مالیگاؤں میں خودکشی کی یہ وارداتیں ؟

مالیگاؤں میں خودکشی کی یہ وارداتیں ؟
تکلف برطرف : سعید حمید
مالیگاؤں مسجدوں کا شہر ہے ،
یہاں گلی گلی مساجد موجود ہیں ،
یہاں پانچوں وقت اذان کی صدائیں گونجا کرتی ہیں ۔
یہاں دینی مدارس کی ایک بڑی تعداد اسلامی تعلیمات
و تہذیب کے فروغ کام کر رہی ہیں ۔
یہاں علمائے دین کی ایک بڑی تعداد قوم کی دینی
اصلاح و رہنمائی کیلئے ہمہ وقت سرگرم ہے ۔
لیکن ،
جب ایسے شہر سے خودکشی کی وارداتوں کی خبریں آتی ہیں ،
تو مایوسی ہوتی ہے ،
اور سوال پیدا ہوتا ہے ،
کیا مسجدوں کے شہر میں بھی اسلامی تعلیم و تربیت میں کچھ کمی رہ گئی ؟
کیونکہ مسلم معاشرہ میں اب تک تو خودکشی اجنبی تھی ۔
اس کا مسلم معاشرہ میںدخل ـ ’’ نا ‘‘کے برابر تھا ۔
اور آج ؟
مسلم معاشرہ میں خود کشی کی وارداتیں ہو رہی ہیں ۔
اور مسجدوں و دینی مدارس کے شہر مالیگاؤں میں کود کشی کی
وارداتیں تو خطرے کی گھنٹی قرار دی جا سکتی ہے ۔
اسلام میں خودکشی کو حرام قرار دیا گیا ہے ،
اسلئے مسلم معاشرہ خودکشی کی لعنت سے پاک تھا ۔
اور اس کا دنیا بھر میں اعتراف کیا جاتا تھا ۔
دور کی بات کیا کیجئے ؟
ہماری ریاست مہاراشٹر میں فصل کی ناکامی پر کسانوں
کی خود کشی کا مسئلہ برس ہا برس سے چل رہا ہے ۔
ہر سال ہزاروں کسان خود کشی کر رہے ہیں ۔
۲۰۱۵ ء میں فلم اداکار نانا پاٹیکر نے قحط کے شکار کسانوں
کی امداد کی مہم شروع کی ، وہ متاثرہ علاقوں میں گئے ۔
خود کشی کرنے والے کسانوں کے خاندانوں سے ملاقاتیں کیں ،
انہیں مالی امداد دی ۔
اس دوران انہوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ؛ ’’ جو کسان خود کشی کر رہے ہیں ،
ان میں مسلمانوں کی تعداد’’ نا ‘‘ کے برابر ہے ۔اور اس کی وجہ
یہ ہے کہ قرآن نے خود کشی کو حرام ، گناہ قرار دیا ہے ۔
خو دکشی کو اللہ کےا حکامات کی خلاف ورزی کہا ہے ۔
خو دکشی کو اللہ کی مر ضی کے ساتھ بے وفائی یا وشواس گھات ہے ۔
قرآن کریم کی یہ تعلیمات میرے دل کو چھو لیتی ہیں ۔‘‘
یعنی ۔
۲۰۱۵ ء تک بھی مسلم معاشرے میں خود کشی کا کوئی عمل دخل نہیں تھا ۔
ورنہ مہاراشٹر میں مسلم کسان بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔
حالانکہ کئی دہائیوں سے سرکاری اسکیموں کے نفاذ کا دعوی کیا جارہا ہے ۔
پھر بھی کسانوں کی خود کشی کا سلسلہ بھی نہیں رک رہا ہے ۔
۲۰۱۹ ء میں ہی مہاراشٹر میں ۳۹۲۷ کسانوں نے خودکشی کی تھی ،
اسی سال ملک بھر میں دس ہزار سے زیادہ کسانوں نے خو دکشی کی ،
لیکن ،
ہمیشہ کی طرح ان میں مسلم کسانوں کی تعداد آٹے میں نمک برابر رہی ہے ۔
البتہ ،
مسلم سماج میں خود کشی کی بڑھتی ہوئی وارداتیں تشویش کا سبب ہیں ۔
خو دکشی کی ان وارداتوں کا ایک بڑا سبب جہیز کو قرار دیا گیا ۔
جہیز کی وجہ سے مسلم لڑکیاں تشدد کا شکار بنائی جانے
لگیں ، اور نتیجہ میں مسلم لڑکیاں بھی خود کشی کرنے لگیں ۔
جہیز بھی ایک غیر اسلامی ڈیمانڈ یا مطالبہ ہے ۔
اور اس غیر اسلامی مطالبہ نے کئی مسلم لڑکیوں کو خود کشی جیسی
حرکت پر مجبور کیا ، جسے اسلام نے حرام قرار دیا ہے ۔
احمد آباد کی ایک لڑکی عائشہ خان نے خو دکشی سے قبل جو
ویڈیو پیغام بنایا تھا ، وہ پورے ملک میں وائرل ہوا تھا ،
اور اس نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر بھی رکھ دیا ۔
لیکن ایک سوال آج بھی ہمیں سوچنے پر مجبور کر رہا ہے ،
اسلامی ماحول میں پرورش پانے والی لڑکیا ں بھی کیوں خود کشی
کر رہی ہیں ؟
مالیگاؤں سے خو دکشی کی وارداتوں کی جو خبریں آ رہی ہیں ،
ان کی روشنی میں یہ سوال اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے ،
اور اس کا جواب تلاش کرنا بہت ضروری ہے ۔
مالیگاؤں میں خو دکشی کی وارداتیں ایک خطرہ ہے ،
ایک چیلنج ہے ،
یہ بات مالیگاؤں پولس نے بھی محسوس کر لی ہے ۔
اسلئے گذشتہ دنوں ایڈیشنل ایس پی مالیگاؤں نے ایک
خصوصی ویڈیو بھی اس موضوع پر جاری کیا ۔
انہوں نے بھی یہ بات خصوصی طور پر کہی کہ اسلام نے
خود کشی کو حرام قرار دیا ہے ، اپنی بات السلام و علیکم کہہ کر شروع کی
یعنی ان کی توجہ خاص طور پر مالیگاؤں کے مسلمانوں پر ہے ،
ان کی ویڈیو سےایک بات یہ بھی صاف ہوئی
کہ مالیگاؤں میں کچھ لڑکیوں نے خود کشی کی ، تو یہ معاملہ
بلیک میل کا بھی ہو سکتا ہے ۔
ایڈیشنل ایس پی مالیگاؤں نے متاثرہ لڑکیوں کیلئے
ہیلپ لائن کا بھی اعلان کیا ،
جس کی انچارج ایک خاتون ڈی وائی ایس پی ہیں ۔
مالیگاؤں میں بے روزگاری ، تنگ دستی اور بیماری سے پریشان
نوجوان ، اور بزرگ شہریوں کی خود کشی کے واقعات بھی ہوئے ہیں ۔
ان واقعات کا نوٹس بھی ملی اداروں نے لیا ہے ،
مالیگاؤں میں کئی اجلاس اس موضوع پر ہوچکے ہیں۔
خو دکشی نے مسلم معاشرہ کیلئے ایک نیا چیلنج کھڑا کیا ہے ،
باوجود اس کے کہ اسلام نے خو دکشی کو حرام قراردیا ہے ،
مسلم علاقوں اور مسلمانوں میں اب خو دکشی کی وارداتوںمیں
کیوں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے ؟
صرف خود کشی کرنے والوں کی مذمت سے جواب نہیں ملے گا ،
اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے
اس معمہ کو سلجھانا بہت ضروری ہے !!!!

اپنا تبصرہ بھیجیں