قرآن مجید بے حرمتی کیس عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے بری،

قرآن مجید بے حرمتی کیس عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے بری،
کجریوال نے مبارک باددی، جھوٹے کیس میں پھنسانے کا الزام
نئی دہلی16مارچ(آئی این ایس انڈیا)
آپ کے ایم ایل اے نریش یادوکوجون 2016 میں قرآن شریف بے حرمتی کیس میں عدالت نے بری کردیاہے۔ دہلی کے مہرولی سے تعلق رکھنے والے ایم ایل اے نریش یادو کو دو ملزم وجے اور گوراو نے نامزد کیا تھا۔ جس کے بعدپنجاب پولیس نے نریش یادو کو دہلی سے گرفتار کیا۔ یہ مقدمہ کافی دن سے عدالت میں چل رہا تھا۔ ساڑھے چار سال کے بعد عدالت نے نریش یادو کو بری کردیا۔ اسی کے ساتھ ہی ، دوسرے دو ملزموں وجے اور گوراو کو بھی قرآن شریف کی بدنامی پر مجرم قرار دیا گیا ہے اورانھیں قصوروار بھی قرار دیا گیا ہے۔عدالت سے بری ہونے کے بعد ، نکیش یادو نے بھی ٹویٹر کے ذریعے خوشی کا اظہار کیاہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ستیہ کی جیت ہوئی۔ مجھے پنجاب مالیرکوٹلہ قرآن شریف گستاخی کے معاملے میں جھوٹے طورپرپھنسایا گیا تھا ، آج سچ جیت گیا ے۔ میں آپ سب کے احسانات سے معزز عدالت سے بری ہوا۔مجھے انصاف پسند لوگوں نے مجھے بہت سپورٹ دیا۔اسی دوران چیف منسٹر کجریوال نے نریش یادو کو عدالت کے حکم پر مبارکباد دی اور کہاہے کہ ہمارے ایک اور ایم ایل اے جھوٹے الزامات سے بری ہوگئے ، نریش کو مبارکباد۔
امید ہے ، آپ الیکشن کمیشن نہیں چلا رہے ہوں گے،امت شاہ پرممتابنرجی کاپلٹ وار
نئی دہلی16مارچ(آئی این ایس انڈیا)
مغربی بنگال کی سیاست میں ہائی ولٹیج کا ڈرامہ جاری ہے۔ وزیراعلیٰ ممتا بنرجی زخمی ہونے کے بعد دوبارہ سرگرم عمل ہیں۔ وہ اتوار سے ہی روڈ شو اور جلسے کررہی ہیں۔ منگل کے روز انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ پر حملہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر داخلہ الیکشن کمیشن کے کام میں مداخلت کر رہے ہیں اور اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔آج انہوں نے ایک ریلی میں کہاہے کہ کیا وزیر داخلہ ملک چلائیں گے یا فیصلہ کریں گے کہ کون گرفتار کیا جائے گا اور کس کو مارا جائے گا؟یاوہ فیصلہ کریں گے کہ کس ایجنسی کا پیچھا کرنا ہے؟ الیکشن کمیشن کون چلا رہا ہے؟ مجھے امید ہے کہ یہ آپ نہیں ہوں گے۔ہم ایک آزاد اور منصفانہ انتخابات چاہتے ہیں۔ وہ الیکشن کمیشن کے روز مرہ کے کاموں میں مداخلت کر رہے ہیں۔
لاکھوں بینک ملازمین میں عدم تحفظ کااحساس،حکومت بات کرنے کے لیے تیارنہیں:کھڑگے
نئی دہلی16مارچ(آئی این ایس انڈیا)
پارلیمنٹ میں منگل کے روز کانگریس پارٹی کے دو ارکان پارلیمنٹ نے پبلک سیکٹر بینکوں کی دو روزہ ہڑتال اور لائف انشورنس کارپوریشن (LIC) کی مبینہ نجی کاری سے متعلق معاملہ اٹھایا۔ راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکاارجن کھڑگے نے کہاہے کہ آج تقریبا 13 لاکھ بینک ملازم ہڑتال پر ہیں ، جنرل انشورنس کمپنی کے ملازم 17 تاریخ کو ہڑتال پر جائیں گے۔ 18 مارچ کو ، ایل آئی سی ملازمین ہڑتال پر جانے والے ہیں۔ انہوں نے کہاہے کہ حکومت ہند لاکھوں بینک ملازمین کے خدشات کو دور کرنے اور ان سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔انہوں نے کہاہے کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ وزیر خزانہ نرملاسیتارامن نے 13 بینک ملازمین کے ذریعہ اٹھائے گئے سوالات اور تحفظات پرپارلیمنٹ میں حکومت کے موقف کی وضاحت کریں۔کھڑگے نے الزام لگایاہے کہ 9 بینکوں سے وابستہ ملازمین 2 دن سے ہڑتال پر ہیں۔ بینکوں میں کام رک گیاہے اورلوگ پریشان ہو رہے ہیں۔ 17 مارچ کو عام انشورنس کمپنیاں ہڑتال پر ہیں ، جبکہ 18 مارچ کو ایل آئی سی ملازمین احتجاج کریں گے۔ انہوں نے کہاہے کہ ملک میں 12 قومی بینکوں میں لگ بھگ 13 لاکھ ملازمین کام کرتے ہیں۔ ان بینکوں کی نجکاری کے فیصلے سے ان ملازمین میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ گیا ہے ، حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملازمین تناؤ اور ناراض ہیں۔ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے تقریباََ13 لاکھ بینکر اپنے مستقبل کے بارے میں غیر محفوظ محسوس کررہے ہیں۔
کسی ملک کی پارلیمنٹ کے قانون پر دوسرے ممالک کی پارلیمنٹ میں بحث نہ ہو:اوم برلا
نئی دہلی16مارچ(آئی این ایس انڈیا)
انٹرنیشنل پارلیمانی یونین (آئی پی یو) کے صدر ڈورٹے پیچیکو ان دنوں ہندوستان کے دورے پرہیں۔ پارلیمنٹ میں آئی پی یوکے صدر ڈورٹے پاچیکو کا استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر لوک سبھا اسپیکر اوم برلانے کہاہے کہ ہر ملک کی خود مختاری ہوتی ہے اور کسی ملک کے داخلی موضوعات یااس کی پارلیمنٹ میں بنائے گئے قوانین پر دوسرے ممالک کی پارلیمنٹ میں بات نہیں کی جانی چاہیے۔ان کااشارہ ممکنہ طورپرسی اے اے اورکسان تحریک پرپوری د نیامیں ہوئی بحث پرتھا۔سی اے اے تحریک اورکسان تحریک عالمی پیمانے پرمشہورہوئی اورعالمی سماجی سیاسی شخصیات نے سخت ردعمل دیاہے۔اس پربھارت نے اسے اندرونی معاملہ بتایاہے۔ لوک سبھا سکریٹریٹ کے مطابق ، برلا نے پیچیکو کو بتایا ہے کہ ہر ملک کی اپنی خود مختاری ہوتی ہے۔ اس کو دھیان میں رکھتے ہوئے یہ ضروری ہے کہ کسی ملک کے داخلی موضوعات یااس کی پارلیمنٹ میں بنائے گئے قوانین پردوسرے ممالک کی پارلیمنٹ میں بات نہ کی جائے۔وہ دوسری طرف تھے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر کی سربراہی میں ہندوستان نے عالمی امن کو اولین ترجیح دی۔
غیر قانونی کوئلے کی کان کنی کامعاملہ
سی بی آئی نے مغربی بنگال میں پانچ مقامات پر چھاپہ مارا
نئی دہلی16مارچ(آئی این ایس انڈیا)
غیر قانونی کوئلے کی کان کنی کے معاملے میں منگل کے روز سی بی آئی نے انتخابی ریاست مغربی بنگال میں پانچ مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔اس گھوٹالے کا مبینہ ماسٹر مائنڈ انوپ مانجھی ہے۔عہدیداروں نے بتایاہے کہ درگا پور ، آسنسول اوربنکورا میں مانجھی کے مبینہ ساتھی اور کاروباری شخص امت اگروال کے پانچ احاطے میں چھاپے مارے جارہے ہیں۔یہ کارروائی ایسے وقت میں کی جارہی ہے جب مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات ہونے جارہے ہیں۔
دوروزہ بینک ہڑتال سے عوام پریشان ،بینکنگ سروس متاثر
ممبئی16مارچ(آئی این ایس انڈیا)
پورے ملک میں حکومت کی پالیسی کے خلاف بینکوں کی ہڑتال سے عوام کوسخت پریشانی ہوئی۔دہلی ،ممبئی ،پٹنہ جیسے شہروں میںکتنے لوگوں کے چیک پھنس گئے۔کئی لوگ ضروری کاموں کے لیے پیسے نہیں نکال سکے۔کئی جگہ اے ٹی ایم سروس متاثرہوئی۔مہاراشٹرا میں بھی بینک ہڑتال کااچھا اثر دیکھاگیا۔مہاراشٹرمیں ہڑتال کے دوسرے دن تقریباََ 50 ہزار ملازمین اور بینک خدمات سے وابستہ افسران ہڑتال پر تھے۔بینکوں سے نقد رقم کی واپسی ، چیک کلیئرنس اور دیگر کاموں کو متاثر دیکھاگیا۔حکومت کی جانب سے بینکوں کی نجی کاری کے اعلان کے خلاف ملازمین اور افسران کی دوروزہ ہڑتال کی کال دی گئی۔یہ ہڑتال عوامی سیکٹر کے بینکوں کی نو یونینوں کے مشترکہ فورم یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز (یو ایف بی یو) نے طلب کی ہے۔وزیر خزانہ نرملا سیتارامن نے گذشتہ ماہ عام بجٹ پیش کرتے ہوئے پبلک سیکٹر کے دو بینکوں کی نجی کاری کا اعلان کیا تھا۔یونینوں کا دعویٰ ہے کہ ہڑتال کے پہلے دن ، 15 مارچ کو ، تقریباََ دو کروڑ کے چیکوں کی منظوری متاثر ہوئی ہے ، جس میں 16500 کروڑ روپئے تک کی ادائیگی پھنس گئی ہے۔ پہلے دن ، بہت سے بینکوں کے اے ٹی ایم میں نقد بھی ختم ہوگیا۔آل انڈیا بینک ایمپلائز ایسوسی ایشن (اے آئی بی ای اے) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بینکوں کی نجکاری مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ترقی پذیر ہندوستانی معیشت کے لیے یہ ایک منفی اقدام ہے۔
ارکان اسمبلی کو اسپیکر کی وارننگ،ایوان میں پھر مکا دکھانے کے معاملے پرزبردست ہنگامہ
تیجسوی یادو بیت الخلاء میں گر پڑے ،پائوں میں آئی موچ
پٹنہ16مارچ(آئی این ایس انڈیا)
آج بھی بہار قانون سازیہ کے بجٹ اجلاس کے دوران ہنگامہ ہوا۔ آج حزب اختلاف کے رہنماتیجسوی یادو اسمبلی میں بیت الخلا جاتے ہوئے پھسل گئے۔ جس سے ان کے پائوں میں موچ آگئی ہے۔ فی الحال کریپ بینڈیڈ پٹی بندھی ہوئی ہے۔وزیرمحصولات واراضی رام سندر رائے کو جواب دینے کے لیے کارروائی میں توسیع کردی گئی۔ لیکن حزب اختلاف کے ارکان نے اس کے جواب کے دوران ہنگامہ کھڑا کردیا۔ تیج پرتاپ یادو اور وزیر رام سندر رائے آمنے سامنے آئے۔وزیر رام سندر رائے نے کہاہے کہ اپوزیشن لیڈر گوالا کے بیٹے کی باتیں نہیں سننا چاہتے۔ انہوں نے تیجسوی کو للکارا اور کہا کہ پٹنہ کے گاندھی میدان میں آکر ہم سے مقابلہ کرلو ،راجدھانی پٹنہ میں ہمارے بھی بہت ساریرشتہ دار ہیں۔میں نے کبھی بھی شراب مافیا کی حمایت نہیں کی۔اسمبلی کی دوسری نشست میں اسمبلی میں ایک بار پھر سے گنا صنعت کے وزیر پرمود کمار موضوع بحث ہے۔انہوں نے اپنے ہاتھوں سے قابل اعتراض اشارہ کیا یعنی اپوزیشن لیڈر کو مکا دیکھایا۔جس پر اپوزیشن لیڈر بھڑک گئے۔اس کے ساتھ ہی اپوزیشن کے ارکان نے وزیر کی اس حرکت پر ہنگامہ کیا۔ در اصل محکمہ داخلہ کے بجٹ پر بحث و مباحثہ کے دوران اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے حکومت کو گھیرنے کی کوشش کی۔ وہ مسلسل اپنے اعداد و شمار کے ذریعہ حکومت کو ا?ئینہ دیکھا رہے تھیاور بتا رہے تھے کہ 1990سے 2005میں کتنے جرائم کے واقعات ہوئے۔2005سے 2020تک جرائم کے واردات میں کتنا اضافہ ہوا اسی دوران وزیر پرمود کمار کھڑے ہوگئے۔انہوں نے تیجسوی یادو سے کل کے واقعہ کیلئے معافی مانگنے کی بات کی۔اسی درمیان بر سر اقتدار و حزب ارکان کے درمیان نوک جھونک چلتارہا۔ اسی درمیان مکیش سہنی بھی بولنے کیلئے کھڑے ہوئے وہ بھی جب اپوزیشن لیڈر اپنی بات کہہ رہے تھے تب وزیر گنا صنعت پرمود کمار نے اپنے ہاتھوں سے قابل اعترا ض اشارہ کردیا تب کیا تھاپورے ایوان میں ہنگامہ شور وغل شروع ہوگیا۔اپوزیشن کے ارکان نے وزیر سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تب پرمود کمار بیک فٹ پر جاتے نظر آئے اسمبلی کے اسپیکر نے اس کو بہت ہی سنجیدگی سے لیا اور وزیر کو اس کی وضاحت کرنے کو کہا ساتھ ہی اسمبلی کی کارروائی سے اس طرح کی قابل اعتراض باتوں نکالنے کی بھی ہدایت کی۔ساتھ ہی اسپیکر نے کہا کہ جب تک چیئرسے بولنے کی اجازت نہ ملے کوئی بھی رکن خواہ کسی پارٹی کے ہو کھڑا نہ ہو۔اسپیکرکی ہدایت پر وزیر موصوف نے کہا کہ میں اشاروں کے ذریعہ در اصل یہ بتارہا تھا کہ آر جے ڈی کے لوگوں نے مکیش سہنی کے پیٹھ میں خنجر بھونکا تھا۔اس پورے معاملے پر اسمبلی کے اسپیکر کو ہر بار کی طرح اس بار بھی مذاکرت کرنی پڑی انہوں نے اس پورے معاملے کو اسمبلی کی کارروائی سے باہر نکالنے کی بھی بات کہی ساتھ ہی انہوں نے بر سر اقتدار اور حزب اختلاف کو وارننگ دی کہ کوئی بھی ذاتیات پر کردار کشی نہ کر ے۔اس سے ایوان کا وقار مجروح ہوتا ہے۔
قرآن کی تعلیمات کو عام کریں مسلمان: جے ڈی آر
پٹنہ16مارچ(آئی این ایس انڈیا)
جنتا دل راشٹروادی کے قومی کنوینر اشفاق رحمن کا کہنا ہے کہ وسیم رضوی آرایس ایس کا مہرا ہے۔اسے آگے کر سنگھ پریوار اپنا روپوش ایجنڈہ ملک کے اندر نافذ کرنا چاہتی ہے۔آر ایس ایس محمدیہ مسلمان کے فارمولہ پر کام کر رہی ہے۔آج قرآن پر سوال کھڑا کیا گیا،کل کہیں گے مسلمان نماز پڑھیں،روزہ رکھیں مگر مسجد سے نکلیں تو مندر کا گھنٹہ بھی بجائیں۔بوتوں کے آگے بھی سجدہ ریز ہوں۔آر ایس ایس کا محمدیہ مسلمان کا کنسیپٹ یہی ہے۔محمد ص کو مانیں لیکن ہندو ازم کو بھی اپنی زندگی میں اتاریں۔اسلام کو خلط ملط کرنے کی پوری پلاننگ ہے۔اس لئے کبھی عارف محمد خان کو آگے کیا جاتا ہے اور کبھی وسیم رضوی کو مہرا کو بناتا ہے۔دراصل،وسیم رضوی کو سامنے لاکر سنگھ پریوار شیعہ-سنی کے مابین منافرت پھیلانا چاہتی ہے۔شیعہ برادران بھی اس سازش سے بخوبی واقف ہیں۔اپنے ہی فرقہ میں وسیم رضوی کی لعنت-ملامت اس بات کا گواہ ہے۔قرآن پر مسلمانوں کو فرقہ ،مسلک کی بنیاد پر بانٹنے کی سازش کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔اشفاق رحمن کہتے ہیں کہ دنیاکی کسی بھی عدالت کااختیار نہیں ہے کہ اس کے گائڈ لائن سے مسلمان قرآن پڑھیں۔یہ ہندوستانی یا دنیاوی کتاب نہیں ہے۔میرا یہ بھی ماننا ہے کہ مسلمانوں کو اس معاملہ میں پارٹی بننے یا عدالت میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔عدالت کو جو سمجھ میں آتا ہے ،وہ کرے۔مذہب اور اسلام کے معاملہ میں عدالتوں کا نقاب بھی پوری طرح اترنا ضروری ہے۔کتنی شرم کی بات ہے کہ ایک سیکولر اور جمہوری ملک میں اقلیتوں کی مذہبی آزادی پر لگاتار حملہ کیا جا رہا ہے۔اشفاق رحمن کہتے ہیں کہ بن بلائے اگر کوء بھی تنظیم،شخص عدالت جاتا ہے تو اس کی بھی آر ایس ایس سے ملی بھگت مانی جائے گی۔اشفاق رحمن کہتے ہیں کہ قرآن کی تعلیمات کو آج عام کرنے کی اور بھی ضرورت ہے۔ہم قرآن سے محبت ضرور کرتے ہیں،بے پناہ عقیدت ہے۔مگر افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ہدایت کی کتاب کو ہم مسلمانوں نے جز دان میں بند کر کے رکھ دیا ہے۔مسلمان معجزا کے انتظار میں رہتے ہیں ،پروردگار سے ہماری دعا ہے کہ رب اپنا جلال مت دکھانا ورنہ یہ قوم ہر وقت جلال کے ہی انتظار میں رہے گی اور اسلام کے عملی تعلیمات سے دور ہو جائے گی۔

کیٹاگری میں : اہم

اپنا تبصرہ بھیجیں