ارنب گوسوامی سے صدیق کپن تک ؛ انصاف کا دہرا معیار؟

ارنب گوسوامی سے صدیق کپن تک ؛ انصاف کا دہرا معیار؟
سعید حمید
آگرہ : ۵ اکتوبر کو یوپی پولس نے کیرالا کے دہلی میں مقیم صحافی صدیق کپن اور ۳ ساتھیوں کو تب گرفتارکیا تھا ، جب وہ ہاتھرس جا رہے تھے ، جہاں ایک دلت لڑکی کا ریپ ہوا تھا ۔ اس کی کوریج کوئی جرم یا دیش کے خلاف کارروائی تھی ، جی نہیں ، لیکن بی جے پی راج میں کسی مسلمان پر دیش کے خلاف سازش ، غداری کا مقدمہ درج کرادینا بہت آسان ہے ،
ایسے مقدمہ عدالتوں میں نہیں ٹک سکیں گے ، یہ انہیں بھی پتہ ہے لیکن وہ اپنی جھوٹی پروپگنڈہ فیکٹری سے مسلسل نفرت پھیلانے ، زہر گھونے کیلئے مواد حاصل کرنا چاہتے ہیں ، صدیق کپن جیسے بے قصورمسلمان بی جے پی کی جھوٹی پرپگنڈہ مشنری کیلئے چارہ ، ثابت ہوتے ہیں ، بھلے ان کی زندگی تباہ ہوجائے اور ان کے خاندان پریشانی کے شکار ہو جائیں ۔
نفرت کا زہر مسلسل پھیلانے ، ہندؤ ں کو مسلمانوں سے مسلسل ڈرائے رکھنے ، بے بنیاد سازشوں کی افواہوں کو پروان چڑھانے کے ایجنڈہ کے تحت آئے دن کوئی نہ کوئی صدیق کپن ناانصافی کی بھینٹ چڑھایا جاتا ہے ۔اب کہیں جاکر دو دن قبل سپریم کورٹ نے اس کیس کا نوٹ لیا اور یوپی سرکار ، مرکزی سرکار کو نوٹس جاری کیں جبکہ صدیق کپن کی فیملی ۵ اکتوبر سے ہی انصاف کیلئے یوپی میں در در بھٹک رہی ہے ۔
ارنب گوسوامی جیسے جرنلسٹ کو تو ایک دو دن میں ہی سپریم کورٹ میں سماعت کی منظوری مل جاتی ہے ، کیا وہ وی آئی پی جرنلسٹ ہے ؟
دوسری طرف صدیق کپن بھی ایک جرنلسٹ ہے ، جسکے کیس کی سمارعت کیلئے اس کی فیملی کو در در بھٹکا پڑتا ہے ۔ اگر ہمارے ملک میں دستور کی بالا دستی ہے ، تو کسی کے ساتھ نا انصافی اور کسی کے ساتھ امتیازی سلوک ، ایسا نہیں ہونا چاہئے ۔
لیکن ، ارنب گوسوامی اور صدیق کپن کا موازنہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے ، امتیاز ہو رہا ہے ، نابرابر سلوک ہو رہا ہے ۔
اس کا کیا مطلب ہے ؟ یہی نا کہ انصاف کے ڈھانچہ میں بھی بااثر طاقتوں کا عمل دخل ہو رہا ہے ؟
یہ دستور و انصاف کیلئے خطرے کی گھنٹی نہیں ہے تو اور کیا ہے ؟
صدیق کپن کو گرفتار ہوئے ۴۲ دن سے زیادہ ہوئے اور اب تک اس کی ضمانت کی عرضی بھی نہیں سنی گئی، جبکہ ایک مہینہ میں ارنب گوسوامی کے خلاف درج کئی ایف آئی آرمیں ایک درجن سے زیادہ پٹیشن داخل بھی ہوئیں اور ان کی سماعت بھی ہوئی ، تو یہ پوچھنا غلط نہیں کہ دیش میں کیا چل رہا ہے ؟ اور کیا ہورہا ہے ؟ قانون اور انصاف سے کیا عام آدمی کا اعتماد ختم کروانے کا ارادہ ہے ؟ کیا انصاف کچھ خاص لوگوں کیلئے مخصوص کردینے کی سازش ہو رہی ہے ؟
صدیق کپن کے ساتھ مسعود الرحمن ۔ عتیق احمد ۔ محمد عالم بھی گرفتار ہوئے تھے ۔ متھر ا کی ایک عدالت نے ان کی ضمانت کی عرضی مسترد کردی ، اب وہ الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع ہورہے ہیں ۔ ارنب گوسوامی کیس میں سپریم کورٹ نے یہ کہا کہ ملزم کی آزادی سب سے زیادہ اہم ہے ۔صرف ۸ دن بھی ارنب گوسوامی جیل میں نہیں رہا ۔ان ۸ دنوں میں اس کی پٹشن پہلے ہائی کورٹ میں سنی گئی، مسترد ہونے پر صرف دو دن میں ہی سپریم کورٹ میں بھی بنچ کے سامنے سماعت کیلئے آگئی ۔ ادھر صدیق کپن جیسے صحافی کو آزادی اور ضمانت کے حق کیلئے ۴۲ دن بعد بھی عدالت پہنچنے اور ججوں تک اپنی شکایت پہنچانے کا موقعہ نہیں ملا ۔ یہ حقائق آج ہماری جمہوریت کا منہ چڑھا رہے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں