انیل دیشمکھ کو ہٹانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا: جینت پاٹل

انیل دیشمکھ کو ہٹانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا: جینت پاٹل
اے ٹی ایس من سکھ ہیرن کے قتل کا معمہ حل کرنے کے قریب پہنچ گئی ،دہلی میں مہاوکاس اگھاڑی میں شامل پارٹیوں کی اعلیٰ سطحی فائنل میٹنگ آج، شرد پوار نے پرم ویر سنگھ کی خط کی ٹائمنگ پر سوال اُٹھایا، جولیوریبرو سے جانچ کرانے کا مشورہ
نئی دہلی؍ ممبئی۔ ۲۱؍ مارچ: (نمائندہ خصوصی)مہاراشٹر این سی پی کے صدر اور ریاستی وزیر جینت پاٹل نے دہلی میں میڈیا کے سامنے واضح طور پر اعلان کردیا ہے کہ وزیر داخلہ انیل دیشمکھ کو ہٹائے جانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ اے ٹی ایس من سکھ ہیرن کے قتل کا معمہ حل کرنے کے قریب پہنچ گئی ہے۔ سابق پولس کمشنر پرم ویر سنگھ کے ذریعے مہاراشٹر کے وزیر داخلہ انیل دیشمکھ پر سو کروڑ روپئے کی وصولی کے الزام کے بعد مہاوکاس اگھاڑی حکومت میں ہلچل تیز ہوگئی ہے ۔دہلی سے لے کر ممبئی تک مہاوکاس اگھاڑی کے لیڈران کی میٹنگوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے میں این سی پی سپریمو شرد پوار کے ساتھ کل (آج) مہا گٹھ بندھن کے لیڈران کی میٹنگ کئی معنوں میں اہم تصور کی جارہی ہے۔ مہاراشٹر میں جاری سیاسی ہلچل کے بیچ دہلی میں آج این سی پی سپریمو شرد پوار کے گھر پر مہاوکاس اگھاڑی کے لیڈران کی میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ میں کانگریس کی جانب سے کمل ناتھ شامل ہوئے۔ میٹنگ میں این سی پی ممبر پارلیمنٹ سپریا سولے، مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار، پرفل پٹیل جینت پاٹل، سنجے رائوت وغیرہ موجود رہے۔ ذرائع کے مطابق اس میٹنگ میں نئے وزیر داخلہ کے ناموں پر غوروفکر کیاگیاتھایہ بھی کہاجارہا تھا کہ انیل دیشمکھ کو ان کے عہدے سے برخاست کرکے ان کی جگہ دلیپ والسے پاٹل یا جینت پاٹل کو وزیر داخلہ بنایاجاسکتا ہے۔ لیکن جینت پاٹل نے اب خود اس کی میڈیا کے سامنے تردید کردی ہے انہوں نے کہا کہ انیل دیشمکھ کو ہٹانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ میٹنگ کے بعد سنجے ر ائوت میڈیا سے بات چیت کیے بغیر نکل گئےتھے۔اس قبل این سی پی سربراہ شرد پوار نے کہا تھا کہ ممبئی پولیس کے سابق اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر سچن وازے کو سابق کمشنر پر م بیر سنگھ نے بحال کیا تھا ، وزیر اعلی یا وزیر داخلہ نے نہیں، رہی با ت دیش مکھ کے استعفیٰ کی تو ، ادھوو کو اس پر فیصلہ لیں۔انہوں نے کہا کہ پرم بیر نے دیشمکھ پر سنگین الزامات لگائے ہیں ، لیکن کوئی ثبوت نہیں دیا۔ خط میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ رقم کس کے پاس گئی، نیز خط پر پیرم بیر کا کوئی دستخط بھی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ مہاراشٹر حکومت کو کمزور کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں یا نہیں،لیکن میں صرف اتنا کہوںگا کہ ان سارے معاملات کا حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ اس معاملے کی تحقیقات سابق آئی پی ایس افسر جولیو ربیرو سے کی جا ئے، دیشمکھ کے استعفے سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ادھوو سے بات چیت کے بعد ایک یا دو دن میں اس کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ادھر مہاراشٹر کانگریس نے بی جے پی پر مہاراشٹر حکومت کو غیر مستحکم کرنے کوشش کا الزام عائد کیا ہے۔ ترجمان سچن ساونت نے کاکہ وزیر داخلہ انیل دیشمکھ کے خلاف بدعنوانی کا الزام لگانے والے سابق پولس کمشنر پرم ویر سنگھ مرکزی ایجنسیوں کے دبائو میں ہوسکتے ہیں، انہو ںنے کہاکہ ہندوستان میں ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ کسی برسرملازمت افسر نے اقتدار میں رہنے والوں کے خلاف الزام لگائے ہیں۔

کیٹاگری میں : اہم

اپنا تبصرہ بھیجیں