وازے کی گرفتاری: کرپٹ پولس افسران کو ہٹانے کا موقع!

وازے کی گرفتاری: کرپٹ پولس افسران کو ہٹانے کا موقع!
شکیل رشید(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)
خودکشی کی دھمکی سے لے کر حبس بے جا کی درخواست تک، گرفتار پولس اسسٹنٹ انسپکٹر سچن وازے اور اس کے گھر والے ’بے گناہی‘ ثابت کرنے کےلیے ہر طرح کا حربہ آزما رہے ہیں۔ عدالت میں حبس بے جا کی درخواست کرتے ہوئے سچن وازے کے بھائی سدھارم وازے نے گرفتاری کو ’غیر قانونی‘ قرار دیا ہے۔ ممکن ہے کہ گرفتاری غیر قانونی ہو ، مگر یہ کیاکہ ابھی گرفتاری کو دو ہی دن ہوئے ہیں کہ چھٹ پٹاہٹ اور تلملاہٹ نے وازے خاندان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے! اسے تو بالکل اسی طرح سے تفتیش اور عدالت کے فیصلے کا انتظار کرناچاہئے جیسے ان افراد نے جنہیں سچن وازے نے کبھی گرفتار کیا تھا ’بے بسی‘ کے عالم میں اپنی بے گناہی ثابت کرنے اور اپنی رہائی کو ممکن بنانے کےلیے صبروسکون کے ساتھ عدالت کے فیصلے کا انتظار کیا تھا۔ اورکچھ تو آج بھی سلاخوں کے پیچھے پڑے عدالتی فیصلے کا انتظار کررہے ہیں۔ کچھ تو ایسے ہیں جو حیات نہیں ہیں کہ اس ’بہادر‘ وازے نے جسے ’انکائونٹر اسپیشلسٹ‘ بھی کہاجاتا ہے ، کسی تفتیش اور عدالتی کارروائی سے پہلے ہی انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ لیکن زندگی کھونے والوں کے اہل خانہ تو ہیں جن میں سے کچھ آج بھی اپنے پیاروں کی ’انکائونٹر‘ میں موت کو ’فرضی انکائونٹر‘ قرار دے کر، یا ’ٹارچر سے موت‘ مان کر عدالت کے فیصلے کے منتظر ہیں۔ ایسوں میں خواجہ یونس کی والدہ آسیہ بیگم بھی ہیں۔ ضعیف العمر آسیہ بیگم جو انصاف کےلیے ایک دروازے سے دوسرے دروازے تک او رایک عدالت سے دوسری عدالت تک دوڑتی پھر رہی ہیں۔ اور آسیہ بیگم نے نہ جانے کتنی بار یہ کہا ہوگا کہ ’’میرا بیٹا وازے کے ٹارچر سے مرا ہے‘‘ لیکن اس کی بات تو ہمیشہ ہنس کر ایک مذاق سمجھ کر اڑائی گئی ہے۔ خواجہ یونس کا باپ خواجہ ایوب تو یہی بات کہتے کہتے مرگیا۔ اور اب من سکھ ہیرن کی بیوہ یہی الزام لگا رہی ہے کہ اس کے شوہر کا قاتل وازے ہے۔ وازے نے جن افراد کو ایک ’انکائونٹر اسپیشلسٹ‘ کی حیثیت سے قتل کیا ہے ان کے اہل خانہ سے کوئی جاکر پوچھے، وہ یہی کہیں گے کہ قتل فرضی تھا، پولس پر کسی نے حملہ نہیں کیا تھا،پولس کی یہ کہانی کہ دفاع میں گولی چلائی گئی سراسر جھوٹی ہے۔ لیکن یہ وہ لوگ ہیں ، ڈرے اور سہمے ہوئے جو اپنے پیاروں کی ’غیر قانونی موت‘ پر اپنی زبانوں کو سئیے رہے ، کیو ںکہ انہیں ڈرایا اور دھمکایاجاتا تھا۔
سچن وازے آج جس تلملاہٹ میں مبتلا ہے وہ جس طرح سے چھٹ پٹا رہا ہے اسی طرح اس کے ہاتھوں پکڑے اور مارے گئے لوگ بھی تلملائے اور چھٹ پٹائے ہوں گے۔ اور صرف ایک سچن وازے ہی کیوں ممبئی بلکہ سارے ہندوستان میں پولس نے ’انکائونٹر‘ کے نام پر غیر قانونی طور پرلوگوں کے قتل کا جو طریقہ ا ختیار کررکھا ہے، اس نے اب ایک ’دھندے‘ کی صورت اختیار کرلی ہے۔ کتنی ہی رپورٹوں میں پولس پر ’سپاری‘ لے کر لوگوں کو زندگی سے محروم کرنے کا الزام لگا ہے۔ یہ ’انکائونٹر اسپیشلسٹ‘ کروڑوں کی املاک کے مالک بھلا کیسے ہوگئے؟ تنخواہ سے بھی زیادہ دولت کہاں سے آگئی؟ یہ وہ سوالات ہیں جو سچن وازے کی گرفتاری کے بعد گرم ہوگئے ہیں۔ جاوید پھائوڑا اور عشرت جہاں تک کتنے ہی لوگوں کو ’فرضی انکائونٹر‘ میں مارا گیا ہے۔الزام یہی ہے کہ یہ سب ’سپاری‘ لے کر کیے گئے انکائونٹر تھے۔ سچن وازے کی گرفتاری نے ادھو حکومت کو ایک موقع دیا ہے کہ وہ کرپٹ پولس افسران کو بچانے کی بجائے ان کی جانچ کروائے اور ان کے کیے کی انہیں سزا دلوائے۔ اب موقع آگیا ہے کہ محکمہ پولس کو بدعنوان اور متعصب افسران سے پاک کیاجائےاور محکمہ میں نئی زندگی ڈالی جائے۔ پولس اصلاحات کی صرف اب تک باتیں کی گئی ہیں اب اصلاحات کا صحیح موقع ہے۔ ادھو سرکار نے اگر یہ کیا تو ہمیشہ کے لیے لوگ اسے یاد رکھیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں