بے نتیجہ مذاکرات سے سپریم کورٹ مایوس

حل نکالیں گے یاہم اسٹے لگائیں؟ آپ مسائل کاحصہ ہیں یاحل کا؟احتجاج کے حق کونہیں روک سکتے
بے نتیجہ مذاکرات سے سپریم کورٹ مایوس،کمیٹی کی تشکیل کااشارہ ،سماعت آج بھی ہوگی
نئی دہلی11جنوری(آئی این ایس انڈیا)
زرعی قانون کے بارے میں کسانوں کی تحریک پر مرکزی حکومت کے رویہ سے سپریم کورٹ مایوس ہے۔ سپریم کورٹ میں اس معاملے پر جاری سماعت کے دوران عدالت نے مرکزی حکومت سے پوچھاہے کہ کیا آپ قانون کوروکیں گے ورنہ ہمیں یہ کرنا ہوگا۔ عدالت نے پوچھاہے کہ کیا یہ نیا زرعی قانون کچھ دن نہیں رک سکتا؟ کیوں کہ ہم نہیں جانتے کہ کسانوں اورحکومت کے مابین کیا چل رہا ہے۔عدالت نے کہاہے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ آپ مسئلے کا حصہ ہیں یا حل کاحصہ ہیں۔سپریم کورٹ نے اب حکومت اور فریقین سے کچھ نام بتانے کو کہا ہے۔ تاکہ انہیں کمیٹی میں شامل کیا جاسکے۔اب کمیٹی یہ بتائے گی کہ قوانین عوام کے مفاد میں ہیں یا نہیں۔ اب کل اس معاملے پردوبارہ سماعت ہوگی ، کمیٹی ہی پر کل ہی فیصلہ لیا جاسکتا ہے۔عدالت میں سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ہم تحریک ختم نہیں کرناچاہتے ، آپ اسے جاری رکھ سکتے ہیں۔ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ اگر قانون رْک گیا توکیاآپ رپورٹ آنے تک احتجاج کی جگہ تبدیل کریں گے؟ اگر کچھ غلط ہوا تو ہم سب ذمہ دار ہوں گے۔ اگر کسان احتجاج کر رہے ہیں تو ہم چاہتے ہیں کہ کمیٹی اس کو حل کرے۔ ہم کسی کا خون ہاتھ پرنہیں لینا چاہتے ہیں۔ لیکن ہم کسی کو احتجاج کرنے سے روک نہیں سکتے ہیں۔حکومت کی جانب سے عدالت میں کہا گیا کہ اس طرح سے کسی قانون پرپابندی نہیں لگائی جاسکتی ہے۔ اس پر عدالت نے کہاہے کہ ہم حکومت کے رویہ سے ناراض ہیں اور ہم اس قانون کو روکنے کی پوزیشن میں ہیں۔ عدالت نے کہاہے کہ اب کسان اپنی پریشانی کمیٹی کو بتائیں گے۔سپریم کورٹ نے کہاہے کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ ہم کسی بھی قانون توڑنے والے کی حفاظت کریں گے ، قانون کے مطابق قانون توڑنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ ہم صرف تشدد کو ہونے سے روکناچاہتے ہیں۔ عدالت میں اے جی نے کہاہے کہ کاشتکار 26 جنوری کو راج پتھ پر ٹریکٹر مارچ کریں گے ، اس کا ارادہ یوم جمہوریہ پریڈ کومتاثرکرنا ہے۔ کسانوں کے وکیل دشینت دیو نے کہاہے کہ ایسا نہیں ہوگا ، راج پتھ پرکوئی ٹریکٹر نہیں چلے گا۔چیف جسٹس نے سماعت کے دوران کہاہے کہ حکومت کی استدعا نہیں چلے گی کہ اسے کسی اور حکومت نے شروع کیاتھا۔آپ کس طرح حل کر رہے ہیں؟ حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایاہے کہ 41 کسان تنظیمیں قانون واپس لینے کا مطالبہ کررہی ہیں ، بصورت دیگر وہ تحریک جاری کرنے کا مطالبہ کررہی ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے پاس ایک بھی دلیل نہیں ہے جس میں اس قانون کی تعریف کی گئی ہے۔ عدالت نے کہاہے کہ ہم کسانوں کے معاملے میں ماہرنہیں ہیں ، لیکن کیا آپ ان قوانین کو روکیں گے یا ہمیں اقدامات کرنا چاہیے۔ حالات مسلسل بدتر ہوتے جارہے ہیں ، لوگ مر رہے ہیں اور سردی میں بیٹھے ہیں۔ وہاں کھانے اور پانی کی دیکھ بھال کون کر رہا ہے؟سپریم کورٹ نے پوچھا ہے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ خواتین اور بڑوں کو وہاں کیوں روکا جارہا ہے ، ایسی سردی میں یہ کیوں ہورہا ہے۔ہم ہے ایک ماہر کمیٹی بنانا چاہتے ہیں ، تب تک حکومت ان قوانین کو روک دے گی ورنہ ہم کارروائی کریں گے۔چیف جسٹس نے کہاہے کہ ہم قانون واپس لینے کی بات نہیں کر رہے ہیں ، ہم پوچھ رہے ہیں کہ آپ اسے کس طرح سنبھال رہے ہیں۔ ہم یہ نہیں سننا چاہتے کہ عدالت میں یہ معاملہ حل ہوا ہے یا نہیں۔ ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ کیا آپ اس معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرسکتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے تو آپ کہہ سکتے تھے کہ جب تک مسئلہ حل نہیں ہوتاآپ اس قانون کونافذنہیں کریں گے۔
کسان تنظیمیں کمیٹی کے سامنے آنے کایقین دلائیں:حکومت
نئی دہلی 11جنوری(آئی این ایس انڈیا)
حکومت کی جانب سے عدالت میں کہا گیا ہے کہ عدالت حکومت کے ہاتھ باندھ رہی ہے ، ہمیں یہ یقین دہانی کرنی چاہیے کہ کسان کمیٹی کے سامنے مذاکرات کرنے آئیں گے۔ کسان تنظیم کی جانب سے دشینت دیو نے کہاہے کہ ہمارے 400 تنظیمیں ہیں ، ایسی صورتحال میں ہمیں کمیٹی کے سامنے جانا پڑے گا یا نہیں۔ جس پر عدالت نے کہاہے کہ ایسا ماحول نہ بنائیں کہ آپ حکومت کے پاس جائیں ،کمیٹی کے پاس نہیں جائیں گے۔ حکومت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ کاشتکاروں کو کمیٹی میں آنے کے لیے اعتمادمیں لایا جائے۔تاہم کسان مہا پنچایت کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ انہیں دہلی آنے کی اجازت نہیں ہے۔ وہ کمیٹی کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہیں اور پرامن انداز میں احتجاج جاری رکھیں گے۔ چیف جسٹس نے کہاہے کہ احتجاج چلتا ہے ،اسی طرح چلانا چاہئے۔ ہم صرف سڑک کے کسی اور مقام پر بیٹھنے کی اپیل کریں گے۔ اگر کسی کی موت ہو یا املاک کونقصان پہنچا ہو تو اس کی ذمہ داری کون قبول کرے گا؟ چیف جسٹس نے کسان تنظیم کے وکیل سے کہاہے کہ آپ مظاہرے میں بیٹھے بزرگوں اور خواتین کو میرا پیغام دیںکہ چیف جسٹس چاہتے ہیں کہ آپ گھر چلے جائیں۔
ویکسین کی وسیع مہم شروع ہوگی،افواہوں کوروکناریاستوں کی ذمے داری
وزیراعظم مودی کی وزرائے اعلیٰ کے ساتھ اہم میٹنگ،تیاری پرتبادلہ خیال
نئی دہلی 11جنوری(آئی این ایس انڈیا)
ملک میں کورونا ویکسینیشن سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے تمام وزرائے اعلیٰ کے ساتھ میٹنگ کی۔ میٹنگ میں وزیر اعظم نے کہاہے کہ کرونا واریرس اورفرنٹ لائن ورکزکوسب سے پہلے ویکسین دی جائے گی۔اسی دوران اس میٹنگ میں تمام ریاستوں نے ویکسینیشن مہم کی تیاریوں کی تفصیلات پیش کیں۔ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ یہ میٹنگ اس لیے اہم ہے کہ 16 جنوری سے ملک میں مہم شروع ہو رہی ہے۔پی ایم مودی نے کورونا ویکسین کے بارے میں افواہوں سے پرہیز کرنے کامشورہ دیا۔ وزیر اعظم نے کہاہے کہ ایسی افواہوں پر لگام ڈالناریاستوں کی ذمہ داری ہے۔ کورونا ویکسینیشن کے بارے میں سائنسی برادری کے مشورے کی بنیادپر ہم کام کرتے رہیں گے ، ہم اسی سمت گئے ہیں۔جب کہ بنگال بی جے پی صدرنے کہاہے کہ کوروناختم ہوگیاہے۔سوال یہی ہے کہ جب حکمراں جماعت کے لیڈران ہی ایسے بیانات دیں گے توعوام کنفیوژڈہوگی۔اپوزیشن لیڈروں نے مطالبہ کیاہے کہ جس طرح یوروپی اوربرطانوی ممالک میں پہلے ملکی سربراہان نے ویکسین لی ،اسی طرح یہاں بھی سربراہان مملکت پہلے ویکسین لے کرعوام کااعتمادبحال کریں۔جب کہ کوویڈسے متاثرہونے والے شیوراج سنگھ چوہان نے ابھی ویکسین لینے سے انکارکردیاہے۔اسی طرح ہریانہ کے وزیرانل وج ایک ڈوزلینے کے بعدبیمارہوگئے۔مدھیہ پردیش میں رضاکارویکسین لینے کے بعدمتاثرہوئے جس پرکئی حلقوں سے سوال اٹھ رہے ہیں۔کانگریس نے اسے جلدبازی کافیصلہ بتایاہے اورسوال کیاہے کہ جب ابھی ٹرائل پورانہیں ہواہے توویکسین کی منظوری کیوں ؟پی ایم مودی نے کہاہے کہ یہ ہم سب کے لیے فخر کی بات ہے کہ جن دو ویکسین کو ہنگامی استعمال کے لیے منـظوری دی گئی ہے وہ دونوں ہی ہندوستان میں بنائے گئے ہیں۔ بھارت کو ویکسی نیشن کا جو تجربہ ہے ، وہ دوردراز علاقوں تک پہنچنے کے انتظامات میں بہت مفید ثابت ہوگا۔ وزیراعلیٰ کے ساتھ میٹنگ میں پی ایم مودی نے کہاہے کہ فرسٹ لائن ورکر پہلے کورونا ویکسین لیں گے۔ اس کے بعدصفائی کرنے والے اہلکار ویکسین لیں گے۔ اس کے بعدپولیس اہلکاروں ، سکیورٹی اہلکاروں ، سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو قطرے پلائے جائیں گے۔ دوسرے مرحلے میں پچاس سال سے اوپر والے افراد اور جو لوگ انفیکشن کا زیادہ شکار ہیں ان کوویکسین دی جائے گی۔
ابھے سنگھ چوٹالہ نے اسپیکر کو خط لکھا،زرعی قوانین واپس نہیں ہوئے تو استعفیٰ سمجھ لیں
چنڈی گڑھ11جنوری(آئی این ایس انڈیا)
زرعی قوانین کے حوالے سے مرکزی حکومت کی پریشانیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ پنجاب کے بعداب ہریانہ میں قوانین کے خلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔ اتوار کے روزوزیراعلیٰ منوہر لال کھٹر کی ریلی میں کسانوں کا غصہ سامنے آنے کے بعدانڈین نیشنل لوک دل کے ایم ایل اے ابھے سنگھ چوٹالہ نے بھی قوانین کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ چوٹالہ نے اسمبلی کے اسپیکر کو ایک خط لکھ کر مقننہ سے استعفیٰ دینے کااعلان کیاہے۔اپنے خط میں چوٹالہ نے لکھا ہے کہ اگر مرکزی حکومت 26 جنوری تک زرعی قوانین کو واپس نہیں لیتی ہے تو اس خط کو ان کا استعفیٰ سمجھناچاہیے۔ انہوں نے اسپیکر کو مخاطب اپنے خط میں لکھاہے کہ چودھری دیوی لال ہمیشہ کسانوں کے لیے لڑتے رہے ہیں۔ میں آج کے حالات میں اسی وراثت کا سرپرست ہوں۔ انہوں نے کہاہے کہ پورے ملک میں قوانین کی مخالفت کی جارہی ہے۔سردی میں کاشتکار 47 دن سے زیادہ احتجاج کر رہے ہیں۔ اس عرصے کے دوران 60 سے زائد کسان شہید ہوچکے ہیں۔
16 سالہ لڑکی کی شادی کا معاملہ ، دہلی حکومت سے جواب طلب
نئی دہلی11جنوری(آئی این ایس انڈیا)
دہلی ہائی کورٹ نے ایک درخواست پر دہلی حکومت اوردیگرسے جواب طلب کیا ہے جس میں قومی دارالحکومت میں ہر بچے کی شادی کو غیر قانونی قرار دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ درخواست ایک مسلمان متاثرہ لڑکی نے دائرکی ہے۔ لڑکی کا کہنا ہے کہ جب اس کی شادی ہوئی تھی تو وہ دسویں جماعت میں تھی۔ متاثرہ بچی کا کہنا ہے کہ لاعلمی کی حالت میں اس کی شادی کی منظوری حاصل کرلی گئی۔ آج جب وہ پڑھ لکھ لکھ کر اپنے پاؤں پر کھڑی ہے تو اچانک اس کا شوہر اور سسرال والے اسے گجرات لے جانے کے لیے آئے۔ لڑکی گھر سے فرار ہوگئی اور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی۔ بچی کے ذریعہ دائر درخواست پر اب دہلی ہائی کورٹ کو دہلی حکومت اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ جواب دیناپڑے گا۔ اس سے قبل ایک اورمعاملے میں دہلی ہائی کورٹ کے ایک نابالغ کی شادی کے پیش نظر دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے اسے ایک انتہائی اہم مسئلہ قرار دیاگیاتھا۔
بہار قانون ساز کونسل کے ضمنی انتخابات کا مکمل شیڈول جاری
پٹنہ 11جنوری(آئی این ایس انڈیا)
بہاراسمبلی الیکشن کے پٹنہ میں دوخالی آسامیوں کے انتخاب کامکمل شیڈول جاری کردیا گیا ہے۔ پیر 11 جنوری سے متعلقہ نشستوں کے لیے احکامات نافذ کردیئے گئے ہیں۔ بہار قانون ساز کونسل کے مذکورہ دونوں ضمنی انتخابات کے لیے ہندوستان کے الیکشن کمیشن نے پٹنہ کے ڈویژنل کمشنر سنجے کمار اگروال کو الیکشن آفیسر مقرر کیا ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ پٹنہ ڈویژن دھریندرجھا ، ایڈیشنل کلکٹر ریونیو پٹنہ راجیو سریواستو ، ڈائریکٹر بہار قانون ساز اسمبلی بھدیو رائے کو ان کے کام میں تعاون کے لیے اسسٹنٹ الیکٹورل آفیسر مقرر کیا گیا ہے۔بہار قانون ساز کونسل کی دو خالی آسامیوں کے لیے انتخابی افسر سہ ڈویژنل کمشنرپٹنہ سنجے کمار اگروال کے دفتر کمرے میں کاغذات نامزدگی داخل کیے جائیں گے۔امن وامان کے حوالے سے الیکشن آفیسرنے ضلعی مجسٹریٹ پٹنہ اور سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس پٹنہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ مجسٹریٹ ، پولیس افسران اور سیکیورٹی فورسزکی کافی تعداد میں تعینات کریں۔ اس کے علاوہ سی سی ٹی وی کیمروں اور ویڈیو گرافی کا بھی مناسب انتظام یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مختار انصاری پر یوپی اور پنجاب آمنے سامنے
لکھنو11جنوری(آئی این ایس انڈیا)
اترپردیش سے ایم ایل اے مختار انصاری پنجاب کی جیل میں ہیں۔ مختار کوپنجاب سے یوپی لانے کا معاملہ سپریم کورٹ میں ہے ، لیکن اس کے بارے میں ہنگامہ برپا ہوگیا ہے۔ یوپی اور پنجاب کی حکومتیں آمنے سامنے ہیں ، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بھی کانگریس کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ پنجاب کے وزیر جیل سکھجندر سنگھ رندھاوا نے کہاہے کہ پنجاب حکومت پر بلا وجہ مختار انصاری کو سیاسی پناہ دینے کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔انہوں نے اس الزام کو مستردکرتے ہوئے کہاہے کہ پنجاب حکومت وزارت داخلہ اور ریاستی حکومت کی عدالتوں کی ہدایت کے مطابق کام کرتی ہے۔ رندھاوا نے کہاہے کہ پورامعاملہ سپریم کورٹ میں ہے اور سپریم کورٹ کی طرف سے جو بھی ہدایات آئیں گی اس کی بنیاد پر ہی کارروائی کی جائے گی۔ کسی بھی طرح کا خصوصی سلوک نہیں دیا جارہا ہے اور قواعد و ضوابط کے مطابق وہ عام قیدی کی طرح جیل میں ہی رہا ہے۔یوپی کے اے ڈی جی لاء اینڈ آرڈر پرشانت کمار نے کہاہے کہ وہ مختار انصاری کو اترپردیش لانے میں ناکام رہے اورکہاہے کہ ہماری کوشش ہے کہ انہیں لائیں اور انہیں عدالت میں پیش کریں۔ انہیں پیش کرنے کے لیے بار بار عدالت سے ہدایات آرہی ہیں اور ان کی صحت کی بنیاد پر انہیں وہاں سے نہیں بھیجا جارہا ہے۔
کسان تحریک :سونیاگاندھی نے اپوزیشن لیڈروں سے بات کی
عدالت کی پھٹکارکے بعدمتحدہوکر حکومت کوگھیرنے کامنصوبہ
نئی دہلی11جنوری(آئی این ایس انڈیا)
تین نئے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے ساتھ ہم آہنگی نہ رکھنے پر سپریم کورٹ نے حکومت کی سرزنش کی تواپوزیشن متحرک ہوگیا۔ کانگریس پارٹی اب اس بحث میں شامل ہوگئی ہے کہ کسانوں کے معاملے پر پوری اپوزیشن کو ایک پلیٹ فارم پرلاکر حکومت پر دباؤ بڑھانے کا طریقہ نکالاجائے۔ پارٹی صدر سونیا گاندھی نے بھی اس کے لیے حزب اختلاف کے رہنماؤں سے بات کی ہے۔سونیا گاندھی نے کن رہنماؤں سے بات کی ہے اس کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں لیکن ذرائع کاکہناہے کہ انہوں نے گفتگومیں سب کو ایک پلیٹ فارم پر آنے کی اپیل کی ہے۔ کانگریس صدر نے اپوزیشن رہنماؤں کو ایک ساتھ آنے اور کسانوں کے معاملے پر مشترکہ لائحہ عمل بنانے کی تجویز دی۔ اگر ذرائع پر یقین کیا جائے تو پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس سے قبل حزب اختلاف کی میٹنگ بھی ہوگی ۔
بی جے پی کے پاس 21 ، جے ڈی یو میں 20 محکمے ہوں گے:آرسی پی سنگھ
پٹنہ 11جنوری(آئی این ایس انڈیا)
جے ڈی یوکے قومی صدر آر سی پی سنگھ نے واضح کیاہے کہ چاروں پارٹیوں کواہم محکمے مل چکے ہیں۔ کابینہ کے لیے کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بات پارٹی کے زیر اہتمام پریس کانفرنس میں کہی۔ اس پریس کانفرنس میں نئے ریاستی صدر امیش کشواہا ، قومی صدر آر سی پی سنگھ ، رکن پارلیمنٹ للن سنگھ اورسابق ریاستی صدر وششٹھ نارائن سنگھ بھی موجود تھے۔اس وقت جے ڈی یو میں 20 محکمے ہیں ، بی جے پی کے پاس 21 محکموں کی ذمہ داری ہے۔ ہم پاس دومحکمے ہیں اور وی آئی پی کے پاس ایک شعبہ ہے۔ اس معاملے میں 50-50 فارمولہ فٹ نہیں آتا ہے۔ جو محکموں کو تقسیم کیا گیا ہے اس کے مطابق کابینہ میں توسیع کی جائے گی۔ یعنی جن لوگوں کے پاس زیادہ محکمے ہیں وہ وزیر بن سکتے ہیں۔جے ڈی یو کی بات کریں تووزیراعلیٰ نتیش کمار کے پاس پانچ محکمے ہیں۔ وزیراعلیٰ کے پاس محکمہ داخلہ ، جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ ، کابینہ سیکرٹریٹ ، مانیٹرنگ اورالیکشن ڈیپارٹمنٹ ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر ترکیشور پرساد کے پاس محکمہ خزانہ ، کامرس ٹیکس ڈیپارٹمنٹ ، ماحولیات جنگل وماحولیاتی تبدیلی ، انفارمیشن ٹکنالوجی ڈیپارٹمنٹ ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور سٹی ڈویلپمنٹ اینڈ ہاؤسنگ ڈیپارٹمنٹ کی ذمہ داری ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر رینو دیوی کے پاس پنچایتی راج ، پسماندہ طبقات اور پسماندہ طبقات کی بہبود اور صنعت محکمہ ہے۔ ابھی چیف منسٹر کو چھوڑکرجے ڈی یوکے پاس پانچ وزرا ہیں جن کے پاس بہت سے محکموں کی ذمہ داری ہے۔
چاندنی چوک مندرکاکیس سپریم کورٹ پہنچا
نئی دہلی11جنوری(آئی این ایس انڈیا)
چاندنی چوک کے ہنومان مندرکاکیس سپریم کورٹ پہونچاہے ۔ اس سلسلے میں دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست میں کہاگیاہے کہ سپریم کورٹ دہلی حکومت اور شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن کو حکم دے کہ وہ اسی جگہ پرہنومان مندر کو دوبارہ تعمیر کرے۔ اس کے ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ جب تک دہلی حکومت اور شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن اسی جگہ پر ہنومان مندر کودوبارہ نہیں بناتے ہیں تب تک چاندنی چوک کی جدیدکاری کا کام نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ عرضی جیتندر سنگھ وشین نے ایڈووکیٹ وشنو شنکر جین کے توسط سے دائرکی ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ دہلی ہائی کورٹ نے اس معاملے میں مندر مینجمنٹ یا عقیدت مندوں یا عام لوگوں کی رائے کے بغیر فیصلہ دیا ، جس کے بعد اس مندر کو 3 جنوری 2021 کو ہٹا دیا گیا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ مندرکو ہٹانے کا کام قانون کے مطابق طریقہ کار پر عمل کیے بغیرکیاگیاجس سے عقیدت مندوں کے پوجاکے حق کو پامال کیا گیا۔ یہ مندر چاندنی چوک پر پانچ دہائیوں سے ہے اوریہاں بڑی تعداد میں عقیدت مند پوجاکے لیے آتے ہیں لیکن یہاں کبھی بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔
بی جے پی کی وجہ سے ملک قلت تغذیہ کی طرف گامزن
ممتا بنرجی نے کہا،کرپٹ لیڈروں کوشامل کرکے بی جے پی واشنگ مشین بن رہی ہے
کولکاتہ 11جنوری(آئی این ایس انڈیا)
مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے پیر کے روزکہاہے کہ ملک غذائی بحران کی طرف گامزن ہے۔ ممتابنرجی نے کہاہے کہ دوسری سیاسی پارٹیوں کے ’بیکار‘ رہنماؤں کے شامل ہونے سے بی جے پی ’ردی‘ پارٹی بن رہی ہے۔انہوں نے کہاہے کہ ملک خوراک کے بحران کی طرف گامزن ہے۔ اگربی جے پی زرعی قوانین پر قائم ہے تو ہمارے ملک میں اناج کی قلت ہوگی۔کسان ہمارے ملک کامرکزہیں اورہمیں کچھ نہیں کرنا چاہیے جو ان کے مفادات کے منافی ہو۔ترنمول کانگریس کی صدر نے بھی تینوں زرعی قوانین کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ دہلی کی سرحدوں پر احتجاج کرنے والے کسانوں کا یہی مطالبہ ہے۔ انہوں نے نادیہ ضلع کے راناگھاٹ میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ بی جے پی ملک کی سب سے بڑی ردی پارٹی ہے۔یہ ایک کوڑے دان جماعت ہے جو خود کو دوسری پارٹیوں کے کرپٹ اور بیکار رہنماؤں سے بھر رہی ہے۔ممتا بنرجی نے کہاہے کہ آپ نے کچھ (ترنمول) لیڈروں کو بی جے پی جاتے ہوئے دیکھا ہوگا۔ اس نے یہ لوٹا ہوا لوگوں کا پیسہ بچانے کے لیے کیا۔ بی جے پی پارٹی کو واشنگ مشین کی طرح چلاتی ہے ، جہاں کرپٹ رہنما شامل ہوتے ہی سنت بن جاتے ہیں۔انہوں نے حال ہی میں امریکی پارلیمنٹ ہاؤس کیپیٹل ہل میں تشدد پرکہاہے کہ جس دن بی جے پی انتخابات ہارجائے گی ، اس کے کارکن اور حامی بھی اسی طرح کا سلوک کریں گے۔
مختار انصاری کو یوپی لانے کا معاملہ
سپریم کورٹ نے حکومت پنجاب سے جواب طلب کیا
نئی دہلی11جنوری(آئی این ایس انڈیا)
سپریم کورٹ نے قتل ، گینگسٹر ایکٹ وغیرہ سے متعلق 10 مقدمات میں یوپی کے سامنے پیش ہونے کے لیے انصاری کی تحویل پر جواب داخل کرنے کے لیے پنجاب حکومت سے جواب طلب کیاہے اوردو ہفتوں کا وقت دیا ہے۔ یوپی حکومت کامؤقف ہے کہ یوپی میں انصاری کے خلاف سنگین الزامات زیر التوا ہیں۔یوپی حکومت نے کہاہے کہ یا تو انصاری کومقدمے کا سامنا کرنے کے لیے یوپی منتقل کیا جانا چاہیے ، یا اگر چارج شیٹ دائر کی گئی ہے تو پنجاب کیس یوپی میں منتقل کیاجائے۔ یوپی نے الزام لگایاہے کہ ابھی تک پنجاب میں کوئی چارج شیٹ داخل نہیں کی گئی ہے۔ انصاری وفاقی ڈھانچے کے ساتھ کھیلنے اورسی آر پی سی کی دفعات کا غلط استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پنجاب کو بھی انصاری کی طبی حالت کاجواب دینا ہوگا۔سپریم کورٹ نے روپر جیل سپرنٹنڈنٹ کو نوٹس جاری کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے 18 دسمبر کو یوپی حکومت کی اپیل پر نوٹس جاری کیا تھا۔پنجاب پولیس کا مؤقف تھا کہ مختار انصاری کی میڈیکل رپورٹ کی بنیاد پر ، انہیں اترپردیش نہیں بھیجا جاسکتا ہے۔ بیماری کی وجہ سے بی ایس پی کے ایم ایل اے مختار انصاری کا طویل سفر کرنا ممکن نہیں ہے۔
ہندو مہاسبھا نے ’گوڈسے ریسرچ سنٹر‘‘کا آغاز کیا
گوالیار11جنوری(آئی این ایس انڈیا)
ہندو مہاسبھا نے مہاتماگاندھی کے قاتل ناتھورام گوڈسے پر ایک مطالعہ مرکزکھولاہے ۔ہندومہاسبھا کی زبان میں یہ ایک مطالعہ مرکز یا علمی مرکز ہے۔ اسے گوالیار میں کھول دیا گیا ہے۔ اس مطالعاتی مرکز میں ہندو مہاسبھا لوگوں کو ناتھورام گوڈسے کی مبینہ حب الوطنی کی کہانیاں سنائے گا۔دولت گنج میں ہندو مہاسبھا کے دفتر میں ہندو مہاسبھا نے گوڈسے ورکشاپ کا آغازکیا ہے۔ پہلے دن یہاں ، ہندو مہاسبھا عہدیداروں نے ساورکر ، رانی لکشمی بائی اور سنگھ کے دیگر عہدیداروں سمیت گوڈسے کی تصویر کی پوجا کی اوراسے خراج عقیدت پیش کیا۔ہندو مہاسبھا آج بھی یہاں ہر سال گوڈسے کی برسی اور سالگرہ مناتی ہے۔ اب اس نے گوڈسے گیان شالہ کاآغازکیاہے۔ہندو مہا سبھا کے ڈاکٹر جیویر نے بتایاہے کہ نوجوان نسل کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ تمام محب وطن قوم کو بچانے کے لیے کس طرح انھوں نے قربانی دی ہے۔ اس درمیان ہندو مہاسبھا گوڈسے کی سوانح حیات سے متعلق لوگوں کو بتائے گی۔ہندو مہاسبھا ملک کی تقسیم کی تاریخ بھی بتائے گی اور لوگوں کو اس سے آگاہ کرے گی۔ ہندو مہاسبھاکے مطابق یہ لوگوں کوساورکر ، رانی لکشمی بائی اور رانا پرتاپ کے نقش قدم پر چلنے کی ترغیب دے گی۔30 جنوری 1948کوناتھورام گوڈسے نے دہلی میں مہاتما گاندھی کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔
سرکارفوراََزرعی قوانین منسوخ کرے،کورٹ کے بیان کے بعدکانگریس حملہ آور
نئی دہلی11جنوری(آئی این ایس انڈیا)
زرعی قوانین سے متعلق جاری مذاکرات پر سپریم کورٹ کے مایوسی کا اظہار کرنے کے بعد کانگریس نے پیرکوکہاہے کہ تینوں قوانین منسوخ کرنے کی ضرورت ہے۔ پارٹی کے چیف ترجمان رندیپ سورجے والا نے ٹویٹ کیا ہے کہ سپریم کورٹ سیاسی امور کا فیصلہ نہیںکرتا ہے ، سرمایہ داروں کی دہلیز پر کاشتکاری فروخت کرنے کی سیاسی سازش ہورہی ہے ۔انہوں نے کہاہے کہ تین زرعی قوانین میں ایم ایس پی اور غلہ دانوں کو ختم کرنا ہے ، تاکہ کسان کو اپنے کھیت میں غلام بنایا جائے۔ لہٰذا اس قانون کومنسوخ کرنا ہوگا۔سپریم کورٹ نے پیر کوکہاہے کہ نئے زرعی قوانین کے بارے میں مرکز اور کسانوں کے مابین جس طرح سے بات چیت ہو رہی ہے اس سے وہ انتہائی مایوس ہے۔
ہر گاؤں سے 5 ٹریکٹر نکلیں گے ،کسانوں نے پھراحتجاج تیزکرنے کی وارننگ دی
نئی دہلی 11جنوری(آئی این ایس انڈیا)
آٹھ مذاکرات ہونے کے باوجودکوئی ٹھوس نتائج نہیں نکلے ہیں۔ اب میٹنگ کا اگلا دور 15 جنوری کو ہونا ہے۔ 26 جنوری کوکسانوں نے دہلی اور ملک کے دیگر حصوں میں ٹریکٹر پریڈ نکال کر احتجاج تیز کرنے کا انتباہ دیا ہے۔ دریں اثنا متحدہ کسان مورچہ نے پریس کانفرنس میں کہاہے کہ کمیٹی ہر گھر تک پہنچنے کے لیے لوگوں سے رابطہ کرے گی اور 26 جنوری کی تحریک کی اپیل کرے گی۔کسان مورچہ نے کہاہے کہ ہماری کمیٹی ہریانہ کے ایم ایل اے سے ملاقات کرے گی اور ان سے استعفیٰ کامطالبہ کرے گی۔کسان رہنماؤں نے کہاہے کہ ہم کل کے پروگرام کی مذمت کرتے ہیں ، ہمارے کسان بھائیوں پرجومقدمات عائد کیے گئے ہیں وہ جھوٹے ہیں۔ انہوں نے کہاہے کہ 23 جنوری کو کسان نیتا جی سبھاش چندر بوس کے یوم پیدائش کے موقع پر دہلی روانہ ہوں گے۔ ہر گاؤں سے 5 ٹریکٹر آئیں گے۔
ضلع مدھوبنی کے بسیٹھا گاؤں میں آتش زدگان کوامارت شرعیہ کی جانب سے مالی مدد
مدھوبنی11جنوری(آئی این ایس انڈیا)
۱۹؍ دسمبر ۲۰۲۰ روز سنیچر کی شب ضلع مدھوبنی کے بینی پٹی میں واقع بسیٹھا بستی کے چند غریب خاندانوں کے لیے بڑی تکلیف دہ رات ثابت ہوئی ،سخت سردی کے عالم میں جب پورا گاؤں سو رہا تھا اچانک کچھ گھروں سے آگ کے شعلے بلند ہو نے لگے اور دیکھتے دیکھتے پھوس کے وہ کچے مکان دھو دھو کر کے جل اٹھے ،تھوڑی ہی دیر میں سب کچھ جل کر خاکستر ہوگیا، ان مکانوں کے غریب مکین کسی طرح اپنی جان بچا کر بھاگے ، لیکن کوئی اثاثہ نہ بچا پائے، یہ سب مزدور طبقے کے لوگ تھے ،پائی پائی جوڑ کر یہ اثاثے جمع کیے تھے، جو ان کی آنکھوں کے سامنے آگ کی نذر ہو گئے، ایک گھر میں بیٹی کی شادی کے لیے برسوںمیں کچھ سامان جوڑے گئے تھے ، وہ سب بھی جل گئے۔ایسے میں ان کی نگاہیں امارت شرعیہ کی طرف اٹھیں ۔امارت شرعیہ جو ہر مصیبت میں مظلوموں اور پریشان حال لوگوں کی پشت پر کھڑی رہتی ہے ،چاہے سماوی آفات ہو یا زمینی بلاء لوگوں کو بلا تفریق مذہب و ملت راحت پہونچانے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہے،بسیٹھا بستی کے ان ستم رسیدہ خاندانوں تک بھی امارت شرعیہ کے نمائندگان، بینی پٹی بلاک کی تنظیم امارت شرعیہ کے صدر، سکریٹری اور دیگر ذمہ داران بروقت پہونچے، انہیں تسلی دی، اور فوری طور پر ان کی راحت رسانی کا نظم کیا، ساتھ ہی مرکزی دفتر میں بھی اس واقعہ کی خبر کی ۔ قائم مقام ناظم جناب مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب نے واقعہ کی تفصیل حضرت امیر شریعت مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی مدظلہ العالی کی خدمت میں پیش کی ، حضرت امیر شریعت دامت برکاتہم نے ان تمام متاثرین کی درخواستوں کو منظور فرمایا اور ہر متاثر کو بیت المال امارت شرعیہ سے دس دس ہزار روپئے دینے کا حکم فرمایا، چنانچہ دفتر امارت شرعیہ سے ان متاثرین کے نام دس دس ہزار روپئے کا چیک جاری کیا گیا اور مؤرخہ۱۱؍ جنوری۲۰۲۱ء کو امارت شرعیہ کے وفد نے متاثرین سے ملاقات کرکے چیک ان کے حوالے کیا۔امارت شرعیہ کے اس بروقت اقدام سے جہاں متاثرین کو راحت ملی وہیں، علاقہ کے لوگوں پر بہت اچھا اثر پڑا ،اور انہوں نے حضرت امیر شریعت ،اور قائم مقام ناظم صاحب کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر مولانا شاہد قاسمی سکریٹری تنظیم امارت شرعیہ بینی پٹی بلاک، جناب پرویز صاحب صدر تنظیم امار ت شرعیہ بینی پٹی بلاک، جناب قاری مبین صاحب نائب صدر بینی پٹی بلاک، مولانا افروز قاسمی صدر بسیٹھا پنچایت، مفتی حسن الرحمن ندوی صاحب سکریٹری بسیٹھا پنچایت ، مولانا ممتاز صاحب امام بسیٹھا مسجد ، جناب عبد المالک صاحب نقیب رانی پور اور دیگر افراد موجود رہے ۔
لائبریری وانفارمیشن سائنس شعبہ کے زیر اہتمام ویب ٹاک کا اہتمام
علی گڑھ11جنوری(آئی این ایس انڈیا)
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے لائبریری و انفارمیشن سائنس شعبہ کے زیر اہتمام ’اوپن سائنس‘ میں لائبریریوں کے کردار کے موضوع پر ایک ویب ٹاک کا انعقاد کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جے کے وجے کمار (یونیورسٹی لائبریری ڈائرکٹر، کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹکنالوجی، سعودی عرب)نے کہا کہ اوپن سائنس کا تصور قدرے نیا ہے جس میں اوپن سورس، اوپن ڈاٹا، اوپن نوٹ بک، اوپن پیئر رویو، اوپن ایجوکیشنل ریسورس، سائنٹفک سوشل نیٹ ورک وغیرہ شامل ہیں۔ڈاکٹر وجے کمارنے کہاکہ علمی ترسیل و ابلاغ اور اشاعتوں کو فروغ دینے کی خاطر تعلیمی و تحقیقی اداروں کے لئے اقوام متحدہ اوپن سائنس کو ایک پالیسی کے طور پر اپنانے کا ارادہ رکھتا ہے اور مستقبل قریب میں لائبریریوں کو انسٹی ٹیوشنل پروفائلنگ، سائٹیشن پروفائلنگ سمیت اوپن سائنس کے دیگر پہلوؤں پر کام کرنا ہوگا۔ ریسرچ اور ڈیولپمنٹ کی سرگرمیوں کے لئے اسے ایک تحریک کے طور پر اپنایا جائے گا۔صدر شعبہ ڈاکٹر ایم معصوم رضا نے استقبالیہ خطبہ پیش کیا جب کہ ڈاکٹر مزمل مشتاق نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔
ڈِس ایبلٹی یونٹ میں تقرری
علی گڑھ11جنوری(آئی این ایس انڈیا)
ڈاکٹر شگفتہ نیاز (اسسٹنٹ پروفیسر، ویمنس کالج، اے ایم یو) اور ڈاکٹر وسیم رضا خان (پی جی ٹی، اے ایم یو گرلس اسکول) کو ان کی معمول کی ذمہ داریوں کے ساتھ آئندہ ایک برس کے لئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ڈسِ ایبلٹی یونٹ میں اعزازی کاؤنسلر؍ پلیسمنٹ آفیسر مقرر کیا گیا ہے۔
نتین گڈکری کل اختراعی، ماحول دوست، غیر ضرررساں ، وال پینٹ کا افتتاح کریں گے
نئی دہلی11جنوری(آئی این ایس انڈیا)
سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں نیز ایم ایس ایم ای کے وزیر مملکت نتن گڈکری کھادی اور گرام ادیوگ کمیشن کے ذریعے تیار کردہ ایک اختراعی نئے پینٹ کا بروزمنگل 12جنوری کو اپنی رہائش گاہ پر اجرا کریں گے۔ ماحول دوست ، غیر ضرررساں پینٹ جسے ’’ کھادی پراکرتک پینٹ‘‘ کہتے ہیں، اپنی طرز کی پہلی پروڈکٹ ہے، جو پھپھوندی کْش، جراثیم کْش خصوصیات رکھتا ہے۔ اس کے اصل اجزا ء گائے کے گوبر پر مبنی ہیں اور یہ پینٹ کم لاگت اور بنا خوشبو والا ہے۔ نیز ہندوستانی معیارات کی بیورویعنی آئی ایس آئی نے اس کی توثیق کر دی ہے۔کھادی پراکرتک پینٹ دو شکلوں میں دستیاب ہے- ڈِسٹمبر پینٹ اور پلاسٹک ایملشن پینٹ۔کھادی پراکرتک پینٹ کی پیداوار وزیراعظم کے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے کے ویڑن سے مطابقت رکھتی ہے۔ اس پروجیکٹ کا تصوراتی کھاکہ کھادی گرام ادیوگ کمیشن کے چیئرمین نے مارچ 2020 میں تیار کیاتھا اور بعد میں اسے کماراپّا قومی ہینڈ میڈ پیپر انسٹی ٹیوٹ، جے پور(کھادی گرام ادیوگ کمیشن کی ایک اکائی)نے تیار کیا۔اس پینٹ میں سیسہ، پارہ، کرامیئم، سنکھیا ، جست اور دیگر دھاتو جیسے بھاری دھاتیں نہیں ہیں۔ ایک مقامی مینوفیکچرنگ کے لئے ایک پیش رفت ہوگا اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ذریعے پائیدار مقامی روزگار کے مواقع پیدا کرے گا۔ یہ ٹیکنالوجی ماحول دوست مصنوعات کے لئے خام مال کے طور پر گائے کے گوبر کی کھپت میں اضافہ کرے گی اور کسانوں نیز گؤشالاؤں کو اضافی محصول کی راہ ہموار کرے گی۔ تخمیناً یہ ایک جانور سے سالانہ 30000 روپے(اوسطاً) کی اضافی آمدنی، کسانوں نیز گؤشالاؤں کے لئے فراہم کرے گی۔ گائے کے گوبر کے استعمال سے ماحول بھی صاف ہوگا اور پانی کی نکاسی کی لائنیں بھی بند نہیں ہوں گی۔
مودی نے مہاراشٹر آگ زنی پردو لاکھ روپئے فی کس مالی امدادمنظور کی
نئی دہلی11جنوری(آئی این ایس انڈیا)
وزیراعظم نریندر مودی نے مہاراشٹر کے بھاندرا کے ایک اسپتال میں ہوئی بھیانک آتشزدگی میں مرنے والوں کے قریبی ورثاکے لیے وزیراعظم قومی امدادی فنڈ سے دو لاکھ روپئے فی کس مالی امداد کو منظوری دی۔ شدید زخمی ہونے والوں کے لیے انہوں نے 50000 روپئے کی مالی امداد کا اعلان کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں