میڈیا ہاؤس کی ضرورت اور ہمارا اصل مسئلہ

میڈیا ہاؤس کی ضرورت اور ہمارا اصل مسئلہ
اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ
وطن عزیز میں مسلمانوں کے حوالے سے میڈیا جس قسم کی فضا ہموار کرر ہی ہے اس کو لے کر سنجیدہ اور دانشور حلقے میں بڑی تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ علاقائی ہو یا قومی سطح کا قدرتی یا انسانی غلطی کے نتیجے میں رونما ہونے والا کوئی حادثہ، ملکی میڈیا کا اس کے پیچھے مسلم چہرہ تلاشنے کی روش نے ایک ایسے میڈیا ہاؤس کی ضرورت اشد ضروری کر دی ہے جو ہر قسم کے تعصب سے بالاتر، ملک میں امن و بھائی چارگی کی فضا ہموار کریں۔ اس کے لئے مسلم دانشوروں اور ملی رہنماؤں کے ایک بڑے طبقے میں شد و مد سے گفتگو بھی شروع ہوچکی ہے۔ لیکن اصل مسئلہ کی طرف خال خال ہی کسی کی توجہ مبذول ہورہی ہے۔
اس بات سے شایدہی کسی کو انکار ہو کہ موجودہ دور اور مستقبل ِ قریب اور بعید میں، کسی بھی قوم کی معاشی اور سیاسی ترقی میں میڈیا کا کردار بہت ہی اہم رہے گا۔ بغیر میڈیا کے سہارے کے عوام میں اپنی بات رکھنا، اپنے حق میں رائے عامہ ہموار کرنا، چاہے آپ سو فیصد حق پر ہی کیوں نہ ہوں ناممکن ہوگا۔افسوس اس بات پر ہے کہ اتنا کچھ سمجھ کر اور جان کر بھی ہمارے قائدین خاموش اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہوئے ہیں۔ آخر اس غفلت اور میڈیا سے دوری اختیار کرنے کی وجہ کیا ہے۔ حال ہی میں مسلمانوں کی ایک بڑی اصلاحی تنظیم پر کورنا وائرس پھیلانے کا الزام میڈیا میں بڑے زور وشور اور شدت کے ساتھ لگایا گیا۔عجب قسم کی کہانیاں تراشی گئیں اور اس کے آڑ میں تمام مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ لیکن ان سارے الزامات کے جواب میں اس اصلاحی تنظیم کی جانب سے نہ کسی نے میڈیا کے آگے آکر اپنا موقف رکھا نہ الزامات کی صفائی دی بلکہ الٹا ایسی چپی سادھی گئی کہ ملک کا سنجیدہ طبقہ بھی میڈیا کی باتوں کو ہی حقیقت سمجھنے لگا۔ حالانکہ ایسے حالات میں یہ بے حد ضروری ہوجاتا ہے کہ فورا اپنے معاملات کی وضاحت پیش کریں تاکہ کوئی بھی کسی قسم کے وسوسے کا شکار نہ ہو اور یہ عین سنت نبی ﷺ ہے۔اس حوالے سے ام المومنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا ایک واقعہ احادیث کی کتابوں میں موجود ہے۔ وہ فرماتی ہیں، آپ ﷺ مسجد نبوی میں معتکف تھے۔ ایک رات میں آپ ﷺ کی زیارت کے لئے حاضر خدمت ہوئی۔ بات چیت کے بعد میں جانے کے لئے کھڑی ہوئی تو آپ ﷺ بھی میرے ساتھ کھڑے ہوگئے تاکہ مجھے گھر تک چھوڑ آئیں۔ حضرت صفیہؓ کی رہائش حضرت اسامہ بن زید ؓ کے گھر میں تھی۔ اس دوران دو انصاری صحابی ؓ کا وہاں گزر ہوا۔ جب انہوں نے آپ ﷺ کو دیکھا تو چلنے میں تیزی کی۔ یہ منظر دیکھ کر جناب رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا،آرام سے چلو(میرے ساتھ موجود خاتون) صفیہ بنت حیی (ام المو منین) ہیں۔ (یہ سن کر) انہوں نے عرض کیا،سبحان اللہ! اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے بارے میں معاذ اللہ کسی بد گمانی میں مبتلا ہوسکتے ہیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا، بے شک شیطان انسانی جسم میں خون کی مانند دوڑتا ہے۔ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں وہ تمھارے دلوں میں میری طرف سے کوئی بری بات نہ ڈال دے۔
دین کو سو فیصد زندگیوں میں لانے کی بات کرنے والے کاش! اس ایک حدیث پر ہی عمل کر لیتے تو کم از کم ملک کے ایک بڑے طبقے پر اتمام حجت تو مکمل ہوجاتا۔ جب رسوال اکرم ؐخودصحابہ کے دلوں میں اپنے تعلق سے کسی قسم کی بد گمانی پیدا نہ ہو آگے بڑھ کر اپنی بات رکھ رہے ہیں تو پھر آخر کیا وجہ ہے کہ بدترین الزام کے باوجود اس اصلاحی تنظیم کی جانب سے میڈیا کے روبرو آج تک کوئی صفائی پیش نہیں کی گئی۔ در اصل سچائی یہ ہے کہ یہ میڈیا کو اصولی طور پر ناجائز اور حرام سمجھتے ہوئے اس سے مکمل اجتناب برتنے کی ایک واضح مثال ہے۔ وطن عزیز میں ملت کا مزاج بھی کم وبیش یہی ہے، وہ میڈیا سے مستفیض تو ہونا چاہتی ہے لیکن بنیادی طور پر اُسے اور اس سے جڑے کاروبار کو ناجائز اور حرام سمجھتی ہے کیونکہ اس میں تصویرکشی اور موسیقی کا مسئلہ آتا ہے۔ یہی اصل سبب ہے میڈیا سے دوری اور اسے نظر انداز کرنے کی۔
میڈیا ہاؤس کے لئے پہلی بنیاد سرمایہ ہے۔ سرمایہ دار چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہوضعیف العتقاد ہوتے ہیں، انہیں اپنے سرمائے کے ڈوب جانے کا ڈر اکثر روایتی مذہب کا پیرو بنا دیتا ہے۔مسلمان سرمایہ داروں کی اکثریت بھی روایتی مذہب کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا پسند کرتی ہے اور روایتی مذہب میں جن چیزوں کو حرام اور ناجائز ٹہرا دیا گیا ہو اس پر اپنا سرمایہ لگانا ہر گز پسند نہیں کرے گی۔ فارغین مدرسہ کی اکثریت جو موجودہ دور میں روایتی مذہب کے کٹر مقلد مانے جاتے ہیں وہ بھی اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے ان سرمایہ داروں کو ایسے حرام اور ناجائز کاموں سے بچنے کی لگاتار تلقین کرتے رہتے ہیں۔اسی وجہ سے آج تک مسلمان سرمایہ داروں نے میڈیا کے میدان میں سرمایہ کاری کرنے سے گریز کیا ہے۔ ایسے میں ایک مبنی بر انصاف میڈیا ہاؤس کے سرمایہ کہاں سے فراہم ہوگا؟
میڈیا ہاؤس کے لئے دوسری بنیاد افراد ہیں۔ شب و روز اور بغیر ناغہ کے چلنے والے میڈیا ہاؤس کے لئے ہر میدان کے با ہنر، با صلاحیت، دور اندیش اور محنتی افراد کی ضرورت ہوتی ہے جو اپنے کام کے تعلق سے کسی قسم کی احساس جرم اور ندامت کا شکار نہ ہوں، کہ وہ جو کر رہے ہیں مذہب میں اس کی حیثیت ناجائز اور حرام کی ہے، کل بارگاہ ایزدی میں انہیں اس کے لئے جواب دینا ہوگا۔ ایسے میں اسلامی ذہنیت کے حامل افراد کیسے دل جمعی اور خلوص کے ساتھ اس سے جڑ سکتے ہیں یہ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
حاصل کلام یہ ہے، اگر ہم سمجھتے ہیں کہ عوام کے آگے اپنی بات رکھنے کے لئے، ہمارے اوپر لگائے جانے والے ہر الزام کا جواب دینے کے لئے، ہمارے آباؤاجداد کے کارناموں کو اپنی آنے والے نسلوں کے ذہنوں میں تازہ رکھنے کے لئے، تاریخ میں ہمارے تعلق سے جو غلط بیانیہ داخل کی جارہی ہیں ان کو صحیح کر نے کے لئے، ہمیں ایک میڈیا ہاؤس کی اشد ضرورت ہے تو سب سے پہلے میڈیا کے تعلق سے ناجائز اور حرام ہونے کاجو روایتی بیانیہ ہمارے درمیان رواج پاچکا ہے اس پر قرآن اور سنت کی روشنی میں نظر ثانی کرنی ہوگی۔ امت کو ہر بات پر ناجائز اور حرام کے فتوے دے کر احساس جرم میں مبتلا رکھنے کی ذہنیت کو رد کرنا ہوگا۔ تبھی جا کر خیر اور انصاف پر مبنی میڈیا ہاؤس کا خواب شرمندہء تعبیر ہوسکتا ہے۔ اللہ ہمیں صحیح سمجھ دے۔ ( فیس بک پوسٹ )

اپنا تبصرہ بھیجیں