مہاراشٹر: وقف بورڈ کا ہیڈکوارٹر ممبئی میں ہونے پر تکلیف کیوں ؟

مہاراشٹر: وقف بورڈ کا ہیڈکوارٹر ممبئی میںہونے پر تکلیف کیوں ؟
سعید حمید
ممبئی ( تحقیقات ایکسپریس ) مہاراشٹر میں وقف کی املاک ایک لاکھ ایکڑ سے بھی زیادہ ہے ، سب سے زیادہ وقف املاک مراٹھواڑہ ریجن میں ہیں ، جو آزادی سے قبل نظام سلطنت کا حصہ تھا ۔ آزادی کے بعد اور پھر مہاراشٹر کے قیام کے بعد نظام سلطنت کا جو حصہ مہاراشٹر میں شامل ہوا ، اس میں اوقاف کے نظام پرکوئی توجہ نہیں دی گئی ۔
اس کے برعکس اوقاف کی املاک کی بے تحاشا لوٹ مار ہوئی اس میں مسلمان خود بھی پیش پیش رہے۔
اس لئے برس ہا برس سے اوقاف کے معاملات پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتے چلے گئے ۔ ان کے سدھار کی بھی مخلصانہ کوششیں کم ہوئیں، وقف مافیاطاقتور ہوتا چلا گیا ۔ان باتوں کے مدنظر آج اوقاف کے مسائل کو حل کرنا آسان کام نہیں ، کیونکہ وقف مافیا کی جڑیںپوری ریاست میں پھیلی ہوئی ہیں ، اور وقف مافیا سدھار کی پر کوشش کو ناکام بنانے کیلئے ہر ممکن کو شش کرتا ہے ۔
ان کوششوں میں ایک حربہ مقدمہ بازی ، وقف بورڈ کے ایماندار افسروں کاتبادلہ کروانا ، ان کو پریشان کرنا کہ اس کی وجہ سے کوئی ایماندار افسر وقف بورڈ میں آنے کی ہمت نہیں کر سکے ۔ مہاراشٹر میں وقف کے سدھار کیلئے جو سفارشات کی گئی ہیں ، ان میں ایک یہ ہے کہ مہاراشٹر وقف بورڈ کا ہیڈ کوارٹر اورنگ آباد سے ممبئی لایا جائے ، لیکن بہت سے مفاد پرست عناصر ہیں ، جو یہ نہیں چاہتے کہ وقف بورڈ کا ہیڈ کوارٹر اورنگ آباد سے ممبئی لایا جائے ۔
یہاں یہ بات واضح کرنی ہوگی کہ مہاراشٹر میں وقف بورڈ کا ہیڈکوارٹر اورنگ آباد میں اس لئے قائم ہوا تھا کہ ریاست مہاراشٹر کے قیام کے بعد وقف ایکٹ کا نفاذ صرف مراٹھواڑہ میں ہی تھا ۔ اس لئے یہ وقف بورڈ بھی صرف مراٹھواڑہ وقف بورڈ کہالایا جاتا تھا ، اور اس کا ہیڈ کوارٹر اورنگ آباد میں قائم کیا گیا ۔ یہ اور بات ہے کہ اورنگ آباد میں بھی کئی دہائیوں تک اس بورڈ کا اپنا ایک دفتر نہیں بن سکا اور اس بورڈ کا کام کاج پن چکی کی مسجد اور درگاہ میں ہے ، جو ایک تاریخی اور ہیریٹیج مقام ہے ۔
یہ بڑے شرم کی بات ہیکہ کہ جس مراٹھواڑہ ریجن میں وقف کی ۵۵ ہزار ایکڑ زمین ہے ، وہاں وقف بورڈ آزادی اور مہاراشٹر کے قیام سے لیکر آج تک خود اپنا ایک دفتر قائم نہیں کرسکا ، اس نے ایک تاریخی مسجد اور درگاہ کے احاطہ میں قبضہ کر رکھا ہے ۔ اس کے باوجود بھی اورنگ آباد کا ایک طبقہ ایسا ہے جو ریاستی وقف بورڈ کا ہیڈ کوارٹر ممبئی شفٹ کرنے کی بلا وجہ مخالفت کرتا ہے ۔
۲۰۰۵ ء کے بعد سے مہاراشٹر میں پوری ریاست میں وقف ایکٹ نافذ ہوگیا ، اس کے بعد سے ہی یہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ اب وقف بورڈ ایک ریاستی ادارہ بن چکا ہے ، ایک علاقائی ادارہ نہیں رہا ۔ اس لئے چونکہ سارے ریاستی اداروں کے ہیڈکوارٹر ممبئی میں ہوا کرتے ہیں ، اس لئے وقف بورڈ کے بہتر انتظامات کیلئے مہاراشٹر وقف بورڈ کے صدر دفتر کو ممبئی شفٹ کرنے کا پلان بنا یا گیا ۔
البتہ شرارتی عناصر دس بارہ برس سے ہیڈکوارٹر کی ممبئی منتقلی میں رخنہ اندازی کر رہے ہیں ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ بات بھی واضح کردی گئی ہیکہ ہنوز مراٹھواڑہ ریجن کا ہیڈکوارٹر بنا رہے گا ، اور مراٹھواڑہ کے جتنے بھی اوقاف کے معاملات ہیں ، وہ سب اورنگ آباد میں ہی حل کئے جائیں گے ، کسی کو ممبئی آنے کی ضرورت نہیں ہوگی ۔
اس کے علاوہ سرکاری تجویز یہ بھی ہے کہ فی الحال ، وقف ٹریبونل جو صرف اورنگ آباد میں ہے ، اس کی بھی ریجنل شاخٰیں ، اورنگ آباد کے علاوہ ناگپور ، ممبئی ، و دیگر جگہوں پر ہونگی ۔ اسلئے ٹریبونل کے کام کاج کی وجہ سے بھی مراٹھواڑہ کے اوقاف کے متعلقین کو ممبئی جانے کی ضرورت نہیں ہوگی ۔
اس کے باوجود بھی اگر مہاراشٹر وقف بورڈ کے ہیڈکوارٹر کی ممبئی منتقلی کے خلاف شور ہنگامہ کیا جا رہا ہے ، تو اس کا کوئی بھی قابل قبول جواز نہیں ہے ، بلکہ یہ محض اوقاف کے سدھار کا نظام بنانے کی کوششوں میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش ہے ، ممبئی میں منترالیہ بھی واقع ہے ، اور مہاراشٹر اسٹیٹ وقف بورڈ جس وزارت ( اقلیتی فلاحی محکمہ ) سے منسلک ہے اس کا بھی ہیڈ آفس منترالیہ میں ہے ، اس لئے ، اگر مہاراشٹر اسٹیٹ وقف بورڈ کا ہیڈ کوارٹر ممبئی منتقل کیا جاتا ہے ، تو بورڈ کے کام کاج میں تیزی آئے گی ، اور اوقاف کے مسائل جلد حل ہونگے ،
اس لئے مہاراشٹر سرکار کو چاہئے کہ وہ مخالفت کی آوازوں کو نظر انداز کرتے ہوئے مہاراشٹر وقف بورڈ کے ہیڈکوارٹر کو جلد از جلد ممبئی منتقل کرے ، اس میں کسی کا کوئی نقصان نہیں ، بلکہ وقف سدھا ر کے کاموں میں یہ اہم قدم ہے ۔
تو پھر اس میں رکاٹ پید اکرنے والے کیوں یہ حرکتیں کر رہے ہیں ؟ اس بارے میں صحیح اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں