’’ہندوستان میں مسلمان ہونا آسان نہیں ‘‘

’’ہندوستان میں مسلمان ہونا آسان نہیں ‘‘
ایم ودود ساجد
سمجھ میں نہیں آتا کہ راجستھان ہائی کورٹ سے آنے والی ایک خبر کو کس طرح بیا ن کیا جائے ۔۔۔ آج ہی میں نے کرن تھاپر کا ایک مضمون بھی پڑھا ہے جس میں انہوں نے خاتون انگریزی صحافی غزالہ وہاب کی تازہ انگریزی کتاب Born a Muslim پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنی آراء کا بھی اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے غزالہ وہاب کے تجزیہ کے نچوڑ کو ہی اپنے مضمون کا عنوان بنایا ہے ۔ وہ عنوان یہ ہے: ہندوستان میں مسلمان ہونا آسان نہیں ۔۔
غزالہ وہاب کی کتاب یا کرن تھاپر کے مضمون پر آج تفصیلی تبصرہ مقصود نہیں ہے ۔ بس اتنا کہنا ضروری ہے کہ غزالہ وہاب کے ساتھ میں نے 1997 میں فرانس‘ تیونیشیا اور لیبیا کا دورہ کیا تھا اور اسی دورہ کے دوران میں نے کرنل معمر القذافی کا بھی انٹر ویو کیا تھا ۔۔ اس سفر میں غزالہ وہاب کو ہم جیسوں سے کوئی ’دلچسپی‘ نہیں تھی ۔ البتہ جب انہیں کسی پروگرام میں عربی زبان میں کی گئی تقریروں کا مفہوم سمجھنا ہوتا تھا تو اس وقت وہ ضرور میرے پاس بیٹھتی تھیں ۔ تاہم ان کی شہرت ’دوسروں ‘ کے دوست کے طور پر ہی رہی ۔ ایسے میں اگر آج 23 سال بعد غزالہ وہاب کا یہ چہرہ دیکھنے کو مل رہا ہے جس میں وہ یہ کہہ رہی ہیں کہ ’’ہندوستان میں مسلمان ہونا آسان نہیں‘‘ تو سمجھا جاسکتا ہے کہ حالات کتنے دگر گوں ہوگئے ہیں ۔
آئیے راجستھان واپس چلتے ہیں ۔ راجستھان ہائی کورٹ نے 26 فروری 2021 کو اس بات پر سخت ناگواری کا اظہار کیا ہے کہ 2008 کے جے پور بم دھماکوں سے متعلق آٹھ مختلف مقدمات کے تحت جیل میں بند شہباز احمد کو تمام مقدمات میں 12سال بعد باعزت بری کئے جانے کے باوجود پولس نے پھر انہی دھماکوں سے متعلق ایک معاملہ میں اسے گرفتار کرلیا ۔۔
الزام یہ تھا کہ شہباز احمد نے کسی سائبر کیفے سے انڈین مجاہدین کی طرف سے ٹی وی چینلوں کو فون کرکے ان دھماکوں کی اطلاع دی تھی ۔ اس الزام کو پولیس ثابت نہیں کرپائی تھی لیکن 12سال بعد پھر اسی الزام میں اسے گرفتارکرلیا گیا ۔۔
2008 کے جے پور بم دھماکوں میں 71 لوگوں کی موت ہوگئی تھی اور 200 زخمی ہوگئے تھے ۔ ان دھماکوں کے الزام میں پانچ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا تھا ۔ ان میں سے چار کو خصوصی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی ۔ لیکن 18دسمبر 2019 کو لکھنئو سے تعلق رکھنے والے شہباز احمد کو یہ کہتے ہوئے بری کردیا تھا کہ پولیس اس کے خلاف عاید الزامات ثابت کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے ۔۔۔
اب یہاں سے اس ’’کہانی‘‘ نے نیا موڑ لیا اور جس وقت شہباز احمد کو جیل سے رہا کرنے کی کاغذی کارروائی ہونی چاہئے تھی راجستھان پولیس نے اسے 2008 کے بم دھماکوں سے ہی متعلق جوں کے توں اسی طرح کے معاملہ میں مطلوب بتاکر اس کی گرفتاری ریکارڈ کرلی اور یوں وہ جیل سے باہر نہ آسکا ۔ پولیس نے بتایا کہ شہباز احمد کے خلاف 2008 میں ہی ایک اور ایف آئی آر درج تھی اور اسی کے تحت اسے دوبارہ گرفتار کیا گیا ہے ۔
یہاں حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک بے قصور شخص کے خلاف پولیس نے جو 8 مقدمات قائم کئے تھے ان میں جب وہ بری ہوگیا تو پولیس نے 12سال پہلے درج کرکے رکھی گئی (خوابیدہ) ایک دوسری ایف آئی آر کے تحت اسے جیل میں ہی گرفتار کرلیا ۔ 12سال تک جس ایف آئی آر پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی اب اچانک اس ایف آئی آر کے تحت 25 دسمبر 2019 کو شہباز احمد کو جیل سے باہر نکلنے سے پہلے ہی پھر گرفتار کرلیا گیا ۔ جون 2020 میں چارج شیٹ بھی تیار کرلی گئی اور اسے عدالت میں داخل بھی کرادیا گیا ۔
شہباز احمد نے اس کے خلاف راجستھان ہائی کورٹ سے رجوع کرکے اسے اپنی ’’دوہری بربادی‘‘ قرار دیتے ہوئے اس معاملہ کو ختم کرنے کی اپیل کی ۔ راجستھان ہائی کورٹ نے سخت ناگواری اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہی طرح کے معاملات میں جس شخص کے خلاف ٹرائل کورٹ کو کوئی ثبوت نہیں ملا اور جن میں اسے بری کردیا گیا پھر دوبارہ اسی طرح کے معاملہ میں پولیس نے اسے کیسے گرفتار کرلیا اور کیسے 12سال تک ایک ایف آئی آر کو دبا کر رکھا گیا ۔ عدالت نے اسے قانون کے ساتھ کھلا مذاق قرار دیا ۔ ہائی کورٹ نے باقاعدہ فیصلہ میں لکھا کہ ’’شہباز احمد کو جیل میں سڑا دیا گیا ۔ عدالت نے لکھا کہ ہم نے جان بوجھ کر اس لفظ کا استعمال کیا ہے کیونکہ اسے بغیر کسی جرم کے 12سال تک جیل میں رکھا گیا ۔
جسٹس پنکج بھنڈاری نے اپنے فیصلہ میں یہ بھی لکھا کہ جب عدالت نے راجستھان حکومت کے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل (AAG) سے یہ سوال کیا کہ ان 12سالوں میں آپ نے شہباز احمد کو اس ایف آئی آر کے تحت اس وقت کیوں گرفتار نہیں کیا جب وہ پہلے سے ہی جیل میں تھا تو ان کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا ۔ عدالت نے لکھا کہ اس سوال پر اے اے جی Clueless تھے ۔ یعنی انہیں کچھ اتہ پتہ نہیں تھا ۔۔
ہائی کورٹ نے شہباز احمد کو فوری طورپر ضمانت پر رہا کرنے کے احکامات جاری کئے اور کہا کہ ایک شخص کو 12سال تک بغیر کسی قصور کے اس کی بیوی اور بچوں سے دور رکھا گیا ۔
اب چونکہ پولیس نے 2008 کی (اس پرانی/نئی) ایف آئی آر کے تحت چارج شیٹ بھی دائر کردی ہے اس لئے ٹرائل کورٹ میں اس پر مقدمہ چلے گا ۔ واضح رہے کہ شہباز احمد کے خلاف ایک اور ایف آئی آر درج کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اس نے جیل کے افسران کے ساتھ مار پیٹ کی ہے ۔ اس کے خلاف شہباز ہائی کورٹ گیا لیکن 27 جنوری 2020 کو وہاں سے اسے ضمانت دینے سے انکار کردیا گیا ۔ اس فیصلہ کے خلاف شہباز نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ۔ سپریم کورٹ نے 8 جنوری 2021 کو اسے ضمانت دیتے ہوئے لکھا کہ حالات وشواہد بتاتے ہیں کہ شہباز احمد بے قصور ہے اور اس نے مار پیٹ نہیں کی بلکہ خود جیل افسران نے اسے زدو کوب کیا جس کی وجہ سے خود اسے 11 شدید زخم آئے ۔۔
میں جب راجستھان ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ پڑھ رہا تھا تو مجھے خیال آیا کہ جب 13مئی 2008 کوجے پور میں بم دھماکے ہوئے تو بی جے پی کی وسندھرا راجے سندھیا وزیر اعلی تھیں اور 8 ماہ بعد ہی کانگریس کے اشوک گہلوت اقتدار میں آگئے تھے ۔ اور آج جب راجستھان کی پولیس’ عدالت کے بری کرنے کے احکامات کے باوجود شہباز احمد کو پھر انہی الزامات کے تحت جیل میں سڑانا چاہتی ہے تو وہاں کانگریس کے ہی اشوک گہلوت کی حکومت ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں