مودی سرکار اور سپریم کورٹ کسانوں کو نہیں جھکاسکی۔۔۔!

مودی سرکار اور سپریم کورٹ
کسانوں کو نہیں جھکاسکی۔۔۔!
کسانوں سے اتحاد کا سبق مسلمان اور مسلم تنظیمیں اور جماعتیں کب سیکھیں گی؟
شکیل رشید
ایڈیٹر روزنامہ ممبئی اردو نیوز
گزرا ہوا ہفتہ کسانوں کی خبروں سے بھرا ہوا تھا ۔
کسانوں اور مرکزی حکومت کے درمیان نویں دور کے مذاکرات کی ناکامی کی خبر، اس سے پہلے کسانوں اور مودی سرکار کے جھگڑے میں سپریم کورٹ کی مداخلت، تینوں زرعی قوانین پر عارضی روک اور مسئلے کے حل کے لیے ایک چار رکنی کمیٹی کی تشکیل کی خبر،کسانوں کے ذریعے کمیٹی کو قبول نہ کرنے اور 26 جنوری، یوم جمہوریہ پر دہلی میں ٹریکٹر پریڈ کے اعلان کی خبر ۔ ان ساری خبروں کے بیچ ایک دلچسپ اور خوش کن خبر یہ بھی ہے کہ بھوپیندر سنگھ مان نے، جو سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ کمیٹی کے رکن تھے، یہ کہتے ہوئےکہ میں ہمیشہ اپنے کسانوں اور پنجاب کے ساتھ کھڑا رہوں گا، کمیٹی سے خود کو علیحدہ کرلیا ہے نیز کمیٹی کے ایک دوسرے رکن شیتکری سنگھٹنا کے صدر انیل گھنوت نے کھلے لفظوں میں یہ کہہ دیا ہے کہ وہ بی جے پی کی بی ٹیم کے رکن نہیں ہیں اور یہ جو تین زرعی قوانین بنائے گیے ہیں ان سے زرعی اصلاحات کی ایک شروعات ہوئی تو ہے لیکن ان قوانین میں خامیاں ہیں ۔ دلچسپ خبر یہ ہے کہ گھنوت نے مودی سرکار پر ایک سخت قسم کا الزام لگا دیا ہے کہ سرکار الیکشن جیتنے کے لیے، ملک بھر میں پیداوار کی قیمتیں مصنوعی طریقے سے گھٹا کر کسانوں کے حقوق سے کھلواڑ کرتی ہے۔ انہوں نے صاف صاف کہا ہے کہ میں کسانوں کے ساتھ ہوں اور ایک ایسی رپورٹ تیار کرنے کی کوشش کروں گا جو کسانوں کے لیے قابل قبول ہو۔ گھنوت کی باتوں سے مبصرین یہ اندازہ لگا رہے ہیں کہ شاید ان پر کسی طرح کا دباؤ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ بالفاظ دیگر یہ کہ ان پر کسانوں کے اس مطالبے کے خلاف کہ زرعی قوانین واپس لیے جائیں، رپورٹ بنانے کا دباؤ بنایا جا رہا ہے۔ یقین سے تو کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن مودی سرکار کی طرف نظر دوڑائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ہر حال میں ان قوانین کو لاگو کرنے پر تلی ہوئی ہے ۔ ممکن ہے کہ کسی حلقے سے گھنوت پر دباؤ پڑا ہو اور انہوں نے پیش بندی کے طور پر مذکورہ باتیں کہی ہوں، تاکہ دباؤ بنانے والے پیچھے ہٹ جائیں۔ ویسے سپریم کورٹ نے چیف جسٹس بوبڈے کی قیادت میں کسانوں اور مرکز کے درمیان حل نکالنے کے لیے چار افراد کی جو کمیٹی تشکیل دی ہے وہ پہلے ہی دن سے تنازعہ میں آ گئی ہے، وجہ دو ہیں، ایک تو یہ کہ کسان پہلے ہی سے کہہ رہے تھے کہ وہ نہ سپریم کورٹ جانا چاہتے ہیں اور نہ ہی کوئی کمیٹی چاہتے ہیں ان کی بس یہی مانگ ہے کہ تینوں زرعی قوانین کو مودی سرکار نے جس طرح سے منظور کیا ہے اسی طرح سے واپس لے لے ، اور ایم ایس پی یعنی پیداوار پر کم سے کم قیمت کی ضمانت دے دے۔ اور تنازعہ کی دوسری وجہ کمیٹی کے اراکین کا زرعی قوانین کی حمایت میں جھکائو ہے۔ کمیٹی کے ایک رکن اشوک گلاٹی ہیں، یہ زرعی معاشیات کے ماہر ہیں اور اپنے کئی مضامین میں تینوں قوانین کی حمایت کر چکے ہیں، ایک رکن پرمود کمار جوشی ہیں، یہ بھی زرعی معاشیات کے ماہر ہیں اور فوڈ پالیسی سے متعلق ایک عالمی باڈی کے ڈائریکٹر رہ چکے ہیں، یہ بھی تینوں قوانین کی حمایت میں بیان دے چکے ہیں۔ مان اور گھنوت بھی پہلے ہی سے زرعی قوانین کے حق میں تھے۔ کسانوں نے سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ کمیٹی کے سامنے پیش نہ ہونے کا اعلان کرکے ایک طرح سے یہ اشارہ دے دیا ہے کہ سپریم کورٹ، مرکزی سرکار کی ہی طرح وقت گزارنا اور کسانوں کی تحریک کو کمزور کرنا چاہتی ہے، لیکن ہم اس تحریک کو کمزور ہونے نہیں دیں گے۔ یہ کسانوں کا اتحاد ہی ہے جس نے مان کو کمیٹی سے نکلنے پر اور گھنوت کو یہ کہنے پر مجبور کیا ہے کہ وہ بی جے پی کی بی ٹیم نہیں ہیں۔ کسان اب یوم جمہوریہ پر ٹریکٹر پریڈ کی تیاری کر رہے ہیں، ظاہر ہے کہ مرکزی سرکار پوری کوشش کرے گی کہ کسانوں کے ٹریکٹر راجدھانی دہلی میں داخل نہ ہو سکیں، اس کے لیے سیکورٹی کو مکمل چھوٹ بھی دی جا سکتی ہے۔ حکومت پہلے ہی کسانوں پر لاٹھی چارج کر چکی ہے، ان پر واٹر کینن کا اور آنسو گیس کے گولوں کا استعمال بھی کیا جا چکا ہے۔ کسان پیچھے نہیں ہٹے ہیں۔ ساٹھ سے زائد کسان شدید ترین سردی کے سبب موت کی نیند سو چکے ہیں، اور کسان لیڈر بھارتیہ کسان یونین کے قائد راکیش ٹکیت یہ کہہ چکے ہیں کہ کسان جانوں کی قربانی دینے کو تیار ہیں، گویا یہ کہ موت کا ڈر بھی کسانوں کو نہیں ہے کہ وہ قدم پیچھے کر لیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا وزیراعظم نریندر مودی کو یہ سب نظر نہیں آ رہا ہے؟ وہ انڈونیشیا میں طیارے کے مہلوکین کی تعزیت میں ٹوئٹ کر سکتے ہیں لیکن کسی کسان کی، وہ بھی جمہوری تحریک میں شامل کسان کی موت پر دکھ کے اظہار کے لیے ایک لفظ نہیں بول سکتے ! افسوس ! خیر سپریم کورٹ نے کسانوں کی حالت دیکھی اور فیصلہ کیا کہ کمیٹی دو مہینے میں رپورٹ دے تاکہ مسئلے کو سلجھایا جا سکے۔ اس کا سواگت ہے، مگر اس سے کئی سوال اٹھ کھڑے ہوے ہیں۔ مثلاً یہ کہ پارلیمنٹ کے منظور قوانین پر عارضی روک لگانے کا کام اس نے کیوں کیا، کیوں ان قوانین کی آئینی حیثیت کا جائزہ نہیں لیا، جوکہ اس کا کام ہے؟ کمیٹی کو دو مہینے کا وقت دینے کا مطلب کسان تحریک کو دو مہینے تک کے لیے کہیں بند کرانا تو نہیں تھا؟ اگر سپریم کورٹ کی بات مان کر کسان تحریک ختم کر دیتے تو کیا، اگر کمیٹی قوانین کے حق میں رپورٹ دیتی تو کسان تحریک دوبارہ شروع ہو سکتی تھی؟ ممکن ہی نہیں تھا۔ شاہین باغ ہمارے سامنے ہے ۔ سپریم کورٹ نے شاہین باغ کی تحریک پر جو فیصلہ دیا ہے اس کی روشنی میں آئندہ شاہین باغ کی تحریک کا شروع ہونا اگر ناممکن نہیں تو بہت مشکل بلکہ مشکل ترین ضرور ہے۔ عدالتیں اب بھروسہ کھو چکی ہیں۔ بابری مسجد عدالت کے دم پر مسلمانوں سے چھینی گئی، شریعت میں مداخلت عدالت کے دم پر کی گئی، اور اب سی اے اے کا معاملہ سامنے ہے، عدالت دم سادھے ہوے ہے، اس قانون کی جائز یا ناجائز آئینی حیثیت کو جانچنے کو آمادہ تک نہیں ہے ۔ آرٹیکل 370 ہٹا کر ، کشمیر کے خصوصی درجہ کو ختم کرنے کی جو حرکت کی گئی ہے اس پر سپریم کورٹ بات کرنے کو تیار نہیں ہے، تو پھر یہ کسانوں کے معاملہ میں اسے مداخلت کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس لیے کہ مودی سرکار زرعی قوانین بنا کر پھنس گئی ہے، اڈانی اور امبانی کو، جو ان قوانین سے خوب فائدہ اٹھا سکتے ہیں، وہ ناراض نہیں کرسکتی ، لیکن کسانوں کی یہ تحریک اس کے گلے کا پھندا بنتی جا رہی ہے۔ کسان کی ناراضگی اس کے ووٹ بینک کو کھسکا رہی ہے، اس کی ریاستی حکومتیں بالخصوص ہریانہ کی حکومت خطرے میں آ گئی ہے ۔ مودی کی ایک وزیراعظم کی حیثیت سے ناک داؤ پر لگ چکی ہے ۔ قوانین واپس لیے تو ناک کٹ جائے گی، نہ واپس لیے تو سارا ملک ایک طرح کے تناؤ کا شکار رہے گا، اور کسانوں و حکومت کا ٹکراؤ بہت سارے مسائل پیدا کر دے گا ۔ یہ جو ’نہ جائے ماندن نہ پائے رفتنـ‘ کی صورت ہے اس سے باہر نکلنے کے لیے سپریم کورٹ سے بہتر کون تھا! لیکن اس قضیے میں ہاتھ ڈال کر عدالت عظمیٰ اور چیف جسٹس بوبڈے دونوں ہی تنقید کا نشانہ بن گیے ہیں، اور ملک کی عدالت پر تنقید ہو یہ تشویش کی بھی بات ہے اور شرم کی بھی ۔ مودی کے لیے بس ایک راہ بچی ہے، وہ ان قوانین کو واپس لے لیں ۔ کانگریس کے قائد راہل گاندھی کہہ چکے ہیں کہ سرکار کو یہ قوانین واپس لینا ہی ہوں گے ۔ کیوں نہ جوش پر ہوش کو ترجیح دی جائے۔ ایک خوش کن نظارہ کسانوں کی تحریک میں جمعہ کو دیکھنے کو ملا، مسلمان جن میں خواتین بھی شامل ہیں نماز پڑھ رہے ہیں اور سکھ اور جاٹ کسان ان کے گرد حفاظتی دیوار بن کر کھڑے ہوے ہیں ۔ یہ تصویر حوصلہ بڑھاتی ہے، امید بڑھاتی ہے کہ سارا ملک اگر بلا تفریق مذہب اور ذات پات ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہوگیا تو کوئی انہیں ہرا نہیں سکتا، مودی اور امیت شاہ بھی نہیں ۔
چلتے چلتے ایک بات اور کہنی ہے : ان دنوں ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے ملک بھر میں چندہ وصول کیا جا رہا ہے، اور ملک کے صدر جمہوریہ رام کووند نے ایک ہندو کی حیثیت سے پانچ لاکھ سے زائد کی رقم چندہ میں دی ہے ۔ اس پر کیاکہا جا سکتا ہے سوائے یہ سوال اٹھانے کے کہ کیا رام مندر کے لیے، ایک جمہوری ملک کے صدر کو چندہ دینا چاہیے تھا؟ میں بات کچھ اور کرنا چاہتا ہوں، کسانوں کے اتحاد میں ہمارے لیے سبق ہے، تفریق پیدا کرنے، دراڑ ڈالنے کی ہر سازش اتحاد نے ناکام کردی ہے، کسان قائد سیاست دانوں کے ساتھ دعوتیں نہیں اڑا رہے ہیں، اسی لیے وہ کامیاب ہیں ۔ بابری مسجد تحریک ہم نے دیکھی ہے، ایک مسلم قائد دوسرے مسلم قائد سے لڑ رہا تھا، مسلم جماعتیں اور تنظیمیں دست و گریبان تھیں، کریڈٹ لینے کی ہوڑ لگی تھی، سب اپنی اپنی ڈفلی بجا رہے تھے، قربانی، جیسی کسان دے رہے ہیں، دینے کو کوئی تیار نہیں تھا اور سب وزراء اور سیاستدانوں کے تلوے چاٹ رہے تھے، دعوتیں کھا رہے تھے، اسی لیے آسانی کے ساتھ عدالت نے بابری مسجد چھین لی ۔ اب ہوش میں آئیں، کسانوں کے اتحاد سے سبق سیکھیں ورنہ سی اے اے کی لڑائی میں اسی آسانی سے ہار ہو جاے گی جس آسانی سے بابری مسجد کی لڑائی میں ہار ہوئی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں