مسلم علاقے اور سول سوسائیٹیز

مسلم علاقے اور سول سوسائیٹیز
تکلف برطرف : سعیدحمید
جمہوریت کے چار ستون ہوا کرتے تھے ،
لیکن ،
آج سول سوسائیٹیز کی شکل میں جمہوریت کا پانچواں
ستون ہمارے ملک میں کھڑا ہو چکا ہے ۔
سول سوسائٹیز ان این جی او ز اور افراد کا پلیٹ فارم ہے ،
جو شہریوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کر تے ہیں ۔
سول سوسائیٹیز ذمہ دار اور بیدار شہریوں کا غیر سیاسی محاذ ہے ،
جو سرکار ، افسر شاہی ، سیاست ، میڈیا ، عدلیہ پر نظر رکھتا ہے ۔
سماج کے مسائل کو ایماندری کے ساتھ سرکار ، افسر شاہی ،
اور سیاسی حلقوں میں پیش کرتا ہے ،
اور ان کے موثر حل کی حکمت مرتب کرتا ہے ۔
سول سوسائیٹی ایک ایسا رضاکار سماجی ، و جمہوری ڈھانچہ ہے جو
شہری حقوق کیلئے جدوجہد کرنے والی ذمہ دار شہریوں اور
سرگرم رضاکار شہری تنظیموں پر مشتمل ہوتاہے ۔
آج کے زمانہ میں کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ شہری نظام
میں سول سوسائیٹیز بیدار و ذمہ دار شہریوں کا
ایک پریشر گروپ ہے ، جو صرف شہریوں کے حقوق،
سماج کی فلاح اور شہریوں کے مفاد کو ہی اپنا ایجنڈہ سمجھتا ہے ۔
حکومت و سیاست پر نظر رکھتا ہے ،
سرکاری پالیسیوں میں عام شہری کی منصفانہ حصہ داری
و حق دلانے کیلئے جدوجہد کرتا ہے ۔
یعنی شہریوں کا نظام ، شہریوں کیلئے ، شہریوں کے ذریعہ ،
یہ سول سوسائیٹیز کا نظریہ ہے ۔
اسلئے شہریوں کو انصاف دلانے کے معاملہ میں
سول سوسائیٹیز کا نظام کافی کارآمد اور موثر ثابت ہوتا ہے !!!
بھارت میں بے شمار این جی اوز ہیں ،
جو مختلف میدانوں میں اس جذبہ سے کام کر رہی ہیں ،
جو سول سوسائیٹیز کی شناخت ہے ۔
ملک میں سول سوسائٹئز مومنٹ نے ماحولیات ، صحت
تعلیم و کئی میدانوں میں سرکاری پالیسیوں میں شہریوں
کے مفاد کے مطابق مناسب تبدیلی میں بہت موثر رول ادا کیا ۔
بہت سی این جی اوز شہری آزادی ، شہریوں کے حقوق ،
کمزور طبقات مثلاً عورتوں ، بچوں ، کمزور اقوام ، اقلیتوں کے
حقوق کیلئے بھی سرگرم ہیں ۔
حکومت و پولس کے ظالمانہ اقدامات ، شہری آزادی ،
حقوق انسانی پر ڈاکہ زنی کے خلاف انصاف کی جدوجہد میں
بھی سول سوسائیٹی تحریک کا ایک بڑا حصہ ہے ۔
ہمارے مسلم علاقوں میں بہت سی سماجی ، دینی ، تعلیمی تنظیمیں
سول سوسائیٹیز کا حصہ بن کر شہری حقوق ، اقلیتوں کے حقوق ، انسانی
اور شہریوں کے خلاف ظلم و زیادتی کےخلاف دستوری و قانونی جدجہد
سول سوسائیٹیز مومنٹ کی سرگرمیوں میں شامل ہیں ۔
پھر بھی ، یہ کہا جاسکتا ہے
کہ مسلم علاقوں میں سول سوسائیٹیز مومنٹ کا غلبہ ، اثر
او نظام قدرے کم ہے ۔
بھارت میں فاشسٹ طاقتوں نے ہر شعبہ زندگی میں گھس
پیٹھ کر رکھی ہے ، اور وہ اب اقلیتوں کے خلاف سازشوں کو
عملی جامہ پہنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس کا نمونہ خاص طور پر یوپی میں دیکھا جا سکتا ہے ۔
اس سازش کا جواب سول سوسائیٹیز مومنٹ کے ایک مضبوط
و با اثر نظام سے دیا جا سکتا تھا ،
جو آج بھی مسلم علاقوں میں قدرے کم اور کمزور ہے ۔
اسلئے ،
یوپی کے حالات مسلمانوں کی آنکھیں کھولنےکیلئے کافی ہونا چاہئے ۔
صرف سیاست پر ، سیاست دانوں کے سہارے انصاف
کی جنگ جیتی نہیں جا سکتی ۔
بہت سے با صلاحٰیت افراد سیاست کو پسند نہیں کرتے ،
وہ سیاست سے دور رہنا چاہتے ہیں ۔
ان کیلئے سول سوسائیٹیز مومنٹ ایک بہت بڑا پلیٹ فارم ہے ۔
باصلاحیت افراد کی اپنی اپنی پسند اور اپنا اپنا تجربہ بھی
قوم کیلئے مفید ہو سکتا ہے ۔
اسلئے اپنے سماج ، اپنے شہر ، اپنے علاقہ میںاپنی صلاحیت و پسند
کے مطابق شعبہ میں وہ سول سوسائیٹیز مومنٹ کے نظام
کو سماج ، قوم و علاقہ کی فلاح کیلئے بخوبی استعمال کر سکتے ہیں ۔
ہماری قوم کا المیہ یہ ہیکہ مسائل ہزارہا ہیں ،
لیکن ان سے ایمانداری کے ساتھ نمٹنے والی افرادی قوت
میدان عمل میں نہیں ہے ۔
قوم کو با صلاحیت افرادی قوت کی ضرورت ہے ،
لیکن بہت سے با صلاحیت مسلمان سیاست سے نالاں ہیں ،
اس لئے گھر بیٹھ جاتے ہیں ۔
ہمارے علاقوںمیں گندگی ہے ، سوک سہولیات کا فقدان ہے ،
ٹرافک کے مسائل ہیں ، منشیات کی لعنت ہے ،
بڑھتے ہوئے جرائم ، سرکاری محکموں میں رشوت کا بازار ۔
ان کے حل کیلئے خود ذمہ دار شہری کیا کرسکتے ہیں ؟
اور سرکار سے کیا کرواسکتے ہیں ؟
اس پر غور ضروری ہے ۔
بیدار شہری اور بیدار شہریوں کی تنظیمیں سماج میں انقلاب
کا راستہ بھی ہموار کر سکتے ہیں ۔
ایک مثال شہر کے ایک مسلم بیدار شہری افروز شاہ
کی پیش کی جا سکتی ہے ، جو پیشہ سے ایک وکیل ہیں۔
ورسوا اندھیری میں جہاں ساحل سمندر کےپاس ہزاروں لوگ
رہتے ہیں ، روزانہ ساحل سمندر پر جاتے ہیں ۔
ان میں سے افروز شاہ بھی ایک تھے ۔
۲۰۱۵ء میں افروز شاہ اور ان کے ۸۵ سالہ بزرگ
پڑوسی ہر ونش ماتھر نے ورسوا سمندری کنارے
پر گندگی کے ڈھیر کو دیکھ کر میونسپل کارپوریشن، لیڈروں ،
افسروں کو گالیاں دینے کی بجائے ہاتھوں میں دستانہ پہن کر
کچرا صاف کرنے کا کام شروع کیا ۔
آج وہ ایک مومنٹ بن چکا ہے ، سول سوسائیٹی مومنٹ !!!
ورسوا ساحل کو صاف کرنے کے بعد افروز شاہ اور ان کی ٹیم نے
اب میٹھی ندی ، کرلا ۔باندرہ کی صاف صفائی کا بیڑہ اٹھایا ہے ۔
انہیںکئی قومی اور بین الاقوامی ایوارڈس مل چکے ہیں۔
ہر طبقہ ان کی خدمات کو سراہتا ہے ۔
وہ سول سوسائیٹی مومنٹ اور اس کی افادیت کی ایک مثال ہیں ۔
آج ضرورت ہے کہ کئی افروز شاہ ہمارے علاقوں ،
محلوں سے اٹھیں ،
اپنے اپنے میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دیں،
اور سماج پر بہتر اثرات مرتب کریں ۔
یہ ایک نئے انقلاب کی دستک ہوگی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں