پتھر پھینکنے والوں کے لباس ؟

پتھر پھینکنے والوں کے لباس ؟
تکلف برطرف : سعید حمید
کہا جاتا ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ،
نفرت کرنے والوں کا کوئی دھرم نہیں ہوتا ،
تشدد کرنے والوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ،
جرم کرنے والوں کا کوئی دھرم نہیں ہوتا ۔
اس کےباوجود عرصہ تک اس ملک میں یہی کہا گیا ،
سارے مسلمان دہشت گرد نہیں ،
لیکن سارے دہشت گرد مسلمان کیوںہیں ؟
بعد میں پتہ چلا کہ نقلی داڑھی ٹوپی لگا کر
بم دھماکہ کچھ اور لوگ کر رہے تھے ،
لیکن ۔
بم دھماکوںکے الزام میں صرف مسلمان ہی
گرفتار کئے جا رہے تھے ۔
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جو احتجاج
شروع ہوا ، اس میں آسام ، میگھالیہ اور نارتھ ایسٹ
کی ریاستیں تشدد کی بھینٹ چڑھ گئیں ،
کئی افراد ہلاک ہوگئے ،
جگہ جگہ آتشزنی ہوئی ۔
انٹرنیٹ کو بند کردیا گیا ۔
تب تک مسلمان میدان میں نہیں اترے تھے ۔
تشدد کس نے کیا ؟ بسوں کو آگ کس نے لگائی ؟
پولس نے کس پر فائرنگ کی تھی ؟
اس کا جواب سب جانتے ہیں ۔
لیکن۔
اس کے باوجود ہمارے ملک کے وزیر اعظم
جناب نریندر مودی نے ۱۴ ؍ دسمبر کو جھارکھنڈ میں
ایک انتخابی جلسہ میں کیا کہا ؟
ـ’’ جو لوگ عوامی املاک کو نذر آتش کر رہے ہیں ،
وہ ٹی وی پر دیکھے جاسکتے ہیں ۔
ان کی شناخت ان کے کپڑوں سے کی جاسکتی ہے ،
جو انہوں نے پہن رکھے ہیں ۔‘‘
وزیر اعظم کے ایک ذمہ دار عہدہ پر بیٹھے
ایک شخص کی زبان سے یہ الفاظ اس عہدہ کے
شایان شان نہیں کہ ان الفاط سے فرقہ پرستی ،
تعصب اور ایک فرقہ سے نفرت کی بو آتی ہے ۔
ایک وزیر اعظم کیلئے کیا یہ زیب دیتا ہے
کہ وہ محض ٹی وی کی کچھ ویڈیو کلپ دیکھ کر
عوامی فنکشن میں اس بات کا اعلان کردے
کہ جو لوگ پتھراؤ کر رہے ہیں ،
جو لوگ آتشزنی کر رہے ہیں ،
ان کے لباس سے ہی ان کی ( مذہبی ؟ ) شناخت
کی جاسکتی ہے !!!
کیا وہ اس تشدد کو فرقہ وارانہ رنگ نہیں دینا چاہتے تھے ؟
کیا اس بیان سے تعصب اور فرقہ پرستی کی بو
نہیں آتی ہے ؟
کیا کسی ملک کے وزیر اعظم کیلئے یہ مناسب ہے
کہ محض ٹی وی کی ویڈیو کلپ دیکھ کر ؎
اپنی رائے کا عوامی جلسوں میں اظہار کرے ؟
اس کا صاف مطلب ہے کہ جس طرح
مودی سرکار نے مذہب کی تفریق و تعصب
کی بنیاد پر شہریت ترمیم قانون بنایا ،
جس طرح اس قانون کو لوک سبھا ، راجیہ سبھا میں
اکثریت کی طاقت کے گھمنڈ پر پاس کرنے کیلئے
جھارکھنڈ اسمبلی الیکشن مہم کے دوران پیش کیا گیا ۔
اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس قانون اور اس کی وجہ
سے پیدا ہونے والے تنازعہ کی آگ بھڑکا کر
جھارکھنڈ اسمبلی الیکشن میں فرقہ وارانہ سیاست کی
کھچڑی پکانے کی گھٹیا حرکت کی گئی ۔
اس گھٹیا حرکت اور سیاسی سازش کا راز
وزیر اعظم مودی کے انتخابی ریلی میں دئیے گئے
افسوس ناک بیان نے فاش کردیا ۔
اور پھر اس سازش سے ایک پردہ اور ہٹ گیا ۔
مغربی بنگال میں عوام نے چھ ہندو نوجوانوں کو
رنگے ہاتھوں پکڑ لیا ۔
انہوں نے مسلمانوں کا حلیہ بنا رکھا تھا ۔
مسلم طرز کی ٹوپیاں پہن رکھی تھیں ،
لنگی بھی پہنی تھی ۔
وہ نوجوان بی جےپی کے حامی تھے ،
ان کا سرغنہ ایک مقامی بی جے پی ورکر تھا ۔
وہ گذرنے والی ٹرینوں پر پتھراؤ کرکے ان کی
ویڈیو کلپ بنا رہے تھے ،
تاکہ اس ویڈیو کو یو ٹیوب اور سوشل میڈیا پر
پوسٹ کیا جائے اور مسلمانوں کو بدنام کیا جائے ۔
محترم وزیر اعظم صاحب !!!
آپ نے جن ویڈیو کلپس کو دیکھ کر
بغیر کسی پولس انکوائری ، انٹلی جنس رپورٹ
اور ثبوت منگوائے
یہ فرمان جاری کردیا کہ ان ٹی وی رپورٹ میں
ان لوگوں کے کپڑوں سے ہی
ان لوگوں کی شناخت ہوسکتی ہے ،
جو پتھراؤ اور آتش زنی کر رہے ہیں ۔
کیا مغربی بنگال کی طرح ایسے کرایہ کے فسادی
اور پتھراؤ کرنے والے دیگر جگہوں پر بھی
بھیڑ میں شامل نہیں کر دئے گئے ،
تاکہ ایک مخصوص فرقہ کے لوگوں کو بدنام کیا جائے ؟
یہ حربہ تو بہت پرانا ہے ۔
مالیگاؤں میں ستمبر ۲۰۰۶ ء ، شب براءت کے موقعہ
جو بم دھماکہ کئے گئے ، ان میں سے ایک دھماکہ
کیلئے ایک موٹر سائیکل میں بم رکھے گئے تھے ،
اس کو مالیگاؤں سیمی کے دفتر کے سامنے کھڑا کیا گیا تھا ۔
اس کے انجن پر کلمہ کا اسٹکر لگایا گیا تھا ۔
اللہ اکبر لکھا گیا تھا ۔
تاکہ بم دھماکوں کا الزام سیمی کے کرکنان پر جائے ۔
مہاراشٹر اے ٹی ایس ، اور سی بی آئی
نے تو وہی کیا ، کہ مسلمانوں کے قتل ، مسجد و قبرستان
پر بم دھماکوںکے الزام میں مسلمانوں کو ہی گرفتار کیا ۔
لیکن۔
بھلا ہو آنہانی ہیمنت کر کرے کا جنہوں نے
حقیقی دہشت گردوں کو بے نقاب کردیا ۔
یہ موٹر سائیکل سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کی تھی ،
جسے آر ایس ایس پرچارک سنیل جوشی نے بم دھماکہ
کیلئے استعمال کیا تھا ۔
پولس کو بہکانے کیلئے اس پر کلمہ اور اسلامی اسٹیکر
لگادیا گیا ، اور انجن سے اصلی نمبر مٹا دئیے گئے ۔
مسلمانوں کو بدنام کرنے اور اصلی دہشت گردوں
کو بچانےکی یہ ایک گھناؤنی حرکت تھی ،
جسے بے نقاب کرنے کی صرف ہیمنت کر کرے
نے جرأت کی تھی ۔
جو کٹر جنونی افراد ٹوپی ، کرتا پائجامہ پہن کر
اور نقلی داڑھی لگا کر مسلمانوں کو بدنام کرنے کیلئے
بم دھماکہ کر سکتے ہیں ،
کیا وہ مسلمانوں کا حلیہ اختیار کرکے پتھراؤ نہیں کر سکتے ؟
آتشزنی نہیں کر سکتے ؟
ایک بڑے ملک کے وزیر اعظم کو اس بات
کا تو خیال ہونا چاہئے ؟
لیکن اس کے باوجود بھی اس طرح کا غیر ذمہ دارانہ
بیان ؟ ایک سازش کا حصہ نہیں تو اور کیا ہے ؟
ہم اس موقعہ پر اپریل ۲۰۰۶ ء میں پاٹ بندھارے
نگر ، ناندیڑ کے ایک واقعہ کی طرف بھی
توجہ دلانا چاہتے ہیں ۔
وشوا ہندو پریشد کے دفتر میں جمعرات ۔ جمعہ کی نصف
شب کچھ وی ایچ پی دہشت گرد پائپ بم بنا رہے تھے ۔
اچانک حادثہ میں ایک بم پھٹ گیا ۔
ایک دہشت گرد ہلاک ہوا ، کئی زخمی ہوئے ،
فرار بھی ہوگئے ۔
اس دفتر سے بنے ہوئے کچھ بم ، بم بنانے کا سامان
اور مسلمانوں کے کپڑے ، ٹوپی ، کرتا ، پائجامہ ، نقلی داڑھی
بھی برآمد ہوئی تھی ۔
اورنگ آباد کی ایک مسجد کا نقشہ بھی ملا ۔
جہاں وہ ناندیڑ سے دوسرے دن نماز جمعہ کا ٹائمر
لگا کر بم دھماکہ کرنا چاہتے تھے ،
لیکن، قدرت کو کچھ اور منظور تھا ۔
ان سنگھی بھکتوں نے جب بی جے پی سرکار نہیں ےتھی ،
مسلمانوں کا حلیہ بنا کر مسجدوں ،درگاہوں میں بم دھماکہ کئے ،
تو آج کیا وہ مسلمانوں کا لباس پہن کر فساد نہیں کرسکتے ؟
وزیر اعظم مودی اس کا جواب دیں !!!

aaa

اپنا تبصرہ بھیجیں