نیا سال : لیکن وہی پرانا سوال

نیا سال : لیکن وہی پرانا سوال
تکلف برطرف : سعید حمید

ملت کا انتشار کب ختم ہوگا ؟
ملت کا اتحاد کب قائم ہوگا ؟
بے شمار خداؤں کی عبادت کرنے والے متحد ہوگئے ،
اور بھارت کے اقتدار پر قبضہ کرلیا ،
کیسے ؟
جہاں انہوں نے ہندو توا ( یعنی مسلمانوں ، عیسائیوں سے نفرت )
کے نام پر اپنا ووٹ بنک متحد کیا ،
وہیں مسلمانوں کو مسلک ، فرقہ کے نام پر اور فرقہ جاتی اختلافات
کی بنیاد پر منتشر کردیا ۔
اس حکمت عملی کا انکشاف ڈکٹر سبرامنیم سوامی نے کیا ،
جن کا ویڈیو انٹریو آج بھی سوشل میڈیا میں موجود ہے ۔
نیا سال شروع ہوچکا ہے ۔
اب ہندوتوا بریگیڈ کی نظریں مغربی بنگال پر ہیں ۔
پھر آسام ، اتر پردیش وغیرہ ۔
مہاراشٹر میں بھی ممبئی ، تھانے ، بھیونڈی سمیت کئی میونسپل
کارپوریشن کے الیکشن قریب آتے جا رہے ہیں۔
وہ پھر ہندوتوا کے نام پر مسلم دشمنی کا زہر پھیلائیں گے ،
ہندو ووٹ بنک مضبوط کریں گے ،
اور پنے ایجنٹوں کے ذریعہ مسلمانوںمیں مسلکی و دیگر اختلافات
کو ہوا دیں گے ، تاکہ مسلم ووٹ بنک بھی
منتشر ہی رہے ، مضبوط نہیں ہوسکے ۔
نیا سال آچکا ہے ۔
لیکن یہ پرانا مسئلہ آج بھی برقرار ہے ۔
جب تک ، اس مسئلہ کو حل نہیں کیا جائے گا ،
جو سیدھے سیدھے مسلم امپاورمنٹ پر اثر انداز ہوتا ہے ،
بھارت کی سیاست میں مسلمانوں کی سیاسی بے بسی ،
سیاسی بے اثری کا سلسلہ بھی جاری رہے گا ۔
ا سکے خطرناک نتائج ؟
پہلے ہم نے گجرات میں دیکھا ، فرقہ وارانہ فسادات کی شکل میں۔
پھر آسام میں دیکھا ، سی اے اے ، قانوں کی شکل میں ۔
پھر یوپی میں دیکھا ، دہلی میں دیکھا ۔
شاہین باغ ایجی ٹیشن اور اس کے قائدین کے خلاف
سخت پولس کارروائیوں کی شکل میں ۔
اور آج لو جہاد مخالف قانون کے نام سے دیکھ رہے ہیں :
یوپی ، مدھیہ پردیش اور دیگر ریاستوں میں !!!
یہ سب کیا ہے ؟
مسلک و فرقہ کے نام پر ہمارے آپسی اختلافات
و انتشار کا مضر سیاسی انجام !!!
بھارت کے مسلمانوں کا یہ سیاسی زوال ، بذریعہ آپسی انتشار
برسہا برس میں آیا ہے ، اچانک نہیں !!!
لیکن ،
مسلم قیادت نے اس کی روک تھام کیلئے کچھ ٹھوس قدم نہیں اٹھائے ۔
سچر کمیٹی رپورٹ ایک وارننگ تھی ،
لیکن ہماری آنکھیں نہیں کھلیں ۔
ہم آپسی انتشار کو اور بھی ہوا دیتے رہے ۔
حد تو یہ ہے کہ ہم جو ایک اللہ ، ایک رسول ﷺ ، ایک کلمہ ،
ایک قرآن کی بات کرتے ہیں ،
ایک عید ، ایک چاند ، ایک ساتھ ماہ رمضان
پر بھی اتفاق نہیں کرسکے ۔
متعدد چاند کمیٹیاں ، چاند کے متعلق مختلف اعلانات ،
الگ الگ عیدیں !!
یہ سب ہمارے آپسی انتشار کی علامتیں ہیں ،
ان کو ختم کرنے اور اتفاق و اتحاد کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ۔
اسلئے ، ان کا اثر بھارت کے مسلمانوں
کی ہمہ جہت زندگی پر پڑا جس میں سیاست اور
انتخابی عمل بھی شامل ہے ۔
ایک جانب ہم دیکھ رہے ہیں ، کہ دیگر اقوام نے مذہبی
مواقع اور تیوہاروں کو اپنی قوم میں اتحاد
پیدا کرنے کیلئے استعمال کیا ۔
لوکمانیہ تلک نے ساروجنک گنیش اتسو اور شیوجینتی
کے تہواروں کا استعمال ہندو عوام کو متحد کرنے کیلئے کیا ۔
ہندو دھرم ہزاروں برس پرانا ہے ،
لیکن ،
ساروجنک گنیش اتسو کی عمر بمشکل 130 برس ہے ۔
شیو جینتی کا تہوار بھی چھترپتی شیواجی مہاراج کی پیدائش
کے تقریباً تین سو سال بعد شروع کیا گیا ۔
آج ان تہواروں اور ہولی ، نوراتری ، درگا پوجا
وغیرہ جیسے تہواروں نے برادران وطن کیلئے جو
مضبوط ، منظم ، متحد ، سماجی ڈھانچہ کھڑا کردیا ،
اس کا جمہوریت ، انتخابی عمل اور سیاست میں بھی فائدہ
اٹھایا جا رہا ہے ۔
اسی لئے ، گنیش اتسو ، نوراتری جیسے تہواروں
کی کفالت SPONSORSHIP )) کیلئے
بڑے بڑے سیاست داں سرپٹ دوڑتے نظر آتے ہیں ۔
اس کے برعکس ہمارا معاملہ ہے ؛
محرم ، عید میلادالنبی ﷺ ، یہاں تک کہ عید پر بھی
ہم مسلک ، فرقہ اور دنیا بھر کے اختلافات کا شکار بن جاتے ہیں ۔
ہم اپنے تہواروں کے ذریعہ بھی آپسی انتشار کوفورغ دیتے نظر
آتے ہیں ۔
اس لئے ہمارے یہاں ایک ایسا سماجی ، جمہوری و انتخابی ڈھانچہ
پیدا ہوگیا ہے ، جو مسلم امت کو خانوں خانوں میں تقسیم کئے رکھتا ہے !!
اسلئے ،
جب الیکشن آتا ہے تو مسلمانوں سے بھی
ایک امت کے طور پر نہیں ، منتشر قوم کی طرح ٹکڑوں ، ٹکڑوں ،
یا قسطوں ، قسطوں یا حصوں حصوں میں بات کی جاتی ہے ۔
بھارت کی آبادی میں یوں تو مسلمانوں کا تناسب
14.5 % ہے ،
لیکن ہمارے انتشار کی بدولت فلاں طبقہ 2 % ،
فلاں 4 % ، فلاں 3 فیصد ، وغیرہ وغیرہ
اچھا خاصا ووٹ بنک بکھر جاتا ہے ۔
یاد رہے ، جمہوریت میں تعداد دیکھی جاتی ہے ،
اسلئے ،
وہ قوم جو اپنی تعداد کو مختصر ہونے ، بکھرنے سے
بچا سکتی ہے ، اس کا ہی سیاست میں اثر اور وزن رہتا ہے ۔
بھارت کے مسلمانوں کی سیاسی بے اثری
اور سیاسی بے بسی کا ایک بڑا سبب یہ ہیکہ انہوں اپنے آپ
کو بحیثیت ایک قوم ، بکھرنے سے نہیں بچایا ۔
اس لئے ،
وہ مسلم ووٹ بنک ، جسے ایک زمانہ میں طاقت کا توازن
سمجھا جاتا تھا ، بکھر کر ختم ہو گیا ۔
مسلم ووٹ بنک اپنے انتخابی کردار میں ناکام ہو گیا ،
اس لئے بھارت کی سیاست میں مسلمان صفر ہو کر رہ گئے ہیں۔
نیا سال شروع ہو چکا ہے ،
کئی اہم الیکشن آنے والے ہیں ،
وہی پرانا سوال مسلمانوں کیلئے سنگین مسئلہ ہے ،
ملت کا انتشار کب ختم ہو گا ؟
اس کا ہے کوئی جواب یا پھر
یوپی کی راہ پر چل پڑے گا بقیہ بھارت بھی ؟

اپنا تبصرہ بھیجیں