مادھوسدا شیو گولوالکر : آر ایس ایس کا ایک اہم ماسٹر مائینڈ

مادھوسدا شیو گولوالکر : آر ایس ایس کا ایک اہم ماسٹر مائینڈ
بھارت اور پاکستان کے درمیان مسلمان اور ہندو قیدیوں کے درمیان تبادلہ کا یہ معاہدہ گولوالکر کے اس زمانہ میں سردار ولبھ بھائی پٹیل کے ساتھ تعلقات کا ثبوت بتایا جاتا ہے ۔اس کا مطلب یہ ہیکہ آر ایس ایس کو آزادی سے پہلے اور بعد میں بھی سرکاری صفوں کے اندر سے بھی برابر مدد ملتی رہی ۔ اس لئے مصنف نلنجن مکھوپادھیائے نے بھی لکھا کہ آر ایس ایس کا روز اول سے ہی حکومت کے اندر سیاسی اثر رہا ہے

خصوصی رپورٹ : سعید حمید
ممبئی : مصنف نلنجن مکھوپادھیائے نے اپنی کتاب ـ’’ آر ایس ایس : بھارتی دایاں بازو کے بت ـ‘‘
The RSS : Icons of Indian Right میں آر ایس ایس کے دوسرے سر سنگھ چالک مادھو سدا شیو گولوالکر کے بارے میں لکھا کہ ایم ایس گولوالکر کا ( آزادی کے وقت ) اس قدر اثر تھا کہ وہ سندھ سے آنے والے کسی بھی آر ایس ایس ورکر کی گم شدگی پر سیدھے نائب وزیر اعظم ولبھ بھائی پٹیل سے مل سکتے تھے ۔(صفحہ نمبر : ۱۰۰ )
اس کتاب میں بھارت کے نائب وزیر اعظم تک گولوالکر کے قریبی اور راست تعلقات کے ثبوت میں یہ بتایا گیا کہ آزادی کے بعد کراچہ میں آر ایس ایس کے کئی ورکرس کو بم دھماکوں اور دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا ، ان میں سے دو کو عمر قید کی سزا بھی ملی تھی ، آر ایس ایس کے اس دہشت گرد نیٹ ورک کا انکشاف تب ہوا جب کراچی کے ایک بنگلہ میں کچھ سوئم سیوک بم بنارہے تھے اور اچانک بم بلاسٹ ہو گیا ، اس سے ان کی پول کھل گئی ۔بم بنانے ، بم دھماکہ کرنے اور دہشت گردی کے الزام میں ملوث آر ایس ایس ورکرس کی فہرست میں لال کرشن اڈوانی کا بھی نام تھا ، لیکن وہ پولس کی گرفت میں آنےسے قبل کراچی سے بھارت آنے میں کامیاب رہے لیکن پاکستانی پولس کی فہرست میں انہیں مطلوب ملزمیں اور بھگوڑوں کی حیثیت سے درج کیا گیا تھا ۔
مصنف نے اپنی مذکورہ کتاب میں انکشاف کیا کہ آر ایس ایس کے تیس ورکرس کو پاکستانی پولس نے ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے کے الزام میں چارج شیٹ کیا تھا ، ان میں سے دو کو عمر قید اور بقیہ کو مختلف سزائیں سنائی گئیں ۔ وہ جیلوں میں سزا کاٹ رہے تھے ، لیکن تین مہینہ بعد ہی ان تمام تیس آر ایس ایس ورکرس کا بھارت میں قید مسلمان قیدیوں کے عیوض تبادلہ ہوا اور وہ بھارت لائے گئے ۔ مصنف
نلنجن مکھوپادھیائے کا کہنا ہے کہ ان تیس آر ایس ایس ورکرس کی پاکستان سے رہائی اور بھارت لانے میں آر ایس ایس پرمکھ گولوالکر کا ہاتھ تھا ۔بھارت اور پاکستان کے درمیان مسلمان اور ہندو قیدیوں کے درمیان تبادلہ کا یہ معاہدہ گولوالکر کے اس زمانہ میں سردار ولبھ بھائی پٹیل کے ساتھ تعلقات کا ثبوت بتایا جاتا ہے ۔
