ماب لنچنگ میں ایک اور مسلمان کی موت

ماب لنچنگ میں ایک اور مسلمان کی موت
آخر سپریم کورٹ کا بیان کردہ Anti-Lynching law کب عمل میں آئےگا؟
جھارکھنڈ جہاں کچھ وقت پہلے تبریز انصاری کو ہنومان بھکت کہلانے والی بھیڑ نے مار ڈالا تھا اسی جھارکھنڈ رانچی انگڑا کے ایک شخص مبارک خان کو اس دفعہ بھیڑ نے اپنا شکار بنایاہے، واردات مہیش پور گاؤں کی ہے، سنیچر کی رات کو تقریباﹰ ۱۲ بجے اسے بھیڑ نے نشانہ بنایا اور مار ڈالا، الزام لگایا کہ چوری کررہا تھا،
ابھی تازہ ہی معاملہ ہیکہ ایسے ہی ایک اور مسلمان ریحان نامی کو یوگی۔راج کے اترپردیش بریلی میں بھیڑ نے چوری کا الزام لگا کر ہی قتل کردیا تھا
اگر ماب۔لنچنگ کے کسی ایک مجرم کو پھانسی ہوئی ہوتی تو یہ سَنگھی دہشتگردی ٹھہر چکی ہوتی، یہ کھلی ہوئی دہشتگردی ہے، یہ برہمنوں کا پھیلایا ہوا اسلام۔مخالف زہر ہے جو اب ہندو نام والے بےروزگار جاہلوں کے منہ لگ چکاہے ان کی بھوک کہیں کہیں جاگتی رہتی ہے، جب تک حکومت نہیں چاہے گی اس سلسلے کو کوئی روک نہیں سکتا، جب تک ریاستی مشنری ماب۔لنچنگ کے خلاف عبرتناک ایکشن نہیں لے گی یہ اکثریتی جنون کی سنگھی دہشتگردی تھمنے والی نہیں، لیکن وہ لوگ روکنے تیار نہیں ہیں، کیونکہ وہ آنے والے ہندوراشٹر کے لیے نئے شودر اور نئے بھیڑیے تیار کررہےہیں، جن کی برپا کی ہوئی فسادی دنیا کے پسِ پردہ ان کا فاشسٹ استعمار کھڑا ہوگا، ماب۔لنچنگ ان کے ایجنڈے میں شامل ہے، لیکن اسے روکنے کے لیے ہمارے ایجنڈے میں کیا ہے؟ دادری میں گائے کے گوشت کےنام پر اخلاق کی لنچنگ سے لیکر اب تک کتنے مجرموں کو سسٹم نے کیفرکردار تک پہنچایا گیا؟
سپریم کورٹ نے کئی سالوں پہلے صاف طور پر ماب۔لنچنگ کیخلاف سخت اقدامات اور قانون کے لیے حکومت کو کہا تھا، لیکن سپریم کورٹ کا بھی حکمنامہ اس جنونی سنگھی دہشتگردی کو روکنے کے لیے خاطر میں نہیں لایاگیا، ہوسکتا ہے ہمارے قائد حضرات بھول گئے ہوں میں انہیں یاد دلاتا ہوں کہ ذرا اپنی لیگل ٹیم سے تفصیل پوچھیے، لنچنگ اور ہجومی دہشتگردی کے معاملے میں فیصلہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے 17 جولائی ۲۰۱۸ کو یہ ہدایت دی تھی کہ مرکز و ریاستی سرکاریں ، Anti-lynching law ۔ انسداد ہجومی دہشتگردی قانون کو وضع کرے، اسلیے کہ اس قسم کے نفرت انگیز قاتلانہ حملے جو مذہبی شناخت کی بنیاد پر ہورہے ہیں وہ جرم ہونے کےساتھ ساتھ آئین کی دفعات 14 اور ۱۵ کی بھی ورزی کرتےہیں،
تو سوال یہ ہیکہ، سپریم کورٹ نے ایک واضح گائڈ لائن اتنے سالوں پہلے، جو ماب لنچنگ کیخلاف جاری کردی ہے اس پر حکومتوں سے عمل کروانے کیلیے لیڈرشپ نے کیا کِیا ہے؟ یا یہ بھی عام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے؟ اس راستے ماب۔لنچنگ متاثرین کو انصاف مل سکتاتھا لیکن سپریم کورٹ کے اس حکمنامہ پر مرکزی حکومت سے عمل کروانے کی ذمہ داری چھوٹے موٹے ایکٹوسٹ، رضاکار نوجوان تو نہیں اٹھا سکتے نا؟ یا یہ بھی انہی کے سر ڈال کر آپ نے ہاتھ جھاڑ لینا ہے؟ مرکزی مین اسٹریم 2014 سے کہاں ہے؟ آج تک اس نفرتی لہر کو روکنے کیلیے جو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے اس پر عملدرامد کیلیے اعلیٰ سطحی لیڈرشپ نے کتنی سڑکیں بند کیں؟ مودی اور شاہ پر توہین عدالت کے کتنے مقدمے کیے؟ سیاسی لیڈرشپ ہوکہ ملی ان کے سامنے مسلمانوں کو ماب۔لنچنگ سے بچانے کیلیے واضح روڈمیپ موجود ہے لیکن وہ اس پر بھی عملدرآمد نہیں کرتے کہ مبادا کچھ خلاف مصلحت حالات سے گزرنا نہیں پڑے _
الله مبارک خان کی مغفرت فرمائے۔
✍: سمیع اللّٰہ خان
14 مارچ ۲۰۲۱

اپنا تبصرہ بھیجیں