دنیا نے بھی دیکھا ،مزدور نے بھی دیکھا ..مگر؟

دنیا نے بھی دیکھا ،مزدور نے بھی دیکھا ..مگر؟
لمحہ فکریہ
ایم انعام الحق
کورونا کی مہاماری نے دنیا کا نظام تتر بتر کردیا ہے، مزدور سے عام انسان، عام انسان سے مالدار سب معاشی تنگی کا شکار ہے، سب کی تجارت بند پڑچکی ہے، پیسے تو ہیں مگر بینک کے کھاتے میں محفوظ ہیں، مگر چند ایسے بھی ہیں جنہیں ایک روٹی بھی میسر نہ آتی ہے، جو روز کا روز کما کر کھاتے ہیں، جنہیں ہندوستانی اصطلاح میں ” مزدور ” کے نام سے جانا جاتا ہے، مزدور تو ہر وہ شخص ہے جو کسی دکان پر نوکری کرتا ہے، مگر مزدور ایسوں کو کہا جاتا ہے جو عام ضروریات زندگی کے کام کاج پر مقرر ہو، جیسے عمارت کی تعمیروغیرہ۔
اس دشوار گزار وقت میں جہاں حکومتیں، اور بذات خود سپر پاور کہنے والے بھی عاجز نظر آئے، مگر اس غم و الم کے اس خوفناک ماحول میں امت محمدیہ کے جیالے جن کی تخلیق اسی مقصد سے کی گئی تھی، جنہیں اسی کام کا سبق سکھایا گیا تھا ، جنہیں اسی دعوت کا پیغام دے کر بھیجا گیا تھا جس پیغام کو آج بھارت کے غیور مسلمانوں نے کر دکھایا، جس اخلاق کو آقائے کائنات لے کر آئے تھے اس کو کردکھایا، ہندوستان کا کوئی خطہ ایسا نہیں ہے جو گواہی نہ دے کہ اس سرزمین پر مسلمان کا قدم پڑا ہے، مشرق سے مغرب تک، جنوب سے شمال تک، ہر شہر ، ہر قریہ ، ہر علاقہ میں مسلم بھائیوں نے اپنی جان خطرہ میں ڈال کر بلا تفریق مذہب ہر گھر راشن پہونچایا ہے، جب مزدور مارے بھوک کے راستوں پر چلنا شروع کردیا، ریل کی پٹریوں پر سفر کا آغاز کردیا جس وقت اقتدار پر بیٹھے ہوئے صاحبان خاموش تماشائی بنے تماشا دیکھ رہے ہیں، اس وقت یہی مسلمان ہیں جنہیں اندھی عقل کے مارے احمق دہشت گردی کا طعنہ دیا کرتے ہیں، ان لوگوں نے بھی دیکھا جو مارے ڈر کے قید و بند کی زندگی گزار رہے تھے اس وقت مسلمان ہی تھے جو ریل کی پٹریوں پر، دیہاتوں کے تاریک ماحول میں، بے سہارامسافروں کے سہارا بن رہے تھے، جنہیں اپنی جان پیاری نہ تھی بلکہ مزدوروں کی جان پیاری تھی، جہنیں اپنے گھر کی خبر نہ تھی بلکہ مزدوروں کی خبر گیری کی فکر ستا رہی تھی، وہ خود بھوکے تھے مگر بھوکوں کو کھانا کھلانے میں مگن تھے، وہ خود تھکے ہارے تھے مگرمزدوروں کی تھکاوٹ دور کرنے میں حساس تھے، انہوں نے نہ دن کا وقت دیکھا نہ رات کا وقت دیکھا، نہ رات کے بدلتے نظارے دیکھے، نہ دن میں طلوع ہوتے سورج کو دیکھا بلکہ فکر یہی تھی کہ مزدور گھر کیسے پہونچ جائیں؟، مزدور کھانا کیسے کھائے؟ اللہ سبھوں کو جزائے خیر دے اور سب کی خدمات کو قبول فرمائیں، اور اپنی شان کے مطابق بدلہ دے، مگر سوچنے اور غور کرنے کی بات ہے جب میں نے دیکھا کہ ایک رپورٹر نے سڑک پر گزرتے ہوئے مزدوروں سے سوال پوچھا کہ تمہارا اقتدار پر بیٹھے ہوئے تماشائی کے متعلق اب کیا خیال ہے ؟ انہوں نے تمہارے لئے کچھ نہیں کیا؟ تو اس جادوئی مزدور کا جواب یہی ہوتا ہے ان کا کیا قصور ہے؟ یہ سزا تو ہم کو تبلیغیوں نےدی ہے،مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں نے دی ہے یہ کورونا ورونا سب مسلمانوں نے پھیلایا ہے، اس کا ذمہ دار مسلمان ہے اس کی سزا مسلمانوں کی دی جاتی چاہئے؟ اب آپ سینہ کو تھامئیے اور غور سے سوچیے کہ کیا مسلمانوں نے پھیلایا ہے؟ کیا یہ ذہنیت ملک کو تباہی نہیں کرے گی؟ کیا اس پر روک لگانا ہمارا فرض نہیں بنتا ہے؟
“کتا اپنے مالک کا وفادار ضرور ہوتا ہے مگر مالک اسے دیکھنا ضروری نہیں”
جواب کا منتظر!

اپنا تبصرہ بھیجیں