ذوقی صاحب کا ایک اور ناول

ذوقی صاحب کا ایک اور ناول
میری ادبی زندگی کا یہ ٹرننگ پواینٹ ہے جب میری کتاب ایک نئے اشاعتی ادارے میٹر لنک سے شایع ہو چکی ہے . پبلشر محترم قاضی زکریا صاحب نے ایک دن مجھے فون کیا اور کہا ، کہ میں آپ کی کتاب کو اردو ادب کا ذوق رکھنے والے ہر شخص تک پہچانا چاہتا ہوں . ان کی ہر بات دل میں اتر گیی . پہلے دلی اور اب لکھنؤ . قاضی صاحب نے ناول کا مطالعہ کیا . کتاب میں ادارے کی طرف سے اپنی رائے شامل کی . اور ایسی محبت دکھایی جسکا ذکر لفظوں میں نہیں ہو سکتا . مردہ خانے میں عورت کے لئے ان سے رابطہ کیجئے . قیمت سات سو روپیہ . صفحات : پانچ سو پچاس .
aglawaraq@gmail.com
مجھے خیال نہیں کہ جدید طلسم ہوش ربا کا علامتی پس منظر کسی نے اس طرح پیش کیا ہو کہ محسوس ہو ، ہم آج بھی مافوق الفطرت عناصر، سحر و طلسم کی دنیا کے قریب ہیں اور طلسم ہوش ربا کے جادوئی کھیل اب بھی جاری ہیں. بے پناہ طاقت کا جن اب بھی طلسماتی لوح کے ذریعے چراغوں کو روشن کرنے اور تاریک کرنے کا کھیل ، کھیل رہا ہے .نفرت اور تعصب،سیاست اور طاقت کے اوراق پر تہہ در تہہ ہزار داستانیں ہیں، جن کا سلسلہ داستان امیر حمزہ کے ہر دلعزیز کردار امیر حمزہ کے پر خطر معرکوں سے شروع ہوا اور جب انجام کو پہچا تو مرگ انبوہ کے جادوگر نے افراسیاب کی جگہ لے لی ۔
مشرف عالم ذوقی نے ان داستانوں کو عھد جدید کا لباس پہنایا تو تو یہاں بھی ایک افراسیاب جادوگر موجود تھا.مرگ انبوہ کا طوفان مردہ خانے میں عورت تک آتے آتے اس قدر شدید ہو جاتا ہے کہ ہماری یہ خوبصورت کائنات طلسم ہوش ربا سے زیادہ بھیانک محسوس ہونے لگتی ہے . یہاں وہ جنگی داستانیں بھی ہیں جو یہ سناتی ہیں کہ کس طرح ایک جنگ افراسیاب جادو گر کےخلاف لڑی جا رہی ہے ،وہ افراسیاب جو جادو نگری ہوش ربا پر حکومت کرتا ہے۔ ذوقی اس تھذیب کے نوحہ گر ہیں جہاں ماضی حال اور مستقبل آپس میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ۔

کیٹاگری میں : ادب

اپنا تبصرہ بھیجیں