یشونت سنہا ترنمول کانگریس میں شامل ہوئے

سنیئرلیڈراورسابق مرکزی وزیر یشونت سنہا ترنمول کانگریس میںشامل ہوئے
کولکاتہ13مارچ(آئی این ایس انڈیا)
بی جے پی کے سنیئرلیڈر،سابق مرکزی وزیر اور وزیر اعظم نریندر مودی کے سخت مخالف یشونت سنہا نے ہفتے کے روز ترنمول کانگریس میں شمولیت اختیار کی ہے۔انہوں نے یہ قدم مغربی بنگال قانون ساز اسمبلی کے آٹھ مرحلے کے انتخابات سے پہلے اٹھایا ہے۔سنہا نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی کابینہ میں متعدد محکموں کے فرائض سرانجام دیئے ہیں ، لیکن بھگواپارٹی کی قیادت سے اختلافات کی وجہ سے انہوں نے 2018 میں بی جے پی چھوڑ دی۔ان کے بیٹے جینت سنہاجھارکھنڈ کے ہزاراری باغ سے بی جے پی کے لوک سبھاممبرہیں۔سنہا نے کہا ہے کہ ملک عجیب و غریب صورتحال سے گزر رہا ہے ، ہماری اقدار اور اصول خطرے میں ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ جمہوریت کی طاقت اداروں میں پنہاں ہے اور تمام اداروں کو منظم طور پر کمزور کیا جارہاہے۔سنہا (83 سال کی) نے بی جے پی کے خلاف جنگ میں مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتابنرجی کی حمایت کرنے کا حلف لیا۔لوک سبھا میں ترنمول کانگریس کے رہنما سودیپ بینڈوپادھیائے نے کہا ہے کہ ہم یشونت سنہا کو اپنی پارٹی میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ان کی شرکت سے انتخابات میں بی جے پی کے خلاف ہماری لڑائی کو مزید تقویت ملے گی۔سنہا نے سن 1990 میں چندر شیکھر کی حکومت میں وزیر خزانہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور اس کے بعد واجپئی کی کابینہ نے بھی اس وزارت کاچارج سنبھال لیا تھا۔انہوں نے واجپائی حکومت میں وزیر خارجہ کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔
لاک ڈائون میں غربت بڑھی توامیروں کی دولت میں اضافہ کیسے ہوا؟
گوتم اڈانی کی دولت میں اضافے پر راہل گاندھی نے گھیرا
نئی دہلی13مارچ(آئی این ایس انڈیا)
لاک ڈائون میں جہاں بے روزگاری اورغربت بے حدبڑھی ہے دوسری طرف چندامیروں کی دولت میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہواہے۔ ہندوستانی صنعت کار گوتم اڈانی کی اس سال کی دولت میں بہت اضافہ ہواہے۔سابق کانگریس صدر راہل گاندھی نے ہفتہ کو سوال کیاہے کہ جب ہر شخص کورونا وبا کی وجہ سے جدوجہد کرتے ہوئے نظر آتا ہے توصنعت کار گوتم کی دولت میں 50 فی صدکااضافہ کیسے ہوا۔اپنی دولت میں اضافے کے معاملے میں اڈانی نے دنیا کے امیرترین لوگوں میں جیف بیزوس اور ایلون مسک کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ اس پر کانگریس کے رہنماراہل گاندھی نے سوال کیاہے کہ سال 2020 میں عام لوگوں کی کتنی دولت میں اضافہ ہوا ہے؟اڈانی کی دولت میں اضافے کی ایک خبر شیئرکرتے ہوئے راہل گاندھی نے ٹویٹ کیا ہے کہ سنہ 2020 میں آپ کی دولت کتنی بڑھی؟ زیرو ۔آپ زندہ رہنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیںاور وہ 12 لاکھ کروڑ روپے بناتے ہیں۔ اور ان کی دولت میں 50 فیصداضافہ ہوجاتاہے۔ کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کیوں؟
بجرنگ دل کافاروق عبداللہ اورپرشانت بھوشن کے خلاف احتجاج،غداری کامقدمہ دائرکرنے کامطالبہ
جموں13مارچ(آئی این ایس انڈیا)
روہنگیامسلمانوں کے خلاف مرکزی حکومت کی کارروائی پرتنازعہ بڑھتا جارہا ہے۔ بجرنگ دل نے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ اور سینئر ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن کے خلاف احتجاج کیاہے ۔بجرنگ دل نے مطالبہ کیا ہے کہ مرکزی حکومت جلدسے جلد فاروق عبد اللہ اور پرشانت بھوشن کے خلاف غداری کامقدمہ درج کرے۔مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر میں مبینہ طورپرغیر قانونی طور پر مقیم لوگوں کے خلاف مہم کا آغاز کیا ہے۔ مرکزی حکومت ریاست میں مقیم غیر قانونی روہنگیا کو قبضہ میں لے رہی ہے اور جموں کے ہیرا نگر میں تعمیر کردہ ڈٹینشن سنٹر منتقل کررہی ہے۔مرکزی حکومت ڈٹینشن سینٹر میں ان لوگوں کو رکھے ہوئی ہے جن کے پاس مبینہ طورپردرست دستاویزات نہیں ہیں۔سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے مرکزی حکومت کی کارروائی پراعتراض اٹھایا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ مودی سرکارروہنگیا بحران کو انسانیت کے نقطہ نظر سے دیکھے۔ اسی کے ساتھ ہی سینئر ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن نے حکومت کے اس اقدام کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔پرشانت بھوشن اور فاروق عبد اللہ سے ناراض بجرنگ دل کے کارکنوں نے ہفتے کے روزجموں میں مظاہرہ کیا۔ بجرنگ دل کے کارکنوں نے فاروق عبد اللہ اور پرشانت بھوشن کے پتلے کو نذر آتش کیا۔ بجرنگ دل نے الزام لگایاہے کہ نوے کی دہائی میں جب دہشت گردی کی وجہ سے وادی کشمیر سے پنڈتوں کو نکالا جارہا تھا ، فاروق عبد اللہ نے پنڈتوں کی حمایت میں کچھ نہیں کہا۔اب جب روہنگیا کو نکالا جارہا ہے ، وہ حمایت میں انسانیت کا سبق یاد کرتے ہیں۔ بجرنگ دل نے مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے کہ فاروق عبداللہ اور پرشانت بھوشن کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا جائے۔
یوگی نے اکھلیش یادوکاموازنہ مہابھارت کے کرداروں سے کیا
لکھنو13مارچ(آئی این ایس انڈیا)
اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ہفتہ کے روز سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کا نام لیے بغیرمہابھارت کے کرداروں سے موازنہ کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ مہابھارت کے وہی کردار ہیں جنہوں نے مہابھارت کرکے ہندوستان کی ترقی کو مکمل طور پر روک دیا تھا۔ ان لوگوں نے دوبارہ جنم لیا اور ریاست کی ترقی میں خلل پڑا۔انھوں نے دعویٰ کیاہے کہ پہلے ہردوسرے تیسرے روزفسادات کی خبرآتی تھی لیکن اب اس پرقابوپالیاگیاہے اوراب روزگار،ترقی جیسے مسائل پرحکومت کام کررہی ہے۔جب لاک ڈائون کی تباہ کاریوں نے بے روزگاری اورمہنگائی کی تباہ کاریاں مچائیں۔اترپردیش سے ہرآئے دن لوٹ کھسوٹ،عصمت دری کے واقعات کی رپورٹ آرہی ہے۔اپوزیشن نے کہاہے کہ جن سے ریاست نہیں سنبھل رہی ہے وہ بنگال میں تشہیرکررہے ہیں۔انھیں اپنی ریاست پرتوجہ دینی چاہیے جہاں ہردن ریپ اورقتل جیسے واقعات ہورہے ہیں اورنظم ونسق پرسوال اٹھ رہے ہیں۔
بھوپال اوراندورمیں نائٹ کرفیوکاامکان
بھوپال13مارچ(آئی این ایس انڈیا)
اتوار یا پیر سے بھوپال اور اندور اضلاع میں نائٹ کرفیو نافذ کیا جاسکتا ہے۔کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے نئے کیسوں کے پیش نظر اتوار یا پیر سے بھوپال اور اندور اضلاع میں رات کا کرفیو نافذ کیا جاسکتا ہے۔اس سے پہلے مہاراشٹرکے کچھ اضلاع میں لاک ڈائون لاگوکیاگیاہے۔مدھیہ پردیش ،کرناٹک اورمہاراشٹرمیں کوروناکی رفتارسے حکومت مستعدہوئی ہے اورنئے رہنمااصول جاری ہورہے ہیں۔دہلی میں بھی کیسزکی رفتاربڑھی ہے۔اس پراروندکجریوال نے عوام سے احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔
ڈی ایم کے نے انتخابی منشور جاری کیا ، پیٹرول اور ڈیزل اورگیس پرسبسڈی کا وعدہ کیا
چنئی13مارچ(آئی این ایس انڈیا)
تمل ناڈوقانون ساز اسمبلی کے لیے انتخاب 6 اپریل کوہوناہے۔ اس کے پیش نظر ایم کے اسٹالن کی پارٹی دراویڈا منیتراکاھاگام (ڈی ایم کے) نے آج اپنا انتخابی منشور جاری کیا ہے۔ ڈی ایم کے چیف ایم کے اسٹالن نے پیٹرول اورڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 5 اور 4 روپے کم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ نیز ایل پی جی گیس سلنڈروں پر بھی 100 روپے کی سبسڈی دینے اعلان کیاگیاہے۔ڈی ایم کے رکن پارلیمنٹ ٹی سیوانے کہاہے کہ آج لوگوں پر یہ ایک بہت بڑا بوجھ ہے۔ مرکزی اور ریاستی حکومتیں ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کررہی ہیں۔ جب ہم اقتدار میں آئیں گے ، ہم تیل کی قیمتوں میں کمی کریں گے۔2011 سے تمل ناڈومیں اقتدار سے باہر ، ڈی ایم کے نے کانگریس ، بائیں بازو کی جماعتوں ، ایم ڈی ایم کے ، وی سی کے اور دیگر چھوٹی جماعتوں کے ساتھ اے آئی اے ڈی ایم کے کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے اتحاد کیاہے۔ ڈی ایم کے نے اسمبلی کی کل 234 نشستوں میں سے ان کے لیے 61 نشستیں چھوڑی ہیں۔ ڈی ایم کے زیرقیادت اتحاد میں ، کانگریس 25 نشستوں پرمقابلہ کررہی ہے ، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ‘مارکسسٹ اور کمیونسٹ پارٹی چھ ، یونین آف انڈیا مسلم لیگ تین اور ایم ایم کے کی 2 نشستوں پرمقابلہ کرے گی۔
خصوصی مبصر نے الیکشن کمیشن کو رپورٹ پیش کی، وزیراعلیٰ پر حملے کا دعویٰ مسترد
کولکاتہ13مارچ(آئی این ایس انڈیا)
مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کی تاریخ قریب آنے والی ہے۔ ادھر مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی پر مبینہ حملے کے معاملے میں الیکشن کمشنر کے خصوصی مبصرنے اپنی تفصیلی رپورٹ الیکشن کمیشن کو پیش کردی ہے۔اے بی پی نیوزکے مطابق، اس رپورٹ میں وزیراعلیٰ پرحملے کے دعوے کو مسترد کردیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق خصوصی مبصرین نے اپنی تفصیلی رپورٹ الیکشن کمیشن کو پیش کردی ہے۔ اس رپورٹ میں نندی گرام میں وزیراعلیٰ پرحملے کے دعوے کو مسترد کردیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حادثے کی وجہ سے ممتا بنرجی کو چوٹ پہنچی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ سخت سیکیورٹی میں تھے ، ان پر حملے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔اس سے قبل ، چیف منسٹر مغربی بنگال نے چیف منسٹر ممتا بنرجی کو چوٹ لگنے سے متعلق الیکشن کمیشن کو رپورٹ پیش کی تھی۔ بنگال حکومت نے الیکشن کمیشن کو بھیجی گئی اس رپورٹ میں ’چار پانچ افراد‘ کے حملے کا ذکر نہیں کیاگیا ہے۔ تاہم اس نے جائے وقوع پربڑی تعداد میں ہجوم کی موجودگی کا حوالہ دیا ہے۔
یکم اپریل 2020 سے 15 سال پرانی سرکاری گاڑیوں کے رجسٹریشن کی تجدید نہیں ہوگی
نئی دہلی13مارچ(آئی این ایس انڈیا)
سرکاری محکمے یکم اپریل 2022 سے 15 سال سے زیادہ پرانی گاڑیوں کے رجسٹریشن کی تجدید نہیں کرسکیں گے۔سڑک ،ٹرانسپورٹ وشاہراہ کی مرکزی وزارت نے اس کی تجویزپیش کی ہے۔ اگر اسے حتمی شکل دی جاتی ہے تو یہ اصول نافذ العمل ہوگا۔وزارت نے اس ضمن میں قواعدمیں ترمیم کانوٹیفکیشن جاری کیا ہے اورحصص یافتگان سے رائے طلب کی ہے۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ایک بار جب اس تجویز کی منظوری مل جاتی ہے تو یہ اصول تمام سرکاری گاڑیوں پرلاگو ہوگا ۔یکم اپریل ، 2022 سے سرکاری محکمے 15 سال سے زیادہ کی اپنی گاڑیوں کے رجسٹریشن کی تجدید نہیں کرسکیں گے۔ یہ اصول ریاست ، مرکز ، علاقوں ، عوامی دفعات ، میونسپل باڈیز اور خود مختار باڈیوں پر لاگوہوگا۔اس سے قبل یکم فروری کوپیش کیے گئے عام بجٹ میں حکومت نے’ وہیکل پالیسی‘ کااعلان کیا ہے۔اس کے تحت نجی گاڑیوں کے 20 سال اور تجارتی گاڑیوں کے لیے 15 سال بعدفٹنس ٹیسٹ کی ضرورت ہے۔وزارت نے 12 مارچ کو قواعد کے مسودے کے بارے میں نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ اس پر شیئر ہولڈرز کی طرف سے 30 دن میں تبصرے ، اعتراضات اور مشورے طلب کیے گئے ہیں۔
جب نتیش کمار کی شبیہ متاثرہوتی ہے تو دیر نہیں کرتے،شراب معاملے پر شیوانند تیواری کاطنز
پٹنہ13مارچ(آئی این ایس انڈیا)
بہارمیں حزب اختلاف ، خاص طور پر راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی)وزیر ریونیو رام سندرت رائے کے معاملے میں جارح ہے۔تیجسوی یادوکی اسی جارحیت کی وجہ سے وزیرتعلیم کواستعفیٰ دیناپڑگیاتھا۔ ہفتے کی صبح حزب اختلاف کے رہنماتیجسوی یادونے پریس کانفرنس میں متعدد الزامات لگائے ہیں۔ اس کے بعد یہ معاملہ اسمبلی میں اٹھایا گیا اور راج بھون کا مارچ بھی کیا۔ ادھر راشٹریہ جنتا دل کے قومی نائب صدر شیوانند تیواری نے وزیراعلیٰ نتیش کمار سے پوچھا ہے کہ رام سندر رائے کے معاملے میں قانون اپنا کام کیوں نہیں کررہا ہے؟ ہفتہ کو جاری ایک بیان میں شیوانند تیواری نے سی ایم نتیش کمارپرحملہ کرتے ہوئے کہاہے کہ آپ کادعویٰ ہے کہ قانون آپ کی حکمرانی کے تحت اپنا کام کرتا ہے۔ اسی نوعیت کا آپ کا دوسرا دعویٰ ، جو آپ اکثر استعمال کرتے ہیں ،نہ ہی ہم کسی کو ملوث کرتے اور نہ ہی ہم کسی کو بچاتے ہیں ،لیکن رام سندر رائے کے معاملے میں ایساہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ پیش کردہ ثبوت رام سندر رائے کو کابینہ سے خارج کرنے کے لیے کافی ہیں اس کے لیے یہ کافی ہے۔ بلکہ یہ بھی کہا جائے گا کہ شراب بندی پرآپ نے جو قانون بنایا ہے اس کے مطابق رام سندر رائے کے انوج کوگرفتارکیاجانا چاہیے تھا ، اس کی زمین ضبط کرنی چاہیے تھی ، اب تک تیجسوی یادو کے ذریعہ دیئے گئے اس معاملے میں اگر آپ کو کوئی شک ہے تو ثبوت پر تو آپ خود ہی اس کی حقیقت کی تصدیق کرسکتے ہیں۔شیوانند تیواری نے کہاہے کہ یہاں سب جانتے ہیں کہ قانون کاغذ پر لکھا ہوا ایک بے جان لفظ ہے۔ یہ خود اپنا کام نہیں کرتاہے بلکہ اس کے استعمال کی طاقت لوگوں کے ہاتھ میں دی جاتی ہے جس کے وہ ہاتھوں میں فیصلہ کرتے ہیں کہ قانون کیسے کام کرتاہے۔ میرا تجربہ ابھی تک یہ ہے کہ جب نتیش جی اپنی ساکھ گرتے دیکھتے ہیں تووہ اپنے قریبی لوگوں کی گردنوں کوبھی مارنے میں وقت نہیں لگاتے ہیں۔
آسام: بی جے پی سے رخصت پذیر ایم ایل اے کی واپسی
گوہاٹی13مارچ(آئی این ایس انڈیا)
آسام میں بی جے پی ممبر اسمبلی شیلادتیہ دیو نے اسمبلی انتخابات میں ٹکٹ نہ ملنے کے بعد اپنااستعفیٰ دے دیا ، لیکن وہ کچھ دن بعدواپس آگئے ہیں۔ بی جے پی نے کہا ہے کہ وہ پارٹی میں بطور’اہم رکن‘ رہیں گے۔ آسام کے وزیر اور نارتھ ایسٹ ڈیموکریٹک الائنس (این ای ڈی اے) کے کنوینر ہیمنت بسوا شرما اور بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری دلیپ ساکیہ نے جمعہ کے روز ان کی رہائش گاہ پر شیلادتیہ دیوسے ملاقات کی۔ پارٹی میں واپس آنے کے بعد اب دیو نے ان انتخابات میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے پارٹی چھوڑنے کے بعد آزاد امیدوار کی حیثیت سے لڑنے کا فیصلہ کیا۔ آسام کی 126 اسمبلی نشستوں کے لیے27 مارچ سے تین مراحل میں انتخابات ہونے ہیں۔انہوں نے کہاہے کہ میں کانگریس کو جیتنے کی اجازت نہیں دے سکتا کیونکہ ان کے ساتھ آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کا اتحاد ہے اورجیت کے بعدپارٹی کے سربراہ بدرالدین اجمل کا غلبہ ہوگا۔ ایسی صورتحال میں اسی لیے میں نے پارٹی کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔
راکیش ٹکیت نندی گرام میں بھی مہاپنچایت کریں گے
کولکاتہ13مارچ(آئی این ایس انڈیا)
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں برسراقتدار ترنمول کانگریس بمقابلہ بی جے پی کی لڑائی میں ، اب کسان رہنما اور بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت بھی کودگئے ہیں۔ وہ نندی گرام میں مہاپنچایت کرنے جارہے ہیں۔کسان لیڈروںنے پانچوں انتخابی ریاستوں میں بی جے پی کی پول کھولنے کے لیے مہاپنچایت کااعلان کیاہے ۔وہ مسلسل حکومت پرمہنگائی اورکسانوں کے مسائل نظراندازکرنے کے الزام لگارہے ہیں۔وہ بی جے پی کے خلاف ہرجگہ تشہیرکریں گے کہ ہرکسی کوووٹ دولیکن بی جے پی کوہرگزنہ دینا۔وہ فی الحال نندی گرام جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے اس نشست سے نامزدگی داخل کی ہے۔ بی جے پی نے اس نشست سے ٹی ایم سی کے ایم ایل اے شبھندو ادھیکاری کو ان کے خلاف میدان میں اتارا ہے ، جو اب بی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں۔
اکھلیش یادوپرصحافیوں کے ساتھ بدسلوکی کاالزام،ایف آئی آردرج
سماجوادی پارٹی نے بھی دورپورٹروں کے خلاف رپورٹ لکھوائی
مراد آباد13مارچ(آئی این ایس انڈیا)
اتر پردیش کے مراد آبادمیں ایک صحافی پرمبینہ حملے کے معاملے میں سابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادوکے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ معلومات کے مطابق مراد آباد ضلعی انتظامیہ نے صحافیوں کے ایک گروپ کی جانب سے جمع کرائے گئے میمورنڈم پر یہ کارروائی کی ہے۔ اسی دوران سماج وادی پارٹی کے ضلعی صدر نے بھی دو نیوز رپورٹرز کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی ہے۔ انہوں نے صحافیوں پرسابق وزیراعلیٰ کی سیکیورٹی پر حملہ کرنے کا الزام عائد کیاہے۔سابق وزیراعلیٰ کواس وقت مشتعل کیاگیاجب اکھلیش یادوکی پریس کانفرنس کے دوران ذاتی سوالات پوچھے گئے تھے۔ اس دوران کچھ صحافیوں کو مبینہ طورپرمارا پیٹا گیا۔ صحافیوں کے ذریعہ درج شکایت کے مطابق اکھلیش یادو کے کہنے پر ، ان کے محافظوں نے نامہ نگاروں پرحملہ کیا جس سے متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ یہ الزام لگایا گیا ہے کہ اکھلیش یادو کے محافظوں اور ان کی پارٹی کے 20 سے زیادہ کارکنوں کی پٹائی کی وجہ سے بہت سارے صحافی بھی شدید زخمی ہوئے ہیں۔ اس کا اسپتالوں میں علاج چل رہا ہے۔صحافیوں سے میمورنڈم موصول ہونے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے اکھلیش یادو کے خلاف ایف آئی آر درج کردی ہے۔ اسی کے ساتھ ہی اس کے جواب میں سماج وادی پارٹی کی جانب سے صحافیوں کے خلاف بھی مقدمہ درج کیاگیاہے۔معلومات کے مطابق دونیوز چینل کے نامہ نگاروںپر اکھلیش یادو کی سیکوریٹی پر حملہ کرنے اورانتشارپھیلانے کا الزام عائد کیاگیاہے۔
دہلی – دہرادون شتابدی میں آگ لگی،تمام مسافر محفوظ
دہرادون13مارچ(آئی این ایس انڈیا)
دہلی سے نئی دہلی آنے والی شتابدی ٹرین کے کوچ میں ہفتے کے روزاچانک آگ لگ گئی۔ تاہم اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہواہے۔ آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی کوچ کو فوری طور پر الگ کر لیا گیا اورٹرین کوروانہ کردیا گیا۔ اطلاع ملتے ہی ریلوے کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے۔ واقعے کی وجوہ کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔خبر رساں ایجنسی کے مطابق اتراکھنڈ کے ڈائریکٹر جنرل پولیس اشوک کمار نے بتایاہے کہ نئی دہلی سے دہرادون آنے والی شتابدی ایکسپریس کی ایک بوگی میں آگ لگ گئی۔ تاہم واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ انہوں نے بتایاہے کہ آگ لگنے و الی بوگی کودوسری بوگیوں سے الگ کردیا گیا تھا اورمسافروں کوبحفاظت ٹرین سے نکال لیاگیاتھا۔ شتابدی ایکسپریس دہرادون اسٹیشن پہنچی ہے۔
جتنی جلدی ہو سکے،ویکسین لگوالیں،اروندکجریوال کی اپیل
نئی دہلی13مارچ(آئی این ایس انڈیا)
دہلی میں بڑھتے انفیکشن پراروندکجریوال نے لوگوں کو جلد سے جلد ویکسین لگوانے کی اپیل کی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ دہلی میں کچھ کیسز ہوئے ہیں۔ 100 سے 125 سو کے درمیان معاملات پہلے آرہے تھے ، پچھلے کچھ دنوں سے 400 سے 125 سوکیسز درج کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہاہے کہ ہم ابھی اس صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔ گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں،موت کے واقعات ابھی بھی قابومیں ہیں۔ انہوں نے کہاہے کہ دہلی میں1 ، 2 ، 3 یا 0 اموات ریکارڈکی جارہی ہیں۔لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے سی ایم کجریوال نے کہاہے کہ میں اپیل کروں گا لوگ جو اہل ہیں ان کو جلد از جلد ویکسین لگانیچاہیے ۔کورونا کا حل ہی ویکسین ہے۔ اگر زیادہ سے زیادہ لوگوں کوویکسیندی جائے گی توپھر کوئی کورونا نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہاہے کہ اگر سختی کی ضرورت ہے تو پھر تمام اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ جب ضرورت پیش آئی تو دہلی حکومت نے کوئی رسک نہیں لیا۔وزیراعلیٰ اروندکجریوال فی الحال حکومت گہری نظررکھے ہوئی ہے اور ضرورت پڑنے پر تمام اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے کہاہے کہ اسپتال کورونا کے معاملات پر بھی نگاہ رکھے ہوا ہے۔
امریکی وزیر دفاع اور راج ناتھ سنگھ اہم دفاعی شراکت داری پرتبادلہ خیال کریں گے
واشنگٹن13مارچ(آئی این ایس انڈیا)
امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن اگلے ہفتے ہندوستان کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کریں گے اوردونوں ممالک کے درمیان بڑی دفاعی شراکت داری کو عملی جامہ پہنانے کے طریقوں پر بات کریں گے۔ یہ معلومات پینٹاگون کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے دی ہیں۔دونوں ممالک نے 2016 میں لاجسٹک ایکسچینج میمورینڈم آف ایگریمنٹ (LEMOA) سمیت متعدد اہم دفاعی اور سیکورٹی معاہدوں پر دستخط کیے۔ اس کے تحت ، دونوں ممالک کی فوجیں ایک دوسرے کے اڈوں کو فوجی سامان کی مرمت اور فراہمی کے لیے استعمال کرسکتی ہیں۔آسٹن اگلے ہفتے ہندوستان کا دورہ کریں گے۔ اس سے پہلے وہ جاپان اور جنوبی کوریاگئے تھے۔ پہلی بار بائیڈن انتظامیہ کاایک اعلیٰ عہدیدار ہندوستان کا دورہ کر رہا ہے۔خطہ ہند کے سیکیورٹی امور کے معاون نگران وزیر دفاع ڈیوڈ ایف ہیلیوی نے نامہ نگاروں کوبتایاہے کہ ہندوستان میں ، وہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور دیگر رہنماؤں سے ملاقات کریں گے اورہندوستان کے ساتھ بڑی دفاعی شراکت داری کے نفاذپربات کریں گے۔ اس میں معلومات کا تبادلہ ، علاقائی دفاعی معاہدے ، دفاعی تجارت اور نئے شعبوں میں تعاون بھی شامل ہے۔نئی دہلی میں وزارت دفاع نے بتایاہے کہ امریکی وزیر دفاع آسٹن 19 مارچ سے 21 مارچ تک ہندوستان کا دورہ کریں گے۔ہالوی نے کہاہے کہ ہندوستان ایک اہم اسٹریٹجک پارٹنرہے۔انہوں نے کہاہے کہ دورہ ہندوستان اہم شراکت داروں سے حکمرانی پر مبنی بین الاقوامی نظام کے لیے مل کر کام کرنے کے بارے میں خیالات کا تبادلہ کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔آسٹن صدر جو بائیڈن ، وزیر اعظم نریندر مودی ، آسٹریلیائی وزیر اعظم اسکاٹ موریسن اور جاپان کے وزیر اعظم یوشیہائڈ سوگا کے مابین پہلے ڈیجیٹل کواڈ سربراہی اجلاس کے ایک ہفتہ بعد ہندوستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔
ہم نے’ لکشمن ریکھا‘کھینچ لی ہے،اے آئی یوڈی ایف پرکانگریس کی صفائی
گوہاٹی13مارچ(آئی این ایس انڈیا)
آسام میں اسمبلی انتخابات کے لیے مہاگٹھ بندھن کی قیادت کرنے والی کانگریس نے بدر الدین اجمل کی سربراہی میں اے آئی یو ڈی ایف کے ساتھ اتحاد کرنے پرایسا دعویٰ کیاہے کہ انتخابات میں کسی بھی قسم کے فرقہ وارانہ رویہ کواختیار نہ کیاجاسکے۔کانگریس کے لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ اور پارٹی کی ریاستی مہم کمیٹی کے چیئرمین ، پردیوت بورڈولوئی نے بی جے پی کے ذریعہ کیے جانے والے حملوں کے درمیان کہاہے کہ اے آئی یو ڈی ایف (آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ) کے ہمارے بہت سے اتحادی شراکت داروں میں سے ایک ہے۔ ہم اتحاد میں ترقی پسندجماعتیں ہیں۔ زونل کونسل ، بایاں محاذاور بی پی ایف۔ اور بھی بہت آنے والے ہیں۔ اگر ہم کسی فرقہ وارانہ تنظیم سے ہاتھ ملایا کرتے تو زیادہ لوگ نہ آتے۔اوراگر اے آئی یو ڈی ایف کبھی بھی فرقہ وارانہ موقف اپناتی ہے تو پھر ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں ہوگا لہذا لکشمن ریکھا کھینچ لی گئی ہے۔دراصل آسام پولیس نے آسام میں اتحاد کے بارے میں ایک دستاویزی ویڈیو شیئر کرنے کے بارے میں سوشل میڈیا پر آگاہ کیا تھا۔ اس ویڈیو کو منگل کو ان اکاؤنٹس پر شیئر کیا گیا تھا۔ اس ویڈیو میں یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اے آئی یو ڈی ایف کے چیف بدرالدین اجمل نے کہا تھا کہ کانگریس اور ان کی پارٹی کا اتحاد ہندوستان کو ایک اسلامی قوم میں تبدیل کرے گا۔جب کہ بدرالدین اجمل نے اس ویڈیومکمل طورپرجھوٹ بتایاہے۔لیکن بی جے پی اس بہانے فرقہ ورانہ تقسیم کرکے ووٹ کافائدہ لیناچاہتی ہے۔
مودی نے سری لنکا کے صدرسے فون پربات کی
نئی دہلی13مارچ(آئی این ایس انڈیا)
وزیراعظم نریندر مودی نے آج سر ی لنکا کے صدر عزت مآب گوٹبایا کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی۔دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ اور کثیر جہتی فورموں میں اہم پیش رفت اور دونوں ممالک کے مابین جاری تعاون کا جائزہ لیا۔ انھوں نے جاری کوویڈ-19 سے متعلق چیلنجوں کے تناظر میں متعلقہ افسران کے درمیان مسلسل رابطہ برقرار رکھنے پراتفاق کیا۔وزیراعظم نے ہندوستان کی ہمسایہ ملک کی پہلی پالیسی کے لئے سری لنکا کی اہمیت کا اعادہ کیا۔
اے ایم یوکے گلستانِ سید میںپھولوں کی سالانہ نمائش کا افتتاح
علی گڑھ13مارچ(آئی این ایس انڈیا)
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے لینڈ اینڈ گارڈن شعبہ کے زیر اہتمام گلستان سید میں منعقدہ دو روزہ پھولوںکی سالانہ نمائش کا سنیچر کو افتتاح کیا۔ اس موقع پر آئی جی علی گڑھ مسٹر پیوش مورڈیا (آئی پی ایس) بطور مہمان اعزازی موجود تھے۔ نمائش میں سات مختلف زمروں میں انواع و اقسام کے پھولوں کو شامل کیا گیا ہے۔ یونیورسٹی، ادارہ جاتی اور پرائیویٹ باغیچے کے زمرہ (اے ) میں 74؍انٹریز موصول ہوئی ہیں، جب کہ گملوں کے پھول کے زمرہ (بی) میں 346؍انٹریز آئی ہیں۔ کٹ فلاور کے زمرہ (سی اے) میں 174، کٹ فلاور (گلاب) کے زمرہ (سی) میں 85، آرائشی پھولوں کے زمرہ (ڈی) میں 98، پھولوں کے بندوبست کے زمرہ (ای) میں 32، اور ایف زمرہ میں 153 ؍انٹریز موصول ہوئی ہیں۔ ان میں گلاب، کولیئس، گلِ داؤدی، بوگن ویلیا، بونسائی، کیکٹی اور دیگر قسم کے پھول و پودے شامل ہیں۔ اس نمائش میں وائس چانسلر لاج، پرو وائس چانسلر، رجسٹرار لاج، ایڈمنسٹریٹیو بلاک، وی سی نرسری، ایس ایس ہال مسجد، سرسید ہاؤس، گیسٹ ہاؤس نمبر ایک، دو اور تین، مولانا آزاد لائبریری، انجینئرنگ کالج، الیکٹریکل انجینئرنگ ، سول انجینئرنگ شعبہ، کینیڈی ہال، کیمسٹری ، ریاضی، دینیات کے شعبہ جات، فیکلٹی آف آرٹس، گلستان سید، آر اے ایف بٹالین 104، الحمد، البرکات، آئی جی ہال، وی ایم ہال، بیگم عزیز النساء ہال وغیرہ کی نمائندگی ہورہی ہے۔ افتتاحی تقریب میں نامور ماہر امراض اطفال ڈاکٹر حمیدہ طارق، ممبر انچارج لینڈ اینڈ گارڈن پروفیسر ذکی انور صدیقی، ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر پروفیسر مجاہد بیگ، پراکٹر پروفیسر محمدوسیم علی، ایسوسی ایٹ ممبر انچارج ڈاکٹر طارق آفتاب، مختلف فیکلٹیوں کے ڈین، شعبہ جات کے سربراہان، مختلف کالجوں کے پرنسپل اور دیگر افراد موجود تھے۔ نمائش کی اختتامی تقریب 14؍مارچ کو سہ پہر ساڑھے تین بجے منعقد ہوگی۔
پروفیسرشگفتہ علیم، وزارت آیوش کی ایڈوائزری کمیٹی میں رکن نامزد
نئی دہلی13مارچ(آئی این ایس انڈیا)
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی فیکلٹی آف یونانی میڈیسن کے امراض جلد و زہراویہ شعبہ کی پروفیسر شگفتہ علیم کو وزارت آیوش، حکومت ہند کی ایڈوائزری کمیٹی میں ممبر نامزد کیا گیا ہے۔ اس اعلیٰ اختیاری کمیٹی میں نامور اسکالرز اور ماہرین، یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر ، یوجی سی وائس چیئرمین اور سائنسداں شامل ہیں۔ کمیٹی کے سربراہ آیوش کے سکریٹری وید راجیش کوٹیچا ہیں۔محکمہ کے وزیر، وزارت آیوش کے اہلکاروں اور اے ایم یو وائس چانسلر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پروفیسر شگفتہ علیم نے کہاکہ ہندوستان، آیوش نظام علاج کا عالمی قائد ہے اور اس شعبہ کے علوم و ادویات کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ یونانی طب اور ادویات کو وزارت آیوش کی سرپرستی میں فروغ حاصل ہوگا۔ فیکلٹی آف یونانی میڈیسن کے ڈین پروفیسر ایف ایس شیرانی نے پروفیسر شگفتہ علیم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ وزارت آیوش کی اعلیٰ اختیاری کمیٹی میں ان کی نامزدگی فیکلٹی آف یونانی میڈیسن اور اجمل خاں طبیہ کالج کے لئے باعث فخر و مسرت ہے اور ان کی ماہرانہ صلاحیتوں سے آیوش نظامِ طب کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔
امارت شرعیہ کی تعلیمی تحریک روشنی کا مینار، پورے ملک کو رہنمائی ملے گی:امیر شریعت
نئی قومی تعلیمی پالیسی،عصری اقلیتی اداروں کے قیام اوراردومترجمین کی بحالی سمیت اہم مسائل زیرغور
بنیادی دینی تعلیم کے فروغ اور معیاری عصری اداروں کے قیام کے لیے جھارکھنڈ کے علماء و دانشوران متحد
رانچی 13مارچ(آئی این ایس انڈیا)
بنیادی دینی تعلیم کے فروغ اور معیاری عصری اداروں کے قیام کے لیے امار ت شرعیہ بہار ،اڈیشہ وجھارکھنڈ کی آواز پر جھارکھنڈکے علماء، دانشوران ، سیاسی و سماجی کارکنان ، ماہرین تعلیم اور خواص آج ۱۳؍ مارچ روزسنیچر کو شہر رانچی کے معروف تعلیمی ادارہ راعین اردو گرلس پلس ٹو ہائی اسکول لیک روڈ میں جمع ہوئے ۔امیر شریعت بہار ، اڈیشہ وجھارکھنڈ حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب کی صدارت میں منعقد ہونے والے اس مشاورتی اجلاس میں کئی اہم بنیادی مسائل پر بات ہوئی اور اہم تجاویز منظور ہوئیں۔اس اجلاس میں سبھی لوگوں کی اتفاق رائے سے کئی اہم تجاویز منظور ہوئیں ، جن میں بنیادی دینی تعلیم کے نظام کو مضبوط کرنے کے لیے صوبائی کمیٹی کی تشکیل، نئی قومی تعلیمی پالیسی کے ممکنہ خدشات کا جائزہ لینے او ر ان سے قانونی طور پر نمٹنے کے لیے قانون دانوں اور دانشورو ں کی کمیٹی کی تشکیل، جھارکھنڈ کے تمام اضلاع میں اقلیتی تعلیمی ادارے قائم کرنے کی منظم تحریک چلانے کی تجویز،سرکاری مدارس کے مسائل کے حل کے لیے امارت شرعیہ کے وفد کی وزیر اعلیٰ اور وزیر تعلیم سے ملاقات کی تجویز، حکومتی سطح پر اقلیتوں کے معاشی وتعلیمی مسائل کے حل کے لیے پریشر گروپ بنانے کی تجویز، مسلکی اختلافات سے اوپر اٹھ کر خود کفیل نظام مکاتب پورے صوبے میں قائم کرنے کی تحریک ،اردو کے فروغ کے لیے تمام اسکولوں میں لازمی اردو تعلیم اور اردو اساتذہ کی خالی جگہوں کو پر کرنے کے لیے سرکار کو میمورنڈم دینے کی تجویز، اردو کے فروغ کے لیے انفرادی کوششیںکرنے کی تحریک، ہر گھر میں بچوں کواردو کی تعلیم ضرور دی جائے اور انہیں اردو لکھنے اور بولنے کی ترغیب دی جائے،پرائیوٹ اداروں میں دینیا ت ا ور اردو کو لازمی نصاب کا حصہ بنانے کی تجویز،اردو پڑھنے لکھنے اور بولنے ، اخبارات و رسائل خرید کر پڑھنے اور اردو لائبریریوں کے قیام اور ان سے استفادہ کی تحریک چلانے کی تجویز، تمام سرکاری محکموں میں اردو کے ملازمین اور مترجمین بحال کرنے کے لیے حکومت سے مطالبہ کرنے کی تجویز ، اور امارت شرعیہ کی تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے عملی جد وجہد کی تجویز وغیرہ شامل ہیں ۔ اس اجلاس میںخاص طور پر شہر جھارکھنڈ کے تمام اضلاع کے نمائندوں ،علماء،ائمہ کرام ، تعلیمی اداروں کے ذمہ داران ، ماہرین تعلیم ، قانون دانوں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے خواص کو دعوت دی گئی تھی ۔اپنے صدارتی خطاب میں حضرت امیر شریعت نے سبھی شرکاء کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہاہے کہ اللہ کا بڑا فضل و احسان ہے کہ امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کے خدام دین و ملت کی موجودگی میں جھارکھنڈ کا دل دردمند اور دماغ فکر مند یہاں جمع ہے ، علماء بھی ہیں ، اہل علم بھی اور الگ الگ نوعیتوں سے دین و ملت کی خدمت کرنے والے ہنر مند بھی ۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہم سب اسلام کی امانت اور دین کی نعمت کو اگلی نسل میں کس طرح اتاریں ، انہیں اس بار امانت کا ذمہ دار کس طرح بنائیں ، تاکہ آنے والی نسلیں اس نعمت کو سنبھالے رکھیں ، شریعت پر عمل کرتی رہیں اور قرآن مقدس کے نور سے زندگی کی راہ کو روشن رکھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ بنیادی سوال ہے ، جس کا جواب تلا ش کرنا ہے اور آنے والی نسلوں کے ایمان کو باقی رکھنے کا طریقۂ کار طے کرنا ہے ۔حضرت امیر شریعت نے اردو زبان کے تحفظ و بقاء کے مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہاکہ دوسرا بہت اہم مسئلہ اپنی تہذیب و ثقافت ، اپنی زبان اور اپنے ادب کو نہ صرف باقی رکھنا ہے ، بلکہ اسے ترقی دینا ہے ،جو ہماری تہذیب ، اعلیٰ قدروں ، مستحکم روایتوں ،انسانی طور طریقوں ، اخلاق و آداب، لحاظ و خیال اور نشست و برخواست کے لطیف انداز کا بہترین نمونہ ہے ۔ہماری زبان مٹھاس کا احساس کراتی ہے ، جب کانوں پہ ٹکراتی ہے تو جلترنگ بج اٹھتا ہے ، یہ لفظوں کی پیوندکاری سے دلوں کو جوڑتی ہے ، محبت کا رشتہ قائم کر دیتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوال یہ ہے کہ نفرت اور تشدد کے سیلاب میں ہم کہاں اور کیسے جزیرہ بنائیں ، جس سے ہماری تہذیب و ثقافت بچ سکے ، پھل پھول سکے، اور تہذیبی یلغار سے اسے بچا سکیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوال زبان کا ہے جو بڑا اہم ہے ، ہماری زبان اردو ہے اور نظر آرہا ہے کہ اردو ختم ہو رہی ہے ، ہم اس کے تنوں میں تراوٹ کیسے پیدا کریں ، ہم ایسا کیا کریں کہ اس سوکھتے درخت میں نئی کونپلیں نکل آئیں اور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بیٹھے جو اس شجر کے تلے وہ نہال ہو۔ امارت شرعیہ کی ا س تحریک کے ایک اور اہم پہلو یعنی عصری تعلیم میں مسلمانوں کی حصہ داری پر بات کرتے ہوئے آپ نے کہا کہ تیسرا بڑا اہم معاملہ ہمارے بچوں کی اعلیٰ تعلیم کا ہے ، ہم جسے تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کہتے اور سمجھتے ہیں ، وہ یہ ہے کہ صاحبزادہ نے بی اے ، ایم اے، پی ایچ ڈی کر لیا ، الحمد للہ،ما شاء اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن یقین کیجئے عام کالجوں میں جو تعلیم ہو رہی ہے ، وہ اعلیٰ نہیں ہے ، اعلیٰ تعلیم وہ ہے جو انسٹی ٹیوٹ آف نیشنل امپورٹنس(آئی این آئی )میں ہو رہی ہے ، ان معیاری قومی تعلیم گاہوں میں ہمارے بچے کہاں پہونچ پا رہے ہیں ؟یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ رحمانی تھرٹی کی مسلسل کوشش اور کاوش کے نتیجہ میں ان معیاری اور قابل فخر اداروں میں ہمارے بچے نظر آنے لگے ہیں ، لیکن یہ سفر بہت لانبا ہے ، اور اس کا کوئی مختصر راستہ ، کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے۔موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حضرت امیر شریعت نے کہا کہ آج ہمارے ، آپ کے بچے دین سے ناواقف ہو رہے ہیں ، وہ قرآن پاک اور اردو نہیں پڑھ رہے ہیں ، ان میں تہذیب اور شائستگی کی بڑی کمی ہے۔یہ حقیقت ہے ، وجہ کیا ہے؟ ہماری سستی ، ہماری بے رغبتی ، ہماری بے توجہی اوربے اعتنائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ دینی تعلیم کا انتظام کرتے ہیں ، نہ عصری تعلیم کا اہتمام ہو تا ہے ، نہ نئی نسل میں زبان اور تہذیب و ثقافت سکھانے کی فکر ہے ، بتائیے بات بنے گی کیسے؟ہمیں بچوں اور بچیوں کو گھروں میں دین اور دینداری سکھانا ہو گی ، جتنا دین ہم جانتے ہیں ، ہمارے گھر کی عورتیں جانتی ہیں ، انہیں بچوں اور بچیوں کو سکھانا ہم پر فرض ہے ، پڑوسیوں کو دین سکھانا ، ان میں دینداری پیدا کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔اس اجلا س میں مولانا ڈاکٹر عبید اللہ قاسمی، ایڈووکیٹ عبد العلام،احسان احمد اربا، ریاض شریف جمشید پور، مولانا شمس پرویز مظاہری امام و خطیب جامع مسجد گڈا، مفتی شعیب صاحب چترا، مولانا انظر قاسمی پاکوڑ،حاجی ریاض صاحب صاحب گنج،جناب عزیر احمد صاحب بوکارو، مولانا رضوان صاحب دیوگھر،مولانا اکرام الحق عینی لوہردگا، ایڈووکیٹ شکیل صاحب ، قاضی شہر جان محمد مصطفی صاحب،جناب شادمان صاحب پاکوڑ،مولانا عمران قاسمی صاحب رام گڑھ،جناب منصور مظاہری صاحب، جناب عبد الواحد صاحب لاتیہار ،مولانا اسجد قاسمی مدرسہ حسینیہ کڈرو، رانچی، جناب حامد الغازی ندوی صاحب، مولانا شکیل الرحمن صاحب ہزاری باغ، جناب حافظ انور صاحب جنرل سکریٹری جمیعۃ علماء جمشید پور، حافظ نعیم صاحب گملا، مولانا عبد القیوم صاحب بلسوکرا، مولانا توقیر عالم قاسمی سمڈیگا، مولانا عمران ندوی مدرسہ مظہر العلوم اربا، چھاتر شکچھک سنگھ کے ذمہ دار کے ایس علی صاحب نے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا اور امارت شرعیہ کی تحریک کو عملی شکل دینے کے سلسلہ میںمفید مشورے دیے ۔ اجلاس کی نظامت مولانا مفتی محمد سہراب ندوی صاحب نائب ناظم امارت شرعیہ نے کی ، انہوں نے ابتدائی گفتگو کرتے ہوئے امارت شرعیہ کی اس تعلیمی تحریک کے اغراض و مقاص تفصیل سے بیان کیے، اجلاس کا آغاز قاری صہیب احمد نعمانی استاذ مدرسہ عربیہ کانکے کی تلاوت کلام پا ک سے ہوا ، جب کہ مولانا ابو داؤد قاسمی دار القضاء رانچی نے بارگاہ رسالت میں نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔ مولانا مفتی محمد انور قاسمی قاضی شریعت دار القضاء رانچی نے استقبالیہ کلمات کہے ، انہوں نے جھارکھنڈ کے مختلف اضلاع سے آئے ہوئے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا، ساتھ ہی اجلاس کو منعقد کرنے میں تعاون دینے والے سبھی افراد کا شکریہ اداکیا ،انہوں نے تینوں دن ہونے والے پروگرام کی تفصیل بھی سامعین کو بتائی ۔جناب مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ نے یہ تجاویز پڑھ کر سنائیں اور لوگوں سے ہاتھ اٹھا کر ان پر عمل کرنے کا وعدہ لیا۔تجویز کے مطابق ایک صوبائی کمیٹی کی تشکیل بھی عمل میں آئی ہے۔اس اجلاس میں مولانا مفتی نذر توحید مظاہری قاضی شریعت چترا،ڈاکٹر یاسین قاسمی، مفتی عبد الرحمن قاسمی، الحاج شکیل صاحب، جناب حاجی فیروز صاحب، مولانا سہیل اختر قاسمی نائب قاضی شریعت امارت شرعیہ، مولانا عبد الواجد چترویدی، مولانا مفتی طلحہ ندوی، مولانا ڈاکٹر طلحہ ندوی، مولانا سلمان قاسمی،امارت پبلک اسکول کے ذمہ دار مولانا محمد ابو الکلام شمسی ،جمیعۃ الراعین کے تمام ذمہ داران و کارکنان،جھارکھنڈ کے تمام ذیلی دار القضا ء کے قضاۃ اور جھارکھنڈ کے تمام اضلاع کی نمائندہ شخصیات نے اجلاس میں شرکت کی ۔آخر میں حضرت امیر شریعت مد ظلہ کی دعا پر اجلاس کا اختتام ہوا۔
منفرد لب و لہجہ کے ممتازشاعرحضرت مظہر محی الدین کاانتقال
ہبلی 13مارچ(آئی این ایس انڈیا)
منفرد لب و لہجہ کے ممتاز بزرگ شاعر حضرت مظہر محی الدین کا 12مارچ کو بوقت عصر ان کی رہائش گاہ مخدوم منزل ہبلی میں بہ عمر 88سال انتقال ہوگیا۔ وہ کچھ دنوں سے عوارض کبرسنی سے علیل تھے ، لیکن ان کی یادداشت اور بذلہ سنجی میں کوئی فرق نہیں آیا تھااور نہ ہی ان کی عبادات میں خلل پیدا ہوا تھا۔ وہ حسب حال نماز پنچگانہ بہ پابندی وقت ادا کرتے تھے ۔ مظہرمحی الدین نہایت منکسرالمزاج ، اُصول پسند شخصیت کے مالک تھے ۔ انھوں نے ہائی اسکول کے استاد کی حیثیت عملی زندگی کا آغاز کیا۔ ۔ ان کی تدریسی زندگی کا طویل عرصہ بیدر میں جونیئر کالج کے لیکچرار کی حیثیت سے گذرااور وہ پرنسپل کی حیثیت سے بیدر ہی سے رٹائرڈ ہوئے۔ بیدر اور گلبرگہ کے ادباء شعراء سے ان کے قریبی مراسم تھے ۔ ان میں حضرت رشید احمد رشید ، محسن کمال، ظفر اللہ خان ، ڈاکٹر وہاب عندلیب ، جناب حکیم شاکر ، ڈاکٹر راہی قریشی ، حشمت فاتحہ خوانی ، جناب حامد اکمل (ایڈیٹر روزنامہ ایقان ایکسپریس ) ،جناب خالد سعید شامل ہیں ۔ مظہر محی الدین کے جسد خاکی کی تدفین آج 13مارچ کی صبح 11بجے بڑے قبرستان ہبلی میں ان کے بزرگوں کی قبور کے قریب عمل میں آئی ۔ اس وقت ادباء ، شعراء اور اردو اساتذہ کی کثیر تعداد موجود تھی ۔ ادارہ فروغ اُردو ہبلی کے خالد احمد جمعدار ، سرپرست ڈاکٹر عبدالکریم ، معتمد ابوطاہر لعل میاں اور جماعت اسلامی ہبلی کے عہدہ داروں اور ادباء نے مظہر صاحب کے انتقال پر گہرے رنج و ملال کا اظہار کیا ہے۔ ظہیر آباد کے مزاح نگار وسیم احمد نے بھی خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ حضرت مظہر محی الدین کے پسماندگان میںاہلیہ کے علاوہ چار فرزندان عبدالحمید ، عبدالمجید ، محمد غوث اور محمد الطاف اور دو دختران شامل ہیں ۔ مظہر محی الدین کے چار مجموعہ ہائے کلام جاگتی دہلیز ، اعتبار، بشارت اور لفظ لفظ روشنی شائع ہو کر مقبولیت عام حاصل کرچکے ہیں ۔ انھوں نے اندرون ملک کل ہند مشاعروں کے علاوہ دوبئی ، کے عالمی مشاعرے میں شرکت کی تھی۔ ان کا پانچواں شعری مجموعہ زیر ترتیب ہے ۔ مظہر محی الدین ہبلی دھارواڑ ، بیدر کے ادبی اداروں سے وابستہ رہ چکے ہیں ۔ وہ کرناٹک اُردو اکیڈیمی رکن اور ادارہ ادب اسلامی کرناٹک کے صدر رہ چکے تھے ۔ مظہر محی الدین کاتجارت پیشہ خاندان سے تعلق تھا۔ وہ حلقہ احباب میں ایم ایم بیوپاری کے نام سے مخاطب کئے جاتے تھے ۔ ہبلی میں ان کے قریبی ساتھیوں میں شاعر و فزیکل ٹیچر جناب وینکپا کامل کلادگی ، افسانہ نگار انل ٹھکر تھے ۔ انھیں ادب اور ڈرامہ میں اداکاری سے گہری دلچسپی تھی۔ مظہر صاحب نے کامیاب سماجی زندگی گذاری ان کی شخصیت بے داغ اور کردار قابل تحسین تھا۔ گلبرگہ کے ادیبوں اور شعراء نے ان کے انتقال پر گہرے رنج و ملال کا اظہار کیا ہے ۔ مظہر محی الدین شاگرد رشید ارقم مظہری نے اپنے استاد کی طویل ادبی خدمات کو قابل فخر دیتے نہایت پرُ اثر خراجِ عقیدت پیش کیا ہے ۔ جناب ارشد ملاں نے کہا ہے کہ مظہر صاحب کی ہمارے والد بزرگوارجناب عبدالغنی ملاں سے نہایت قریبی تعلقات تھے ۔
جموں و کشمیر شاہراہ سے ملبہ ہٹایا گیا
بنیہال / جموں13مارچ(آئی این ایس انڈیا)
جموں سرینگر قومی شاہراہ پر ہفتہ کی سہ پہر کوملبہ صاف کردیا گیا جو رام بن ضلع میں بارش کی وجہ سے جمع ہوچکا تھا۔ اس کے ساتھ ہی دو دن تک بند رہنے کے بعد شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت کا راستہ صاف ہوگیا۔ عہدیداروں نے یہ اطلاع دی ہے۔محکمہ ٹریفک کے عہدیداروں نے بتایاہے کہ اگر موسم ٹھیک رہا تواتوار کو کشمیر کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والی اس شاہراہ پرٹریفک دوبارہ شروع ہوجائے گا۔جمعہ کے روز ہفتہ وار معمول کی مرمت کے لیے شاہراہ بندکردی گئی تھی۔ اس دوران بنیہال کے قریب شدید بارش کی وجہ سے کئی مقامات پر پہاڑوں سے کٹاؤ اورپتھرگرنے کے باعث بند ہوگئی۔عہدیداروں نے بتایاہے کہ ہفتہ کی سہ پہر تین بجے تک سڑک کو مکمل طور پر صاف کردیاگیاہے لیکن اس کے بعد صرف پھنسی ہوئی مقامی گاڑیوں کو ہی کی اجازت دی گئی ہے۔
ایک مشتبہ نکسلی گرفتار
رائے پور13مارچ(آئی این ایس انڈیا)
چھتیس گڑھ کے نکسل متاثرہ ضلع دنتے واڑہ میں سیکیورٹی فورسز نے ایک مشتبہ نکسلی کوگرفتار کرلیا ہے۔ ایک سینئر پولیس افسرنے اس بارے میں معلومات دی ہیں۔دنتے واڑہ ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ ابھیشیک پالووا نے ہفتے کے روز بتایاہے کہ ضلع کے کٹیکلیان پولیس اسٹیشن کے تحت واقع جیوکارتا گاؤں کے جنگلات میں ایک مقابلے کے بعد سکیورٹی فورسزنے ایک مشتبہ نکسلی کوگرفتارکرلیا۔پالووس نے بتایا کہ کٹیکلیان پولیس اسٹیشن کے علاقے میں ڈی آر جی کے دستہ کو آگ لگادی گئی تھی اور جب ٹیم گیوکارتا گاؤں کے جنگل میں تھی تو نکسلیوں نے پولیس ٹیم پر فائرنگ کردی۔انہوں نے بتایاہے کہ اس کے بعدسکیورٹی فورسزنے بھی جوابی کارروائی کی اور دونوں طرف سے مختصر فائرنگ کے بعد نکسلی وہاں سے فرار ہوگئے۔انہوں نے بتایاہے کہ جب سیکیورٹی فورسزنے علاقے میں سرچ آپریشن کیا تو انہوں نے ایک مشتبہ نکسلی شخص کو گرفتار کرلیا۔پولیس سپرنٹنڈنٹ نے بتایاہے کہ علاقے میں نکسلیوںکے خلاف آپریشن جاری ہے۔
بہار:اپوزیشن چوطرفہ حملہ آور،وزراء کے ٰخلاف کارروائی کے لیے گورنرہائوس کامارچ
تیجسوی یادواور تارکیشور پرساد کے درمیان نوک جھونک،اسمبلی میں زبردست ہنگا مہ
پٹنہ13مارچ(آئی این ایس انڈیا)
بہارقانون سازیہ کا بجٹ اجلاس جاری ہے۔ آج 17ویںدن بھی اجلاس اپوزیشن پارٹیوں کے ہنگامے کی نذر ہوگیا۔ آج حزب اختلاف کے رہنما تیجسوی یادو اور نائب وزیراعلیٰ تارکیشور پرساد کے درمیان زبردست نوک جھونک ہوئی۔اس کے بعدتیجسوی یادونے گورنرہائوس مارچ کیااوربیان جاری کرکے کہاہے کہ ہم نے گورنرسے مطالبہ کیاہے کہ وہ ازخودنوٹس لیتے ہوئے داغی وزراء اورحکومت کے خلاف کارروائی کریں۔بہارمیں اپوزیشن بہت مضبوط ہے۔اس لیے راجدنے حکومت کی ناک میں دم کیاہواہے۔اس سے پہلے ایک وزیرکواستعفیٰ دیناپڑچکاہے۔اس کے علاوہ وزیرسہنی کے بھائی کے پروگرام کے افتتاح کرنے پرسہنی کواوروزیراعلیٰ کوصفائی دینی پڑی ہے ۔اس کے علاوہ اپوزیشن ہرطرح حملہ آورہے جس سے تنگ آکرنتیش کماربھی کئی بارآپاکھوچکے ہیں۔اورایسی زبان استعمال کرچکے ہیں جوان کی شناخت نہیں ہے۔پہلے یہ نوک جھونک سابق نائب وزیراعلیٰ سشیل کمار مودی اوراپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو کے درمیان ہوا کرتی تھی۔ لیکن آج پہلی بار نائب وزیراعلیٰ تارکیشور پرساد بہت ہی غضبناک ہوگئے اور اسپیکر سے گذارش کی کہ اصول و ضابطے کے تحت ہائوس کو چلایا جائے۔ دراصل ریاستی وزیر محصولات کے خلاف تحریک التوااپوزیشن لیڈر نے پیش کیا تھا۔ جسے نامنظورکردیاگیا۔ اسپیکر نے کہاہے کہ اس موضوع پر سموارکوکل جماعتی میٹنگ طلب کی گئی ہے۔میٹنگ میں اہم فیصلے لیے جائٰیںگے۔بہار میں اپنی ہی حکومت کے وزیر پر شراب بندی قانون کی دھجیاں اڑانے کے لگ رہے الزامات سے وزیر اعلیٰ نتیش کمار پریشان ہیں۔ اس تعلق سے نتیش حکومت کو آج پھر اپوزیشن کے زبردست ہنگامے کا سامنا کرنا پڑا۔ آر جے ڈی سمیت اپوزیشن پارٹی کے اراکین اسمبلی نے غیر قانونی شراب فروخت کرنے کے الزامات پر ریاستی وزیر رام سورت رائے کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے اسمبلی میں خوب ہنگامہ کیا۔ اس کے بعد بولنے کا موقع نہیں دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے اپوزیشن اراکین نے اسمبلی سے نکل کر راج بھون مارچ کیا۔اس سے قبل آج صبح اسمبلی کی کارروائی شروع ہونے کے پہلے ہی ریوینیو اور اصلاحات اراضی کے وزیر رام سورت رائے کے استعفیٰ کے مطالبہ کو لے کر آر جے ڈی اراکین نے قانون ساز کونسل احاطہ میں مظاہرہ کیا۔ بعد ازاں جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی تو اپوزیشن اراکین ہنگامہ کرنے لگے۔ اپوزیشن لگاتار وزیررام سورت رائے کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہا تھا۔اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے کہاہے کہ یہ معاملہ انتہائی سنگین ہے۔ انھوں نے کہا کہ وزیر کے خلاف سبھی ثبوت موجود ہیں، لیکن شراب معاملے میں صرف غریبوں کو ہی گرفتار کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد وقفہ صفر کے دوران وزیر رام سورت رائے کے استعفیٰ کے مطالبہ کو لے کر اپوزیشن اراکین اسمبلی ویل میں آ گئے۔ اس پر ایوان میں تیجسوی یادو اور نائب وزیر اعلیٰ تارکشور ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہو گئے۔ ہنگامہ بڑھتا دیکھ اسپیکر نے دو بجے کے لیے ایوان کی کارروائی ملتوی کردی۔اس دوران اسمبلی اسپیکر وجے سنہا سبھی اراکین کو پرسکون کراتے رہے، لیکن اپوزیشن کا ہنگامہ جاری رہا۔ اس کے بعدآر جے ڈی اراکین اسمبلی اپوزیشن کو بولنے کے لیے موقع نہیں دینے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے اسپیکر کے ہال کے باہر دھرنے پر بیٹھ گئے اور نعرہ بازی کرنے لگے۔ پھر اس کے بعد تیجسوی یادو کی قیادت میں اپوزیشن اراکین پیدل ہی راج بھون مارچ کے لیے نکل گئے اورریاستی گورنر کو ایک میمورنڈم سونپا۔تیجسوی نے کہا کہ ان کے پاس نام سورت رائے کے خلاف ثبوت و شواہد موجود ہیں لیکن ثبوت کو اسمبلی میں پیش کرنے نہیں دیا گیا جو جمہوریت نظام کے خلاف ہے۔تیجسوی یادونے کہاہے کہ وزراء اسمبلی میں اسپیکر کو بھی ہدایت دے رہے ہیں جو جمہوری نظام کے خلاف ہے۔دوسری طرف نتیش حکومت میں وزیر جیویش مشرا نے وزیر رام سورت رائے کا دفاع کرتے ہوئے کہاہے کہ وزیر رام سورت رائے کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے جہاں سے شراب کی برآمدگی ہوئی ہے۔ وزیر کا 2012 میں اپنے بھائی سے رجسٹرڈ بٹوارا ہو چکا ہے۔

کیٹاگری میں : اہم

اپنا تبصرہ بھیجیں