نیا ورق، تازہ شمارہ میری نظر میں

نیا ورق، تازہ شمارہ میری نظر میں
تعارف و تبصرہ
شکیل رشید
’مواد شاندار ہےؔ‘ ۔ شاداب رشید کی ادارت میں نکلنے والے سہ ماہی ادبی پرچے ’نیا ورق‘ کے تازہ شمارے نمبر (۵۵)کو دیکھنے کے بعد یہ ردعمل ، اردو کے سینئر صحافی خلیل زاہد کا ہے۔ میں مذکورہ ردعمل سے مکمل طور پر تو نہیں کچھ حد تک ضرور متفق ہوں۔ میرا اپنا ماننا ہے کہ چند ایک چیزیں اگر اس شمارے میں شامل نہ ہوتیں تو بہتر ہوتا۔ میرا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر اس شمارے کی اچھی چیزوں کو بہتر ڈھنگ سے پیش کیا جاتا تو یہ شمارہ انتہائی قیمتی ہو جاتا۔ بات تفصیل سے کرتے ہیں۔ اس شمارہ میں معروف فکشن نگار عبدالصمد کی ایک طویل کہانی بعنوان ’طوفان میں گھرا ساحل‘ شامل ہے۔ مدیر نے شاید یہ کہانی ایک بڑا نام دیکھ کر شامل کی ہے، اور سچ یہ ہے کہ میں نے اسے، اس شمارے میں شامل دوسری کہانیوں سے پہلے پڑھا بھی اس لیے کہ اس پر عبدالصمد کا نام تھا۔ لیکن ایک بڑے رائٹر کی اس کہانی نے بہت مایوس کیا۔ مایوسی عبدالصمد کی زبان یا ان کے کہانی کہنے کی تکنیک یا بنت کے حوالے سے نہیں ہے، کہانی کہنے کا فن وہ خوب جانتے ہیں، مایوسی کہانی کے موضوع سے ہے۔ عبدالصمد ’محبت‘ اور ’عشق‘ اور اس راہ کے ’آلام‘ و ’کرب‘ اور ’جذبات‘ کی دنیا سے کہیں آگے بڑھ آے ہیں، ان سے اب ایسی کہانی کی توقع کی جاتی ہے جو ’آج‘ کی ہو ۔ متذکرہ کہانی ممکن ہے دوسروں کو پسند آے لیکن میرے اپنے خیال میں یہ ایک ایسی کہانی ہے جو عبدالصمد اگر دس بیس سال پہلے لکھتے تو ہاتھوں ہاتھ لی جا سکتی تھی، لیکن آج نہیں۔ اس کہانی کی ایک خامی اس کی طوالت بھی ہے۔ کسی کہانی میں طوالت کا مطلب یہ قطعی نہیں ہوتا کہ کہانی خراب ہے، لیکن طوالت اگر بے قابو ہو جاے تو کہانی متاثر ہو جاتی ہے۔ عبدالصمد کی اس کہانی میں طوالت نے انہیں باتوں کو دوہرانے پر مجبور کر دیا ہے جس کی وجہ سے کہانی پر ان کی گرفت کمزور پڑ گئی ہے۔ یہ کہانی اگر اس شمارہ میں شامل نہ ہوتی تو بہتر ہوتا۔ اس شمارے میں غضنفر اقبال کا، ساجد رشید کی کہانی ’راکھ’ پر لکھا ہوا تجزیہ ’راکھ : جستجو کیا ہے‘ بھی شامل نہیں ہونا چاہیے تھا ۔ ’راکھ‘ ساجد رشید کی بہترین کہانیوں میں سے ایک ہے، اس کہانی کے کئی شیڈ ہیں، کئی پرتیں ہیں جنہیں کھولنے میں تجزیہ نگار ناکام ہے۔ تجزیہ نگار نے سارا زور لفاظی پر ضائع کر دیا ہے۔ اس شمارہ میں تین کہانیاں اور ہیں۔ اردو کے سینئر افسانہ نگار سلام بن رزاق نے ’ابن مریم ہوا کرے کوئی‘ میں مرزا غالب کی زندگی پر، بلکہ اگر یہ کہا جائے تو زیادہ درست ہوگا، ان کی بے اعمالیوں پر، مولانا حالی اور غالب کے چند خطوط کے حوالے سے غالب کی عالم خواب میں جنت میں پیشی اور سوال جواب کا اور اللہ رب العزت کے حکم پر غالب کی مغفرت کا نقشہ کھینچا ہے، جو بہت خوب ہے۔ زبان و بیان کمال کا ہے۔ یہ ایک فنتاسی ہے، سلام بن رزاق کو چاہیے کہ اس سلسلے کو دراز کریں اور دیگر ادباء و شعراء کی زندگیوں کے منتخب گوشوں پر اسی طرح کی فنتاسیوں کو قلم بند کریں۔ یہ سلسلہ بلاشبہ اپنی تازگی کے سبب پسند کیا جائے گا۔ فرحت جہاں کو میں نے پہلے کبھی نہیں پڑھا تھا، ان کا افسانہ ’بازار‘ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو اپنی خستہ حالی کے ہاتھوں، لاکھ نہ چاہنے کے باوجود اپنے پڑوسی دوکاندار کی طرح دوکانداری کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے چاپلوسی کو ہتھیار بنانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ کہانی ’بازار‘ آج کی بازار پرست دنیا اور اس دنیا کی بدلتی قدروں پر ایک گہرا طنز ہے۔ زبان کہانی کے تقاضوں کے مطابق ہے۔ مکالمے کاٹ دار ہیں۔ ایک کہانی محسن خان کی ہے جن کا ناول ’اللہ میاں کا کارخانہ‘ ان دنوں دھوم مچا رہا ہے۔ کہانی ’کشتی میں اچھلتی مچھلیاں‘ سی اے اے اور اقلیتوں بالخصوص مسلم اقلیت کے شہریت سے بے دخل کیے جانے کے اندیشے اور خوف پر مبنی ہے۔ کہانی کی بنت ،اور کہانی کہنے کا انداز دلکش ہے۔ زبان پر مکمل گرفت ہے۔ یہ کہانی ایک مکمل ناول کی متقاضی ہے۔ کہانی کا عنوان’کشتی میں اچھلتی مچھلیاں‘ ان مہاجرین کی طرف ذہن لے جاتا ہے جو سمندروں میں کشتیوں میں سوار قسمت کے سہارے ، بے آس و بے مددگار، ڈولتے رہتے ہیں ۔
گوشہ فہمیدہ ریاض اس شمارہ کی جان ہے، لیکن جیسے کہ اوپر لکھا گیا ہے کہ اس شمارے کی کچھ اچھی چیزوں کو بہتر ڈھنگ سے پیش نہیں کیا گیا، گوشہ فہمیدہ ریاض ان میں سے ایک ہے۔ اچھے ڈھنگ سے پیش نہ کرنے کا مطلب کمپوزنگ کی غلطیاں ہیں۔ پروف ریڈنگ یا تو کی نہیں گئی یا بہت ناقص کی گئی ہے، اس کے نتیجے میں ایک شاندار گوشہ پھیکا پڑ گیا ہے۔ میں نے پروف کی خامیوں کے باوجود اس گوشے کا مطالعہ کیا ہے، تمام ہی مضامین اعلیٰ معیار کے ہیں۔ معروف نقاد شمیم حنفی نے اپنے مضمون ’کیا تم پورا چاند نہ دیکھو گے : فہمیدہ ریاض کی زندگی اور شاعری‘ میں ان کی شاعری کے حوالے سے ان کی زندگی کے اتار چڑھاو کا دل کو چھو لینے والا نقشہ کھینچا ہے۔ مرحوم آصف فرخی کا مضمون ’آدم نو کی ہم سفر‘ فہمیدہ ریاض کی پیچیدہ شخصیت کی تفہیم اس طرح کرتا ہے کہ آصف فرخی کا فہمیدہ ریاض کی موت کا غم ہم سب کا غم بن جاتا ہے۔ یہ مضمون مرحومہ کے سارے کرب اور ان کی زندگی کے سارے آلام اور اردو والوں کی ازلی بےحسی کا نوحہ ہے۔ آہ ! اب نہ ہمارے درمیان فہمیدہ ریاض ہیں اور نہ ہی آصف فرخی، کتنا بڑا المیہ ہے۔ نجمہ رحمانی صاحبہ کم لکھتی ہیں لیکن جب لکھتی ہیں تو لکھنے کا حق ادا کر دیتی ہیں، فہمیدہ ریاض کے سفر نامے ’زندہ بہار لین‘ پر اسی نام سے ان کا مضمون ایک ایسا ہی مضمون ہے۔ اس مضمون میں آج کا ہندوستان بھی شامل ہو گیا ہے جو فہمیدہ ریاض کے سفر نامہ کو آج کا سفر نامہ بنا دیتا ہے۔ عمران عاکف خان ہمارے نوجوان لکھنے والوں میں سے ایک ہیں، ان کا مضمون ’فہمیدہ ریاض : قہری چھاؤں کی باسی‘ مرحومہ کو شاعری کے حوالے سے سمجھنے کی بہترین کوشش ہے۔ عمران لکھتے رہیں۔ شوبی زہرا نقوی نے اپنے مضمون ’ایک احتجاجی شاعرہ : فہمیدہ ریاض‘ میں ان کی شاعری کو سامنے رکھتے ہوے ان کے احتجاجی رخ کو اجاگر کیا ہے۔ یہ ایک اچھا مضمون ہے۔ گوشہ میں چودھری محمد نعیم کے نام فہمیدہ ریاض کے خطوط ان کے ادبی، انسانی اور سماجی رویّوں کو اجاگر کرنے کے ساتھ مسائل کو چٹکی میں اڑانے کی ان کی سرشت کو بھی سامنے لاتے ہیں۔ ان خطوط کی ادبی اہمیت بھی ہے، ان کا طرز ویسے ہے جیسے دو افراد سامنے بیٹھ کر باتیں کرتے ہوں ۔ اس گوشے میں ان کی چند نظمیں بھی شامل ہیں جن میں مشہور زمانہ نظم ’نیا بھارت‘ بھی ہے جس پر دہلی یونیورسٹی میں فہمیدہ ریاض کے خلاف نعرے لگ گیے تھے ۔
یہ شمارہ معمول کی نظموں اور غزلوں کو بھی اپنے دامن میں سمیٹے ہوے ہے۔ فرحان حنیف نے پنجابی کے انقلابی شاعر پاش کی نظموں کا بہتر انتخاب اور بہترین ترجمہ کیا ہے اور ان کا تعارف بھی یوں کرایا ہے کہ پوری شخصیت سامنے آجاتی ہے۔ اس شمارے میں شامل اسیم کاویانی کا مضمون ’کیا جانتے نہیں ہو ندا فاضلی کو تم‘ ادبی صحافت (بلکہ پوری اردو صحافت) کو آئینہ دکھاتا ہے کہ دیکھ لو تم کس قدر لاپروائی سے کام لیتے ہو ۔ شاہد ندیم نے ہندی کے ادیب وشواناتھ ترپاٹھی کے ایک مضمون ’فراق صاحب کی باتیں‘ کا، خوبصورت تلخیص و ترجمہ کیا ہے، اس میں فراق کی جو تصویر نظر آتی ہے وہ ان سے محبت اور کراہیت، دونوں طرح کے جذبات پیدا کرتی ہے۔ یہ بہت شاندار مضمون ہے لیکن پروف کی خامیوں نے اس کی صورت بگاڑ دی ہے۔ شمارہ میں دو خاکے بھی شامل ہیں، ’سرپھرا‘ کے عنوان سے ساجد رشید کا خاکہ معروف فلم رائٹر اور بہترین خاکہ نگار جاوید صدیقی کا لکھا ہوا، اور ’لفظوں کا مسیحا‘ کے عنوان سے معروف محقق رشید حسن خان پر الیاس شوقی کا لکھا خاکہ ۔ دونوں ہی خاکے لاجواب ہیں۔ آخر میں شاداب رشید کے اداریے، جو دستخط کے عنوان کے تحت لکھا جاتا ہے، پر بات کروں گا ۔ عنوان ہے’دوبارہ غلامی کی جانب ایک قدم اور۔۔۔‘ موضوع شاہین باغ اور شہریت قانون ہے۔ شاداب رشید کو میرا مشورہ ہے کہ سیاسی اور سماجی موضوع پر وہ لکھیں، مگر ایک بار اپنے والد کے ایسے اداریے بغور پڑھ لیں تاکہ یہ اندازہ ہو جائے کہ ایسے موضوعات پر لکھنے کے لیے کس قدر سنجیدہ مگر کاٹ دار زبان کی ضرورت پڑتی ہے۔ خطوط کے لیے صفحات بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اچھے خطوں کو باکس میں شائع کیا جاے تو بہتر نتیجہ آے گا، اس بار مرحوم شمس الرحمن فاروقی کا خط اعلیٰ پاے کا ہے، اسے باکس میں ہونا چاہیے تھا۔ شمارے کا انتساب مجتبٰی حسین اور عبدالاحد ساز کے نام ہے، اللہ انہیں کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے، آمین۔ نیا ورق کا یہ شمارہ کتاب دار (موبائل-فون 9869321477)ممبئی سے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔

کیٹاگری میں : ادب

اپنا تبصرہ بھیجیں