہی سبب ہے کہ وہ ریاست بھر کے ہندی اردو کے ادبی پروگراموں میں دکھائی دیتے تھے. فلمی نکھرے ان میں نام کو نہ تھے. ندا فاضلی اور سلام بن رزاق کی دعوتوں میں میراروڈ جیسے دوردراز کے مضافاتی علاقے میں بھی وہ بذریعہ ٹرین پہنچ جاتے تھے.
ندا صاحب نے زوال سے عروج کی جانب سفر کیا تھا. سورگیہ ساگر کی قسمت میں عروج کے بعد زوال کی ڈھلان نصیب ہوئی تھی. شاید اس کی وجہ ان میں فلمی ٹھسے کی کمی ہو. خیر جو کچھ بھی رہا ہو. گاندھی کے قتل پر مجاز نے جو نظم کہی تھی اس کا ایک شعر ساگر کے لیے رہ رہ کر یاد آرہا ہے.
ہندو چلا گیا نہ مسلماں چلا گیا
انساں کی جستجو میں اک انساں چلا گیا
ساگر ایک سچے سیکولر انسان انسانیت نواز ادیب تھے. ہمیشہ یاد آتے رہیں گے. ساگر جیسے اردو جاننے والے غیر مسلم ادیب اب نہیں کے برابر ہیں.
ساگر صاحب کی جے ہو

کیٹاگری میں : ادب

اپنا تبصرہ بھیجیں