کرونا وائرس اور احوالِ عالم :

افغان امن مذاکرات کا دوسرا دور، امریکہ ٹھوس پیش رفت کا خواہش مند
دوحہ، 5جنوری ( آئی این ایس انڈیا )
افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان بین الافغان مذاکرات کا دوسرا دور منگل کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں شروع ہو رہا ہے۔ امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ امن بات چیت کے اس دور کے دوران افغانستان میں قیام امن کی طرف ٹھوس پیش رفت ہو گی۔دوحہ میں بین الافغان مذاکرات کا دوسرا دور ایسے وقت شروع ہو رہا ہے جب افغانستان میں تشدد کے واقعات میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور اس پر بین الاقوامی برداری اور افغان حکومت نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔افغانستان میں حالیہ تشدد کے واقعات میں کئی صحافی اور عام شہری بھی نشانہ بن چکے ہیں جب کہ افغان حکومت مسلسل تشدد میں فوری کمی اور جنگ بندی پر زور دی رہی ہے۔زلمے خلیل زاد نے پیر کو دوحہ پہنچنے کے بعد اپنی متعدد ٹوئٹس میں فریقین پر زور دیا کہ وہ افغان عوام کے مفاد میں لچک کا مظاہرہ کریں اور جتنا جلد ممکن ہو بات چیت کے ذریعے افغانستان کے سیاسی مستقبل سے متعلق معاہدہ، تشدد میں فوری کمی اور جنگ بندی پر اتفاق کریں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں تشدد کی موجودہ سطح بشمول ہدف بنا کر ہلاک کرنے کے واقعات ناقابلِ قبول ہیں۔ خلیل زاد کے بقول جو تشدد کو جاری رکھنا چاہتے ہیں وہ امن عمل اور افغانستان کے مستقبل کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔دوسری جانب افغانستان کی اعلیٰ کونسل برائے مفاہمت کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے بھی ایک ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ افغان حکومت کی مذاکراتی ٹیم پانچ جنوری کو شروع ہونے والے امن مذاکرات کے دوسرے دور میں شریک ہو گی۔ اْن کے بقول اس مذاکرتی ٹیم کو افغان حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہے اور امن ایجنڈا طے کرنے کا پورا اختیار حاصل ہے۔قبل ازیں افغان صدر اشرف غنی نے حکومتی مذکراتی ٹیم کو افغان حکومت کی مکمل حمایت کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس بات کی توقع کرتے ہیں کہ افغان حکومت کی مذاکراتی ٹیم آئین اور عوام کی خواہشات پر قائم رہتے ہوئے بین الافغان مذاکرات کو جاری رکھے گی۔صدر کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق صدر غنی نے یہ بات اتوار کو کابل میں حکومت کی مذاکراتی ٹیم سے ملاقات کے دوران کہی۔یاد رہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان ستمبر میں شروع ہونے والے مذاکرات کا پہلا مرحلہ کئی ہفتوں تک جاری رہا تھا جس میں فریقین نے بات چیت کا ایجنڈا طے کرنے اور مذاکرات کے قواعد و ضوابط پر اتفاق کیا تھا۔ایک وقفے کے بعد فریقین ایک مرتبہ پھر دوحہ میں مذاکرات کریں گے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ بین الافغان مذاکرات کا دوسرا مرحلہ پیچیدہ اور مشکل ہو گا۔ ایک طرف افغان حکومت کی ترجیح ملک میں تشدد میں کمی اور جنگ بندی ہے لیکن دوسری طرف طالبان افغانستان کے سیاسی مستقبل سے متعلق اپنے موقف پر اصرار کریں گے۔
کرونا وائرس اور احوالِ عالم :
برطانیہ میں لاک ڈاؤن نافذ، میکسیکو میں ویکسین کی منظوری
لندن 5جنوری ( آئی این ایس انڈیا )
برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ فروری کے وسط تک گھروں تک ہی محدود رہیں۔ برطانیہ میں صحت کے شعبے سے وابستہ افراد اور بزرگوں کو ویکسین لگانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔امریکہ کے نومنتخب صدر جو بائیڈن کی حلف برداری کی تقریب کے منتظمین نے اعلان کیا ہے کہ حلف برداری کے روز امریکہ بھر میں پریڈز منعقد کی جائیں گی جن میں ہجوم پر پابندی ہو گی اور یہ آن لائن ٹیلی کاسٹ کی جائیں گی۔ بیس جنوری کی حلف برداری کے دوران منتخب صدر جو بائیڈن اپنی اہلیہ جل بائیڈن اور منتخب نائب صدر کاملا ہیرس اور ان کے شوہر ڈگ ایم ہاف سماجی دوری کا خیال رکھتے ہوئے ملٹری پریڈ کا معائنہ کریں گے۔بائیڈن کو واشنگٹن ڈی سی کی 15ویں اسٹریٹ سے صدارتی دستہ وائٹ ہاؤس تک لے جائے گا، جس میں فوج کی ہر شاخ کے نمائندے شرکت کریں گے۔حلف برداری تقریب کے منتظمین کے مطابق یہ تقریب بھی سماجی دوری کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے منعقد ہو گی۔واشنگٹن میں قائم پاکستانی سفارت خانے میں کرونا وائرس کا ایک ممکنہ مریض سامنے آنے کے بعد اسے تین روز کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔سفارت خانے کے جاری کردہ ایک نوٹی فکیشن کے مطابق چار سے چھ جنوری تک سفارت خانے میں قونصلر آفس کی خدمات سمیت تمام سرگرمیاں معطل رہیں گی۔ تاہم اس دوران ویزہ کے اجرا اور پاسپورٹ کی تجدید کی آن لائن خدمات بدستور جاری رہیں گی۔نوٹی فکیشن کے مطابق سفارت خانے کی بندش کے دوران پوری عمارت میں جراثیم کش اسپرے کیا جائے گا اور تمام عملے کے کرونا ٹیسٹ لیے جائیں گے۔ جس کے بعد ہی سفارت خانے میں سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا جا سکے گا۔ نوٹی فکیشن کے مطابق اس دوران ویزہ اور پاسپورٹ کی تجدید کے لیے کی گئی ای میل کے جواب بھی دیے جائیں گے اور ضروری اقدامات بھی کیے جائیں گے۔میکسیکو نے دوا ساز کمپنی ایسٹرا زینیکا اور یونیورسٹی آف آکسفورڈ کی مشترکہ طور پر تیار کردہ کرونا وائرس ویکسین کو ملک میں ہنگامی طور پر استعمال کی اجازت دے دی ہے۔میکسیکو کرونا وائرس سے بدترین متاثرہ ممالک میں سے ایک ہے جہاں وبائی مرض سے بڑے پیمانے پر اموات ہو چکی ہیں۔نائب وزیرِ صحت ہیوگو لوپیز گیٹیل نے ٹوئٹر پر جاری ایک اعلان میں کہا ہے کہ میکسیکو کی دوا ساز کمپنیوں کے نگراں ادارے نے ایسٹرا زینیکا اور آکسفورڈ کی تیار کردہ ویکسین کی منظوری دی ہے اور یہ ویکسین ممکنہ طور پر مارچ میں دستیاب ہو گی۔اس ویکسین کے استعمال کی اجازت میکسیکو سے قبل برطانیہ، بھارت اور ارجنٹائن کی حکومتیں بھی
دے چکی ہیں۔میکسیکو میں 24 دسمبر کو فائزر اور بائیو این ٹیک ویکسین کی مہم شروع کی گئی تھی جس کے تحت پہلے مرحلے میں طبی کارکنوں کو ویکسین لگائی گئی تھی۔ اب تک مجموعی طور پر 30 ہزار کارکنوں کو یہ ویکسین دی جا چکی ہے۔میکسیکو نے ایسٹرا زینیکا کے ساتھ ویکسین کی سات کروڑ 74 لاکھ خوراکیں خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔ حکومت نے تقریباً 12 کروڑ 90 لاکھ افراد کو یہ ویکسین مفت فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں