1896 ء : جب بامبے شہر میں طاعون کی وبا سے دہشت پھیل گئی

1896 ء : جب بامبے شہر میں طاعون کی وبا سے دہشت پھیل گئی

سعید حمید
ممبئی : (تحقیقات ایکسپریس بیورو ) ستمبر ۱۸۹۶ ء میں برٹش بامبے میں ایک بھیانک وبا ء نے سر ابھارا تھا ، وہ طاعون (PLAGUE)
کی وبا ء تھی ، جو چوہوں سے انسانوں میں پھیلنے لگی ، اس وبا ء کی روک تھام کیلئے سرکار نے سخت قدم اٹھائے ، اس کیلئے ایک قانون
(THE EPIDAMIC DISEASES ACT ,1897 ) بنایا گیا ، اس کے قانون کا استعمال 120 سال بعد کورونا وائرس کی وبا ء پھیلنے کے بعد ممبئی شہر میں پھر سے کیا جا رہا ہے ، وقت اور زمانہ بدل گیا ہے ۔ اقتدار بھی بدل گیا ہے لیکن طاعون کی وبا ء سے نمٹنے کیلئے اور کورونا وائرس کی وبا ء پر قانون پانے کیلئے ایک ہی قدیم قانون کا سہارا لیا جارہا ہے ، اور دونوں ہی حالات میں کافی یکسانیت پائی جا رہی ہے ۔ اس زمانہ طاعون کی وبا ء نے جیسی دہشت بامبے شہر میں پھیلائی تھی اور جس طرح بامبے میں کام کاج ، روزگار اور روز مرہ کی زندگی اسی طرح ٹھپ ہوگئی تھی ، جس طرح کرونا وائرس کی وجہ سے دنیاکے کئی ممالک میں معمول زندگی متاثر ہوگئی اور سب کچھ ٹھپ ہوکر رہ گیا ۔
یہ بات ریکارڈس سے ظاہر ہوتی ہے کہ بامبے میں طاعون کا پہلا مریض مانڈوی ( بھنڈی بازار ) میں ایک ڈاکٹر نے دریافت کیا تھا ، اس ڈاکٹر کا نام اکیسیو گیبریل ویگاس ACASIO GABRIEL VIEGAS تھا ، اس نے ستمبر ۱۸۹۶ ء میں طاعون کا پہلا مریض دریافت کیا ، اورپھر شہر بھر میں یہ وبا ء جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی جس پر قابو پانے کیلئے برٹش گورنمنٹ نے سختیاں بھی کیں اور اس کیلئے خاص قانون بھی بنایا ۔میونسپل انتظامیہ نے اعلان کیا کہ بامبے شہر میں چوہوں کے ذریعہ طاعون کی وبا ء پھیل گئی ہے ، لیکن جلدی جلدی میں اس وبا ء سے نمٹنے کیلئے جو عارضی دواخانہ اور کیمپ کھولے گئے وہ انتہائی خستہ ،شکستہ تھے ۔اس لئے وہ موثر ثابت نہیں ہوئے اور طاعون کی وبا ء بامبے کیلئے مہلک بن گئی ۔اس بیماری نے شہریوں میں دہشت پیدا کردی اور حکام کے بھی ہاتھ پیر پھول گئے ۔
اس وبا ء نے شہر میں گویا قیامت ڈھا دی تھی ۔
ستمبر 1896 ء میں اس کا پہلا مریض دریافت ہوا ، اور چھ مہینہ میں یعنی مارچ 1897 ء تک اس وبا ء کی لپیٹ میں آکر شہر میں دس ہزار افراد موت کا شکار بن گئے تھے ۔ یہ تعداد بہت زیادہ تھی کیونکہ اس زمانہ میں بامبے شہر کی آبادی بھی آج کے مقابلہ بہت کم تھی ۔
۱۸۹۱ ء کی مردم شماری کے مطابق بامبے شہر کی آبادی آٹھ لاکھ بیس ہزار تھی۔
۱۹۰۱ ء کی مردم شماری سے پتہ چلا کہ شہر کی آبادی کم ہوگئی ۔ اس مردم شماری میں بامبے کی آبادی سات لاکھ اسی ہزار تھی ۔
طاعون کی وبأ نے جو قہر شہر میں ڈھایا اس کے مدنظر حفظان صحت کے نظریہ سے حکام نے سخت اقدامات شروع کردئیے اور اس کیلئے ایک سخت گیر قانون بھی بنایا جس کا مقصد وباء کو روکنے کیلئے سرکاری کاموں میں مدد تھا ۔ اس برٹش قانون کا سہارا آج کرونا وائرس کی وبا ء سے نمٹنے کیلئے لیا جارہا ہے ۔ طاعون کی وبا ء کا زیادہ اثر مزدور اور غریب علاقوں میں تھا ۔
۱۸۹۶ ء میں ماہ ستمبر میں طاعون کی وبا ء شروع ہوئی تھی ، اس سال موسم سرما میں اس کی شدت زیادہ ہوتی چلی گئی ۔
سال کے آخر تک شہر میں طاعون کے 2544 کیس سامنے آئے جن میں سے 1936 افراد کی موت واقع ہوگئی ، اس طرح موت کی شرح اس وبا ء میں بہت زیادہ تھی ۔دسمبر ۱۸۹۶ ء میں ہی طاعون سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1271 تھی ۔ اس وبا ء نے شہر پر ایسی دہشت طاری کی کہ لوگ شہر چھوڑ چھوڑ کر بھاگنے لگے ۔اکتوبر ۱۸۹۶ ء میں ہی یعنی وبا ء پھوٹ پڑنے کے ایک مہینہ بعد ہی بیس ہزار افراد شہر سے فرار ہوگئے ، اس زمانہ کی آبادی کے تناسب سے یہ تعداد بہت زیادہ تھی ۔
شہر میں اموات کی شرح بھی بڑھتی رہی اور دہشت زدہ شہریوں کے شہر چھوڑ کر فرار ہونے کا سلسلہ بھی جاری رہا ۔
اس سال کے آخر تک ایک لاکھ ۷۱ ہزار افراد شہر چھوڑ کر جاچکے تھے ، اور چھ ماہ میں یعنی ۱۸۹۷ ء کے موسم بہار تک چار لاکھ افراد شہر سے باہر جاچکے تھے ، یعنی شہر کی نصف سے کچھ کم آبادی نے اس وبا ء کی دہشت سے شہر چھوڑ دیا تھا ۔شہر ویران سا ہوگیا تھا ، کاروبار ٹھپ ہوچکے تھے ، وبا ء نے ایک اچھے خاصے شہر کو اجاڑ دینے کا کام کردیا تھا ، اس طرح کی ایک جھلک کرونا وائرس کی وجہ سے صرف ایک شہر نہیں بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں دکھائی دے رہی ہے

1896 ۔بامبے : طاعون کی وبا ء سے سفر حج پر پابندی

ممبئی:ایک زمانہ میں بامبے شہر باب مکہ کہا جاتا تھا ، وہ برٹش زمانہ تھا ۔مرکزی ایشیا ء کے کئی ممالک سے بھی جو عازمین حج جاتے تھے ، وہ بامبے کی بندرگاہ سے ہی جدہ جاتے تھے ، اور پھر حج کیا کرتے تھے ۔ بامبے سے حج کیلئے جانے والے حجاج کرام کے سفر حج کے انتظامات کی ذمہ داری 1892 ء تک ایک ٹور اینڈ ٹراول کمپنی تھامس کک اینڈ سنس
ٔ THOMAS COOK & SONS کے سپرد تھی ۔لیکن 1892 ء میں یہ ذمہ داری ختم کردی گئی ۔ 1893 ء سے حاجیوں کے بندرگاہ بامبے سے ، جسے عرف عام میں بامبے گودی کہا جاتا تھا ، سفر حج کے انتظامات کی ذمہ داری بامبے پولس کمشنر پر ڈال دی گئی ۔ پولس کمشنر آف بامبے کی اس کام میں ان کا پلگرم ڈپارٹمنٹ ، ہاربر پولس اور ڈیویزنل پولس کا عملہ کیا کرتا تھا ۔ بندرگاہ بامبے میں ایمبارکیشن شیڈ بنے ہوئے تھے ، اور بحری سفر کی کارروائی کئی مراحل میں انجام دی جاتی تھی ۔ اس کیلئے عازمین حج کو بندرگاہ کے ایمبارکیشن شیڈ میں لایا جاتا تھا ۔ بامبے پولس کے زیر انتظام 1893 ء میں بامبے سے 13500 ( تیرہ ہزار پانچ سو ) عازمین حج بحری جہازوں سے روانہ ہوئے تھے ۔ یہ سال اس لئے بھی انتہائی حساس تھا کہ اس سال بامبے میں بھیانک ہندو مسلم فساد ہوا تھا ۔ 1895 ء تک عازمین حج اتنی ہی تعداد میں بامبے سے جدہ سفر حج کیلئے بحری جہازوں کے ذریعہ جاتے رہے ۔
اس کے بعد بامبے شہر میں طاعون کی وبا ء پھیلہ گئی ، اس کا اثر یہاں سے جانے والے حاجیوں پر بھی پڑا ۔ عالمی دباؤ بھی تھا کہ بامبے سے تمام بحری جہازوں کی آمد و رفت اس وبا ء کے سبب روک دی گئی تھی ۔ اس طرح بامبے سے سفر حج پر احتیاط کے طور پر پابندی عائد کی گئی جو کئی برس جاری رہی ، اس پابندی کی وجہ سے کئی برس تک برٹش انڈیا اور دیگر ایشیائی ممالک کے ہزاروں مسلمان حج نہیں کرسکے ، اور مکہ جانے کی ان کی خواہش ادھوری رہی ۔
طاعون کی بیماری کا اثر کئی برس تک رہا ، اس دوران بامبے سے جانے والی حج ٹرافک بالکل ختم ہوگئی ۔ سنٹرل ایشیا کے عازمین بھی بامبے سے جایا کرتے تھے ، ان ممالک کے 1300 عازمین 1898 ء میں یہاں پہنچے کہ حج کو جائیں لیکن حج کے بحری جہازوں سمیت سارے بحری جہازوں پر پابندی کی وجہ سے وہ بھی نہیں جاسکے اور انہیں واپس لوٹا دیا گیا ۔ ہر سال عازمین حج کو لوٹانے کا سلسلہ طاعون کی وبا ٔ کے سبب جاری تھا ۔ حج ٹرافک جب تک دوبارہ شروع نہیں ہوئی اور بحری جہازوں کو بامبے سے بیرون ممالک جانے کی اور سفر کی دوبارہ اجازت نہیںملی ، تب تک بامبے سے سفر حج کا سلسلہ بھی بند ہی رہا ۔اور کسی بھی عازم کو حج کیلئے روانہ ہونے نہیں دیا گیا ۔ طاعون کو دیگر ممالک تک پھیلنے سے روکنے کا یہ احتیاطی قدم تھا ۔

( حوالہ : بامبے سٹی پولس ؛ مصنف ؛ ایس ایم ایڈورڈ )
بامبے ۱۸۹۶ ء : طاعون کی وبا ء سے چھ سال سفر حج بند
ممبئی:طاعون کی وبا ء پھیل جانے کی وجہ سے باب مکہ کہلائے جانے والے بامبے شہر سے بحری جہازوں کے ذریعہ سفرحج کی روانگی کا سلسلہ ۱۸۹۶ ء میں روک دیا گیا تھا ۔ سفر حج پر چھ سال تک یہ پابندی عائد رہی ۔ بامبے سے تمام ممالک کو بحری جہازوں کی روانگی پر پابندی تھی اور کسی بھی باہری بحری جہاز کا بامبے آنا ممنوع تھا ۔ طاعون کی وبا ء کو پھیلنے سے روکنے کیلئے یہ قدم اٹھایا گیا تھا ۔ بامبے سے انڈیا ہی نہیں بلکہ کئی سنٹرل ایشیائی ممالک کے مسلمان بھی حج کیلئے جاتے تھے ، وہ بار بار بامبے آتے تھے ، کہ مکہ جائیں لیکن ہر بار انہیں واپس کردیا جاتا تھا ۔ آخر کار سرکاری طور پر طاعون کی وبا ء پر قابو پانے کا اعلان ہوجانے کے بعد ۱۹۰۲ ء میں حج کیلئے بحری سفر کا بامبے سے آغاز کیا گیا ۔اس پابندی کے ختم ہوتے ہی سب سے پہلے ایک ہزار حاجی بامبے آئے تاکہ سفر حج کیلئے جاسکیں اور برٹش انڈیا کے صوبوں سے تعلق رکھنے والے تین ہزار ۳۷۶ حاجی واپس اپنے گھروں کو روانہ ہوئے ، جو حج کرکے واپس آئے تھے ۔اس طرح طاعون کی وبا ء نے جس طرح برٹش انڈیا کے مسلمانوں کا سفر حج کا سلسلہ بندکردیا تھا ، اور جس کی وجہ سےمسلمانان ہند میں شدید مایوسی تھی ، غصہ بھی تھا ، وہ سفر حج کے دوبارہ شروع ہونے سے ختم ہوا ۔جس سال حج دوبارہ شروع ہوا ، اس سال بہت کم حاجی بامبے آئے اور حج کیلئے روانہ ہوئے ۔
۱۹۰۲ ء میں تو حج کے لئے جانے والے حجاج کرام کی اس سال تعداد بہت کم تھی ۔لیکن اس کے دوسرے سال یعنی ۱۹۰۳ ء میں حج کے لئے جانے والے عازمین کی تعداد میں بڑا اضافہ ہوا ۔ اس سال آٹھ ہزار سات سو مسلمان حج کیلئے روانہ ہوئے تھے ۔
لیکن ۱۹۰۴ ء میں بامبے سے حج کیلئے جانے والے برٹش انڈیا کے مسلمانوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا ۔ ۱۹۰۴ ء میں سولہ ہزار ۵۹۳ عازمین بامبے سے حج کیلئے روانہ ہوئے تھے ۔ بامبے کے پولس کمشنر نے جن کے ذمہ حجاج کرام کے سفر حج کی ذمہ داری تھی ، حاجیوں کی تعداد میں اس اضافہ کا سبب یہ بتایا کہ ۱۹۰۴ ء کا حج در اصل حج اکبر تھا ، ہر دس سال میں حج اکبر ہوا کرتا تھا ، اس لئے حج اکبر میں فریضہ حج ادا کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہوگئی ۔لیکن اعداد و شمار کے مطابق حج اکبر سے بھی قطع نظر ، ہر سال حاجیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا گیا ۔۱۹۰۵ ء میں انیس ہزار حجاج کرام حج کیلئے جدہ روانہ ہوئے تھے ، اور ان میں سے صرف چوہ ہزار واپس آئے ۔ اس طرح ۱۹۰۶ ء میں بندرگاہ بامبے سے چوبیس ( ۲۴ ) ہزار تین سو عازمین حج کیلئے گئے اور صرف سولہ ہزار واپس آئے ۔ جو حجاج کرام بامبے سے جارہے تھے ، ان میں برٹش انڈیا کے حاجیوںکے علاوہ سیلون، جاوا، بخارہ ، ترکستان اور سنٹرل ایشیا کے دیگر ممالک کے مسلمان بھی شامل تھے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں