ایران کے ایٹمی ہتھیاروں سے کھلبلی؟

سعودی وزیر توانائی کا’اوپیک +‘ کے فوائد کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ
ریاض، 5جنوری ( آئی این ایس انڈیا )
سعودی عرب کے وزیر برائے توانائی شہزادہ عبد العزیز بن سلمان ایک ورچوئل اجلاس سے خطاب میں اوپیک تنظیم کے ممبران اور اس کے اتحادیوں سے گذشتہ ایک کے دوران حاصل ہونے والے فوائد کو برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔سعودی وزیر توانائی نے کرونا ویکسین کے ٹھوس نتائج کا انتظار کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ویکسینوں کے اثرات اور نتائج کے حوالے سے عالمی ابہام کی شرح اب بھی زیادہ ہے۔شہزادہ عبد العزیز بن سلمان نے کہا کہ وائرس کی نئی شکل کے سامنے آنے کے بعد ویکسین کے نتائج کے بارے میں پیش گوئی نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ اوپیک + گروپ کو عام طور پر مارکیٹ کے لیے پر امید ماحول کے باوجود چوکس اور محتاط رہنا چاہئے کیونکہ ایندھن کی طلب اب بھی نازک ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ دنیا کے بہت سے حصوں میں جہاں انفیکشن کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے ، بندشوں اور پابندیوں کی ایک نئی لہر کا اطلاق ہو رہا ہے۔ یہ وائرس ان ممالک میں معاشی بحالی کی شرح کو لامحالہ متاثر کرے گا۔وزیر توانائی نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اب ہم سرنگ کے آخر میں روشنی دیکھتے ہی۔ ہمیں اپنے عزم کو کمزور کرنے والے مبینہ ’فتنوں‘ سے لڑنا ہوگا۔ یہ سچ ہے کہ کرونا وائرس کی ویکسینوں کی آمد خوش آئند ہے اور میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ اقتصادی بحالی کی واپسی میں ویکسین سب سے اہم عنصر ثابت ہوگی جو پائیدار بحالی کا باعث بنے گی۔ تاہم ، تیل کی طلب میں ایک ویکسین ڈھونڈنا سب سے اہم چیز نہیں ہے۔سعودی وزیر توانائی نے بتایا کہ پیداواری ممالک نے گذشتہ سال کے آخر میں پہلی ویکسین کے اعلان کے ساتھ ہی مارکیٹ میں خوشی بہتری کا مشاہدہ کیا لیکن ہمیں ابھی ایک لمبا سفر طے کرنا ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ ماحولیاتی ماحول کے باوجود سب کو محتاط رہنا چاہیئے کیونکہ عالمی ابہام کی سطح اب بھی زیادہ ہے اور عالمی سطح پر تیل کی طلب کم ہے۔۔ تیل ابھی بھی اپنی وبا سے پہلے کی سطح سے نیچے ہے اور ایندھن کی طلب اب بھی نازک ہے خاص طور پر کرونا کی نئی شکل ہوا بازی کے ایندھن کی فروخت کو متاثر کر سکتی ہے۔
ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے باز رکھنا ضروری ہے: یورپی یونین
برسلز ، 5جنوری ( آئی این ایس انڈیا )
یورپی یونین نے ایران کی جانب سے ’فوردو‘ جوہری پلانٹ پر یورینیم کی 20 فیصد سے زاید مقدار کی افزودگی کو ایٹمی معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ یونین کا کہنا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ناگزیر ہے۔یورپی یونین کے ترجمان پیٹر اسٹانو نے میڈیا سے خطاب میں کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار کے حصول سے روکنا ضروری ہے۔ انھوں نے بتایا کہ تہران کے یورینیم کی افزودگی بڑھانے کے فیصلے کے سنگین نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ یہ اقدام ایٹمی معاہدے کی ایک بڑی خلاف ورزی ہے جو 2015 میں بڑے ممالک کے ساتھ طے پایا تھا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کو اپنی جوہری ذمہ داریوں کی پابندی کرنا ہوگی۔ یورپی یونین ’آئی اے ای اے‘ کی رپورٹ کا مطالعہ کرے گی تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ تہران کیا کر رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن امریکا کو ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر واپس لائیں گے۔بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ ایجنسی کا ڈائریکٹر جنرل آج رکن ممالک کو ایران میں ہونے والی حالیہ پیشرفت سے آگاہ کرے گا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمارے انسپکٹرز فوردو پلانٹ پر سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ان کی معلومات کی بنیاد پر ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی آج ایجنسی کے ممبر ممالک کو رپورٹ پیش کریں گے۔
جو بائیڈن کے برسر ِاقتدار کے معاًبعد سلیمانی کا انتقام ممکن: اسرائیلی ماہرین
مقبوضہ بیت المقدس ، 5جنوری ( آئی این ایس انڈیا )
اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد کے سابق ڈائریکٹر شیبتائے شیوٹ کا کہنا ہے کہ ایرانیوں کے صبر کا سلسلہ جاری رہے گا۔ دوسری جانب موساد کے دو سابق سربراہان اور قومی سلامتی کونسل کے سابق سربراہ کے مطابق ایران 2020میں اپنے ایک سینئر ذمہ دار (قاسم سلیمانی) کی ہلاکت کا انتقام لینے میں ناکام رہا ہے ، اور غالبا نئے امریکی صدر جو بائیڈن کے اقتدار سنبھالنے سے قبل وہ ایسا نہیں کرے گا۔البتہ ان تمام شخصیات نے اسرائیلی اخباریروشلم پوسٹ سے گفتگو میں کہا ہے کہ تہران آخر کار ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے مقتول ل سربراہ کے انتقام کا موقع پالے گا۔شیوٹ نے مزید کہا کہ گذشتہ برس جنوری میں قاسم سلیمانی اور نومبر میں ایرانی عسکری جوہری پروگرام کے سربراہ محسن زادہ کی ہلاکتیں مشرق وسطی میں ایران کی عسکری سرگرمی پر دہری ضرب ثابت ہوئی جس کے بعد ایران سنبھل نہیں سکا۔شیوٹ 1989 سے 1996 تک موساد کے سربراہ رہے۔ ان کے مطابق القدس فورس کا نیا سربراہ اسماعیل قاآنی ، سلیمانی جیسی انتظامی صلاحیتوں اور اہمیت کی سطح کے قریب بھی نہیں۔شیوٹ نے مزید کہا کہ اگرچہ تہران ابھی تک کسی بڑے طریقے پر انتقام لینے میں کامیاب نہیں ہو سکا تاہم ہمیں اس بات کو نظر میں رکھنا چاہیے کہ وہ جوابی کارروائی کریں گے اور ایک اعلی سطح کے ہدف پر حملے کا موقع پانے کے منتظر رہیں گے۔موساد کے سابق ڈائریکٹر ڈینی یاتوم نے اسرائیلی اخبار سے گفتگو میں کہا کہ سلیمانی کی ہلاکت متاثر کن بات تھی۔ یہ تزویراتی لحاظ سے نہایت قیمتی ہے۔ وہ القدس فورس کا کمانڈر ہونے کے علاوہ اور بہت کچھ تھا۔ وہ ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای کے بھی بہت زیادہ قریب تھا ۔
جی سی سی سمٹ خلیجی ممالک کی صفوں میں اتحاد کا پیغام ثابت ہوگی: ولی عہد
دبئی، 5جنوری ( آئی این ایس انڈیا )
سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے زور دے کر کہا ہے کہ مملکت کی پالیسی خلیج تعاون کونسل کی رکن ریاستوں کے اعلی مفادات کے حصول کے لیے مستحکم نقطہ نظر پر مبنی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پیراور منگل کو ہونے والی تعاون کونسل کا سربراہ اجلاس خلیجی ممالک کے بیانیے اور ممالک کی صفوں میں یکجہتی کا پیغام ثابت ہو گا۔انہوں نے مزید کہا کہ مْملکت خلیج تعاون کونسل کی ریاستوں کے رہ نماؤں کی خواہشات کے مطابق کونسل کی صفوں میں دوبارہ اتحاد کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔ انہوںنے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ’ جی سی سی ‘ سمٹ کے دوران وہ خطے کو درپیش چیلنجوں کا
مقابلہ کرنے کے لیے مل کر کوششیں کرنے کا عزم کیا جائے گا۔سعودی ولی عہد کا کہنا تھا کہ یہ سربراہ اجلاس سعودی عرب کے قطر کے ساتھ فضائی حدود اور زمینی سرحدوں کو کھولنے کے اعلان سے خوشحالی اور ترقی کے سفر کو تقویت ملے گی۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کا ملک جی سی سی اور عرب ممالک کے عوام کی بھلائی اور سلامتی کے مفاد میں کوششیں کر رہا ہے۔پیر کے روز کویت کے وزیر خارجہ احمد ناصر الصباح نے کہا کہ سعودی عرب نے قطر کے لیے اپنی فضائی حدود کھول دی ہیں۔

امیر قطر کا سعودی عرب میں جی سی سی سربراہ اجلاس میں شرکت کا اعلان
دبئی، 5جنوری ( آئی این ایس انڈیا )
قطر کے امیر الشیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والے جی سی سی سربراہ اجلاس میں آج منگل کے روز شرکت کا اعلان کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق قطر شاہی دربار کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امیر قطر سعودی عرب میں جاری سربراہ اجلاس میں شرکت کریںگے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مملکت کے امیرالشیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ برادر ملک سعودی عرب کے العلا شہر میں آج منگل کے روز جی سی سی کے 41 ویں سربراہ اجلاس میں اعلیٰ اختیاراتی وفد کے ہمراہ شرکت کریںگے۔قبل ازیں کویت کے وزیر خارجہ احمد ناصر الصباح نے کہا تھا کہ سعودی عرب اور قطر کے درمیان جاری کشیدگی ختم ہوگئی ہے اور دونوں ممالک نے فضائی، بری اور سمندری حدود کھولنے کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کویت کے امیر الشیخ نواف الاحمد الجابر الصباح نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور قطر کے امیر کوالشیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے الگ الگ ملاقات کی۔خیال رہے کہ سعودی عرب اور قطر کے درمیان سنہ 2017ء￿ کے بعد بائیکاٹ چلا آ رہا ہے۔ قطر کا بائیکاٹ کرنے والے ممالک میں متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر بھی شامل ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ چار سال کے بعد دونوں خلیجی ممالک کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
مصر قطری طیاروں کے لیے فضائی حدود کھولے گا: ذرائع
دبئی، 5جنوری ( آئی این ایس انڈیا )
العربیہ کے دعویٰ کے مطابق مصر بھی سعودی عرب کی طرح قطر کے طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود کھول دے گا۔ذرائع نے منگل کے روز بتایا کہ قاہرہ حکومت اصولی طور پر دوحہ کے ساتھ ہوابازی بحال کرنے پر آمادہ ہو گئی ہے۔ ساتھ ہی باور کرایا گیا ہے کہ اس فیصلے پر عمل درامد مصر کی جانب سے متعدد مطالبات پر موقوف ہو گا۔ذرائع نے واضح کیا کہ ایک مصری کمیٹی مذکورہ موقف کا جائزہ لے رہی ہے۔ یہ کمیٹی سعودی عرب ، امارات اور بحرین کے ساتھ رابطے میں ہے۔یہ پیشرفت منگل کے روز سعودی عرب کے ضلع العْلا میں منعقد ہونے والے خلیج تعاون کونسل کے 41 ویں سربراہ اجلاس کے آغاز سے قبل سامنے آئی ہے۔ اجلاس سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی دعوت پر منعقد ہو رہا ہے۔اجلاس میں خلیج تعاون کے امور،علاقائی اور بین الاقوامی تزویراتی شراکت داریوں اور ایران کے جوہری پروگرام کے علاوہ دیگر معاملات پر بھی توجہ مرکوز ہو گی۔قطری خبر رساں ایجنسی کے مطابق قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد سربراہ اجلاس میں اپنے ملک کے وفد کی صدارت کریں گے۔ امارات کے وفد کی قیادت دبئی کے حاکم شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کریں گے۔ کویت کے امیر شیخ نوّاف الاحمد الجابر المبارک الصباح اپنے ملک کے وفد کی قیادت کریں گے۔ بحرین کے وفد کی صدارت ولی عہد شہزادہ سلمان بن حمد آل خلیفہ اور عمان کے وفد کی صدارت نائب وزیر اعظم فہد بن محمود آل سعید کریں گے۔ اس سے قبل کویتی وزیر خارجہ شیخ احمد ناصر الصباح نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب اور قطر کے بیچ سرحدیں کھولے جانے کے حوالے سے ایک سمجھوتہ طے پا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں