کہانی ریحانہ گریٹا اور مینا کے ٹوئٹ اور کسانوں کے حقوق کی

کہانی ریحانہ گریٹا اور مینا کے ٹوئٹ اور کسانوں کے حقوق کی
اکشے کمار، سچن تنڈولکر اور کنگنا رناوت کا ڈھول بھی عالمی سطح پر کسانوں کی بڑھتی حمایت کو متاثر نہیں کرسکا
شکیل رشید (ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)
کیا آپ کتھنی اور کرنی کا فرق جانتے ہیں؟
جس روز ہماری ’دیش بھکت‘ فلمی اور کھیل جگت کی ہستیاں، غیر ملکی شخصیات کی زبان سے بھارت کے احتجاجی کسانوں کی ہمدردی میں نکلے کلمات کو ’ملک مخالف پروپیگنڈہ‘ قرار دے کر اظہارِ ناراضگی کر رہی، اور کسانوں کے معاملے میں حکومت کی پالیسی پر، ملک کے تمام لوگوں سے ’متحد رہنے کی ضرورت‘ کی اپیل کر کے، مودی سرکار کی ہاں میں ہاں ملا رہی تھیں، اس روز دہلی اور اس کے اطراف میں زوردار بارش ہو رہی تھی، بارش نے سردی میں کئی گنا اضافہ کر دیا تھا۔ وہ کسان جو حکومت کے کالے زرعی قوانین کے خلاف دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں، جن میں ضعیف العمر بھی ہیں اور خواتین بھی، ان کا سردی سے برا حال تھا، لیکن وہ جس عزم کے ساتھ دھرنے پر بیٹھے تھے اسی عزم سے ڈٹے رہے اور آج بھی ڈٹے ہوئے ہیں۔ عام آدمی تو سردی سے کپکپاتے کسانوں کی حالت دیکھ کر افسوس کر رہا تھا، مگر دیش بھکت فلمی ہستیاں اور کھلاڑی منھ میں گھنگنیاں ڈالے بیٹھے تھے، انہیں کسانوں کی یاد نہیں آ رہی تھی۔ اسی کو کتھنی اور کرنی کا فرق کہتے ہیں۔ حکومت نے احتجاج گاہوں کے اردگرد کیل کانٹے بچھا دیے ہیں، بجلی پانی انٹرنیٹ سب بند کر دیا ہے، گویا یہ کہ کسان مظاہرین کو اپنے ہی ملک میں اپنے ہی دیش واسیوں کے رابطے سے کاٹ کر رکھ دیا گیا ہے۔ یہ کیسا ظلم اور کیسا ستم ہے! حکومت کی جانب سے کسانوں کی گھیرا بندی کے خلاف بہت سی زبانیں کھلی ہیں، زبانیں کھولنے والوں میں ملک کے لوگ بھی ہیں اور وہ غیر ملکی ہستیاں بھی ہیں جن کے ایک ٹوئیٹ سے ہی مودی سرکار ہل گئی ہے، اور اس کے چاپلوسوں کے تن بدن میں آگ لگ گئی ہے۔ مگر چند ایک کو چھوڑ کر، فلمی دنیا اور کھیل کی دنیا کے ستارے کسانوں کی حالتِ زار سے بے نیاز ہیں۔ یہ بھی کسانوں کا بارش میں بھیگنا اور سردی سے کپکپانا دیکھ رہے تھے لیکن ان کی زبانیں ہمیشہ کی طرح بند تھیں۔ وہ نعرہ تو اتحاد کا لگا رہے تھے لیکن انہوں نے اس اتحاد میں کسانوں کو شامل کرنے کی ضرورت اسی طرح سے نہیں سمجھی جس طرح مودی اور امیت شاہ کی سرکار نے زرعی قوانین بناتے ہوئے کسانوں کو رائے مشورے میں شامل کرنا ضروری نہیں سمجھا تھا۔ آج ملک کے کسان بھی اور ملک کی بہت بڑی آبادی بھی ان فلم والوں اور کھلاڑیوں پر تھو تھو کررہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ فنکار انسان دوست ہوتا ہے یا انسانیت کا داعی، لیکن یہ فنکار اور کھلاڑی نہ انسان دوست کہے جا سکتے ہیں اور نہ ہی انسانیت کے داعی کیونکہ انہوں نے حکمران جماعت کے ہاتھوں کی جا رہی حقوق انسانی کی پامالیوں پر بات کرنے سے خود تو اپنی زبانیں بند کر رکھی ہیں اور اگر کوئی دوسرا ان پامالیوں پر زبان کھولنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ کہہ کر کہ ’یہ ہمارا (ملک کا) اندرونی معاملہ ہے‘ اس کی زبان بند کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اگر بیرون ممالک سے جبر کے خلاف آواز اٹھتی ہے تو ، اسے ، اندر کی بات میں بیرونی دخل اندازی قرار دے کر بے بنیاد ثابت کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ ان شخصیات کی کتھنی اور کرنی کے فرق پر بات کرنے سے قبل آئیں ایک نظر غیر ملکی مشہور زمانہ شخصیات (Celebs) کے ان ٹوئیٹ پر ڈال لیں جن سے یرقانیوں کے خیمے میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔
پہلا ٹوئیٹ امریکی پاپ سنگر ریحانہ (ریانا) کا تھا۔ احتجاجی کسانوں کی ایک تصویر تھی جس کے اوپر چھ لفظوں میں فارمرس پروٹیسٹ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ لکھا تھا ’ہم اس بارے میں بات کیوں نہیں کر رہے ہیں؟‘ چھ لفظوں یا چھبیس حروف کے اس ٹوئیٹ نے، جسے ایک گھنٹہ میں ایک لاکھ سے زاید بار ری ٹوئیٹ کیا گیا، مودی سرکار کو دہلا دیا۔ یاد رہے کہ ریحانہ امریکہ کی صرف ایک شہری ہے، کوئی سرکاری عہدیدار نہیں ہے، لیکن بھارت کی وزارت خارجہ اس کے ٹوئیٹ سے ایسی دہلی کہ اسے بیان جاری کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ ریحانہ کی عالمی شہرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ٹوئٹر پر اس کے 101 ملین یعنی دس کروڑ سے زاید فالوؤر ہیں، ٹوئٹر کی فہرست میں وہ چوتھے نمبر پر ہے ، پہلے نمبر پر امریکہ کے سابق صدر بارک اوبامہ ہیں۔ ہمارے وزیراعظم نریندر مودی اس فہرست میں بارہویں نمبر پر ہیں، ان کے فالوؤر کی تعداد چھ کروڑ سے کچھ زیادہ ہے یعنی ریحانہ سے کہیں کم۔ ریحانہ کے ٹوئیٹ کے بعد ریحانہ پر یرقانیوں کا غصہ پھوٹ پڑا لیکن دوسری جانب حقوق انسانی کی عالمی تنظیمیں بھی کسانوں کے حق میں میدان میں کود پڑیں۔ ماحولیات کے تحفظ کی سرگرم کارکن، سویڈن کی اٹھارہ سالہ بچی گریٹا تھنبرگ اور امریکہ کی نائب صدر کملا ہیرس کی بھتیجی مینا ہیرس نے اپنے ٹوئیٹ کے ذریعے کسانوں کی تحریک کو اخلاقی تعاون دے کر مودی بھکتوں کے غصے کو آسمان کی چوٹی پر پہنچا دیا۔ گریٹا نے اپنے ٹوئیٹ میں ، فارمرس پروٹیسٹ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ کہا کہ ہم بھارت میں کسانوں کے احتجاج کے ساتھ متحد ہو کر کھڑے ہوئے ہیں ۔ مینا ہیرس کے ٹوئیٹ میں کہا گیا کہ ’’یہ اتفاق نہیں ہے کہ دنیا کی سب سے قدیم جمہوریت پر حملے کو ایک مہینہ بھی نہیں گزرا ہے ، اور اب جب ہم بات کر رہے ہیں ، سب سے زیادہ آبادی والی جمہوریت حملے کی زد میں ہے۔ دونوں میں تعلق ہے۔ ہم سب کو چاہیے کہ بھارت میں کسانوں پر انٹرنیٹ بند کیے جانے اور ان پر پیرا ملٹری کے ذریعے تشدد کرنے پر سخت غصہ ضرور جتلائیں ۔‘‘ یہ تین ٹوئیٹ وہ ہیں جنہوں نے کسانوں کے ملکی احتجاج کو ایک عالمی احتجاج میں بدل دیا ہے۔ ساری دنیا نے ان ٹوئیٹ پر توجہ دی ہے۔ امریکہ کی ایک پاپولر یو ٹیوبر بھارتو نشی للی سنگھ نے ریحانہ کا ٹوئیٹ شیر کرکے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ’یہ انسانیت کا معاملہ ہے میں کسانوں کے ساتھ کھڑی ہوں۔‘ ایک ماحولیاتی کارکن ونیسا نکاتے نے کہا کہ ’بھارت میں جو ہو رہا ہے اس پر ہمیں ابھی بات کرنا چاہیے ۔‘ کسانوں کی حمایت میں عالمی سطح پر آوازوں کے اٹھنے کا ایک سلسلہ چل پڑا ہے، امریکی نمائندہ جم اکوسٹا ، برطانوی رکن پارلیمنٹ کلاڈیا ویب وغیرہ وغیرہ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ عالمی سطح پر تو ریحانہ کے ٹوئیٹ کو تحسین کی نظر سے دیکھا گیا اور کسانوں کی تحریک کو عالمی سطح پر لوگوں کا ساتھ ملا لیکن بھارت میں سوائے چند فلمی ہستیوں کے جن میںسووارابھاسکر، رچا چڈھا، دلجیت دوسانجھ اور تاپسی پنوں اور چند ایک صحافی، دانشور اور سیاست داں شامل ہیں، ریحانہ اور گریٹا دونوں کو ٹرول کیا گیا۔ ٹرولنگ یرقانیوں کا ایک ہتھیار جس کے ذریعے مخالف کی باتوں کا جواب دلیل سے نہیں گالی سے دیا جاتا ہے یا ذاتی حملے کیے جاتے ہیں۔ ریحانہ کے ٹوئیٹ پر یرقانی اداکارہ یا آسان لفظوں میں مودی بھکت اداکارہ کنگنا رناؤت اور بی جے پی کے ایک زہریلے لیڈر کپل مشرا نے انتہائی غلیظ ٹوئیٹ کیے، دلیل دینے کے لیے ان کے پاس گالیاں ہی ہیں، یہ اسی سے کام چلاتے ہیں۔ کنگنا نے ریحانہ کو ٹوئیٹ کے لیے ’احمق‘ اور کسانوں کو ’دہشت گرد‘قراردیا۔ ایک دوسرے ٹوئیٹ میں’فاربس‘ میگزین میں ریحانہ کی دولت کے ذکر کو پی آر کی کارستانی بتاتے ہوئے کہا کہ اس کی پانچ سال سے تو کوئی البم تک نہیں آئی ہے۔ کنگنا کی صف میں اکشے کمار، انوپم کھیر، کرن جوہر، سنیل شیٹی اور کرکٹ کھلاڑی ’بھگوان‘ کہے جانے والے سچن تینڈولکر، وراٹ کوہلی وغیرہ بھی کھڑے نظر آئے۔ انڈیا ٹوگیدر اور انڈیا اگینسٹ پروپیگنڈہ کے ہیش ٹیگ سے انہوں نے ریحانہ، گریٹا اور مینا ہیرس وغیرہ کے ٹوئیٹ کو بھارت کے اندرونی معاملے میں مداخلت قرار دیا اور بھارتیوں سے اپیل کی کہ وہ غیر ملکی پروپیگنڈہ میں نہ آئیں اور متحد رہیں۔ سچن تینڈولکر کا ٹوئیٹ دلچسپ ہے، انہوں نے لکھا ہے کہ بھارت کی خودمختاری سے سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا ہے، بیرونی عناصر تماشائی تو ہو سکتے ہیں مگر شرکاء نہیں۔ بھارتی بھارت کو جانتے ہیں اور بھارت کے لیے فیصلہ وہی کریں گے۔ ایک قوم کے طور پر آئیں ہم یکجٹ رہیں۔ سچن کے اس ٹوئیٹ سے مجھے یا کسی کو بھی کوئی تکلیف نہ ہوتی اگر انہوں نے اس میں کسانوں کے دکھ درد کی بات کی ہوتی اور ان کے مسئلے کوجلد از جلد سلجھانے کی مودی سے درخواست کی ہوتی۔ اس ٹوئیٹ میں کسانوں کاذکر نہیں ہے بلکہ تاثر یہ دیا گیا ہے جیسے کہ کسانوں کی حمایت کرنے والے ملک کی خودمختاری کے دشمن ہیں۔ مزید یہ کہ یہ کہا تو گیا ہے کہ بھارت کے لوگ ہی بھارت کے لیے فیصلہ کریں گے مگر اس بات پر دھیان نہیں دیا گیا ہے کہ یہ کسان بھارت کے ہی لوگ ہیں اور اپنے حقوق کے تئیں فکرمند ہیں۔ سچن کو ملک بھر نے سر پر بٹھایا تھا لیکن اپنے اس ٹوئیٹ سے انہوں نے خود اپنے ہاتھوں اپنی مٹی پلید کر لی ہے۔ مجھے آج بڑے کرکٹ کھلاڑی سنیل گاوسکر یاد آ رہے ہیں، انہوں نے بھی سی اے اے اور این آر سی کے خلاف مظاہرہ کرنے والے طالب علموں پر انگلی اٹھا کر اپنی مٹی پلید کر لی تھی، انہوں نے کہا تھا کہ میں ان کو کہوں گا کہ کلاس روم واپس چلے جائیں، کلاس میں جائیں کیونکہ وہیں آپ کی مین ڈیوٹی ہے، آپ یونیورسٹی گیے، پڑھنے کے لیے گیے، پڑھائی کریے۔ تو ایسے ٹوئیٹ بار بار سامنے آتے رہتے ہیں۔ یہ انسان کے اندرون اور بیرون کو واضح کر دیتے ہیں۔ اکشے کمار نے اپنے ٹوئیٹ میں کسانوں کی بات کی تو ہے لیکن تاثر یہ دیا ہے جیسے مودی سرکار ان کے مسئلے کو مناسب طور پر حل کرنے کے لیے کمربستہ ہے۔ انہوں نے بھی یہ کہا ہے کہ جو ہمارے درمیان نااتفاقی پیدا کرنا چاہتے ہیں ان پر توجہ نہ دی جائے۔ اکشے کمار نے شاید ان کیل کانٹوں والی سڑکوں کو نہیں دیکھا ہے جو کسانوں کے حوصلے پست کرنے کے لیے حکومت کی کوششوں کا ایک حصہ ہیں۔ کیا اسے مناسب انداز میں حل کی کوشش کہا جا سکتا ہے؟ بہت سے ایسے ٹوئیٹ ہیں، انوپم کھیر، روی شاستری وغیرہ وغیرہ کے بس دو ٹوئیٹ پر مزید روشنی ڈالیں گے اور بات ختم کردیں گے۔ ایک ٹوئیٹ وراٹ کوہلی کا ہے، بھارت کرکٹ ٹیم کے کپتان۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ کسانوں کے مسئلے کا بہتر حل نکلے گا۔ روہت شرما کا بھی ایسا ہی ایک ٹوئیٹ تھا، انہوں نے بھی کسانوں کی بات کی تھی مگر کنگنا رناؤت کو اتنا بھی نہیں بھایا اور انہیں دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا بنا دیا۔ سوال یہ ہے کہ کنگنا کی ان گالیوں پر ٹوئٹر اور قانون کیوں آنکھیں موندے بیٹھا ہوا ہے؟ کنگنا کی طرح کے لوگ ملک کو ساری عالمی برادری میں بدنام کرنے کا سبب بنتے ہیں ہیں ان کی گرفت ضروری ہے۔ رہی بات کسانوں کی تحریک کو ملک کا اندرونی معاملہ قرار دینے کی تو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا کوئی معاملہ کسی ایک ملک کا اندرونی معاملہ نہیں رہ جاتا ساری دنیا کا معاملہ بن جاتا ہے۔ وزارت خارجہ لاکھ کسانوں کے احتجاج کو اندرونی معاملہ بتاے، سڑکوں پر کیل کانٹے بچھا کر، انٹرنیٹ بند کر کے اور بجلی پانی کاٹ کر آپ نے یا آپ کی مرکزی سرکار نے اسے خود عالمی معاملہ بنا دیا ہے۔ لوگ اس پر اسی طرح سے بات کریں گے جیسے بھارت کی سرکار دیگر ممالک میں حقوق انسانی کی پامالیوں پر بات، تنقید اور نکتہ چینی کرتی ہے یا کرتی آئی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں