کتنی بدل گئی ہے فلمی دنیا !

کتنی بدل گئی ہے فلمی دنیا !
اتواریہ
شکیل رشید
ویب سیریز ’تانڈو‘ پر جو تنازعہ پیدا کیا گیا ہے اس پر سیاستدان تو اپنی زبانیں کھول ہی رہے ہیں کہ زبان کھولنا ان کی زہریلی سیاست کا ایک حصہ ہے ، لیکن افسوس یہ ہے کہ کامیڈین راجیو شریواستو نے بھی اس تنازعہ پر اپنی زبان کھولی ہے ، اور خود کو سچا اور پکا ہندوتوادی ثابت کرنے کے لیے ایسا زہر اگلا ہے کہ میرے خیال میں سنگھ پریوار بھی حیران رہ گیا ہوگا ۔ راجیو شریواستو نے باقاعدہ فلم اداکار سیف علی خان کا نام لیا ہے ، اس طرح انہوں نے ’تانڈو‘ کے تنازعے کو ہندو، مسلم تنازعہ میں بدلنے کی ایک ایسی گھناونی کوشش کی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جاے کم ہے ۔ ایک کامیڈین کے طور پر راجیو شریواستو کو بہت سارے لوگ پسند کرتے ہیں ، وہ میری بھی پسند رہے ہیں ، بہت سارے ہندوؤں کی طرح بہت سارے مسلمان بھی ان کے مزاح کے قدردان ہیں ۔ ان کی باتوں پر قہقہہ لگاتے ہوے ہم انہیں ہندو یا مسلم کی نظر سے نہیں دیکھتے ، انہیں فنکار سمجھتے ہیں ، اور خوب جانتے ہیں کہ ایک پکا سچا فنکار فرقہ پرست نہیں ہو سکتا ۔ لیکن ’تانڈو‘ کے تنازعہ پر انہوں نے ہندو دیوی دیوتاؤں کی بے حرمتی کا جو راگ الاپا ہے اور جس طرح ہندوؤں کی قوت برداشت کا ذکر کرتے ہوے کہا ہے کہ معافی مانگنے سے کام نہیں چلے گا قصورواروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے ، اس سے ان کی فرقہ پرستی عیاں ہو گئی ہے اور اندازہ ہوا ہے کہ یہ فنکار بھلے ہی اب تک اسٹیج سے لوگوں کے دلوں کو گدگداتا رہا ہو لیکن اب اس کے دل میں نفرت کی آگ جل اٹھی ہے ۔ راجیو نے ویب سیریز ’تانڈو‘ میں ہندو دیوی دیوتاؤں کی مبینہ بے حرمتی کی بات کرتے ہوے اکسایا ہے کہ دوسرے مذاہب کی بے حرمتی کر کے دیکھ لیں گلا کٹ جائےگا ۔ ظاہر ہے ان کا اشارہ مذہب اسلام کی طرف ہے ۔ وہ اُکسا رہے ہیں کہ دوسرے مذاہب کی شخصیات کی بے حرمتی کی جائے ۔ یہ اکسانا اس معنی میں خطرناک ہے کہ کوئی سنگھی ، راجیو کی بات سے متاثر ہو کر ، کوئی ایسی حرکت کر سکتا ہے جس سے دو فرقے آمنے سامنے آ سکتے ہیں ۔ حیرت اس پر ہے کہ یہ سب کہتے ہوے راجیو اپنے گریبان میں جھانکنا بھول گئےہیں ۔ اسٹیج پر انہوں نے ان گنت بار ہندو بھگوانوں کو اپنے مذاق کا موضوع بنایا ہے ۔ مہابھارت اور رامائن کے کرداروں کو مذاق بنا کر پیش کیا ہے ۔ تو کارروائی ان کے خلاف بھی کیوں نہ کی جائے؟ لیکن ان کے خلاف بھلا اب کیسے کارروائی ہو سکتی ہے کہ وہ آر ایس ایس کی زبان بول رہے ہیں ، اس لیے اب انہیں ہر طرح کی چھوٹ ہے ۔ سوال یہ ہے کہ راجیو شریوستو نے ’تانڈو‘ کے تنازعے میں کودنے کی ضرورت کیوں محسوس کی؟ اس سوال کے کئی جواب ہیں ، ایک تو یہ کہ کل تک جو خود کو سیکولر کہتے نہیں تھکتے تھے وہ فطرتاً فرقہ پرست ہیں اور اب مودی راج میں گَرو کے ساتھ اپنی فرقہ پرستی کا اعلان کر رہے ہیں ۔ راجیو اس قبیل سے ہو سکتے ہیں ۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو نہ سیکولر ہیں اور نہ فرقہ پرست بلکہ اپنے مفادات کے لیے گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے رہتے ہیں، مودی راج میں یہ لوگ ہندوتو ادی بن کر سامنے آئےہیں ، مقصد فائدہ اٹھانا ہے ، معاشی بھی اور ذاتی بھی ۔ ایک جواب یہ بھی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی رنجشیں اس شکل میں نکال رہے ہیں ۔ یہ جواب صرف راجیو کی ذات تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ اب تو لگتا ہے جیسے فنکاروں کی ایک بڑی تعداد ان کے دائرے میں آ گئی ہے ۔ بالخصوص فلمی دنیا کے لوگ ۔ اکشے کمار کی مثال لے لیں ، یہ ان دنوں لوگوں سے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لیے چندہ مانگ رہے ہیں ۔ شاید اس لیے کہ مودی راج میں نیشنلسٹ کے نام پر جو گنگا بہہ رہی ہے اس میں ہاتھ دھو لیں ، اور لوگ یہ بھول جائیں کہ وہ بھارت کے نہیں کناڈا کے شہری ہیں ۔ کنگنا رناؤت کی مثال لے لیں کہ ہندوتوا کے نام پر لوگوں کی گردن اڑانے کی دھمکی دے رہی ہیں ، کیوں؟ اس لیے کہ فلمی دنیا کو ڈرا اور دھمکا کر اپنا الو سیدھا کر سکیں ۔ ایک لمبی فہرست ہے فرقہ پرستی کے دم پر کھانے پینے والوں کی ۔ پہلے فلمی دنیا ایسی نہیں تھی ۔ ممکن ہے فلمی دنیا میں فرقہ پرست رہے ہوں لیکن لوگ کھل کر فرقہ پرستی کا اظہار نہیں کرتے تھے ۔ فسادات کے خلاف ساری فلمی دنیا متحد ہو کر احتجاج کرتی تھی ۔ اب ایسا نہیں ہے، اب تو کنگنا رناؤت جیسے فنکار فسادات پر تالیاں بجاتے ہیں ۔ دہلی فساد کی مثال لے لیں ، رناؤت کی نظر میں وہ سب ، جو فساد میں لٹے اور پٹے ہیں ، حقیقی فسادی بلکہ دہشت گرد ہیں ۔ کتنی بدل گئی ہے فلمی دنیا !
How much the film world has changed!

اپنا تبصرہ بھیجیں