کلام شبلی کے اعلام و اشخاص : ایک اہم کتاب

کلام شبلی کے اعلام و اشخاص : ایک اہم کتاب
شکیل رشید
ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی کی ہر نئی کتاب مجھے اسی طرح حیرت میں ڈال دیتی ہے جیسے ان کی تازہ کتاب ’’ کلام شبلی کے اعلام و اشخاص‘‘ کا مقدمہ لکھنے والے ڈاکٹر عطا خورشید حیرت میں پڑے یا پڑتے رہتے ہیں۔ اعظمی صاحب کی شبلی نعمانی کی حیات و خدمات پر ۱۸؍کے قریب کتابیں شائع ہو چکی ہیں ، سیکڑوں مضامین ، مقالے اور خطبات الگ سے ہیں ، لہذا ہم جیسے ، یہ سوچ کر حیران ہوتے ہیں کہ کیا شبلی پر لکھنے کے لیے مزید کچھ بچا ہے ! لیکن ڈاکٹر صاحب نہ جانے کس خزانے سے شبلی کی حیات و خدمات پر نئے نئے موضوع تلاش کر لاتے ہیں۔ پھر مواد ، مصادر ، مآخذ اور حوالوں کی چھان بین شروع کردیتے ہیں ، اور ان کی محنت کے نتیجے میں ایک نئے موضوع پر کتاب چھپ کر ہمارے ہاتھوں میں پہنچ کر ہمیں حیران کر دیتی ہے ۔ یہ تازہ کتاب ’’کلام شبلی کے اعلام و اشخاص ‘‘جیسا کہ نام ہی سے ظاہر ہے ، ایک ایسے موضوع پر ہے ، جو اب تک ان چھوا تھا ۔ ان چھوا ہونے کی شاید ایک ممکنہ وجہ یہ رہی ہو کہ کسی نے شاید یہ سوچا ہی نہ ہو کہ اعلام و اشخاص کو بھی موضوع بنایا جا سکتا ہے ، اور دوسری ممکنہ وجہ شاید یہ ہو کہ یہ موضوع عرق ریزی چاہتا تھا ، اس پر لکھنے کے لیے ڈھیر ساری کتابوں کو بڑی ہی باریک بینی سے کھنگالنے کی ضرورت تھی۔ باالفاظ دیگر یہ موضوع محنت طلب تھا ، ایک بڑا بوجھ ، شاید اسی لیے لوگ اسے ہاتھ لگانے کے لیے تیار نہ رہے ہوں گے ۔ ایک تو کلام شبلی کو کھنگالنا آسان نہیں ہے کہ یہ اردو ، فارسی اور عربی تین زبانوں میں ہے ، جو ان تینوں زبانوں پر دسترس رکھتا اور شبلی کی شاعری کی تفہیم کر سکتا ہو وہی یہ کام ہاتھ میں لے سکتا تھا ، کسی دوسرے کے لیے شبلی کی شاعری میں اعلام و اشخاص کو کھوجنے کا عمل ممکن نہیں تھا ۔ سچ کہا جائے تو یہ ایک ایسا کام تھا جسے علامہ شبلی نعمانی سے گہری محبت رکھنے والا ہی پایہ تکمیل تک پہنچا سکتا تھا ۔ اور ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی سے بڑھ کر شبلی سے محبت کرنے والا آج کوئی اور کون ہو سکتا ہے ! ڈاکٹر عطا خورشید (مولانا آزاد لائبریری، علی گڑھ) نے ’پیش گفتار‘ میں سچ ہی لکھا ہے : ’’علامہ شبلی اور الیاس اعظمی اب لازم و ملزوم ہو چکے ہیں ۔‘‘ ایک دنیا اب اعظمی صاحب کو ماہر شبلیات تسلیم کر چکی ہے، ان کی شبلی شناسی کے موضوع پر یونیورسٹی آف سرگودھا (پاکستان) میں ایک طالب علم کو ایم فل کی سند حاصل ہوئی ہے اور شبلی شناس کے طور پر ان کے کام کو علمی و تحقیقی اور تعلیمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
یہ کتاب ہے کیا؟ یا، کتاب کا جو موضوع ہے وہ کیا ہے؟ کتاب کے مقدمہ میں ڈاکٹر عطا خورشید نے آسان لفظوں میں سمجھا دیا ہے کہ ’’اس کتاب میں ان شخصیات کا ذکر کیا گیا ہے جن کا ذکر علامہ شبلی نے اپنی شاعری میں کیا ہے۔ علامہ شبلی کی شاعری کے حوالے سے یہ کتاب ایک مختصر سوانحی لغت کی حیثیت رکھتی ہے‘‘۔ ایسی کل 122 شخصیات کاتفصیلی ذکر اعظمی صاحب نے اس کتاب میں کیا ہے جن کے نام انہیں تلاش کرنے میں کلام شبلی میں ملے ہیں۔ کچھ نام رہ گیے ہیں جن کی طرف ڈاکٹر صاحب کی توجہ مقدمہ میں دلائی گئی ہے جیسے کہ نکیرین اور عزازیل اور لیلیٰ مجنوں۔ ممکن ہے یہ اشعار اعظمی صاحب کی نظر سے نہ گزرے ہوں۔ کتابیات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر اعظمی صاحب نے 50 کتابوں سے مواد کھنگالا ہے ۔ اس کتاب کو لکھنے کی ضرورت انہوں نے کیوں محسوس کی ، اور اس کی تیاری میں کیا دشواریاں پیش آئیں اس پر ‘ حرف آغاز ‘ میں انہوں نے تفصیل سے بات کی ہے ۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں :’’علامہ شبلی کی شاعری کا ایک نہایت اہم پہلو ان کی شاعری کے وہ اعلام و اشخاص ہیں ، جن کے ذکر سے ان کی شاعری کا بیشتر حصہ عبارت ہے ۔ خاص طور پر کلام شبلی کا تاریخی اور سیاسی پہلو انہی اعلام و اشخاص کی بدولت ان کی شاعرانہ فضا پر قائم ہوا ۔ یہ ایک تعجب کی بات ہے کہ علامہ شبلی کی اردو و فارسی شاعری پر پچاسوں مضامین و مقالات قلم بند کیے جانے کے باوجود ان اعلام و اشخاص کے مطالعے کی سرے سے کوئی کوشش نہیں کی گئی ۔ متعدد علمی ، ادبی ، تاریخی ، سائنسی ، مذہبی ، سیاسی اور سماجی شخصیات جن کا ذکر ان کی شاعری میں کہیں اصلاً اور کہیں ضمناً آ گیا ہے اور جن کی خود اپنی ادبی ، تاریخی اور سیاسی حیثیت مسلم ہے ۔ ان کے مطالعہ اور کلام شبلی کے پس منظر میں ان کے تعارف و تجزیے کی اہمیت سے کس کو انکار ہو سکتا ہے ۔۔۔۔ زیر نظر کتاب میں کلام شبلی کے اسی نظر انداز پہلو کی تکمیلِ کے لیے اردو و فارسی کلام میں وارد تمام اعلام و اشخاص کو مطالعے کا موضوع قرار دے کر ان کا تعارف و تجزیہ ، تاریخی اور تہذیبی حیثیت ، نیز کلام شبلی میں ان کے ذکر کے اسباب وغیرہ کا ایک اجمالی جائزہ پیش کیا گیا ہے‘‘ ۔
کلام شبلی میں مذہب ، سیاست ، فکر و فلسفہ اور متنوع علوم و فنون کی باکمال شخصیات کا ذکر ملتا ہے ، جن میں سب سے زیادہ روشن اور تابناک ہستی آقائے نامدار اور شہنشاہِ کونین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس ذات گرامی ہے ۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی کتاب کا آغاز اسی مقدس ہستی سے کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں :’’ اشاریہ کے اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر حب نبوی ص کے اصول پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک سب سے اول کیا گیا ہے‘‘ ۔ کتاب میں صحابہ کرام کا بھی ذکر ہے ۔ ان اعلام و اشخاص سے فکر شبلی کی وسعت اور ہمہ گیری کا وسیع منظر نامہ بھی سامنے آ جاتا ہے اور اس سے افکار شبلی کی تفہیم و ترسیل بھی آسان ہو جاتی ہے ۔ڈاکٹر خالد ندیم ، یونیورسٹی آف سرگودھا کی ایک تحریر ، جو کتاب کے بیک کور پر شائع کی گئی ہے کے بقول ’’ شبلی کی اردو ، فارسی اور عربی شاعری کی تلمیحات ، اشارات ، استعارات اور علامتوں کو پہلی مرتبہ اس سلیقے اور سنجیدگی سے پیش کیا گیا ہے ‘‘۔ ڈاکٹر صاحب کے لیے اس کتاب کی تکمیل آسان نہیں تھی ۔ اس موضوع پر اردو میں کام کم ہوا ہے لیکن ڈاکٹر صاحب نے کلام شبلی کو کھنگالا ، جو کلام ، کلیات یا دیگر مجموعوں میں شامل نہیں تھا انہیں تلاش کیا ۔ گویا کہ انہیں ’’ اس نئی تصنیف کے لیے نئے برگ و بار سے کام لینا پڑا ‘‘۔ ڈاکٹر صاحب نے ناموں کے اندراج میں نسبت اور لقب کو حسب معمول لکھا ہے ۔ ہر تذکرہ کے آخر میں کلام شبلی کے جن صفحات پر اعلام و اشخاص کا ذکر یا نام آیا ہے ان کی نشاندہی کر دی گئی ہے ۔ حوالے کا اور کتابیات و اشاریے کا خاص اہتمام کیا گیا ہے ۔ مولانا عرفات اعجاز اعظمی نے اشاریہ بڑی محنت سے تیار کیا ہے ۔ کتاب میں کہیں کہیں پروف پر توجہ نہیں دی گئی ہے، مثلاً فہرست میں ایک جگہ الطاف حسین حالی کو الطا حسین حالی لکھ دیا گیا ہے۔ ایسی ہی غلطیاں چند ایک جگہ اور ہیں ۔ کتاب میں جو تذکرے شامل ہیں ان پر سخت محنت کی گئی ہے ، کلام شبلی میں ان کے ذکر کے اسباب بھی بتا دیے گیے ہیں اور پس منظر کی وضاحت بھی کر دی گئی ہے ۔ یہ اعلام و اشخاص اور ان کا تذکرہ ملک کی تاریخ کو سمجھنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے اور مذہب و تاریخ کو بھی ۔ اللہ کا نام شامل نہیں ہے ، اسی طرح ابلیس لعین کا نام نہیں ہے ، کیا شبلی کے کلام میں یہ شامل نہیں ہیں؟ ڈاکٹر صاحب کو اس کتاب کے لیے مبارکباد پیش نہ کرنا حق ناشناسی ہوگی۔ انہوں نے حقانی القاسمی کی فرمائش پر ایک مقالہ لکھنا شروع کیا تھا اور کتاب تیار کر دی، عطا خورشید نے بھی ایک فرمائش کی ہے کہ ڈاکٹر صاحب اس طرح کا کام شبلی کی نثری تحریروں کے حوالے سے بھی کر دیں تاکہ ایک جامع سوانحی لغت تیار ہو جائے۔ امید ہی نہیں یقین ہے کہ ڈاکٹر صاحب اس فرمائش کی تکمیل کریں گے ۔ کتاب کا انتساب ڈاکٹر محمد ارشد خان کے نام ہے جو ڈاکٹر صاحب کے عزیز دوست ، شاعر و ادیب ہیں ۔ 184 صفحات کی یہ کتاب ادبی دائرہ ، اعظم گڑھ سے شائع کی گئی ہے ، پرنٹنگ صاف و شفاف ہے ۔ قیمت 250 روپیہ ہے ۔ ممبئی میں اسے مکتبہ جامعہ (موبائل فون نمبر 9082835669 ) سے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔
An important book by the words of Shibli.

· ·

کیٹاگری میں : ادب

اپنا تبصرہ بھیجیں