اس کا مطلب یہ ہیکہ آر ایس ایس کو آزادی سے پہلے اور بعد میں بھی سرکاری صفوں کے اندر سے بھی برابر مدد ملتی رہی ۔ اس لئے مصنف نلنجن مکھوپادھیائے نے بھی لکھا کہ آر ایس ایس کا روز اول سے ہی حکومت کے اندر سیاسی اثر رہا ہے ۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان قیدیوں کا یہ تبادلہ نومبر ۱۹۴۷ ء میں ہوا ۔
جنوری ۱۹۴۸ ء کو ناتھو رام گوڈسے نے مہاتما گاندھی کا قتل کردیا ۔
فروری ۱۹۴۸ ء میں آرا یس ایس پر پابندی عائد کی گئی ، اور اس وجہ سے ہی آر ایس ایس چیف ہونے کے سبب مادھو سدا شیو گولوالکر بھی گرفتار ہوئے ۔البتہ چھ مہینہ میں ان کو رہا کردیا گیا ، رہائی کے بعد انہوں نے سردار پٹیل سے مل کر آر ایس ایس کیلئے کوششیں شروع کیں جس کے نتیجہ میں ، ایک برس میں ہی آر ایس ایس پر سے پابندی اٹھا لی گئی تو اس بات کو بھی یہ کہا جاتا ہے کہ سرکار میں آر ایس ایس اور گولوالکر کے اثر و تعلقات کا نتیجہ تھا ، کہ راشٹر پتا کے قتل کے باوجود اس آر ایس ایس کے خلاف جس کے سوئم سیوک مہاتما گاندھی کے قتل پر خوشیاں مناتے اور مٹھائی تقسیم کرتے پائے گئیے ، اس آر ایس ایس پر جیسا کریک ڈاؤں ہونا چاہئے تھا ، ویسا نہیں ہوا ۔
بھارت میں دایاں بازو انتہا پسند طبقہ کی جو نمایاں شخصیات ہیں ، ان میں ساورکر ۔ ہیڈگیوار ۔ گوڈسے کی طرح گولوالکر کا تعلق بھی مہاراشٹر سے رہا ہے ، اور وہ سب کے سب براہمن رہے ہیں ۔ گولوالکر نے بنارس ہندو یونیورسٹی سے بی ایس سی کیا تھا ۔اور پھر ایم ایس سی کی ڈگری بھی حاصل کی ۔اور وہیں لیکچرار کی نوکری کرلی ، اس لئے انہیں گرو جی بھی کہا جانے لگا ۔
گولوالکر کی ذہنیت پہلے ہی سے کٹر ہندوازم کی طرف راغب تھی ، آر ایس ایس کے پہلے پر مکھ ڈاکٹر ہیڈگیوار اپنی تنظیم کیلئے کیڈرس کی تلاش میں تھے ، تب ان کی ملاقات بنارس ہندو یونیورسٹی میں گولوالکر سے ہوئی ، جنہیں آر ایس ایس میں پہلے ایک ٹیچر کی حیثیت سے بھرتی کیا گیا اور نہیں بنارس ہندو یونیورسٹی شاکھا کا چیف بنادیا گیا ، اس کے بعد انہوں نے تیزی سے آر ایس ایس میں ترقی کی اور ہیڈگیوار کے بعد آر ایس ایس کے دوسرے سر سنگھ چالک بن گئے ،

مسلمانوںکے بارے میں ایسے خیالات
آر ایس ایس کے دوسرے سر سنگھ چالک مہا دیو سدا شیو گولوالکر عرف ا یم ایس گولوالکر کی کتاب ’’ دی بنچ آف تھاٹ ‘‘ آر ایس ایس کے حقیقی ایجنڈے کا ہدایت نامہ یا رہنما دستاویز ( GUIDING – DOCUMENT ) کہی جاسکتی ہے ۔ آزادی اور تقسیم ہند کے بعد ہندوستان میںکروڑوں مسلمانوں نے پا کستان نہیں جانے اور ہندوستان کو اپنا وطن تسلیم کرتے ہوئے یہیں رہنا پسند کیا۔ان قوم پرست ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میںجنہوں نے پاکستان کے مقابلہ ہندوستان کو بہ حیثیت وطن ترجیح دی ، آر ایس ایس کے دوسرے سر سنگھ چالک ایم ایس گولوالکر کے خیالات بہت ہی منفی ہیں ۔ چونکہ آر ایس ایس ورکرس گولوالکر کو ’’ گرو جی‘‘ تسلیم کرتے ہیں ، انہیں آر ایس ایس کا نظریہ ساز ( وچارک ) کہا جاتا ہے اور ان کے خیالات و نظریات پر سوائم سیوک پختہ یقین رکھتے ہیں ، اسلئے یہ بات تسلیم کی جاسکتی ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے متعلق آرایس ایس اور سوئم سیوکوں کے بھی وہی غلط نظریات ہیں ، جو شری ایم ایس گولوالکر نے اپنی کتاب (THE BUNCH OF THOUGHT ) میں ظاہر کئے۔
(حالانکہ آر ایس ایس نے ایم ایس گولوالکر کی ہی لکھی ہوئی ایک دوسری کتاب
’’ ( WE ,OUR -NATION -HOOD –
DEFINED ) سے اپنے آپ کو یہ کہتے ہوئے علیحدہ کرلیا کہ یہ کتاب شری گولوالکر نے ۱۹۳۹ ٔ میں لکھی تھی اور وہ آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک ۱۹۴۰ ٔ میں بنے اسلئے اس کتاب کو آر ایس ایس لٹریچر کا حصہ تسلیم نہیں کیا جاسکتا ۔
(البتہ آر ایس ایس نے یہ توثیق کی ہیکہ شری گولوالکر کی کتاب ’’ دی بنچ آف تھاٹ ‘‘ آر ایس ایس کا تسلیم شدہ لٹریچر ہے ، کینونکہ یہ کتاب انہوں نے سر سنگھ چالک کی حیثیت سے لکھی تھی )۔ اس کتاب کے ذریعہ ہندوستانی مسلمانوں کی حب الوطنی پر شک و شبہ کی انگلی اٹھانے والے ان منفی خیالات کی آج تک آر ایس ایس کی جانب سے کبھی نفی نہیںکی گئی اور نہ ہی ان کو مسترد کیا گیا ، اس لئے ملک میںکروڑوں محب وطن ہندوستانی مسلمانوں کیلئے جو شک و شبہ کا ماحول پیدا ہوا ؛ ہوتا رہا ہے اور جسے بار بار تقویت دی جاتی ہے ، اس کی بنیاد آرا یس ایس کے دوسرےسر سنگھ چالک ، پرچارک ایم ایس گولوالکر کے اپنے نظریات اور ان کی کتاب ’’ دی بنچ آف تھاٹ ‘‘ کو ہی قرار دیا جاسکتا ہے ۔
اندرونی خطرات اور ہندوستانی مسلمان :
متذکرہ کتاب کے بارہویں باب میں شری ایم ایس گولوالکر نے آزاد ہندوستان کو لاحق اندرونی خطرات
(INTERNAL -THREATS ) پر خیال آرائی کی ہے اور اس میں پہلا حصہ مسلمانوں کے متعلق تحریر کیا ہے ۔
انہوں نے لکھا ؛
’’دنیا کے کئی ممالک کی تاریخ سے یہ الم ناک سبق ملا ہے کہ کسی بھی ملک کے اندر مقیم عداوت پر آمادہ افراد اندرونی یا داخلی سیکوریٹی کیلئے بیرونی جارح عناصر سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔بدقسمتی سے برٹش حکام کے جانے کے بعد سے داخلی سیکوریٹی کے اس پہلے اصول کو ہی ہمارے ملک میں نظر انداز کیا گیا ہے ۔‘‘اپنے وقت کے قومی حکمرانوں کو بزدل ، پست ہمت اور مفاد پرست قرار دیتے ہوئے سر سنگھ چالک گولوالکر نے کہا کہ ان قومی حکمرانوں کے چھوٹے چھوٹے اور تنگ مفادات کیلئے مفاہمتی انداز نے ہماری قومی آزادی اور سیکوریٹی کیلئے سنگین اور حقیقی خطرہ پیدا کردیا ہے ۔
واضح ہو کہ شری ایم ایس گولوالکر کی یہ کتاب فروری ۱۹۶۶ ٔ میں پہلی بارشایع ہوئی تھی ، آزادی ( ۱۵ اگست ۱۹۴۷ ٔ ) کے انیس سال بعد اس کتاب کا پہلا ایڈیشن شایع ہوا ۔ اس کے بعد نومبر ۱۹۶۶ ٔ میں اس کے دوسرے اور تیسرے ایڈیشن کی بھی اشاعت ہوئی ، چوتھا ایڈیشن دسمبر ۱۹۶۸ ٔ میں شایع کیا گیا ۔ یہ قابل غور و فکر بات ہے کہ ۱۹۶۶ ٔ میں فروری تا نومبر یعنی صرف دس مہینے کی قلیل مدت میںاس زہریلی کتاب کے تین ایڈیشن شایع ہوئے جس میں ہندوستان کے کروڑوں مسلمانوں کو داخلی سیکوریٹی کیلئے خطرہ قرار دیا گیا تھا ۔
اس موقعہ پر یہ بات یاد رکھی جانی چاہئے کہ ہندوستان کی پاکستان کیساتھ ۱۹۶۵ ٔ میں دوسری بڑی جنگ ہوئی تھی ۔ پہلی ہند۔پاک جنگ ۱۹۴۸ ٔ میں کشمیر میں ہوئی تھی ۔پاکستان کے ساتھ ۱۹۶۵ ٔ کی جنگ کے پس منظر میںاگر اس سال کے فوراً بعد ۱۹۶۶ ٔ میں آر ایس ایس سر سنگھ چالک ایم ایس گولوالکر کی کتاب ’’ دی بنچ آف تھاٹ ‘‘ کے ایک نہیںتین تین ایڈیشن دس مہینے کے مختصر عرصہ میں چھاپے اور تقسیم کئے گئے ، کہ جس میںکروڑوں ہندوستانی مسلمانوں کواندرونی خطرہ قرار دیا گیا تھا ، تو کیا یہ کسی سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت کی گئی کارروائی نہیں تھی ؟ کیا یہ قوم پرست ہندوستانی مسلمانوں کی وفاداری کو داغ دار کرنے کی سازش نہیںتھی ؟ کیا یہ ملک کے کروڑوں غیر مسلموں کو محب وطن ہندوستانی مسلمانوں سے بدگمان کرنےکی سازش نہیں تھی ؟
چونکہ یہ کتاب آج بھی گردش(CIRCULATION ) میںہے ، اور اس کتاب کو آج بھی آر ایس ایس اور سنگھ پریوار کے لٹریچر کا ایک اہم حصہ سمجھا جاتا ہے ، اس لئے یہ بات یقینی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ اس کے اثرات آج بھی مرتب ہو رہے ہیں ۔ آج بھی ہندوستانی مسلمانوں کی وفاداری پر بار بار شک و شبہ کیا جاتا ہے ۔ مدارس ، دارلعلوم ، دینی طلبا ، علمائے کرام اور دینی اداروں کے اساتذہ کو آج بھی شک و شبہ کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔ آج بھی باربار ہندوستانی مسلمانوں کو وطن سے وفاداری کا ثبوت دینا پڑتا ہے ۔آج بھی نفرت کے سوداگر اور فرقہ پرست عناصر مسلم اکثریتی علاقوں کو’’ منی پاکستان ‘‘ یا پھر ’’ بنگلہ دیشی گھس پیٹھیوں کے اڈے ‘‘ قرار دیتے ہیں ، لیکن بھارت کے مسلمانوں نے اس طرح کے تمام جھوٹے الزامات کو قربانی اور استقامت سے غلط قرار دیا ۔
ہند۔ پاک جنگیں اورہندوستانی مسلمان :
بھارتی مسلمانوں کی حب الوطنی پر شک و شبہ کرنے والوں کو تو ۱۹۴۸ ٔ میں ہی جواب مل گیا تھا جب پاکستانی فوج کی مدد سے قبائلی حملہ کشمیر میں ہوا ، بریگیڈئیر محمد عثمان نے جان کی قربانی دے کر بھارتی مسلمانوں کی وطن سے محبت کا ثبوت دیا تھا نو شیرا ، کشمیر کے معرکہ میں اس لئے ان کو نوشیرا کے شیر کا خطاب دیا گیا ۔حالانکہ بریگیڈئیر محمد عثمان کو پاکستان نے بھی یہ آفر دیاتھا کہ اگر وہ پاکستان ہجرت کر جائیں تو انہیں پاکستان ٓرمی کا چیف بنادیا جائے گا لیکن بریگیڈئیر محمد عثمان نے اپنا وطن چھوڑنا گوارہ نہیںکیا ۔جولائی ۱۹۴۸ ٔ میں بریگیڈئیر محمد عثمان پاکستانی حملہ کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے اپنی بریگیڈ کی قیادت کی اور اس معرکہ میں وہ شہید ہوئے ، ان کی قربانی آزاد ہندوستان کی انڈین آرمی کی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے ۔ وہ ملک آج تک کی ملٹری تاریخ میں میدان جنگ میں لڑتے ہوئے اپنی جان نچھاور کرنے والے سب سے اعلی درجہ ( رینک ) کے ملٹری افسر تھے ، ان کے جلوس جنازہ اور تدفین ،( جو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے احاطہ دہلی میں ہوئی) ، میںملک کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو اور پوری مرکزی کابینہ نے شرکت کی تھی ۔
انڈین آرمی میں شامل بھارتی مسلمانوں نے ۱۹۶۵ ٔ  کی جنگ میں بھی وطن سے محبت اور دیش سے وفاداری کے شاندار ریکارڈ پیش کئے جن کے مڈ نظر کسی کی یہ ہمت تک نہیںہونی چاہئے تھی کہ وہ ہندوستانی مسلمانوں کی طرف شک کی انگلی اٹھائے یا ہندوستانی مسلمانوں کو اندرونی سیکورٹی کیلئے خطرہ قرار دے ۔
حوالدار عبدالحمید کو انڈین آرمی میں آج تک کی تاریخ کا سب سے بہادر سپاہی قرار دیا جاتا ہے اور اس قابل فخر اعزا ز کیلئے انہوں نے ۱۹۶۵ ٔ کی ہند ؛پاک جنگ میں عظیم کارنامہ انجام دیا تھا ۔امرتسر میں حوالدار عبدالحمید کی یادگار پر انڈین آرمی کی طرف سے جو تختی نصب کی گئی ہے وہ اس کا کھلا ثبوت ہے ، اس تختی پر لکھا ہے ؛ ’’ انفنٹری ، پیادہ فوج کی تاریخ میں آج تک کسی ایک سپاہی نے اتنی بڑی تعداد میں ٹینک تباہ کرنے کا کارنامہ انجام نہیںدیا جو فور گرینیڈئر کے سی کیو ایم ایچ عبدالحمید نے کردکھایا ۔ انہوں نے دیش کیلئے اپنی جان نچھاور کرنے سے پہلے اپنی ۱۰۶ ۔ رئیکوائل لیس گن سے آٹھ پیٹن ٹینک تباہ کرڈالے ۔انہیں بعد از مرگ اس بہادرانہ کارنامے کیلئے پرم ویر چکر سے نوازا گیا ۔‘‘ انڈین آرمی نے ان کی یاد گار کو سروادا شکتی شالی کا نام دیا ہے اور ان کا کارنامہ آج بھی یاد کیا جاتا ہے ۔
ہندو اتحاد کیلئے گائے کا استعمال ؟

گئو رکشا مہم آر ایس ایس چیف گولوالکر نے کیوں شروع کی ، اس کے متعلق بھارت میں دودھ کی کوآپریٹیو مہم شروع کرنے والے امول برانڈ کے مسٹر ورگھیز کورین نے اپنی آپ بیتی
(I TOO HAD A DREAM ) میں مندرجہ ذیل انکشاف کیا ۔ انہوں نے لکھا :
’’ایک دن جب کہ ہماری ایک میٹنگ میں گولوالکر نے بڑے جذباتی انداز میں گئو کشی پر پابندی کے حق میںمدلل تقریر کی ،وہ میرےپاس آئے اور مجھ سے پوچھا : کورین ۔کیا میں تمہیں یہ بتاؤں کہ میں گئو کشی اور گائے کے ذبیحہ کے بزنس پر کیوں ہنگامہ کھڑا کر رہا ہوں ؟
میں نے ان سے کہا ، جی ہاں ، پلیز ، مجھے یہ سمجھائیے ورنہ تو آپ بڑے ذہین آدمی ہیں ، پھر ااپ یہ سب کیوں کر رہے ہیں ؟
انہوں نے مجھے نجی طور پر ( پرائیوٹ میں یا آف دی ریکارڈ ) سمجھانا شروع کیا ۔
انہوں نے کہا ؛میں نے صرف حکومت کو پریشان کرنے کیلئے گئو رکشا پر پابندی کی پیٹشن شروع کی ہے ۔میں نے صدر جمہوریہ ہند کو گائے کے ذبیحہ پر پابندی کی پیٹشن پیش کرنے کیلئے دس لاکھ دستخط اکٹھا کرنے کا منصوبہ بنایا ۔اس کام کے سلسلے میں مجھے مختلف مقامات کا سفر بھی کرنا پڑا ۔ملک کے مختلف حصوں کا میں نے دورہ کیا یہ دیکھنے کیلئے کہ دستخطی مہم کیسے چل رہی ہے ۔اس دوران میں یوپی کے ایک دیہات میں پہنچا ۔وہاں میں نے ایک گھر میںدیکھا کہ ایک عورت نے اپنے بچہ کو کھانا کھلایا ، دو بچوں کو اسکول بھیجا ، اپنے شہر کو کام پر روانہ کیا اور پھر اس کے بعد وہ یہ پٹیشن لیکر چلچلاتی دھوپ میںگھر گھر نکل پڑی تاکہ لوگوں کی دستخط حاصل کرے ۔میںبڑا حیران ہوا اور میںنے اپنے آپ سے یہ سوال کیا کہ آخر اس عورت کو یہ پریشانی اور تکلیف اٹھانے کیلئے کس بات نے آمادہ کیا ؟ وہ کوئی پاگل عورت تو نہیںتھی جو یہ کام کرتی ۔تب مجھے یہ احساس ہوا کہ وہ عورت یہ کام در حقیقت اپنی گائے کیلئے کر رہی تھی ،وہ گائے اس کیلئے روزی روزگار کا ذریعہ تھی ۔تب میں نے یہ محسوس کیا کہ گائے میںکتنی امکانی قوت ہے ۔
مسٹر ورگھیز کورین نے آر ایس ایس چیف گولوالکر سے اپنی نجی بات چیت کے حوالے سے اپنی آپ بیتی میں مزید بتایا ؛
گولوالکر جی نے مزید کہا اس کے بعد میں نے محسوس کیا کہ گائے میں یہ قوت ہے کہ وہ ملک کو متحد کرسکتی ہے ۔ گائے بھارت کے کلچر کی علامت ہے ، اس لئے میں ایک بات بتا تا ہوں تمہیں ، کورین ، تم اس کمیٹی میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی کیلئے
میری بات سے متفق ہو جاؤ ،اور میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ پانچ سال کے اندر اندر تمہارے سامنے ایک متحدہ ملک ہوگا ۔میں تمہیں یہ بتانا چاہتاہوں کہ میں کوئی بے وقوف نہیں ہوں ۔ میں کوئی جنونی ، جذباتی بھی نہیںہوں ۔لیکن میرا اس معاملہ میں رویہ انتہائی سفاکانہ (COLD-BLOODED ) ہے ، میں ہندوستان میں ہندوستانیت پیدا کرنے کیلئے گائے کا استعمال کرنا چاہتا ہوں۔اس لئے اس بارے میں مجھ سے پلیز تعاون کرو ۔‘‘
اپنی آپ بیتی میںآر ایس ایس چیف گولوالکر کی کئی معاملات میںتعریف کرتے ہوئے مسٹر ورگھیز کورین نے گائے کے متعلق جو بات بتائی اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آر ایس ایس اور گولوالکر نے اپنی دانست میں گائے کا استعمال ہندوستان میں( یا ہندوؤں میں) اتحاد پیدا کرنے اور ہندوستانیت ( یا ہندوتواواد ) پیدا کرنے کیلئے کیا تھا ۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں