ممبئی پولس کے خلاف انٹرنیشنل سازش ؛ مگر سی بی آئی ، این آئی اےخاموش کیوں ؟

ممبئی پولس کے خلاف انٹرنیشنل سازش ؛ مگر سی بی آئی ، این آئی اےخاموش کیوں ؟
سعید حمید
ممبئی ( تحقیقات ا یکسپریس رپورٹ )
ممبئی پولس کے خلاف ایک انٹرنیشنل سازش کی گئی ، اس سازش میں کئی افراد وتنظیمیں شامل ہیں ،
اس سازش کیلئے بڑے پیمانہ پر فائنانس فراہم کیا گیا ، اور کوئی شک نہیں کہ منی لانڈرنگ اور حوالہ چینلوں کا استعمال اس سازش کی سرمایہ کاری کیلئے کیا گیا ، اس سازش میں غیر ملکی افراد اور ادارے بھی شامل ہیں ، اس بات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا ۔
ایک اداکار سسشانت سنگھ راجپوت کی خود کشی کے کیس میں دہلی سرکار کی ایما ء پر بہار پولس ، سی بی آئی ، انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ اور نارکوٹک کنٹرول بیورو کو شامل کرلیا گیا ، لیکن ممبئی پولس کے خلاف ایک انٹر نیشنل سازش میں نہ کوئی سنٹرل ایجنسی دلچسپی لے رہی ہے ، اور نہ ہی مرکزی سرکار ۔اس سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اس ملک میں غیر بی جے پی حکومتوں کے ساتھ ، اور ان کی سرکاری مشنری کے ساتھ کس قدر متعصب برتاؤ کیا جارہا ہے ۔
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اگرملک کی دوسری راجدھانی کہلا ئے جانےوالےشہر ممبئی کے پولس کمشنر نے یہ انکشاف کیا کہ اسی ہزار بوگس اکأنٹس کے ذریعہ ، جن میں کئی ہزار اکاؤنٹس غیر ممالک میں اور غیر ملکی زبانوں میں جاری کئے گئے ، تو اس کا نوٹ مرکزی حکومت ، سی بی آئی ، این آئی اے نے لینا چاہئے تھا ، کیونکہ اب جب بات غیر ملکی سازش کی آتی ہے ، اور کسی بھی بھارتی شہر کی پولس فورس کو بدنام کئے جانے کی سازش کا انکشاف ہوتا ہے ، تو یہ دیش کا معاملہ بن جاتا ہے ، اس پر سیاست نہیں کرنی چاہئے ۔
سی بی آئی ، این آئی اے ، مرکزی وزارت داخلہ کا یہ فرض تھا کہ اس خبر پر وہ ممبئی کے پولس کمشنر سے یہ تو کہتے کہ اس معاملہ کی ہمیں جانکاری فراہم کرو ، وہ سب کے سب چپ ہیں ۔ کیوں ؟ کہیں چور کی داڑھی میں تنکا کا معاملہ تو نہیں ہے ؟
بہر حال ۔
اس دوران ، ممبئی پولس کے خلاف جو انٹرنیشنل سازش رچی گئی ، اس کے اہم پہلؤں پر روشنی ڈا لنے کیلئے کچھ سوالات کے جواب حاصل کرنا ضروری ہے ؛
(۱)جب سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کا کیس ممبئی پولس نے فائینل کردیا ، تب ممبئی پولس کوٹارگٹ کرنے کیلئے ایک بڑی سوشل میڈیا مہم لانچ کی گئی ۔ اس مہم کے پیچھے کون کون لوگ تھے ؟ یا کون سی تنظیمیں تھیں ؟
(۲) ان کو کس نے فائنانس کیا ؟ کہاں سے فائنانس آیا ؟
(۳) کیا یہ منی لانڈرنگ کا سلسلہ تو نہیں تھا ؟
(۴) اسی ہزار جعلی ٹوئیٹر اور سوشل میڈیا اکاؤنٹ کیسے راتوں رات بن گئے ؟ یقیناً ان کے پیچھے بڑے سرمایہ کے ساتھ ساتھ ایک بڑی فورس اور ٹیمیں کام کر رہی تھیں ،
(۵)کیا یہ لوگ فری میں کام کر رہے تھے ؟ کیا یہ کسی ایک مشترک کڑی سے جڑے تھے ؟ یقیناوہ PAID لوگ تھے ، جو ایک سازش کو کامیاب کرنے اور روبہ عمل کرنے کیلئے سرگرم تھے ، اور وہ ایک سازش کے تحت کام کر رہے تھے ۔
مندرجہ بالا نکات اور ابھرتے ہوئے سوالات سے ہی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سشانت سنگھ راجپوت کو انصاف دلانے کے نام پر ممبئی پولس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی اور جب وہ دباؤ میں نہیں آئی تو اسے بدنام کرنے کیلئے ایک مجرمانہ سازش رچی گئی اور اس پر عمل در آمد کیا گیا ۔
آج ریپبلک ٹی وی کے ایڈیٹر ارنب گوسوامی کی حمایت میں بھی ویسی ہی ایک بڑی مہم ممبئی پولس کے خلاف شروع کی گئی ہے ۔
ممبئی پولس نے جعلی ٹی آرپی کا جو اسکنڈل بے نقاب کیا ، وہ ممبئی کے پولس کمشنر پرم ویر سنگھ سے اسی پس پردہ سرگرم لابی کی دشمنی کا ایک اور سبب بن چکی ہے کہ پولس کمشنر سنگھ نے سشانت سنگھ راجپوت کیس میں آلہ کار بننے سے صاف انکار کیا تھا ، اور کچھ طاقتیں سشانت سنگھ
راجپوت خود کشی کیس کو ٹرن دے کر اس کا سیاسی فائدہ اٹھانے، یعنی ادتیہ ٹھاکرے کو پھنسانے اور شیوسینا کی قیادت والی مہاراشٹر سرکار کو بحران میں ڈالنے کیلئے ممبئی پولس کو استعمال کرنا چاہتی تھیں ۔ ان طاقتوں کا ایک ایجنٹ ریپبلک ٹی وی کا اینکر ارنب گوسوامی ہے ۔
اس لئے جہا ں ممبئی پولس اپنی تحقیقات پر قائم رہی ، اور اس ایجنڈہ کو جو دباؤ کی راج نیتی کے تحت انجام دیا جا رہا تھا ، ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ، تو وہ سازشی طاقتیں چراغ پا ہو گئیں ، انہوں نے ممبئی پولس کو بدنام کرنے کیلئے ایک بڑی سازش رچی ، اس سازش میں نفرت پھیلانے والا ٹی وی میڈیا تو شامل تھا ، البتہ سوشل میڈیا کا بھی بڑے پیمانہ پر غلط استعمال کیا گیا ۔
اس لابی کے میڈیا اور سوشل میڈیا کا چہرہ face )) بننے میں ارنب گو سوامی کو خوشی ہوئی ہو گی ، اور وہ آج بھی اپنے آقاؤں کے اشارے پر ان کے جھوٹی نیوز ، fake news کے ایجنڈہ کو آگے بڑھا رہا ہے ۔
ممبئی پولس کو ان اسی ہزار جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی بھنک ملی جو بہار الیکشن میں سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کو قتل کی جھوٹی داستان بنا کر پھیلانے کیلئے راتوں رات بنا دئے گئے تھے ، سشانت سنگھ راجپوت کیس کو ایک طرف بہار الیکشن میں ایجنڈہ کے کیلئے استعمال کرنے اسی کے ساتھ مہاراشٹر کی ٹھاکرے سرکار کو بھی بی جے پی کے ساتھ علیحدگی کی سزا کیلئے استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا ، جو ممبئی پولس اور ممبئی پولس کمشنر کے اس کیس میں نہیں جھکنے والے رویہ کی وجہ سے ناکام ہو گیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں