کیا 2024 ء میں الیکشن ہونگے ؟

کیا 2024 ء میں الیکشن ہونگے ؟
تکلف برطرف : سعید حمید
کہیں ہمارے وطن کو جان بوجھ کر ایک اور ایمرجنسی
کی جانب ڈھکیلا تو نہیں جا رہا ہے ؟
کسان تحریک کے بعد سے ملک کے جو حالات ہیں ،
وہ کچھ زیادہ ہی تشویش ناک ہیں ۔
اور کسان تحریک کو کچلنے کیلئے سرکاری سطح پر
نیز برسر اقتدار جماعت کی جانب سے جو کچھ کیا جارہا ہے،
وہ جمہوریت کیلئے بد شگون ہے ۔
اسلئے !!!
کئی مفکرین حالات پر گہری نظر رکھتے ہوئے یہ سوچ رہے ہیں،
کہیں ہم ایک اور ایمرجنسی کی طرف تو نہیں بڑھ رہے ہیں؟
۲۵ جون ، ۱۹۷۵ ء کو بھارت میں پہلی مرتبہ
ایمرجنسی نافذ کی گئی تھی ۔
تب ملک پر کانگریس کا اقتدار تھا ،
اور اندرا گاندھی وزیر اعظم کے عہدہ پر مقرر تھیں ۔
۲۱ مہینہ تک یہ ایمرجنسی نافذ رہی ۔
ایمرجنسی کی وجہ سے الیکشن ملتوی کر دئیے گئے ۔
شہری آزادی ختم ہوگئی ۔
میڈیا پر سنسر شپ نافذ ہوگئی ۔
عدلیہ بے بس کردیا گیا ۔
حقوق انسانی کا نفاذ بھی معطل ہو گیا ۔
تمام اپوزیشن جماعتوں لے لیڈران و سرگرم کارکنان
جیلوں میں ٹھونس دئے گئے ۔
یہ عجیب بات ہے کہ جب ۱۹۶۷ ء سے ۱۹۷۱ ء کے دوران
کانگریس کو پارلیمنٹ میں غالب اکثریت حاصل ہوئی ،
اور وزیر اعظم اندرا گاندھی اپنے وقت کی
سب سے زیادہ با اثر وزیر اعظم ، اور کانگریس اپنے وقت کی
سب سے زیادہ طاقتور سیاسی جماعت بن کر ابھری ،
تب اس کے بعد ہی ملک ایمرجنسی کی طرف گامزن ہونے لگا ۔
۲۰۱۴ ء اور پھر ۲۰۱۹ ء میں بی جے پی اور نریندر مودی
نے کانگریس اور اندرا گاندھی کی تاریخ دہرائی ۔
پارلیمنٹ میں بی جے پی کی غالب اکثریت ہے ۔
نریندر مودی آج ملک کے سب سے زیادہ با اثر وزیر اعظم ہیں۔
اسلئے ، جس راستہ پر کانگریس اور اندراگاندھی چل پڑے ،
کیا اسی راستہ پر بی جے پی ، اور نریندر مودی نہیں چل رہے ہیں ؟
اس بات پر توجہ کرنا بہت اہم ہے ۔
۱۹۶۷ ء تا ۱۹۷۱ ء ، اندراگاندھی نے انتہائی طاقتور وزیر اعظم
کی حیثیت سے ایک اہم فیصلہ کیا تھا ،
کابینہ کی اہم کم کردی گئی ، وزیراعظم کے سیکریٹریٹ کو زیادہ
پاورفل بنا دیا گیا ، آج مودی کابینہ کے وزیروں کی زیادہ اہمت ہے ؟
یا پی ایم او کے احکامات زیادہ اہمیت رکھتے ہیں ؟
یہ بات سیاست کا ادنی سا طالب علم بھی جانتا ہے ۔
دوسری اہم بات :
طاقتور وزیر اعظم بننے کے بعد اندرا گاندھی نے اپنے
سیکریٹریٹ میں ایک اہم عہدہ قائم کیا ،
وزیر اعظم کا مشیر ؛ اس پر ایک سینئر افسر پی این ہکسر کا تقرر ہوا ۔
آج وزیر اعظم کا نیشنل سیکوریٹی ایڈوائزر ، این ایس اے ،
ایک سابق آئی پی ایس افسر اجیت ڈول
سارے کابینی وزرا ء اور پارٹی لیڈروں سے بھی اہم ہے ۔
ان سب کا مطلب یہ ہے کہ ملک کا اقتدار چند مٹھی بھرافراد
کے ہاتھوںمیں سمٹ کر رہ گیا ہے ،
جو ایک جمہوری ملک کیلئے خطرناک بات ہے ۔
پھر اس کے جو نتائج سامنے آتے ہیں ،
وہ اندرا گاندھی کے زمانہ میں بھی دیکھے گئے
اور آج نریندر مودی کے زمانہ میںبھی دیکھے جا رہے ہیں۔
دونوں میں کافی مماثلت پائی جا رہی ہے ۔
اسلئے، ان حالات کا کلائمکس اندرا گا ندھی کے دور میں
ایمرجنسی پر ہی ہوا تھا ،
اس لئے تجزیہ کار یہ سوال اٹھا رہے ہیں
کہ کیا نریندر مودی کے اقتدار بھی دیش کو ایک اور
ایمرجنسی کی طرف تو نہیں ڈھکیل رہا ہے ؟
۱۹۷۱ ء کے الیکشن میں اندرا گاندھی نے غریبی ہٹاو ٔ کا
نعرہ لگایا تھا ، اور سارے ملک میں فتح کے جھنڈے گاڑ دئے ۔
لوک سبھا میں غالب اکثریت حاصل کرلی ،
لیکن وہ نعرہ بھی محض ایک جملہ ہی تھا ،
جس طرح ۲۰۱۴ ء میں سب کا ساتھ ، سب کا وکاس
نعرہ تو لگایا گیا ،لوک سبھا میں غالب اکثریت
بھی حاصل کرلی گئی ، لیکن یہ بھی ایک جملہ تھا ۔
ندرا گاندھی کے اندھے بھکت انہیں درگا کہنے لگے ،
کیونکہ بنگلہ دیش جنگ میں بھارت کی فوجوں
کی مدد سے پاکستان کو تاریخی شکست ہوئی ۔
پاکستان کارڈ ، چین کارڈ کھیل کر آج نریندر مودی کے
اندھے بھکت انہیں ماڈرن سردار بنا کر پیش کرنے کی کوشش
میں لگے ہوئے ہیں ۔
غالب اکثریت اور بے انتہا اختیار کے اثرات تب بھی
نمایاں ہونے لگے ،
جب عدلیہ میں مداخلت کی جانے لگی ،
سیاست ، صحافت ، عدالت ، حکومت کو اندھا بھکت بنانے
کی کوشش کی جانے لگیں ،
اپوزیشن نے آواز اٹھانے کی کوشش کی ،
تو اس آواز کو کچلنے کیلئے سخت اقدامات کئے جانے لگے ،
برٹش زمانہ کے عوام دشمن ، جمہوریت دشمن قوانین
کا بے تحاشہ استعمال کیا جانے لگا ۔
ملک کو پولس اسٹیٹ بنا جانے لگا ۔
سرکاری دہشت گردی کا عروج ہونے لگا ۔
آج کے حالات کیا اسی سمت رواں دواں نہیں ہیں ؟
کسان آندولن کو جس طرح DEAL کیا جا رہا ہے ،
وہ جمہوریت میں یقین رکھنے والی طاقتوں
کیلئے اچھی علامت نہیں ہے ۔
ایمرجنسی نافذکرنے اور ملک میں ڈکٹیٹر شپ قائم کیلئے
ایسے ہی بہانے تراشے جاتے ہیں
کہ دیش کی سالمیت کو ویدیش سے خطرہ ہے ۔
دیش کے خلاف ودیشی طاقتیں سازش رچ رہی ہیں ۔
اور ملک میں جو اپوزیشن جماعتیں ، سول سوسائیٹی گروپس
سرکاری بد نظمی کے خلاف احتجا ج کرتے ہیں،
ان کی تحریکوں ، احتجاج کو اس نام نہاد ودیشی سازشوں سے
جوڑ کر سرکار کے خلاف عوامی آواز کو بدنام کیا جا تا ہے ۔
اسے غداری اور ملک کے خلاف بغاوت قرار دیا جاتاہے ۔
ہمارے ملک میں حالات ایسے ہی بنرہے ہیں ۔
برٹش راج میں جو کالے قانون جمہوریت اور آزادی
کے متوالوں کو کچلنے کیلئے بنائے گئے تھے ۔
SEDITION اور UAPA ۔ ان کا بے دریغ
استعال کیا جا رہا ہے ۔
صحافیوں اور سماجی کارکنا ن کو SEDITION کے الزام
میں جیلوں میں ٹھونسا جا رہا ہے ،
ایک سال میں دو سو سے بھی زائد کیس درج ہو چکے ہیں ۔
کسان احتجاج کو روکنے کیلئے جس طرح کے اقدامات
BARRICADES کی شکل میں کئے جا رہے ہیں ،
کسان لیڈروں کو این آئی اے کی نوٹس دی جارہی ہے ،
تنظیموں کو ED / IT کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔
کیا یہ حالات تشویش ناک نہیں ہیں ؟
بات چیت ، یا عدالت سے جو مسئلہ ، ۳ زرعی قوانیں
حل نہیں ہو رہا ہے ،
اس کا انجام کیا ہوگا ؟
کیا ملک ڈکٹیٹر شپ ، یعنی ایمرجنسی کی طرف بڑھ رہا ہے ؟
تو کیا پھر ۲۰۲۴ ء میں انتخابات ممکن ہونگے ؟
یہ سوال جمہوریت پسندوں کو پریشان کر رہا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں