مسلم بستیوں میں منشیات فروشی کیوں ؟

مسلم بستیوں میں منشیات فروشی کیوں ؟
تکلف برطرف : سعید حمید
یہ کتنا تضاد ہے
کہ جو مذہب منشیات کی سخت ممانعت کرتا ہے ،
جس مذہب کے قوانین منشیات کے استعمال اور منشیات
کی خرید و فروخت کیلئے سخت سزائیں تجویز کرتے ہیں،
اس مذہب کے ماننے والوں کی بستیوں میں 
منشیات فروشی کھلے عام ہوتی ہے ،
منشیات کا استعمال کھلے عام ہوتا ہے ۔
یعنی ،
مسلم بستیوں میں منشیات فروشوں کو جو ڈر ہونا چاہئے تھا ،
منشیات کے عادی افراد کو جو خوف ہونا چاہئے تھا ،
وہ باقی نہیں رہا ۔
یہ مسلم معاشرہ کا المیہ ہے
کہ ہمارے معاشرہ میں ایک انتہائی غیر اسلامی برائی
کا زور شباب پر ہے ،
اور مسلم معاشرہ اس برائی کے خلاف موثر کارروائی کرنے
میں پوری طرح ناکام ہے ۔
اس ناکامی کی وجہ ہے کہ الزام اور تہمت ایک دوسرے
پر تھونپی جاتی ہے ، اور کوئی ذمہ داری لینے کیلئے
تیار نہیں ہے ۔
اگر مسلم بستیاں منشیات کی خرید و فروخت و استعمال
کا اڈہ بن چکی ہیں ، تو اس کا ذمہ دار کون ؟
کوئی ذمہ داری لینے کیلئے تیار نہیں ۔
حقیقت یہ ہیکہ پورا معاشرہ ہی اس صورتحال کیلئے
قصور وار بھی ہے ، ذمہ دار بھی ۔
مسلمانوں سے یہ کہا گیا ہے
کہ برائی کو روکو ۔
منشیات کی برائی کو ہم روک کیوں نہیں سکے ؟
جس گھر میں نوجوان اور کم عمر لڑکے لڑکیاں نشہ کے
عادی ہوگئے ، کیا ان کے والدین و اہل خانہ
کی یہ بنیادی ذمہ داری نہیں تھی
کہ وہ اپنے بچوں کو منشیات سے دور رکھتے ؟
یہ دیکھتے کہ ان کا بچہ منشیات کیلعنت کا شکار نہ ہو ؟
پہلی منزل تو گھر ہے ،
جہاں بچوں کی نگرانی ہونی چاہئے تھی ۔
مسلم گھرانوں میں منشیات کا داخلہ ؟
یہ تو ہونا ہی نہیں چاہئے تھا ، اگر گھر گھر اسلام کی حقیقی
و عملی تعلیم و تربیت کا اہتمام ہوتا ۔
دوئم ۔
مسلم محلے اور علاقہ ۔
ان میں منشیات فروشوں ، منشیات کے عادی افراد
اور منشیات کا داخلہ ممکن ہی نہیں ہونا چاہئے تھا ۔
اس کا مطلب یہ ہے
کہ مسلم علاقہ ، مسلم محلہ اسلامی تعلیمات سے دور ہیں۔
اس لئے تو منشیات جیسی برائی ان علاقوں میں گھس پڑی
اور اب اس کا شکنجہ مضبوط سے مضبوط تر ہوچکا ہے ۔
پولس ، حکومت ، عدالت تو بعد کی باتیں ہیں ۔
ہمارے گھر پاک رہیں ، ہمارے علاقہ پاک رہیں ،
برائیوں سے پاک رہیں ،
گناہوں سے پاک رہیں ،
یہ تو ہماری اپنی پہلی ذمہ داری ہے ،
پولس یا حکومت کی کیونکر ہوگئی ؟
لیکن،
سیدھے سیدھے الزام پولس ، حکومت ، مسلم
دشمن طاقتوں پر تھونپ دیا جاتا ہے ،
کہ ایک سازش کے تحت مسلم علاقوں کو ڈرگس
کے اڈوں میں تبدیل کای جا رہا ہے ۔
کسی حد تک ان الزامات میں سچائی ہو سکتی ہے ،
لیکن۔
اس سازش کو بے نقاب کرنا ،
اور ناکام بنانا کیا ہماری ذمہ داری نہیں ہے ؟
ہمارے دیش کی پولس فورس میں رشوت عام ہے ،
کیا یہ کوئی نئی بات ہے ؟
ہمارے دیش کی سرکاروں میں مسلم دشمن عناصر
گھس پیٹھ کئے ہوئے ہیں ،
کیا یہ کوئی نئی بات ہے ؟
ہمارے دیش میں مسلمانوں کے خلاف کوئی نہ کوئی
سازش بنائی جاتی رہتی ہے ،
کیا یہ کوئی نئی بات ہے ؟
لیکن۔
ہمارے علاقوں میں ، ہمارے محلوں میں ،
ہمارے گھروں میں منشیات کی لعنت داخل ہوتی چلی گئی،
ہم بے بس تھے ، لاچار تھے ، مجبور تھے ،
سازش کے شکار تھے ، وغیرہ وغیرہ
ان بہانوں سے مسلم سماج اور مسلم معاشرہ
اپنی کوتاہی ، غیر ذمہ داری اور اپنے قصور سے
بری الذمہ نہیں ہوسکتا ۔
جس مسلم معاشرہ کو ہدایت دی گئی تھی
کہ بھلائی کی طرف بلاؤ اور برائی سے روکو ۔
اس نےاپنا کام ادھورا ہی کیا ، ادھورا ہی کر رہا ہے ۔
ہم بھلائی کی طرف تو بلا رہے ہیں ،
لیکن ہم نے برائی کو روکنے کا کام بند کردیاہے ،
یا بہت کم کردیا ہے ۔
اسلئے ، مسلم معاشرہ اور سماج میں برائی کرنے والوں
اور برائی کو اپنانے والوں کو سماج و معاشرہ
کا ڈر اور خوف نہیں رہا ۔
بلکہ ، آج ہمارا سماج ہی برائی کے ٹھیکیداروں سے
ڈرتا ہے ، سہمتا ہے ، خوف کھاتا ہے ۔
اس لئے ہمارے علاقوں میں برائیاں بڑھتی جا رہی ہیں ،
ان میں سے ایک ، منشیات کی لعنت ہے ۔
بےشک ، سرکار کی ذمہ داری ہے ، پولس کی ذمہ داری ہے ،
لیکن ،
سب سے زیادہ خود ہمارے سماج و معاشرہ کی ذمہ داری ہے ۔
منشیات کے خلاف کہاں تک یہ ذمہ داری ادا کی گئی؟
اس کا بھی جائزہ لیجئے !!!
ہمارے یہاں منشیات مخالف مہم تو محض رسم بن گئی ہے ،
خانہ پری کی رسم ، یا پبلسٹی اسٹنٹ ۔
وقتی جوش اور سوڈا واٹڑ کے جوش کی طرح ہمارے علاقوں
میں منشیات مخالف مہم اٹھتی ہے ۔
پھر سرد پڑ جاتی ہے ۔
یہ مہم بھی محض پوسٹر بینر ، پلے کارڈس ، نکڑ ناٹک
یا ایک آدھ جلوس ، جلسہ تک محدود رہتی ہے ۔
اس میں مستقل مزاجی نہیں ہے ،
اسلئے سنجیدگی بھی نظر نہیں آتی ہے ۔
منشیات کے خلاف مہم صرف کسی این جی او ،
سیاسی و مذہبی یا تعلیمی ادارے کا بھی کام نہیں ہے ۔
یہ کسی ایک آدھ دن منانے کا بھی کام نہیںہے ۔
یہ تو بڑی محنت کا کام ہے ،
یہ تو ایک مستقل جدوجہد ہے ،
جس میں پورے سماج و معاشرہ کو حصہ لینا پڑے گا ۔
جس طرح اس ملک کو برٹش راج سے آزاد
کروانے کیلئے جدوجہد کی گئی تھی ،
اسی طرح کی جدو جہد ہمارے سماج کو منشیات کی لعنت
سے آزاد کروانے کیلئے چلانے پڑے گی ،
ورنہ ۔
منشیات کی یہ برائی پوری قوم کو تباہ و برباد کردے گی !!!

اپنا تبصرہ بھیجیں