نہیں شاہ جی دہلی تشدد اپوزیشن نے نہیں کرایا!

نہیں شاہ جی دہلی تشدد اپوزیشن نے نہیں کرایا!
شکیل رشید
جی نہیں ِ ، امیت شاہ جی ، دہلی کے فسادات اپوزیشن کی کارستانی نہیں ہیں ! آپ کا اپوزیشن پر یا بی جے پی مخالف سیاسی جماعتوں پر لوگوں کو گمراہ کرکے ، انہیں اشتعال دلا کر دہلی میں فسادکرانے کا الزام سراسر بے بنیاد ،لغو اور گمراہ کن ہے ۔ایسا نہیں ہے کہ ہمیں اپوزیشن سے کوئی بڑا پیار ہے اس لیے ہم ان کا دفاع کررہے ہیں ،قطعی نہیں ۔ دہلی کے تشدد میں تو اپوزیشن کا کردار انتہائی مایوس کن، گھناونا رہا ہے بلکہ کہیں کہیں تو متعصبانہ بھی رہا ہے ۔دہلی کے تخت پر بیٹھے تو عام آدمی پارٹی کے مکھیا اروند کیجریوال ہیں لیکن دہلی سمیت پورے ہندوستان میں حکومت تو بی جے پی ، نریندر مودی اور امیت شاہ کی ہی ہے ، لہٰذا کیجریوال کو اپوزیشن سے باہر سمجھا نہیں جاسکتا اور ان کا اور ان کی پارٹی کے کارکنان کا جو بھی کردار ، دہلی تشدد کو روکنے یا نہ روکنے میں رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔انتہائی مایوس کن ،بزدلانہ اور جانبدارانہ ۔ کانگریس کی ٹولی تو بس گھر بیٹھے یا تو تماشہ دیکھتی رہی یا پھر اخباروں میں بیانات اور تصویریں چھپواتی رہی ، اس نے ہماری مسلم جماعتوں اور تنظیموں کے وطیرے کو بالکل اپنا لیا ہے ۔ اگر سونیا گاندھی ،پرینکا گاندھی اور راہل گاندھی اپنی دہلی کو اجڑنے اور دہلی والوں کو لٹنے پٹنے اور مرنے سے بچانے کیلئے سڑکوں پر اتر آتے ، ساری کانگریس کو لے کر ، تو کیا حالات قابو میں نہ آتے ؟ بالکل آتے ، مگر کانگریس نے ہمیشہ کی طرح تماشہ دیکھا اور بیان بازی کی ۔ یہی حال اپوزیشن کی دوسری سیاسی جماعتوں کا بھی رہا ، مفاد پرستی بزدلی ،تنگ نظری ،جانبداری اور بے حیائی و خود غرضی نے ان کے قدموں میں بیڑیاں ڈال رکھی تھیں ۔ لیکن یہ کہنا کہ دہلی تشدد اپوزیشن کی کارستانی ہے حقائق کو توڑنا اور مروڑنا ہے ۔ اپوزیشن نے یہ تشددنہیں پھیلایا ۔ تشدد کے ذمے داران تو سامنے ہیں ۔ بھاجپائی لیڈران کپل مشرا، انوراگ ٹھاکر ، پرویش ورما وغیرہ ۔ ’گولی مارو سالوں کو ‘ کا نعرہ دینے والے ،صدر ٹرمپ کے دورے کے بعد ’دیکھ لینے ‘ کی دھمکی دینے والے ۔ امیت شاہ جی بھلا کیوں آپ نے ان کے نام نہیں لئیے ؟ امیت شاہ آپ نے بھونیشور میں یہ جو الزام عائد کیا ہےاور الزام میں سی اے اے مخالف مظاہروں کا ذکر زور دے کر کیا ہے ،لیکن حقائق سے آپ نے چشم پوشی کی ہے،آپ کا کہنا ہے کہ سی اے اے کے تعلق سے اپوزیشن نے گمراہ کن باتیں پھیلائیں اس لیے دہلی جلی ۔ اب اگر امیت شاہ جی آپ کی اس بات پر ذرا غور کیا جائے تو اس کا سیدھا مطلب سامنے آجاتا ہے ، وہ یہ کہ دہلی کو ان افراد نے جلایا جو سی اے اے کی مخالفت میں مظاہرے کررہے تھے ۔ اور اس لیے جلایا کہ اپوزیشن نے انہیں اکسایا تھا ، انہیں گمراہ کیا تھا اور اشتعال دلایا تھا ۔ یہ الزام بھی امیت شاہ جی غلط ، لغور اور جانبدارانہ ہے ۔ دہلی اس لیے جلی کہ سی اے اے کے خلاف مظاہروں کو روکنے کیلئے بی جے پی نے سی اے اے کی موافقت میں مظاہرہ شروع کرائے تھے ۔ کپل مشراموج پور اسی لیے تو گئے تھے ۔سارا کا سارا قصور ،دہلی کو جلانے کا سارا کا سارا دوش نہ اپوزیشن کا ہے ، نہ سی اے اے مخالف مظاہرین کا ، یہ سب کیا دھرا بی جے پی لیڈران کا ہے ،ان لیڈران کا جن کے زہریلے آڈیو جسٹس مرلی دھرنے دہلی ہائی کورٹ میں چلوائے تھے ،اور پولیس کو یہ حکم دیا تھا کہ ان سیاست دانوں پر ایف آئی آر درج کیے جائیں۔آپ اور آپ کی سرکار ایسی بوکھلائی کہ ’انصاف‘ کرنے والے جسٹس مرلی دھر کا تبادلہ ہی کردیا۔ ڈر تھا کہ کہیں وہ سب کو جیل کی ہوا نہ کھلوا دیں ۔آپ نے تو کچھ اور منصوبے بنا رکھے ہیں،د ہلی تشدد کو سی اے اے کی مخالفت سے جوڑنے اور شاہین باغ جیسے مظاہروں پر قدغن لگانے کا منصوبہ۔اور دہلی تشدد میں مسلم لیڈران کو پھنسانے کا منصوبہ ،طاہر حسین اس کی ایک مثال ہیں،’آپ‘ کے اس کونسلر پر صرف ایک آئی بی افسر انکت شرما کے والدین کی شکایت پر ایف آئی آر درج کرائی گئی ، جبکہ نہ جانے کتنے مہلوکین کے والدین کپل شرما کے خلاف شکایت کررہے ہیں ، وہ آزاد ہیں ! لیکن یہ کھیل بہت دنوں تک نہیں چلے گا ، ان شاءاللہ ۔ وقت کا پہیہ تیزی سے گھوم رہا ہے ۔ فسادی آج بھلے آزاد ہوں کل کو یہ انجام کو پہنچیں گے ہی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں