کلیان، حاجی ملنگ پہاڑ : بر ٹش ۔برہمن پیشوا جنگ ۱۷۸۰ ء

کلیان، حاجی ملنگ پہاڑ : بر ٹش ۔برہمن پیشوا جنگ ۱۷۸۰ ء
اس خطہ میں کلیان کی اہم ملٹری و دفاعی حیثیت بھی رہی ہے ۔ کھپولی اور پونہ دونوں راستوں سے کلیان جڑا ہوا تھا ۔شمال میں کسارا گھاٹ بھی کلیان سے گزرتا ہے ، اس طرح اس کی دفاعی حیثیت کو برٹش نے بھی محسوس کیا ۔کلیان شہر کے پاس ہی کلیان فورٹ قائم تھا جس سے اس پورے علاقہ پر نظر رکھی جاتی تھی ۔پونہ اور بامبے کے درمیان کلیان ہی ایک ایسا شہر تھا ، جسے ایک مضبوط دفاعی قلعہ میں تبدیل کرنے سے بامبے شہر کو محفوظ کیا جاسکتا تھا ،

خصوصی رپورٹ ؛ سعید حمید
کلیان : ۱۷۸۰ ء میں بامبے پر قابض برٹش حکمرانوں کیلئے یہ بات اہم تھی کہ کس طرح بامبے کو برہمن پیشوا راج سے محفوظ رکھا جائے ؟ بامبے ان کا ایک محفوظ اور اہم اڈہ تھا ۔اس طرف پونہ میں برہمن راج تھا ، جسے پیشوا راج اور مراٹھا راج بھی کہاجاتا ہے ، نانا فرنویس اس زمانہ کا پیشوا تھا ، برٹش اپنی تجارت کے راستوں کو بھی یقینی حد تک محفوظ رکھنا چاہتے تھے ۔ان کیلئے پونہ سے بامبے تک کے سارے راستہ بھی اہم تھے ۔وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ پیشوا کبھی بامبے پر قبضہ کی کوشش نہ کرے ، بامبے پر حملہ نہ کرے ، اسلئے پیشوا کے خلاف بھی برٹش حکمراں دفاعی حکمت عملی مرتب کر رہے تھے ۔اس کے تحت وہ چاہتے تھے کہ بامبے اور پونہ کے درمیان جو گھاٹ کا علاقہ ہے وہ ، اور اہم پہاڑیاں ، و راہ داریوں پر بھی ان کا ہی کنٹرول قائم رہے اور پیشوا کی فوج کی کسی بھی پیش قدمی کو روکا جاسکے اور بامبے کا دفاع یہاں آس پاس کی گھاٹیوں ، پہاڑیوں ، راہداریوں کے سخت کنٹرول کے ساتھ ہی ہوجائے ۔ اس دفاعی حکمت عملی کی وجہ سے برٹش کی نظر میںکلیان شہر کی اہمیت بڑھ گئی ، کلیان ایک قدیم شہر رہا ہے ، اس پر کئی مملکتوں کا کنٹرول رہا ۔
اس خطہ میں کلیان کی اہم ملٹری و دفاعی حیثیت بھی رہی ہے ۔ کھپولی اور پونہ دونوں راستوں سے کلیان جڑا ہوا تھا ۔شمال میں کسارا گھاٹ بھی کلیان سے گزرتا ہے ، اس طرح اس کی دفاعی حیثیت کو برٹش نے بھی محسوس کیا ۔کلیان شہر کے پاس ہی کلیان فورٹ قائم تھا جس سے اس پورے علاقہ پر نظر رکھی جاتی تھی ۔پونہ اور بامبے کے درمیان کلیان ہی ایک ایسا شہر تھا ، جسے ایک مضبوط دفاعی قلعہ میں تبدیل کرنے سے بامبے شہر کو محفوظ کیا جاسکتا تھا ، یہ برٹش فوجی جنرلوں کی رائے تھی ۔ ایک بار کلیان پر قبضہ ہوجائے تو پھر اس کے بعد وسئی کی جانب پیش قدمی بھی برٹش دفاعی پلان کا حصہ تھی ۔ وسئی پر برٹش جنرلوں کی پہلے سے نظر تھی ، لیکن انہیں وسئی پر فوج کشی کا موقعہ نہیں ملا تھا ، جب کلیان کی دفاعی اور فوجی مہم شرع کی گئی تب وسئی پر مراٹھا راج ، پیشوا یا برہمن راج کا قبضہ تھا ۔
وسئی پر بھی برٹش حکمرانوں کی نظر تھی :
وسئی اس لئے برٹش کیلئے اہم شہر تھا کیونکہ اس طرف سے گجرات کا راستہ کھلا تھا ۔ وسئی کو اپنے کنٹرول میں رکھنے سے بامبے کو گجرات کی طرف سے لاحق کسی بھی ممکنہ خطرہ سےمحفوظ کیا جاسکتا تھا ۔کلیان تا وسئی ایک طرح کا دفاعی حصار بامبے کے شمالی زمینی حصہ کی طرف قائم کئے جانے کی حکمت عملی پر برٹش حکمراں عمل کر رہے تھے ۔ وسئی کی فوجی مہم برٹش حکمرانوں نے کسی اگلے مناسب وقت کیلئے چھوڑ رکھی تھی کیونکہ برٹش فوج اس وقت کئی محاذوں پر جنگ میں مصروف تھی ، اور ان کے پاس اس قدر مناسب فورس نہیںتھی کہ وہ وسئی پر بھی فوج کشی شروع کردیتے ۔
اس لئے بامبے ملٹری ہیڈکوارٹر کے برٹش ذمہ داروں نے فیصلہ کیا کہ پہلے کلیان شہر پر قبضہ کیا جائے ۔ تب کلیان شہر کی حفاظت کیلئے حاجی ملنگ پہاڑ کا استعمال فوجی مقصد کیلئے کیا جاتا تھا ۔ کلیان شہر کی حفاظت میں حاجی ملنگ پہاڑ کی دفاعی اہمیت تھی ، اورایک طرح سے حاجی ملنگ پہاڑ ایک ملٹری آؤٹ پوسٹ کی حیثیت رکھتا تھا ، اسلئے کلیان شہر پر قبضہ کیلئے حاجی ملنگ پہاڑ پر بھی قبضہ کرنا ضروری تھا۔ شمالی کوکن پر قبضہ اور بامبے کی حفاظت کیلئے کلیان شہر اور حاجی ملنگ پہاڑ کا کنٹرول برٹش فوجی افسروں کی نظر میں ضروری تھا ۔ شمالی کوکن میں تھانہ ضلع اور قلابہ ضلع تھے ، جبکہ پنویل بامبے کے مشرق میں واقع تھا ۔پنویل سے قریب جنوب مشرق میں کچھ دور کھپولی اور اس کے نزدیک ہی کھنڈالا تھا ۔
برٹش فوجوں نے ۱۷۷۴ ء میں ہی تھانہ فورٹ پر قبضہ کرلیا تھا ۔
وسئی کا اہم شہر برہمن پیشوا راج میں تھا ، جس کا ہیڈکوارٹر پونہ میں تھا ۔ پونہ سے وسئی کا م کاج چلانے کیلئے کھپولی ۔ کلیان روٹ کا استعمال کیا جاتا تھا اور اس راستہ سے رسد، سامان ، اور سپلائی وسئی کو پہنچائی جاتی تھی ۔وسئی پر دباؤ ڈالنے کیلئے ایک قدم یہ ہوسکتا تھا کہ یہ راست بھی بند ہوجائے ۔
کلیان اور حاجی ملنگ پہاڑ پر قبضہ کا منصوبہ :
اس لحاظ سے بھی کلیان ایک اہم شہر تھا ،یہ ایک درمیانی شہر تھا ، یہ ایک طرح سے جنکشن تھا ۔
کوکن سے مغربی راستے ، پونہ سے جنوبی راستے براہ بور گھاٹ اور مشرقی راستے براہ نانے گھاٹ ، کسور گھاٹ اور مالشیج گھاٹ سارے راستے بامبے کی طرف بھی جاتے تھے ۔ کلیان اور حاجی ملنگ پہاڑ کے برٹش قبضہ سے وسئی کیلئے پونہ سے ہر قسم کی فوجی اور سول سپلائی لائن منقطع کی جاسکتی تھی ۔کلیان اس زمانہ میں ایک ترقی یافتہ اور جدید بندرگاہ بھی تھی ، اس لئے اس پر قبضہ سے برٹش کو یہ سہولت ہو سکتی تھی کہ وہ پیشوا راج کی نیوی ( بحری فوج ) اور اس کے نیوی کمانڈروں دھولپ ، آنگرے وغیرہ کی سرگرمیوں کی روک تھام کرسکے ۔اور پونہ کے حکمراں اگر وسئی کی مدد کیلئے فوجی ، اسلحہ جات و سپلائی بحری راستہ سے بھیجنا چاہیں تو اس کو بھی موثر طریقہ سے روک دیا جائے ۔
اس لئے کلیان اور حاجی ملنگ پہاڑ پر قبضہ کیلئے برٹش فوج نے منصوبہ بند طریقہ سے پیش قدمی کی تھی ۔ اور اس نتیجہ میں ایک جنگ بھی ہوئی ، وہ درگاہ حاجی ملنگ کی پہاڑی پر بھی قبضہ کی جنگ تھی ، جو ۱۷۸۰ ء میں موسم باراں میں ہوئی تھی ۔ جیسا کہ تاریخ سے واضح ہے ، درگاہ حاجی ملنگ اس زمانہ میں جہاں عقیدت کا مرکز تھی ، وہیں اس کی بہت اہم دفاعی حیثیت بھی تھی ، اس پہاڑ سے پونہ کی جانب دوردور تک نگاہ رکھی جا سکتی تھی ۔
کلیان سے قبل پارسک ہل واقع ہے ۔ تھانہ ضلع میں یہ پہاڑی واقع ہے ۔برٹش حکمرانوں نے اس پہاڑی سے گذار کر ایک ریلوے سرنگ (TUNNEL ) بھی بنائی ہے جسے پارسک ٹنل یا سرنگ کہا جاتا ہے ، یہ سرنگ بھارت اور ایشیا کی سب سے قدیم اور لمبی ریلوے سرنگ بھی رہی ہے ۔تھانہ شہر کی ایک طرف تھانہ کھاڑی اور دوسری طرف پارسک پہاڑی نے جہاں اس علاقہ کا قدرتی حسن دوبالا کیا وہیں حفاظت اور دفاع کیلئے بھی قدرتی انتظام کا کام کیا تھا ۔

یہ کہا جاتا ہے کہ کسی زمانہ میں جب وسئی میں مقیم پارسی قوم کے افراد پرتگیز حملہ آوروں کے مظالم اور ان کو عیسائی مذہب قبول کرنے کیلئے کئے جانے والے تشدد سے فرار ہوئے تو وہ اس پہاڑی پر رکے جسے پارسک ہل کانام دے دیا گیا تھا ۔یہ علاقہ تب پرتگیزیوں کی حکومت کی حدود میں شامل نہیں تھا ، اسلئے وہ یہاں بس گئے ، اس کے بعد جب برٹش حکومت وسئی میں بھی قائم ہوئی تب پارسک ہل سے پارسی کمیونٹی کے افراد واپس وسئی ( بسین ) لوٹ گئے ۔

۱۷۸۰ء میں پارسک ہل پر برہمن پیشوا کی افواج کا قبضہ تھا ۔
اس لئے بامبے کے برٹش فوجی جنرل کیپٹن رچرڈ کیمپ بیل کی افواج نے جو تھانہ میں فورٹ اور ملٹری کیمپ کا انچارج تھا ، یہاں سے قریب پارسک ہل پر حملہ کیا ۔ ۱۲؍ اپریل ۱۷۸۰ ء کو اس ہل پر برٹش کا قبضہ ہوگیا ، یہ حملہ اچانک کیا گیا تھا ، جو برٹش فوجی حکمت عملی کا حصہ تھا ۔
اس دوران برٹش فوج کی ایک دوسری ٹیم کیپٹن جان لینڈرم کی قیادت میں پنویل شہر کی طرف بڑھی ۔ پنویل کے پاس ہی بیلا پور بھی پیشوا کی فوج کی چوکی تھا ، اس پر بھی حملہ کیا گیا اور اسی دن بیلا پور کی آؤٹ پوسٹ پر بھی برٹش قبضہ ہوگیا تھا ۔ بیلا پور قلعہ بھی بہت ہی اہم فوجی حکمت کے تحت بنایا گیا تھا ، یہ قلعہ اس لئے بنایا گیا تھا کہ پنویل ندی کے داخلہ پر نظر رکھی جائے ۔بیلاپور قلعہ بامبے ، کارنجہ کیلئے بھی اہم تھا ، اور پارسک ہل قلعہ تھانہ و اطراف کیلئے بھی اہم تھا ، اس لئے ان دونوں قلعوں کو فتح کرنے کے بعد برٹش فوج نے یہاں ہتھیاروں ، کھانے اور دیگر سپلائی کا بہت بڑا ذخیرہ کرلیا تھا ، اس طرح ان کی فوجی مہم آگے چلی ۔
پنویل کی حفاظت مسلمان جمعداروں کے ہاتھوں میں :
اس زمانہ میں پنویل شہر اور پنویل قلعہ اہم شہر و قلعہ میں شمار کیا جاتا تھا ۔ اس فوجی ٹیم نے ۱۳ ؍ اپریل ۱۷۸۰ ء کو پنویل قلعہ جو شہر کی حفاظت کیلئے استعمال کیا جاتا تھا اور پنویل بندرگاہ پر قبضہ کرلیا ۔ پنویل کی بندرگاہ بھی برٹش کیلئے بڑی اہمیت کی حامل تھی ۔
کیپٹن جان لینڈرم کشتیوں کے ذریعہ سوار ہوکر اپنے پانچ سو سپاہیوں کے ساتھ ۱۳؍اپریل ۱۷۸۰ ء کو پنویل بندرگاہ میں اترا ۔ایک تالاب کے پاس ایک مندر تھا ، اس کے پیچھے اس نے اپنے فوجیوںکو ٹہرایا ، پنویل کی حفاظت کیلئے پیشواکی فوج کے صرف دو سو فوجی تعینات تھے ۔
ان کی قیادت دو مسلمان جمعدار کر رہے تھے ، جمعدار اعجاز خان اور جمعدار ابو شیخ ۔
پنویل کے سیکوریٹی معاملات کی نگرانی ایک برہمن نارو وشنو کر رہا تھا ، ۱۲ ؍ اپریل ۱۸۷۰ ء کو ہی برٹش فوج جنگ کیلئے اس نے سپاہیوں کو پنویل میں رکنے کیلئے آمادہ کیا تھا ۔ان کے پاس مناسب ہتھیار بھی نہیں تھے جب کہ برٹش فوج کے سپاہی بھی جدید ترین بھاری توپ خانہ اور گن تھیں جنہیں جمبورا گن کہا جاتا تھا ۔جمعدار ابو شیخ اور جمعدار اعجاز خان کی قیادت میں پھر بھی پنویل کی حفاظت کیلئے پیشوا کی فوج نے جنگ کی ، برٹش فوج کی جانب سے بھاری فائرنگ ہوئی ۔ جمعدار ابو شیخ اور جمعدار اعجاز خان بڑی بہادری سے مقابلہ کرتے رہے ۔لیکن پھر پنویل سے جنوب میں تین میل دور گاؤں پلاسپے کی طرف پسپا ہوئے ۔
پنویل کی اہمیت اس ناطہ تھی کہ یہ بھی پونہ کے قریب تھا ، برٹش افواج کو یہ خدشہ تھا کہ کلیان کی فوجی مہم کو شکست دینے کیلئے پنویل کی برہمن
پیشوا آوٹ پوسٹ سے کوئی فوجی مدد پنویل ۔ تلوجہ ۔ کلیان راستہ سے بھیجی جاسکتی تھی ، اس کو روکنے اور اس طرف کا خطرہ ختم کرنے کیلئے پنویل پر بھی فوجی کارروائی کی گئی اور برہمن پیشوا کی فوج کو یہاں شکست ہوئی ۔
نارو وشنو چاہتا تھا کہ پلاسپے گاؤں میں برٹش فوج کا مقابلہ کیا جائے لیکن اس کیلئے اس کے پاس سپلائی اور مناسب روپیہ بھی نہیں تھا
پنویل سے کیپٹن لینڈرم ( CAPTAIN LENDRUM ) کی فوج نے کلیان کی طرف کوچ کیا تو اس راستہ میں تلوجہ بھی تھا ، یہاں پیشوا کی جو فوج تھی اس کو بھی برٹش دستو ں نے ہتھیار ڈالنے کیلئے کہا لیکن بہت سے پیشوائی فوجی پسپا ہونے کے بعد کلیان کی طرف بھاگ گئیے البتہ ، اس طرح اس طرف کا سارا علاقہ برٹش کنٹرول میں آگیا اور برہمن پیشوا کا راج پاٹ ختم ہوگیا ۔برٹش فوج نے اپنی جدید ترین توپیں اور جمبورا گن پنویل سے تلوجہ پہنچا دیں ، اور وہاں نصب کردی ۔ادھر کلیان کے معاملات دار گوند رام کارلیکر نے نارو وشنو کو لکھا کہ اس کا محاصرہ برٹش فوج کر رہی ہے ، اس لئے وہ فوری طور پر کلیان آئے ، نارو وشنو کے ساتھ جمعدار اعجاز خان اور جمعدار ابو شیخ بھی اپنی فورس لیکر کلیان کی طرف گئے ۔
دوسری طرف کیپٹن کیمپ بیل نے کلیان کا محاصرہ کیا ۔ کلیان سے قبل تین میل دور جنوب مغرب میں پیشوا فوج کی ایک گارڈ چوکی ٹھاکرلی گاؤں میں قائم تھی ۔ مئی ۱۷۸۰ ء کے پہلے ہفتہ میں نے برٹش سپاہیوں نے راتوں میںکلیان کے آس پاس جاسوسی کا کام شروع کردیا تھا ۔ٹھاکرلی میں ان کی پیشوا کے سپاہیوں کے ساتھ جھڑپیںبھی شروع ہوگئیں ۔
ادھر تاریخ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جہاںبرہمن پیشوا اقتدار کو برٹش طاقت کا سامنا کرنا پڑرہا تھا وہیں ، اس سلطنت کی مالی حالت بڑی خراب تھی ، اس طرح جنگ میں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا ۔ کلیان کے معاملات دار گوند رام کارلیکر کے خط سے اس کا اظہار ہوتا ہے ، جو اس نے پیشوا نانا فرنویس کو لکھا ۔ پونہ بھیجے گئے خط میں اس نے مالی مدد مانگی اور بتایا کہ اس کے پاس سپاہیوں کو تنخواہیں ادا کرنے کیلئے بھی مناسب رقم نہیں ہے ، اس نے یہ بھیتذکرہ کیا کہ وہ مقامی ساہوکاروں کے پاس قرض کیلئے جاتے ہیں ، تو حالات کی وجہ سے ساہوکار بھی ان کو قرض دینے سے صاف انکار کر رہے ہیں ۔کیا عجب حالت تھی کہ ساہوکار سرکار کو بھی قرض دینے سے انکار کر رہے تھے ، یہ صرف کلیان کی حالت نہیں تھی ۔یہ کہا جاتا ہے کہ پونہ میں بھی ایسا ہی حال تھا ۔
۱۰ مئی ۱۷۸۰ ء کو برٹش فوج کیپٹن کیمپ بیل کی قیادت میں کلیان میں داخؒ ہوئیں ، اس کیلئے انہوں نے دو راستے اختیار کئے تھے ، ایک زمینی راستہ ، جو تلوجہ سے کلیان پہنچتا تھا ، دوسرا بحری راستہ تھا ، جو کلیان۔ بھیونڈی کھاڑی سے اختیار کیا گیا ۔کلیان کے پاس پہنچ کر صبح سویرے ہی برٹش فوج نے شہر پر زبردست بمباری شروع کردی ، یہ بمباری مسلسل پانچ گھنٹے تک کی گئی ۔اس زبردست بمباری کے سامنے پیشوا کی فوج ٹک نہیں سکی اور وہ سب کے سب اپنی اپنی دفاعی پوسٹ چھوڑکر مول گاؤں کی طرف فرار ہوگئے ، جو کلیان سے جنوب مشرق کی طرف۳۵ میل دور واقع تھا ۔
اس طرح بر ٹش فوج نے پہلے ہی کلیان شہر کو فتح کرلیا ۔
اسی دن برٹش فوج کلیان شہر میں داخل ہوگئی ۔ پیشوا کی فوج نے اپنے آپ کو کلیان سے جنوب مشرق میں چار میل دور وٹھل واڑی میں منظم کیا ، ان کے کمانڈر باجی پنت انا جوشی اور سکھرام پنت پنسے تھے ۔ انہوں نے اپنی فوج جمع کی جو تعداد میں برٹش فوج سے بھی زیادہ تھی ۔ کلیان شہر کو برٹش قبضہ سے واپس لینے کیلئے انہوں نے حملہ شروع کردئیے ۔
اس دوران ۲۴ مئی ۱۷۸۰ ء کو گجرات سے برٹش افسر کرنل ہارٹلے کی قیادت میں کمک یہاں آگئی تاکہ کلیان کے دفاع کی مدد کی جائے ، اس فوج میں زبردست توپ خانہ بھی تھا ۔برہمن پیشوا کی فوج کو حیرت زدہ کرنے کیلئے کرنل ہارٹلے نے رات میں توپ خانہ کا زبردست حملہ وٹھل واڑی پر کیا جس سے پیشوائی افواج میں بھگدڑ مچ گئی ۔ان کا بھاری نقصان ہوا، دوسرے دن کرنل ہارٹلے کی فوج نے پھر حملہ کیا اور پیشوائی فوج کو بور گھاٹ کی طرف پسپا ہونے پر مجبور کیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں