شیو شاہی پیدل فوج کا پہلا سپہ سالار تھا : نور خان بیگ

شیو شاہی پیدل فوج کا پہلا سپہ سالار تھا : نور خان بیگ

چھترپتی شیواجی مہاراج کی پیدل فوج (انفنٹری) کے پہلے سیناپتی (سپہ سالار) ہونے کا اعزاز ایک مسلمان فوجی افسر نور خان بیگ کو حاصل ہوا۔ شیواجی مہاراج نے اپنی پیدل فوج کے پہلے کمانڈر کی ذمہ داری نور خان بیگ کے سپردکی۔ اگر مسلم سماج اور شیواجی مہاراج کے ہندوی سوراجیہ کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہوتا تو پھر یہ (نور خان بیگ کی شیواجی مہاراج کی انفنٹری یا پیدل فوج کے پہلے کمانڈر کے طور پر تقرری) بھی ممکن نہیں ہوسکتا تھا: پروفیسر نام دیو راؤ جادھو

خصوصی رپورٹ : سعید حمید
ممبئی :شیواجی مہاراج ایک سیکولر راجہ تھے اور ان کی فوج میں ہر صوبے، ہر علاقے ، ہر ذات اور مذہب کے افراد شامل تھے۔ تاریخ حقائق اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کرناٹک، آندھرا پردیش، راجستھان وگجرات جیسے خطوں سے تعلق رکھنے والے لاتعداد فوجی شیوشاہی فوج میں شامل تھے۔ مراٹھا مورخ پروفیسر نام دیو راؤ جادھو نے اپنی کتاب ’شیورائے‘ میں یہ لکھا ہے کہ اتنا ہی نہیں کہ شیواجی مہاراج کی فوج میں مراٹھوں کے علاوہ ملک کے دیگر خطوں کے فوجی شامل تھے بلکہ شیواجی مہاراج نے ایک خاص پٹھان ریجمنٹ بھی بنارکھی تھی۔ اور اس پٹھان ریجمنٹ میں سرحد اور افغانستان کے پٹھان فوجی اور افسران بھی شامل تھے۔ ظاہر ہے کہ شیواجی مہاراج کے لیے جنگ کرنے والی پٹھان ریجمنٹ میں سارے ’مسلمان‘ پٹھان ہی تھے اور شیواجی مہاراج کے پٹھان افسروں اور سپاہیوں نے بھی شیوشاہی کے لیے جنگیں لڑیں تو پھر شیواجی مہاراج کو ہندوتواوادی راہ اور ان کی مسلم بادشاہوں سے جنگو ںکو ہندو مسلم جنگیں کیسے قرار دیا جاسکتا ہے؟ پروفیسر نام دیو راؤ جادھو نے اس سلسلے میں مزید لکھا کہ شیواجی مہاراج کی فوج میں پٹھانوں کا ایک دستہ شامل ہوا تھا۔ یہ پٹھان پہلے بیجاپور کے بادشاہ کی فوج میں شامل تھے (ان کی تعداد آٹھ سو سے زائد بتائی جاتی ہے) انھوں نے عادل شاہی بادشاہ کی نوکری چھوڑ کر شیواجی مہاراج کی فوج میں ازخود درخواست دے کر شمولیت حاصل کرلی تھی۔ کلیان (تھانے ضلع) کو فتح کرنے کی جو مہم شیواجی مہاراج نے شروع کی تھی، اسے کامیاب بنانے میں پٹھان ریجمنٹ کے ان پٹھانوں نے بہت ہی نمایاں کردار ادا کیا، یہ حقیقت بہت ہی عام ہے، اور مورخین اس کا اعتراف کرتے ہیں۔
پروفیسر نام دیو راؤ جادھو نے لکھا: ’’چھترپتی شیواجی نے جب سے ’سوراجیہ‘ کے قیام کا تصور کیا۔ اس ابتدائی مرحلے سے مختلف مذاہب اور ذاتوں سے تعلق رکھنے والے افراد مہاراج کے ساتھ تھے۔ شیواجی مہاراج کا راجیہ مطلب صرف ہندوؤں کا راجیہ نہیں تھا۔ البتہ اس طرح کا غلط پروپگنڈہ کچھ لوگ مفاد اور تنگ نظر کے سبب کرتے ہیں، اگر شیواجی مہاراج کے راجیہ کی بنیاد ہندوتوا پر مبنی ہوتی، تو مسلم سماج کے فوجی اور سپاہی شیواجی مہاراج کے پرچم تلے کبھی جنگ نہیں کرتے۔ چھترپتی شیواجی مہاراج کا راجیہ رعایا کا راجیہ تھا، عام لوگوںکا راجیہ تھا۔ اس عوامی تصور کی وجہ سے ہی تمام مذاہب کے لوگوں کو یہ حکومت اور یہ مملکت اپنی محسوس ہوا کرتی تھی۔
اسی لیے چھترپتی شیواجی مہاراج کی پیدل فوج (انفنٹری) کے پہلے سیناپتی (سپہ سالار) ہونے کا اعزاز ایک مسلمان فوجی افسر نور خان بیگ کو حاصل ہوا۔ شیواجی مہاراج نے اپنی پیدل فوج کے پہلے کمانڈر کی ذمہ داری نور خان بیگ کے سپردکی۔ اگر مسلم سماج اور شیواجی مہاراج کے ہندوی سوراجیہ کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہوتا تو پھر یہ (نور خان بیگ کی شیواجی مہاراج کی انفنٹری یا پیدل فوج کے پہلے کمانڈر کے طور پر تقرری) بھی ممکن نہیں ہوسکتا تھا۔
جہاں ہندوتواوادی طاقتیں شیواجی مہاراج کو ہندوتواوادی اور مسلم دشمن راجہ ثابت کرنے کے لیے افضل خان اور شائستہ خان سے شیواجی مہاراج کی مڈبھیڑ کے واقعات کو اشتعال انگیزی اور فرقہ واریت کا نمک مرچ لگا کر پیش کرتی ہیں، وہیں عوام سے یہ بات چھپائی جاتی ہے کہ شیواجی مہاراج کی فوج میں ایک باقاعدہ پٹھان ریجمنٹ بھی تھی اور شیواجی مہاراج کی پیدل فوج کا پہلا سر سینا پتی(چیف کمانڈر) ایک مسلمان نور خان بیگ تھا۔ ظاہر ہے اس کا تقرر بھی شیواجی مہاراج نے ہی کیا تھا اور حقائق شیواجی مہاراج کے سیکولر کردار کا منہ بولتا ثبوت اور ان کے ہندوتواوادی ہونے کی واضح نفی ہے۔
یہ بات کسی ثبوت کی طلب گار نہیں ہے کہ ملک میں ایک ایسا طبقہ ہے، جو ذات پات اور مذہبی تفرقہ بازی میں یقین رکھتا ہے۔ اس طبقے کے لوگ پسماندہ طبقے کے لوگوں کو ’اچھوت‘ اور مسلمانوں کو ’ملیچھ‘ سمجھتے ہیں اور ان کے سائے سے بھی پرہیز کرتے ہیں، شیواجی مہاراج نے اس ذہنیت کے خلاف اعلان جنگ کیا اور انھوں نے مسلمانوں اور پسماندہ طبقے ، اچھوت اور نچلی ذات کا سمجھے جانے والوں کا برابر کا درجہ دیا۔ جہاں انھوں نے نورخان بیگ جیسے ایک مغل نسل کے فوجی کو اپنی پیدل فوج کا سرنوبت یا سرسینا پتی، کمانڈر ان چیف مقررکیا، وہیں انھیں اپنی خاندانی تقریبات میں بھی شامل کرکے ثابت کیا کہ چھترپتی شیواجی ان تعصبات سے بالاتر ہیں، جو اس زمانے میں دھرم کے نام نہاد ٹھیکیداروں نے ’اصول‘ اور ’روایت‘ بنارکھے تھے اور ان تعصبات کی بنا پر سماج کو تقسیم کیا گیا تھا۔مراٹھا مورخ پروفیسر نام دیو راؤ جادھو نے اس ضمن میں ایک واقع بطور نظمیہ پیش کیا ہے۔
۱۴ مئی ۱۶۵۷ء کے روز پورندر (مہاراشٹر) قلعہ میں چھترپتی شیواجی مہاراج کے بیٹے سنبھاجی کی پیدائش ہوئی۔ سترہ برسوں کی دعاؤں اور منتوں کے بعد مہارانی ستی بائی نے ولی عہد کو جنم دیا۔ اس موقع پر خوشی کی تقریب ہوئی جس میں چھترپتی شیواجی کے دور دور سے رشتہ دار پورندر پہاڑ پر واقع قلعہ میں اکٹھا ہوئے۔ تاکہ نوزائیدہ ولی عہد کا چہرہ دیکھیں۔ اور والدین کو مبارک باد پیش کریں۔
قلعہ میں واقع رانی کے محل میں سنبھاجی کی رونمائی کی تقریب جاری تھی۔ شیواجی مہاراج بھی کچھ دیر بعد قلعے میں حاضر ہوئے۔ وہاں اپنوں نے دیکھا کہ اُن کے تمام رشتہ دار اور سردار ’رانی محل‘‘ میں موجود تھے لیکن نور خان بیگ اکیلے ’’رانی محل‘‘ کے باہر کھڑے تھے۔ مہاراج نے نورخان بیگ سے کہا: ’سرنوبت، تم یہاں کیوں کھڑے ہو؟‘‘ تب نورخان بیگ نے انتہائی ادب سے جواب دیا کہ یہ روایت ہے کہ ایک ہندو رانی کے محل میں ایک مغل (مسلمان) کا داخلہ ممنوع ہے۔ (ظاہر ہے کہ یہ جمل اس کٹّروادی ذہنیت کا اشارہ تھی جو اس زمانے میں دھرم کے ٹھیکیداروں نے رائج کررکھی تھی، جس کے تحت مسلمانوں کو ملیچھ اور پسماندہ طبقات کے ہندوؤں کو اچھوت قرار دیتی تھی)
تب چھترپتی شیواجی مہاراج نے نورخان بیگ کا ہاتھ پکڑا اور انھیں اپنے ساتھ رانی محل میں لے کر گئے۔ اس دوران انھوں نے نور خان بیگ سے کہا۔ ’’خان صاحب، ہمارے سوراجیہ میں ہندو اور مسلمان اس طرح کا کوئی فرق نہیں ہے۔ جس نسبت سے سارے رشتہ دار اور اقربا آج اس تقریب میں اکٹھا ہوئے ہیں، اتنا ہی حق تمھارا بھی ہے۔ اس سوراجیہ کے لیے کام کرنے والے ہم سب ایک خاندان کی مانند ہیں۔ یہاں ذات پات اور مذہب کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔‘‘
مہاراج اس دوران اپنے کمانڈر ان چیف نورخان بیگ کو ’’رانی محل‘‘ کے انتہائی خاص اور اندرونی حصّے میں لے گئے۔ جہاں جھولے میں نومولود سنبھاجی تھے۔ انھوں نے جھولے میں سے سنبھاجی کو نکال کر انھیں نورخان بیگ کی گود میں دے دیا، وہاں موجود تمام قریبی رشتہ داروں اور سرداروں نے یہ منظر دیکھا جس کے سبب حیرت یا فکر کی کوئی بات نہیں تھی۔ نور خان بیگ بھی کوئی غیر نہیں تھا بلکہ ہندوی سوراجیہ کا سرسینا پتی تھا۔ مذہب اور ذات پات کا فرق سوراجیہ کی رکاوٹ نہیں بن سکتا تھا۔
اگر دھرم کے ٹھیکیدار کسی طرح کے فرق، چھوت چھات یا مذہبی فرقے بازی کی کوشش کرتے تھے، ایسے حالات میں شیواجی مہاراج اپنی والدہ جیجاؤ صاحب سے رہنمائی طلب کرتے تھے اور اپنی والدے کے حکم کو دھرم کے ٹھیکیداروں کے اصولوں،احکامات اور روایات پر اہمیت دیتے تھے۔ شیواجی مہاراج کی والدہ نے چھترپتی شیواجی کو جو تعلیم دی تھی، وہ مساوات کی تعلیم تھی ۔ اس کی روشنی میں ہندو مسلم تفرقہ اور اعلیٰ ذات یا ادنی ذات، چھوت چھات کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ اس لیے اس زمانے میں جہاں دھرم کے ٹھیکیدار مسلمانوں کو ملیچھ سمجھتے تھے، چھترپتی شیواجی نے ایک مغل سپہ سالار نور خان بیگ کو کٹّر دھارمک روایات سے بغاوت کرتے ہوئے رانی محل میں بلایا اور اپنے نوزائیدہ ولی عہد سنبھاجی کو نور خان بیگ کی گود میں دے دیا۔ یہ واقعہ شیواجی مہاراج کے سماجی انقلاب ، انصاف و مساوات کا واضح ثبوت ہے۔ چھترپتی شیواجی مہاراج کے سیکولرزم، دھارمکے کٹّر پسندی کی مخالفت اور سماجی انقلاب و انصاف پسندی کے متعلق پروفیسر نام دیو راؤ جادھو لکھتے ہیں: ’’شیواجی مہاراج نے ننھے سنبھاجی کو نور خان بیگ کے ہاتھوں میں سونپ اس اعتماد کا مظاہرہ کیا کہ مسلمان بھی اس سوراجیہ کے قیام میں اپنا ہاتھ بٹائیں گے اور مسلم سماج نے یہ ثابت بھی کیا۔ مسلمان یعنی مسلّم ایمان، جس دھرتی پر مسلمان پیدا ہوئے۔ اس کے ساتھ وفاداری نبھائیں گے، اس بات کو ثابت کرتے ہوئے مسلمان بھی چھترپتی شیواجی مہاراج کے ساتھ ڈٹے رہے۔ اس لیے چھترپتی شیواجی مہاراج نے رائے گڑھ قلعہ میں اپنی مسلمان رعایا کے لیے مسجد بھی تعمیر کروائی۔
سوراجیہ کے چیف جسٹس کے طور پر مولوی قاضی حیدر علی کا تقرر کیا۔ صرف چھترپتی مہاراج کی فوج سیاسی ہی نہیں بلکہ انتظامیہ کے عہدوں میں بھی مسلمان شامل تھے۔ بحری فوج بنانے اور بحری فوج میں شامل ہونے کے کاموں سے ہندو دھرم پنڈتوں کو اختلاف تھا۔ اس لیے چھترپتی شیواجی مہاراج نے بحری فوج تشکیل دینے اور اس کو چلانے کی مکمل ذمہ داری اپنے مسلمان افسروں اور سپاہیوں کے سپرد کردی تھی۔ ان مسلم افسروں اور سپاہیوں نے یہ ذمہ داری قبول کی اور یہی وجہ ہے کہ شیواجی مہاراج کی بحری فوج میں پچاس فیصد سے بھی زیادہ افسران اور سپاہی مسلمان سماج سے تعلق رکھتے تھے۔ مہاراج کے نیوی چیف دولت خان نے تو تاریخ میں بڑی شہرت حاصل کی ہے۔ چھترپتی شیواجی مہاراج نے سوراجیہ کے سمندری کناروں کی حفاظت کے لیے کوسٹ گارڈ طرز کی فوج تیار کی تھی، اس میں (مسلمان اور ہندوؤں کی پسماندہ جماعتوں و ذاتوں کے لوگ شامل تھے) مثلاً مسلمان، آگری، کولی، بھنڈاری، پرب، گاوت وغیرہ۔ ان لوگوں نے پنے مذہب یا ذات پات کے فرق کو نظر انداز کرکے سوراجیہ کے لیے جان کی بازی لگائی۔ یہاں تک کہ سنبھاجی مہاراج کے دور میں بھی اس بحری فوج نے اپنا توسیعی کام جاری رکھا، اندمان نکوبار جیسے ادور جزائر میں بھی انھوں نے جنگیں لڑیں اور فتح حاصل کی۔
شیواجی مہاراج اور منو سمرتی کی خلاف ورزی

چھترپتی شیواجی مہاراج کی مسلم بادشاہوں اور سپہ سالاروں سے جنگوں کو ہندوتواوادی مورخین ہندو مسلم جنگ قرار دینے کی جھوٹی کوشش کرکے تاریخ کو گمراہ کن موڑ دینے کی کوشش کیوں کرتے ہیں؟ اس سوال کا ایک تلخ لیکن حقیقت افروز جواب یہ ہے کہ منووادی برہمنوں اور ان کے ہم نوا ہندوتواوادیوں نے اس گمراہ کن مسلم دشمن افسانے کی آڑ چھترپتی شیواجی مہاراج کی ہندو سماج میں انقلاب مساوات اور بیداری کی سماجی مہم سے توجہ ہٹانے کی غرض سے کی ہے۔ آج متعدد مورخین نے اس بات سے پردہ ہٹادیا ہے کہ چھترپتی شیواجی مہاراج جس ہندوی سوراجیہ قائم کرنے کی کوشش کررہے تھے، وہ ہندوتواوادی راجیہ یا ہندو راشٹر نہیں، بلکہ فرقہ پرستی، ذات پات، چھوت چھات کی لعنت سے پاک راجیہ تھا۔ جس میں ہر کسی کے لیے عزت، اقتدار، عہدے کے دروازے کھلے تھے۔ اور مساوات اس کا اصول تھا۔ اس لیے یہ راجیہ منووادی برہمنیت اور منو سمرتی پر مبنی سماجی ڈھانچے کے خلاف تھا۔
یہ بات دھرم کے ان منووادی ٹھیکیداروں کے لیے قابل قبول نہںی تھی جو اس ملک میں ذات پات کا نظام قائم کرکے ہزاروں برسوں سے ’بہوجن سماج‘ کو غلام بنائے ہوئے تھے۔ مورخین کا یہ کہنا کہ ’بہوجن سماج‘ کے اقتدار کی بنیاد شیواجی مہاراج نے ہندوی سوراجیہ کے قیام کے ذریعہ رکھی اور اس طرح انھوں نے منواوادیوں کی ہزاروں برسوں کی تاناشاہی کو چیلنج کیا۔ اس حقیقت سے عوامی توجہ ہٹانے کے لیے ہندوتواوادیوں نے شیواجی مہاراج کی مسلم بادشاہوں یا سپہ سالاروں سے معرکہ آرائیوں کو ہندو مسلم جنگ بناکر پیش کرنے کی شر انگیزی اور سازش کی ہے۔
تو کیا چھترپتی شیواجی مہاراج صرف ایک راجہ نہیں، بلکہ ایک سماجی اصلاح کار (Social Reformer)بھی تھے؟ اس کا جواب کئی مورخین نے ’ہاں‘ میں دیا ہے اور کئی مصنفین کا یہ نظریہ ہے کہ چھترپتی شیواجی مہاراج نے ہندو سماج میں اصلاح کی انقلابی کوشش شروع کیں اس لیے وہ منووادی برہمنوں کا اور ہندوتواوادیوں کا نشانہ بھی بنے۔ راجہ شیواجی نے منووادیوں کے لیے مقدس کتاب منوسمرتی کے قوانین سے بغاوت کی اور ان کے برعکس عمل کیا، اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔
اس موضوع کے حوالے سے مہاراشٹر کے ایک مراٹھی دانشور مہاویر سانگلیکر لکھتے ہیں:
’شیواجی مہاراج نے منوسمرتی کے کئی قوانین کی خلاف ورزی کی۔ مندرجہ ذیل میں شیواجی مہاراج کی ان سرگرمیوں کا ذکر خلاصہ کے طور پر کیا جارہا ہے۔ جن کے ذریعے انھوں نے منوسمرتی کے قوانین کے خلاف کام کیا۔ شیواجی مہاراج وطسی دور کے مہاراشٹر کے ایک عظیم راجہ تھے۔ وہ مغل شہنشاہ اورنگ زیب اور سلطان بیجاپور علی عادل شاہ کے ہم عصرتھے۔ انتہائی ناموافق حالات میں انھوں نے اپنی مملکت قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ حالانکہ لوگ انھیں ایک ہندو بادشاہ کے طور پر جانتے ہیں لیکن وہ ویدک (ویدوں پر عمل کرنے والے) نہیں تھے وہ اپنی ذاتی زندگی میں ’شیودھرم‘ کے ماننے والے تھے۔ بہرکیف، انھوں نے کبھی ویدوں کے قانون کی مقدس کتاب جو منوسمرتی کے طور پر مشہور ہے کی حمایت نہیں کی۔ یہ کتاب ہندستان کے باشندوں پر ۲ ہزار برسوں سے زائد عرصہ سے نافذ کی گئی تھی۔ مراٹھا دانشور مہاویر سانگلیکر اپنے اس مضمون میں مزید لکھتے ہیں:
’’چھترپتی شیواجی کی سوانح میں متعدد ایسے واقعات ملتے ہیں جب مراٹھا راجہ نے ویدک قانونی کتاب منوسمرتی کے نافذ کردہ قوانین کی خلاف ورزی کی۔ ان کا خلاصہ حسب ذیل ہے:

شودرا عوا م میں اسلحہ کی تقسیم:
منوسمرتی کے مطابق صرف جنگجو اور لڑاکا قوموں مثلاً شتریوں کو ہی یہ حق حاصل تھا کہ وہ ہتھیار رکھیں۔ دیگر طبقات مثلاً شودرا (نچلی ذات کے ہندو) اور اتی شودرا (نچلی ترین ذات کے ہندو) طبقات کے لوگوں کو یہ حق حاصل نہیں تھا۔ ان کے ہتھیار رکھنے پر پابندی عائد تھی۔ ان کو فوج میں بھرتی ہونے کا بھی حق حاصل نہیں تھا۔
راجہ شیواجی نے (منوسمرتی کے) اس قانون کی خلاف ورزی کی اور سماج کے تمام طبقات کو فوج میں بھرتی ہونے کے لیے مدعو کیا۔ شیواجی کی فوج میں کاشت کار، ہنرمند کاریگر، دست کار، ماہی گیر، قبائل اور گاؤں کے اطراف اپنے واما لوگ بڑی تعداد میں شامل تھے۔ منوسمرتی کے مطابق ان تمام لوگوں کو شودرا اور اتی شودرا سمجھا جاتا تھا۔

ملیچھ لوگوں سے تعاون:
حالانکہ جنونی ویدک مورخین نے انھیں ایک مسلم دشمن راجہ کے طور پر مشہور کیا ہے۔ شیواجی اسلام یا مسلمانوں کے دشمن نہیں تھے۔ آپ دیکھیں گے کہ شیواجی راجہ کی بحری فوج (نیوی) میں افسروں کی ایک بھاری تعداد مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ اس کے علاوہ شیواجی کی بری فوج اور توپخانہ میں بھی بڑی تعداد میں مسلمان فوجی افسران و سپاہی شامل تھے۔ شیواجی مہاراج کی فوج میں مسلمان فوج افسروں اور سپاہیوں کی تعداد ویدک برہمنوں کے مقابلے بہت زیادہ تھی (یا مسلمانوں کے مقابلے شیواجی مہاراج کی فوج میں ویدک برہمن فوجیوں کی تعداد بہت کم تھی) یہاں تک کہ شیواجی کے کئی باڈی گارڈس بھی مسلمان تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں