یوپی : اندھیر نگری چوپٹ راج

یوپی : اندھیر نگری چوپٹ راج
تکلف برطرف : سعید حمید
یہ یوگی کا یوپی ہے ،
یہ بی جے پی کا یوپی ہے ،
یہ دوسرا گجرات ہے ، جہاں جنگل راج ہے ،
اقتدار کی من مرضی سے سب کچھ ہورہا ہے ۔
قانون کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے ،
اور انصاف کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں ۔
المیہ تو یہ ہیکہ اس جنگل راج کو بالکل اسی طرح
ایک ماڈل راج بتایا جا رہا ہے ،
جس طرح کسی زمانہ میں نریندر مودی کے
( بطور وزیر اعلی عہدہ کے زمانہ میں ) گجرات کو
ماڈل راج قرار دیا جاتا تھا ۔
آج یوگی اور یوپی ، مودی اور گجرات کے نقش قدم
پر چل رہے ہیں تو کیا اس کا یہ مطلب ہے
کہ سنگھ پریوار یوگی کو مودی کے بعد ملک کے
وزیر اعظم کے عہدہ کیلئے تیار کر رہاہے ؟
ایک سوال یہ پوچھا جا سکتا ہے ؛
اگر کسی گینگسٹر کے ہاتھوں 8 پولس والوں کا قتل
کسی غیر بی جے پی سرکار کی ریاست میں ہوجاتا ،
مہاراشٹر یا کیرالا یا مغربی بنگال یا پنچاب وغیرہ میں تو ؟
کیسا غضب ہو جاتا ؟
مہاراشٹر میں دو سادھوؤں کی ماب لنچنگ میں ہلاکت پر
ارنب گوسوامی نے تو آسمان سر پر اٹھالیا تھا ،
لیکن اس کے بعد ہی بلند شہر میں دو سادھو قتل کردئیے گئے۔
یوپی کے دیگر علاقوں میں بھی کئی سادھو مارے گئے ۔
لیکن ۔
جیسا ہنگامہ مہاراشٹر کے معاملہ میں کیا گیا ،
جیسا شور مچایا گیا ،
کیا اترپردیش میں سادھوؤں کے قتل پر کوئی آواز اٹھی ؟
کسی نیوز اینکر نے اپنی زبان کھولی ؟
مہاراشٹر کے معاملہ میں زبان پر شعلہ ،
اور یوپی کے معاملہ میں زبان پر تالے ؟
میڈیا کا یہ رویہ کیوں ہے ؟ کس کے اشارہ پر ہے ؟
یہ بات بخوبی سمجھ میں آتی ہے ۔
مین اسٹریم میڈیا کہلایا جانے والا میڈیا ، بکاؤ میڈیا ہے ،
چونکہ یہ کارپوریٹ کا میڈیا ہے ،
یا پھر وہ میڈیا جو اب کارپوریٹ بن چکا ہے ،
اس لئے اس کی زبان خریداری جا چکی ہے ۔
یہ عوام کی آواز نہیں ، غلام کی آواز ہے ،
HIS- MASTER’S – VOICE
جو اپنے آقا کے اشارہ پر شور مچاتا ہے یا خاموش رہتا ہے ۔
اس لئے !!!
یوپی کی بدترین صورتحال پر اس نے خاموشی
اختیار کر رکھی ہے ۔
ورنہ ، یوپی کا حال تو بس ؛ اندھیر نگری چوپٹ راج
والا ہی بن کر رہ گیا ہے ۔
یوگی کے راج میں اتر پردیش کرائم پر دیش بن چکا ہے ،
یہ بات اعداد و شمار سے ثابت ہو رہی ہے ۔
نیشنل کرائم ریکارڈ بیوریو ، جو امت شاہ کے ماتحت
مرکزی وزارت داخلہ کا ادارہ ہے ،
اس کی رپورٹ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ جب سے یوگی
یوپی کے وزیر اعلی بنے ہیں ،
تب سے اس ریاست میں عورتوں کے خلاف جرائم
بھی 20 % بڑھ گئے ۔
رپورٹ میں یہ بتایا گیا کہ اتر پردیش میں اوسطاً
روزانہ گیارہ عورتوں کی عصمت دری کے کیس رپورٹ
کئے جاتے ہیں ، اور افسوس کی بات یہ ہیکہ
ہر سال ان جرائم کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب یوگی راج میں عورتوں کی عزت
تک محفوظ نہیں ہے ، زانی و بدکارمجرموں کے حوصلہ
بلند ہیں ، تو ایسی حکومت بدترلاء اینڈ آرڈر کی وجہ سے
برطرف کی جانی چاہئے !!!
مگر اندھے بھکت اس کی پیٹھ تھپتھپا رہے ہیں ۔
یوگی ادتیہ ناتھ جب 2017 ء میں یوپی کے وزیر اعلی بنے
تو ایس پی اور بی ایس پی کو حکومتوں پر الزام لگاتے تھے کہ ان
کی سرکار کے چلتے یوپی میں قتل ، عصمت دری ، ہفتہ وصولی
کی وارداتیں ہو رہی ہیں ،
مجرموں کے حوصلہ بلند ہیں ۔
مجرموں کے حوصلہ توڑنے کیلئے دوسرے ہفتہ میں
ہی انہوں نے ایک بیان داغ دیا ؛
ـــــاگر اپرادھ کریں گے تو ٹھونک دیا جائے گا ،
اس کے بعد انکاؤنٹرس ہونے لگے ،
اپنے عہدہ کے دو سال پورا ہونے پر انہوں نے
گذشتہ سال فخریہ دعوی کیا کہ یوپی پولس نے تین ہزار
انکاونٹرس کئے ، ۶۹ غنڈے مارے گئے ،
سات ہزار جیلوں میں ٹھونس دئیے گئے !!
انڈر ورلڈ کی کمر توڑدینے کا دعوی بھی کیا ،
لیکن ۔
کانپور کے گنگسٹر وکاس دوبے نے اس دعوی
کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں ،
وکاس دوبے نے جسطرح 8 پولس والوں
کا قتل کرنے کی ہمت دکھائی وہ یوگی سرکار کیلئے طمانچہ ہے ۔
یوپی پولس کا نام نہاد انکاؤنٹر ایک دکھاوا ہے ،
اس بات کا ثبوت ہے ۔
یوپی میں آج بھی مجرموں اور پولس کے درمیان اندرونی
گٹھ جوڑ قائم ہے ، جسے غلط بیان بازی سے چھپایا جا تارہا ہے !!!
یہ بات بھی وکاس دوبے واقعہ سے ثابت ہوگئی ،
جسے اس کے گھر پر چھاپہ کی قبل از وقت اطلاع
پولس والوں سے ہی مل گئی ،
اور اس کو چھاپہ مارنے والی پولس پر جوابی کارروائی کا بھرپور
موقعہ مل گیا ۔
وکاس دوبے نے پولس پر حملہ کیلئے اے کے ۴۷ رائفل ،
اور دیگر جدید اسلحہ جات کا استعمال کیا ،
پولس کا دعوی ہیکہ اس کے گھر میں ، (جسے غیر قانونی طور پر
منہدم کیا گیا اور ثابت کیا گیا کہ یوپی کا حال اندھیر نگری ، چوپٹ
راج ہی جیسا ہے ) اسلحہ ، بارود ، بم کا ذخیرہ موجود تھا ۔
اگر ایک نامی اور ہسٹری شیٹر مجرم کے گھر کے بارے میں
اسلحہ خانہ کی اطلاع یوپی پولس کو قبل از وقت نہیں تھی ،
اس کے خلاف قبل از وقت کارروائی نہیں کی گئی ،
تو پھر یوگی جی 2017 ء سے ٹھونک دینے کی جو زبان
استعمال کر رہے ہیں ،
تین ہزار سے زائد انکاؤنٹرس کا جو دعوی کر رہے ہیں ،
ان کی کیا حقیقت ہے ؟
یہ تو ایک عام قاری بھی جانتا ہے ۔
انکاؤنٹرس محض ہتھکنڈہ ہوتے ہیں ،
اگر ان کی کوئی حقیقت ہوتی تو وکاس دوبے
اپنے گھر میں ہی مارا جاتا ، آٹھ پولس والوں کو مار کر
فرار ہونے میں کامیاب نہیں ہوجاتا ۔
انکاؤنٹرسے اگر یوپی کے مجرموں میں خوف پیدا ہوتا ،
تو وکاس دوبے پولس کے مقابل اے کے ۴۷
اٹھانے کی ہر گز ہمت نہیں کرتا ۔
انکاؤنٹرس میں اگر کوئی حقیقت ہوتی تو
آٹھ پولس والوں کا قاتل خونخوار مجرم وکاس دوبے
کسی بکری کے بچہ کی طرح اجین میں گرفتار نہیں ہوتا ،
کسی انکاؤنٹر میں ہی مار دیا جاتا ۔
وکاس دوبےکا پر ارسرا ر قصہ ہی یوگی سرکار اور یوپی پولس
کی اصلیت کا پردہ فاش کرنے کافی ہے !!!

اپنا تبصرہ بھیجیں