برہمن :چھترپتی شیواجی مہاراج کےاصلی دشمن ؟

برہمن :چھترپتی شیواجی مہاراج کےاصلی دشمن ؟
برٹش اسکالرس اور مورخین نے اس غلط نظریہ کو تقویت پہنچانے کیلئے جھوٹی اور من گھڑت تاریخ لکھی جس میں مسلم حکمرانوں پر مندر توڑنے ، مذہب کی تبدیلی کیلئے مظالم ڈھانے ، ہندو عورتوں کی عصمت سے کھلواڑ کرنے اور ہندو آبادی پر ظلم کرنے کی جھوٹی کہانیاں فارسی کےتاریخی مواد کا غلط ترجمہ کرکے اور غلط بیانی کا سہارا لیکر بیان کی گئیں ۔انگریزوں اور ان کے ایجنٹوں نے ہی چھترپتی شیواجی مہاراج اور ان کے خاندان کی تاریخ کو مسلم دشمن بنا کر پیش کیا
خصوصی رپورٹ : سعید حمید
ممبئی : چھترپتی شیواجی مہاراج کی تاریخ کو بھی انگریزوں اور انگریزوں کے دلالوں نے مسخ کرکے اسے مسلم اور اسلام دشمن رنگ دیا ۔ ہمارے ملک کی تاریخ کا ایک الم ناک پہلو یہ ہے کہ جب مسلم حکمرانوں سے برٹش سامراج نے اقتدار ہتھیا لیا تو انہیں یہ ضرورت محسوس ہوئی کہ جھوٹی تاریخ کے ذریعہ مقامی اکثریتی آبادی کو بہکائیں کہ مسلمان حکمراں ، ان کیلئے بہت ہی خراب ، ظالم اور جنونی واقع ہوئے ہیں، ان کے دھرم کے دشمن رہے ہیں ، اس لئے انگریز مسلمانوں کے مقابلہ زیادہ بہتر حکمراں ہیں اور ہندو عوام انگریزوں کو بطور حاکم قبول کرلیں۔
برٹش اسکالرس اور مورخین نے اس غلط نظریہ کو تقویت پہنچانے کیلئے جھوٹی اور من گھڑت تاریخ لکھی جس میں مسلم حکمرانوں پر مندر توڑنے ، مذہب کی تبدیلی کیلئے مظالم ڈھانے ، ہندو عورتوں کی عصمت سے کھلواڑ کرنے اور ہندو آبادی پر ظلم کرنے کی جھوٹی کہانیاں فارسی کےتاریخی مواد کا غلط ترجمہ کرکے اور غلط بیانی کا سہارا لیکر بیان کی گئیں ۔انگریزوں اور ان کے ایجنٹوں نے ہی چھترپتی شیواجی مہاراج اور ان کے خاندان کی تاریخ کو مسلم دشمن بنا کر پیش کیا ۔ انگریزوں کے دور میں ہی ملک کا ایک کٹر وادی طبقہ ہندو راشٹر کے خواب دیکھنے لگا ، اس طبقہ کو یہ محسوس ہوا کہ جب بھی انگریز ملک کا اقتدار چھوڑ کر جائے ، وہ اقتدار کا بلا شرکت غیرے ( یعنی مسلمان کو اقتدار میں شریک کئے بغیر ) ملک کا حاکم بن جائے ، اس لئے اس کٹر وادی طبقہ کا بھی مفاد اس سے وابستہ تھا کہ تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جائے ۔ یہ طبقہ بھی چھترپتی شیواجی مہاراج کی حقیقی تاریخ کو جھوٹ سےآلودہ کرنے اور انہیں مسلمانوں و اسلام کا دشمن بنا کر پیش کرنے کا مجرم ہے ۔
تاریخ تو یہ کہتی ہے کہ جب چھترپتی شیواجی مہاراج نے اپنے راجہ ہونے کا اعلان کیا تو ان کی مخالفت کسی اور دھرم کے لوگوں نے نہیں بلکہ برہمنوں نے ہی کی تھی ۔ اس زمانہ کی روایات کے مطابق چھترپتی شیواجی مہاراج کیلئے ضروری تھا وہ ویدک رسموں کے مطابق تاج پوشی کی رسم ادا کرتے ۔ لیکن مہاراشٹر کے براہمنوں نے ایہ اعلان کردیا کہ چھتر پتی شیواجی مہاراج کی ویدک طریقہ سے تاج پوشی نہیں ہوسکتی ، کیونکہ مہاراشٹر کے براہمنوں نے ان کو شودرا ( یعنی اچھوت ) قرار دیا اور ہندو روایات کے مطابق کوئی شودرا یا اچھوت راجہ نہیں بن سکتا تھا ۔ تاریخ میں تو اس بات کے بھی ثبوت دستیاب ہیں کہ جن برہمنوں نے راجہ بننے میں چھتر پتی شیواجی مہاراج کی پر زور مخالفت کی ان میں ان کا وزیراعظم مورو پنت پنگلے بھی تھا ، ان برہمنوں کو ہی چھتر پتی شیواجی نے وزیر بنایا تھا اور اپنی کابینہ میں شامل کیا تھا ۔
حالانکہ چھترپتی شیواجی مہاراج کا پہلا سر سیناپتی ( آرمی کمانڈر ) نور خان بیگ اور پہلا نیوی چیف دریا سرنگ ، یہ بھی مسلمان تھے، لیکن کسی بھی مسلمان نے ان کے راجہ بننے کی مخالفت نہیں کی ۔
البتہ انگریزوں اور ان کے بعد کٹروادی مورخین نے افضل خان ، شائستہ خان کیساتھ جھڑپوں اور آگرہ میں قید کے واقعہ کو جھوٹ سے آلودہ کرکے چھترپتی شیوجی مہاراج کو ایک مسلم دشمن راجہ اور مسلمانوں کو ان کا دشمن بنا کر پیش کرنے کی حرکت کی ، تاکہ ہندو مسلم نفرت میں اضافہ ہو اور ہندوتوا وادی کٹر ایجنڈے کو آگے بڑھایا جاسکے ۔
آج مراٹھا مورخین ہی اس بات سے پردہ اٹھا رہے ہیں کہ چھترپتی شیواجی مہاراج کو جہاں برہمنوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا وہیں ان کی نسلوں اور خاندان والوں کو برہمنوں کی سازشوں کا شکار بننا پڑا ۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب شیواجی مہاراج کے خاندان کے حکمرانوں کو برہمن پیشواوؤں یا وزیروں نے محصور کرکے رکھ دیا اور پھر برہمن راج قائم کردیا گیا جسے پیشوا راج سے یاد کیا جاتا ہے ۔ پیشو ا راج دراصل برہمن راج تھا ، اور یہ راج چھترپتی شیواجی مہاراج کی نسل اور خاندان کی حکمرانی کو ختم کرکے شروع کیا گیا ، ان تاریخی حقائق کی بناء پر اس سوال کا جواب دینا مشکل نہیں ہے کہ چھترپتی شیواجی مہاراج کا اصلی دشمن کون تھا ۔ لیکن اردو میں اس موضوع پر اور پھلے۔ شاہو ۔ امبیڈکر نظریہ فکر کی تاریخ پر بہت کم لکھا گیا ہے ، اس لئے اردو داں طبقہ کا ایک حصہ ان حقائق سے ناواقف ہے ۔
۱۸۵۷ ء کی جنگ اور قومی اتحاد
۱۸۵۷ ء کے انقلاب کے بعد انگریزوں نے یہ محسوس کیا کہ ہندو اور مسلمانوں کے درمیان خلیج کو اور گہرا نہیں کیا گیا تو پھر اس ملک پر ان کا راج پاٹ زیادہ دنوں تک نہیں چل سکے گا ، کیونکہ ۱۸۵۷ ء میں ملک کے ہندو مسلمانوں نے اتحاد کا بھرپور مظاہرہ کیا اور آخری مغل بہادر شاہ ظفر کی قیادت میں جنگ آزادی کی پہلی بڑی کوشش کرڈالی ۔ اس جنگ میں نہ صرف انقلابیوں کی قیادت ایک مسلمان نے کی تھی ، بلکہ مسلمان کمانڈر و علمائے کرام ہی اس جنگ آزادی میں پیش پیش تھے ۔
دہلی اور ملک کی متعدد مسجدوں سے انگریزوں کے خلاف جہاد کے فتوی جاری کئے گئے ، اور ۱۸۵۷ ء کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کی شرکت کو علمائے کرام نے مذہبی فریضہ قرار دیا ، اس کے ساتھ ہی انقلابیوں کی یہ بھی کوشش رہی کہ اس انقلاب میں ہندو مسلمان اتحاد قائم رہے ، فرنگی حکومت کے خلاف جہاد کا فتوی جاری کرنے والے علمائے کرام نے ہندو اور مسلمانوں کو اس بات کی بھی سختی کیساتھ تلقین کی کہ وہ ہندو مسلم اتحاد قائم رکھیں کیونکہ برٹش ہی ان کا مشترک دشمن ہے ۔ بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے بھی جنگ اازادی کا جو فرمان جاری کیا اس میں ہندو مسلمانوں کی قومی یکجہتی کی تاکید کی تھی ۔اس لئے یقینی بات ہے کہ دشمن سمجھ گیا کہ مسلمانوں اور ہنددؤں کو آپس میں لڑائے بغیر اس دیش پر حکمرانی نہیں کی جاسکتی ۔
۱۸۵۷ ء کی جنگ آزادی کیلئے دہلی کی مسجدوں سے تقریباً سو مشہور علمائے کرام اور مفتیان دین نے برٹش سرکار کے خلاف فتوی پر دستخط کئے ۔ برٹش فوج کو دہلی فتح کرنے کیلئے چار مہینے کا عرصہ لگ گیا اس دوران بے ربط و منتشر انقلابیوں نے دنیا کی بہترین برٹش فوج کے چھکے چھڑادئے تھے ۔ آخرکار ستمبر ۱۸۵۷ ء میں جب دہلی شہر پسپا ہوا تو اس شہر کی برٹش فورسز نے اینٹ سے اینٹ بجادی ۔ سب سے
زیادہ غصہ مسلمانوں پر ہی نکالا گیا کیونکہ ۱۸۵۷ ء کی پہلی جنگ آزادی میں مسلمان ہی پیش پیش تھے ۔
جب مسجد یں شہید کردی گئیں
ستمبر ۱۸۵۷ ء دہلی کی تاریخ کاایک سیاہ ترین مہینہ تھا ۔ انقلابیوں نے جب پسپائی اختیار کرلی تو انگریز نے ہندوستانیوں کے دلوں میں دہشت بٹھانے کا فیصلہ کیا ۔ مسجدوں کو انتقامی طور پر شہید کیا گیا ، ان پر قبضہ کیا گیا ، ان مشہور اور شاہی مسجدوں میں نماز و اذان کا سلسلہ تک بند کردیا گیا ۔چونکہ مسجدوں سے انگریزوں کے خلاف اعلان جہاد کیا گیا تھا ، اس لئے انگریز حکمرانوں نے مسجدوں کو خاص نشانہ بنایا ۔انہوں نے جہاں اپنی عیارانہ حرکت سے ہندو مسلمانوں میں نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی اسی طرح مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کا بھی کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیا ، اس زمانہ میں مسلمان برٹش امپائر کا بڑا دشمن تھا کیونکہ اس دشمن کا برٹش سامراج کو صرف ہندوستان ہی نہیں، افغانستان ، ایران ، ترکی سے لیکر مکہ ، مدینہ تک مقابلہ کرنا پڑرہا تھا ۔ مسلمان برٹش سامراج کا بین الاقوامی سطح کا مد مقابل اور دشمن تھا ، اس لئے انڈیا میں بھی برٹش سامراج کا بڑا نشانہ مسلمان ہی تھا ۔
انگریز مورخین نے انقلاب ۱۸۵۷ ٔء کے بارے میں لکھا کہ دہلی کی کئی مساجد وہابی باغیوں کا اڈہ بن چکی تھیں ، یہ وہابی باغی مسجدوں کو جہادیوں ( مجاہدین ) کی بھرتی کا مرکز بنائے ہوئے تھے ، ان مسجدوں پر ہرے جھنڈے لہرائے جاتے تھے اور وہاں سے جہاد کا اعلان کیا جاتا تھا ۔ انگریز مورخین نے یہ بھی لکھا کہ جہادیوں نے اپنی نظمیں بھی لکھی تھیں جنہیں باغیوں کا حوصلہ بڑھانے کیلئے استعمال کیا جاتا تھا ، ان نظموں میں کہا گیا ؛
ہماری مسجدیں ہمارے بیرک ہیں ۔
ہمارے گنبد ہمارے ہیلمیٹ ہیں ۔
ہمارے مینارے ہمارے نیزے ہیں۔
اور ؛ ہمارا قرآن ہماری ڈھال ہے ۔
انگریز مورخین نے یہ بھی کہا کہ غدر ( چونکہ انگریز کی نگاہ میں یہ انقلاب نہیں ، سپاہیوں کی بغاوت تھی ) کے دوران وہابی جہاد یوں نے مسجدوں میں اسلحہ ، گولہ ، بارود کا بھی ذخیرہ کرلیا تھا ۔اور اللہ اکبر کے نعرے لگائے جاتے تھے ، دہلی کے مسلمانوں کو جہاد کیلئے اکسایا جاتا تھا۔ اس طرح کی تاریخ جان نکولسن نے لکھی ہے ۔انگریزوں کا بیان ہے کہ چونکہ ۱۷۵۷ ء کی جنگ پلاسی کو ایک سو سال ہوچکے تھے ، اس لئے بہت سے مسلمان کسی معجزے کے منتظر تھے اور انہیں اپنی فتح کا یقین ہو چکا تھا ۔ اور بہت سے علما ء نے جنگ پلاسی کی صدی کی تکمیل پر معجزے کی امید میں اعلان جہاد کردیا تھا ۔سو سے زائد علمائے کرام نے انگریزوں کے خلاف فتوی پر دستخط بھی کردئے اور بعد میں یہی فتوے ان کے خلاف بطور ثبوت پیش کئے گئے تھے۔
ستمبر ۱۸۵۷ ء میں دہلی کو فتح کرنے کے بعد انگریزوں نے سارا غصہ مسلمانوں پر نکالا ۔ اکبر آباد مسجد ، اور کشمیری کٹرہ مسجد کو شہید کردیا گیا ، اور الزام یہی لگایا گیا کہ ان مساجد کو باغیوں کا اڈہ بنادیا گیا تھا ، نوبت تو جامع مسجد دہلی کو بھی شہید کرنے کی آ چکی تھی ، لیکن پھر انگریزوں نے جامع مسجد دہلی کو شہید کرنے کا ارادہ ترک کردیا ، البتہ اس مسجد پر قبضہ کرلیا اور اسے اپنے سپاہیوں کی رہائش کا کیمپ بناڈالا ، جامع مسجد دہلی کے اطراف کی گیلریوں کو انگریزی فوج کے سپاہیوں کے گھوڑوں کا اصطبل بنا دیا گیا اور یہاں گھوڑے باندھے جانے لگے ۔دہلی کی مشہو فتح پور مسجد پر انگریزوں نے قبضہ کرلیا اور اسے ایک ہندو ساہوکار لالہ چونا مل کو فروخت کردیا ، اس نے اس شاہی مسجد کو اپنا گودام بنا ڈالا تھا۔ اسی طرح انگریز حکمرانوں نے زینت المساجد پر بھی قبضہ کرلیا اور اس مسجد کو ایک بیکری میں تبدیل کردیا ۔
اس زمانے میں دہلی کی شاہی جامع مسجد کے بعد زینت المساجد ہی دوسری سب سے مشہور مسجد تھی ، یہ مسجد اورنگ زیب کی بیٹی زینت النساء بیگم نے ۱۷۰۷ ء میں یعنی اس سال جب بادشاہ اورنگ زیب کا انتقال ہوا ، راجدھانی میں تعمیر کروائی تھی ۔ یہ کہا جاتا ہے کہ ۱۸۷۵ ء تک اس مسجد میں انگریزوں نے بیکری قا ئم کر رکھی تھی اس کے بعد بھی یعنی یہ مسجد مسلمانوں کو واپس کرنے کے بعد بھی اس میں اذان اور نماز کا سلسلہ شروع نہیں ہو سکا ، یہاں تانگہ کا اصطبل بنا کر رکھا گیا ۔ اور اکھاڑے قائم کئے گئے ۔
انگریزوں نے مسجدوں کے آس پاس واقع مکانات تباہ و برباد کردئیے اور املاک ضبط کرلی گئیں ۔ ۱۴ ستمبر ۱۸۵۷ ء کو انگریزوں نے دہلی پر قبضہ کیا تھا اور انہوں نے یہ سوچ کر کہ مسجد یں ہی بغاوت کا مرکز تھیں جہاں سے باغیوں کو اکسایا گیا ، مساجد کو خاص نشانہ بنایا ۔ جامع مسجد دہلی کو آخر کار ۱۸۶۲ ء میں مسلمانوں کے حوالے کیا گیا اور اس میں نماز و اذان کا سلسلہ شروع ہوا ۔لیکن اس کے لئے انگریزوں نے یہ شرط رکھی کہ وہ جب چاہے تب جوتے پہن کر مسجد میں داخل ہوسکتے ہیں ۔ دہلی کے تباہ حال مسلمانوں نے فتح پور مسجد کو لالہ چونا مل سے دوبارہ خرید لیا ۔ مسلمانوں کی املاک و جائیداد کو انگریزوں نے بڑے پیمانے پر ضبط کرکے انہیں قلاش اور مفلوک الحال بناڈالا تھا ۔ جو مسلمان امرا بے دخل کئے گئے ان کی املاک و جائیداد خرید خرید کرلالہ چونا مل اور اس کے ساہوکار ساتھیوں نے بے حد منافع کمایا ۔ دیش بھکتی کا خمیازہ مسلمانوں کو بھگتنا پڑا اور وہ بڑے خسارے میں رہے ۔ جہان آباد میں صرف انگریز یا گورے رہتے تھے اور وہاں کالوں یا دیسی افراد کا داخلہ ممنوع تھا۔ جنوری ۱۸۵۸ ء میں جہان آباد میں ہنددؤں کو داخلہ کی اجازت ملی ، لیکن دس سال یا اس سے زیادہ مدت تک مسلمان اس شہر میں داخل نہیں ہوسکتے تھے ، مسلمانوں کیساتھ انگریزوں نے اس قدر سخت برتاؤ کیا تھا ۔ ان حالات میں مسلمانوں کی اقتصادی و مالی حالت بہت زیادہ خراب ہوگئی ۔کاروبار تباہ ہوگئے ، ان کے ہاتھوں میں جو صنعت و حرفت تھی ، وہ ان کے ہاتھوں سے چلی گئی ۔ علما ء ، اسکالرس ، ادیب ، شاعر روزگار کی تلاش میں رام پور ، حیدر آباد و دیگر جگہوں پر ہجرت کیلئے مجبور ہوگئے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں