شاہ بانوکیس سے شاہین باغ تک

شاہ بانوکیس سے شاہین باغ تک
تکلف برطرف : سعید حمید
اب تو یوں لگتا ہے ،
جیسے مسلم سماج میں برائیوں کے خلاف مہم کو بھی ہائی جیک
کیا جا رہا ہے !!
جیسے ؛ منشیات مخالف مہم میں ڈرگ مافیا ہی آگے آگے ہے ۔
طلاق مخا لف مہم میں طلاق کو دھندہ بنانے والوں
نے ہی گھس پیٹھ کر لی تھی ، اسلئے
شاہ بانوکیس کے خلاف احتجاج کے بعد
مسلم سماج میں طلاق کے مسئلہ نے مزید سنگینی اختیار کرلی تھی ،
اور آج تک مسلم سماج اس کا مقابلہ نہیں کر سکا ہے ۔
جہیز کے خلاف مہم چلائی گئی ،
کہ شادی بیاہ کو آسان بنایا جائے ،
نئی نئی رسومات اور طریقوں کے ذریعہ شادی بیاہ
کو مزید مہنگا بنادیا گیا ،
جہیز مخالف مہم تو بس ایک کنارے رہ گئی ۔
کیا وجہ ہے کہ سماجی برائیوں کے خلاف مسلم سماج میں
اصلاح کی کوئی بھی مہم کامیاب ثابت نہیں ہو رہی ہے ؟
اسلئے ،
کہ ہمارے سماج نے اصلاح معاشرہ مہم کو بھی ایک رسم بنالیا ہے ۔
ایسی مہم محض رسم یا خانہ پری کے طور پر کی جاتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے
کہ مسلم معاشرہ میں برائیوں کے خلاف بھی جہاد کیا جائے ،
لیکن ،
اصلاح معاشرہ کی جو بھی مہم شروع کی جاتی ہے ،
اس میں جہادی اسپرٹ کا فقدان ہوتا ہے ،
اشتہاری اسپرٹ زیادہ نظر آتی ہے۔
اسلئے ،
۱۹۸۶ ء سے یہ دیکھا جارہا ہے ،
کہ مسلمانوں میں اصلاح معاشرہ کی کسی بھی مہم کا
کوئی مثبت اثر نہیں ہو رہا ہے ۔
ایک بات جس پر مسلم معاشرہ میں سنجیدگی سے توجہ نہیں
دی گئی ، وہ ہے اصلاح معاشرہ مہم کے ساتھ
خلوص اور ہامری اپنی ذمہ داریوںکو پورا کرنے کا احساس ۔
اب مثال کیلئے مسلم پرسنل لا ء بورڈ کا رویہ ہی
دیکھ لیا جائے :
شاہ بانوکیس کے خلاف مسلم پرسنل لا ء بورڈ نے جس قوت
اور شدت کا ساتھ مہم چلائی تھی ،
اسی قوت اور شدت سے طلاق کے خلاف اصلاح معاشرہ مہم
بھی چلائی جانی چاہئے تھی ،
ایسا نہیںہوا ۔
بس ، خانہ پری کے طور پر اصلاح معاشرہ مہم چلائی گئی ۔
اسلئے ، شاہ بانوکیس سے پہلے ، اور بعد میں
مسلم سماج میں طلاق کیسوں کی شرح کا جائزہ لیا جائے
تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے
کہ شاہ بانو مہم کے بعد مسلم سماج میں طلاق کی شرحوں میں
اور خاص طور پر تین طلاق کے واقعات میں
تیزی سے اضافہ ہو ا ۔
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ طلاق مخالف اصلاح معاشرہ مہم
اسی شدت کے ساتھ چلائی جانی چاہئے تھی ،
جیسی شاہ بانو کیس مخالف مہم چلائی گئی تھی ۔
ویسے ہی بڑے بڑے جلوس نکالے جانے چاہئیں تھے ،
ویسے ہی بڑے بڑے جلسوں کا انعقاد ہونا چاہئے تھا ۔
جس سے یہ اشارہ ملتا کہ ہم صرف اپنے حقوق
کیلئے ہی نہیں ، بلکہ اپنےفرائض کیلئے بھی اسی قدر سنجیدہ ہیں ۔
کیا ایسا ہوا ؟
جی نہیں !!
اس لئے ، بھلے ہی ہم نے شاہ بانو کیس کے مسئلہ پر
سرکار کو جھکنے پر مجبور کردیا ،
طلاق کے معاملہ پر خود اپنی ہی قوم کو جھکا نہیں سکے !!!
یہی حال جہیز ، منشیات اور دیگر برائیوں کے خلاف
مسلم سماج کی تحریکوں کا ہے ،
یہ تحریکیں بھی محض رسم بن چکی ہیں،
رسمی انداز میں تحریکیں چلائی جاتی رہی ہیں ،
اسلئے !!
منشیات ہو ، جہیز ہو ، شادی بیاہ میں بے جا اخراجات وغیرہ ،
کچھ اثر دکھائی نہیںدیاہے ،
کچھ اثر دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔
کیونکہ ،
ہم اپنے حقوق کیلئے مہم میں جس طرح جوش ، ولولہ
دکھاتے ہیں ۔
اپنی ذمہ داریوں کے معاملہ میں اتنے پرجوش نظر نہیں آتے ۔
اب یہی دیکھ لیجئے ،
مسلم ریزرویشن کیلئے کتنے بڑے بڑے جلسہ ہوئے ؟
کتنےبڑے بڑے جلوس نکالے گئے ؟
لیکن ،
اوقاف کی املاک پر ، عید گاہوں ، درگاہوں ،
مسجدوں کی املاک جہاں خود مسلمانوں نے ہی غاصبانہ
قبضہ کر رکھا ہے ،
کتنے بڑے جلوس نکالے گئے ؟
کتنے بڑے جلسے ہوئے ؟
کتنے مظاہرہ منعقد کیئے گئے ؟
کتنے شاہین باغ وقف املاک سے خو دمسلمانوں کی لوٹ مار ،
یا جہیز کی لعنت ، یا طلاق یا منشیات کے خلاف
آرگنائز کئے گئے ؟
منشیات تو مسلم اکثریتی علاقوں میں آج سب سے سنگین
مسئلہ اور سب سے تباہ کن سماجی برائی ہے !!!
کتنے مسلم علاقوں میں منشیات مخالف شاہین باغ کا
اہتمام کیا گیا ؟
سی اے اے ، این آر سی ، اینپی آر جیسے قوانین ہماری قوم
کیلئے خطرناک ہیں ، یہ بات تسلیم !!!
لیکن ، منشیات کی لعنت قوم کیلئے تباہ کن ہے ،
یہ بات بھی تسلیم کی جاتی ہے ،
لیکن جب ہم سرکاری قانون کے خلاف شاہین باغ
کا اہتمام کرتے ہیں ،
اور منشیات کے خلاف محض نکڑ ناٹک ، وغیرہ وغیرہ کرکے
بیٹھ جاتے ہیں ،
تو اس سے سماجی برائیوں کے خلاف قوم کی سنجیدگی
کا اندازہ کیا جاسکتا ہے !!!
اور یہ رسمی انداز سماجی برائیوں کے خلاف ملی مہم کا
ہی اس بات کا سبب ہے کہ
مسلم علاقوں میں ڈرگ مافیا نےہی منشیات مخالف
مہم ہائی جیک کرلی ،
اس کا اندازہ کئی حالیہ کیسوںاورواقعات سے کیا جا سکتا ہے۔
اگر،
اب بھی مسلم قوم کے ذمہ داروں نے آنکھیں نہیں کھولی ،
اور احتجاج ، مظاہروں اور مہم کے متعلق
جو دوہرا رویہ ہے ، اس کو ختم نہیں کیا ۔
تو پھرسماجی برائیوں کے خلاف کوئی بھی مہم موثر ثابت نہیں ہوگی ،
محض رسم بن کر رہ جائے گی ۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ شاہ بانو کیس سے
لیکر شاہین باغ تک ، جس جوش و خروش کا مظاہرہ قوم نے
اپنے حقوق کے عنوان پر کیا ، ویسےہی جوش و خروش کا مظاہرہ
ذمہ داریوں کے حوالےسے بھی کیا جائے۔
جس طرح شہری آزادی کیلئے شاہین باغ مظاہرہ کئے گئے، ا
سی طرح مسلم معاشرہ کی منشیات ، طلاق ، جہیز وغیرہ
جیسی سماجی برائیوں سے آزادی کیلئے بھی
منشیات مخالف شاہین باغ ، طلاق مخالف شاہین باغ ،
جہیز مخالف شاہین باغ کا بھی اہتمام کیا جائے !!!

اپنا تبصرہ بھیجیں