فرقہ وارانہ فسادات کی سازش : غلامی سے آزادی تک

فرقہ وارانہ فسادات کی سازش : غلامی سے آزادی تک
سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی حفاظت کیلئے کئی ہدایات جاری کی تھیں ، سنگھ پریوار نے بھی سپریم کورٹ میں یہ حلف نامہ داخل کیا تھا کہ کارسیوا عدالت عالیہ کے حکم کے مطابق ہی کی جائے گی ، لیکن بعد میں سپریم کورٹ کی ہدایات ہی نہیں بلکہ سپریم کورٹ میں داخل کردہ حلف ناموں کی بھی دھجیاں اڑا دی گئیں

خصوصی رپورٹ : سعید حمید

ممبئی : یہ کہا جاتا ہے کہ انگریزوں نے ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کی سیاست شروع کی ۔
آزادی کے بعد جو برٹش ایجنٹ رہے ہونگے ، انہوں نے ہی اقتدار کیلئے ہندو مسلم فسادات کو استعمال کیا ۔ آزادی کے بعد پندرہ ہزار فرقہ وارانہ فسادات اس کی مثال ہیں ، ممبئی برٹش راج سے آزادی کے دور تک خاص طور پر فسادات کا نشانہ بنا ہے ، اس کاتاریخی ریکارڈ بھی موجود ہے ۔
ایودھیا میں ۶دسمبر ۱۹۹۲ ء کو کارسیوا کی آڑ میں جس طرح سازش اور مجرمانہ ہجومی تشدد کے ذریعہ بابری مسجد شہید کی گئی تھی ، وہ اس ملک کی تاریخ اور خاص طور پر آزاد بھارت کی تاریخ کا یہ کلنک ہے ، بابری مسجد انگریزوں کی غلامی کے زمانہ میں محفوظ تھی لیکن آزادی کے بعد اس پر تالا لگ گیا ، نماز و اذان کا سلسلہ بند کر وادیا گیا ، ۱۹۹۲ ء میں اسے ایک سازش کے ذریعہ شہید کردیا گیا ۔
بابری مسجد کی شہادت کے بعد ممبئی میں سب سے سنگین فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے ، یہ فسادات دو مراحل میں ہوئے تھے ، دو مہینہ تک ممبئی شہر دنگوں کی آگ میں جھلستا رہا ۔ کیوں ؟ اس کی اہم وجہ پولس ہے ۔کسی بھی فساد کو کنٹرول کرنے یا اس کو بد سے بد تر بنادینے میں پولس کا اہم رول ہواکرتا ہے ۔یہ بات کئی فرقہ وارانہ فسادات کے بعد جوڈیشل انکوائری کے ذریعہ ثابت ہوچکی ہے ۔
ممبئی فسادات ۱۹۹۲ ء اور ۱۹۹۳ ء کی جوڈیشل انکوائری میں بھی یہی بات ثابت ہوگئی ۔ ممبئی کے سنگین فسادات اس لئے ہوئے کیونکہ پولس فورس متعصب ہوگئی ۔ کچھ جگہوں پر اس نے مسلم دشمن فسادیوں کو کھلی چھوٹ دے دی ، کچھ جگہوں پر ممبئی پولس بھی فسادیوں کے ساتھ ہوگئی ۔ اور کچھ جگہوں پر اس نے مسلمانوں کے خلاف کھلے طور پر فسادیوں جیسا کام کیا ۔ پولس کا یہ مجرمانہ چہرہ سری کرشنا جوڈیشل انکوائری کمیشن انکوائری میں بے نقاب ہوگیا ۔ لیکن افسوس کہ مجرموں کو سزا نہیںمل سکی ، یہی وجہ ہے کہ مجرموں کے چاہے وہ پولس والے ہو ں ، یا فسادی فرقہ پرست حوصلہ بڑھ جاتے ہیں ۔ ممبئی میں ہندو مسلم فساد کی تاریخ سو سال سے بھی پرانی ہے ۔ ممبئی میں پہلا ہندو مسلم فساد ۱۸۹۳ ء میں ہوا تھا ۔ تب انگریزوں کا راج تھا ، لیکن ہندو مسلم دشمنی کا عروج تھا ، شدت پسند عناصر سر اٹھا رہے تھے ۔
اس فساد کے سو سال بعد ۱۹۹۲ ء اور ۱۹۹۳ ء میں بھی ممبئی کو ایک بدترین فساد کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔
اس فساد میں ڈھائی ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے ، پانچ ہزار کروڑ روپوں کی املاک کا نقصان ہوا تھا ، پانچ ہزار افراد زخمی ہوئے تھے ، لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے ۔ دوہزار آیف آئی آر درج کی گئی تھیں جن میں ۲۵ ہزار سے زیادہ ملزمین کو نامزد کیا گیا تھا ۔ لیکن ایک کو بھی سزا نہیں مل سکی ۔
ممبئی فسادات کے ردعمل میں ممبئی سیرئل بم دھماکہ مارچ ۱۹۹۲ ء میں ہوئے ۔ جن میں بارہ کیس درج ہوئے ۔ ۲۵۷ لوگ اس سئریل بم بلاسٹ میں ہلاک ہوئے تھے ۔ ڈھائی سو کروڑ روپوں کا نقصان ہوا تھا ۔ دو سوملزمین کے خلاف کیس درج کیا گیا ، ان میں سے سو افراد کو سزا ملی ، یعقوب میمن کو پھانسی بھی دی گئی ، اور یہ کیس آج بھی جاری ہے ، اس طرح فرقہ وارانہ فسادات میں جہاں مسلمان ہی نقصان میں رہتا ہے ، انصاف کا کس طرح جنازہ اٹھایا جاتا ہے ، ممبئی کی تاریخ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے ۔
جب ایودھیا میں سپریم کورٹ کے احکامات کی دھجیاں اڑا دی گئیں

ایودھیا فیصلہ میں سپریم کورٹ نے کہا کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ ء کو جس طرح ہجوم نے بابری مسجد کا انہدام کیا ، وہ ایک مجرمانہ حرکت تھی ۔ سپریم کورٹ نے جب ۶ دسمبر ۱۹۹۲ ء کو ایودھیا میں ہجوم کے ذریعہ بابری مسجد کی شہادت کو جرم تسلیم کرلیا تو پھر انصاف کا تقاضہ یہ بھی تھا کہ اس معاملہ میںمجرموں کو سزا دینے کیلئے بھی کوئی حکم جاری کیا جاتا ، اس بارے میں ( یعنی بابری مسجد کے مجرموں کو سزا دینے کے معاملہ میںسپریم کورٹ نے کوئی ہدایت جاری نہیںکی ) ۔ آج یہ صورتحال انصاف کے منہ پر طمانچہ ثابت ہوتی ہے کہ بابری مسجد کے مجرم نہ صرف آزاد ہیں بلکہ ان میں سے بہت سے سرکاری ایوان اور اقتدار تک بھی پہنچ گئے ۔
یہ بات کس قدر بھیانک مذاق ہے کہ جہاں سپریم کورٹ نے ہی بابری مسجد کو ۶ دسمبر ۱۹۹۲ ء کی کارسیوا کے دوران محفوظ رکھنے اور سیکوریٹی کے ہر قیمت پر انتظامات کرنی کی ہدایات جاری کی تھیں ، وہیں اتر پردیش کی اس زمانہ کی کلیان سنگھ کی قیادت میں بی جے پی سرکار اور انتظامیہ نے سپریم کورٹ کی ان ہدایات کو کہ بابری مسجد کی حفاظت کیلئے طاقت استعمال کی جائے ، یہ وجہ بتا کر مسترد کردیا اور اس پر عمل نہیں کیا کہ اگر طاقت کا استعمال کیا گیا تو پھر بڑے پیمانہ پر تشدد ہوگا ۔
( حوالہ : لبرہن کمیشن رپورٹ ، باب چہارم ،پیراگراف :37.60 )
لیکن بابری مسجد کی شہادت کے بعد ملک کے ۴۰ سے زائد شہروں میںفرقہ وارانہ فسادات ہوگئے ، تشدد کا طوفان پھٹ پڑا ۔ان میں ممبئی کے فسادات انتہائی ہولناک تھے ، جو دو مراحل میں دو مہینہ تک جاری رہے ، ان فسادات کے ردعمل میں ممبئی سیریل بم بلاسٹ بھی ہوئے ، لیکن تشدد کا ڈر دکھا کرپولس کو اپنے فرض سے روکنے اور سپریم کورٹ کے حکم کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دینے والے حکام نے مسلمانوں کے خلاف ہی تشدد اور پولس کا بے جا استعمال کیا گیا ۔اگر یہی پولس ۶ دسمبر ۱۹۹۲ ء کو ایودھیا میں اس کا نصف سے بھی کم فورس استعمال کرتی تو بابری مسجد کو شہید ہونے سے بچایا جاسکتا تھا ۔ چالیس شہروں میں فرقہ وارانہ فسادات نہیں ہوتے ، ممبئی شہر کو فرقہ وارانہ فساد اور سیرئل بم بلاسٹ کی تباہی کا شکار نہیں بننا پڑتا ۔
اس زمانہ میں آر ایس ایس سر سنگھ چالک کے عہدہ پر کے سدرشن تھے ، ان کی نگرانی میں سنگھ پریوار نے ۶ دسمبر ۱۹۹۲ ء کو ایودھیا میں ہونے والی کارسیوا کیلئے ملک بھر سے لاکھوں کارسیوکو ں کو ایودھیا لانے کا منصوبہ بنایا تھا جن کو نہ صرف لاج ، عمارتوں ، ہوٹلوں بلکہ سڑک اور راستوں پر ہی ٹہرانے کا انتظام کیا گیا تھا ۔
سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی حفاظت کیلئے کئی ہدایات جاری کی تھیں ، سنگھ پریوار نے بھی سپریم کورٹ میں یہ حلف نامہ داخل کیا تھا کہ کارسیوا عدالت عالیہ کے حکم کے مطابق ہی کی جائے گی ، لیکن بعد میں سپریم کورٹ کی ہدایات ہی نہیں بلکہ سپریم کورٹ میں داخل کردہ حلف ناموں کی بھی دھجیاں اڑا دی گئیں ، اور پولس ، فوج ۔ سیکیوریٹی افواج ، سرکاری افسران و حکومت خاموش تماشہ دیکھتی رہی ۔انصاف کا ۶ دسمبر ۱۹۹۲ ء کے دن دنیا کی آنکھوں کے سامنے جنازہ اٹھا دیا گیا ، مذہبی جنون نے عدلیہ کی بالا دستی کو تہس نہس کرکے رکھ دیا ، اس کے ۲۷ برس بعد ایودھیا فیصلہ میں سپریم کورٹ نے محض ایک مشاہدہ پیش کردیا کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ ء کو بابری مسجد کا انہدام ایک مجرمانہ عمل تھا ۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ۱۹۹۲ ء سے ۲۰۱۹ ء تک سپریم کورٹ نے کبھی توہین عدالت کی کارروائی کیلئے زور نہیں دیا ۔
سپریم کورٹ کے احکامات کو مرکزی و یوپی سرکار نے روند ڈالا ۔
سپریم کورٹ میں داخل ایفی ڈیوٹ کو سنگھ پریوار ، آر ایس ایس اور کار سیوکوں نے جوتیوں کی نوک پر رکھ دیا ۔
یہ سپریم کورٹ کی ہتک تھی ۔ ہتک عدالت کا جرم تھا ۔لیکن آج تک کسی مجرم پر سپریم کورٹ کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں ہوئی ، یہ ایک افسوس ناک واقعہ ہے ۔

ممبئی کے ہندو مسلم فسادات : ۱۸۹۳ ء اور ۱۹۹۳ ء

بامبے شہر میں پہلا ہندو مسلم فرقہ وارانہ فساد ۱۸۹۳ ء میں ہوا تھا ۔
اس کے ٹھیک سو برس بعد ۱۹۹۳ ء میں بھی اس شہر کو ایک بد ترین ہندو مسلم فساد کا سامنا کرنا پڑا ۔ سوبرس کے عرصہ میں اس شہر نے متعدد فرقہ وارانہ فسادات جھیلے جن میں کئی سنگین فسادات تھے ، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ فرقہ وارانہ فسادات اور تشدد اس شہر کے ماتھے پر کلنک ہی ہے ، تاریخ ان فسادات کے مجرموں کو کبھی معاف نہیں کرے گی ۔
ممبئی میں پہلا ہندو مسلم فساد ۱۸۹۳ ء میں ہوا تھا ۔
اس زمانہ میں لوکمانیہ تلک ایک بہت بڑے کانگریسی لیڈر تھے ۔ اس زمانہ میں گئو رکشا کی مہم بھی پورے ملک میں چلائی جا رہی تھی ، جس کی وجہ سے بامبے سمیت ملک کے کئی حصوں میں کشیدگی تھی ۔ کچھ علاقوں میں گئو رکشا مہم کی وجہ سے سنگین ہندو مسلم فسادات ہو چکے تھے ۔مورخین کا کہنا ہے کہ کانگریس کے لیڈر بال گنگا دھر تلک کی تقاریر کا رنگ فرقہ وارانہ اور مسلم مخالف ہوا کرتا تھا ، جس کی وجہ سے مسلمانوں اور ہندوؤں میں تلخی بڑھ رہی تھی ۔
ایک انگریز مورخ SIR PERCIVAL GRIFFITHS نے بھی اپنی کتاب
To Guard My People : The History Of Indian Police میں یہ بات لکھی ۔ اور بال گنگا دھر تلک کی تقاریر کو فرقہ وارانہ کشیدگی کیلئے مورد الزام ٹہرایا ۔ انہوں نے اپنی کتاب ( صفحہ ؛ ۲۸۱) میں لکھا کہ تلک اس زمانہ میں جنگکے راستہ پر تھے ، انہوں نے تب گنپتی کا ساروجنک تہوار شروع نہیں کیا تھا ۔جیسا کہ انہوں نے بعد میں کیا ، اور جس کی وجہ سے بعد میں فرقہ وارانہ جذبات بھی بھڑکے تھے ۔تلک کی تقاریر میں مسلم مخالفت کا عنصر شامل رہتا تھا اور دونوں فرقوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا تھا ۔
مورخین کا کہنا ہے کہ گجرات کے ایک علاقہ پربھاس پٹن ، کاٹھیاواڑ میں محرم کے جلوس کی وجہ سے ہندو مسلم فساد ۱۸۹۳ ء کے وسط میں ہوا تھا ۔اس فساد کی جو خبریں ممبئی آرہی تھیں اسمیں مسلمانوں کو مجرم بتایا گیا ۔ ان پر لوٹ مار اور مذہبی مقامات پر حملوں کا الزام عائد کیا گیا ۔ ایسی خبروں سے بامبے کا ماحول بھی خراب ہوگیا ، جہاں پہلے سے دونوں فرقوں کے درمیان کشیدگی تھی ۔
کاٹھیاواڑ کے فساد کو یہاں کے مقامی فرقہ پرست عناصر نے اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنا شروع کیا ۔بامبے میں بھی اس دورانکٹر ہندو جماعتوں نے برٹش سرکار سے گئو کشی پر پابندی کا مطالبہ کرنا شروع کردیا ، یہ بتایا جاتا ہے کہ کئی کٹر ہندو تنظیموں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ عید الاضحی پر ہی نہیں عام مواقع پر بھی مسلمانوں کو گائے کی قربانی ہی نہیں بلکہ بکرےئ اور بھیڑ کے ذبیحہ سے بھی رکا جائے اور گائے ، بھیڑ ،بکرے کے ذبیحہ پر پابندی عائد کی جائے ۔ ادھر مسلمانوں میں جنونی عناصر نے بھی اپنی بستیوں میں اس مہم کے خلاف جوابی مہم جوشیلے انداز میں شروع کردی ، عام مسلمانوں کو بھڑکایا گیا کہ اسلام خطرے میں ہے ۔اس طرح شہر کے حالات کو دونوں جانب کے کٹر وادی عناصر نے خراب کردیا تھا ، شہر بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہوا تھا ،
آخر کار ۱۱۳ اگست ۱۸۹۳ ء کو جامع مسجد بامبے میں نماز جمعہ کے بعد اندر ہی اندر پکنے والا لاوا پھٹ پڑا ۔ شہر میں فساد کی خبر سے سنسی پھیل گئی ۔ ہر طرف مار کاٹ اور سنگ باری شروع ہو گئی ۔
جس طرح ۶ دسمبر ۱۹۹۳ ء کی رات میںہونے والے فساد نے پورے شہر کو جنونی بنا دیاتھا ، اسی طرح اس سے سو سال قبل ، بامبے میں شہر کے پہلے ہندو مسلم فرقہ وارانہ فساد نے تباہی مچائی تھی ۔جامع مسجد کرافورڈ مارکیٹ سے نماز جمعہ کے بعد نکلنے والے ایک ہجوم نے ایک ہنومان مندر پر حملہ کردیا ، یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ، اس کے ساتھ ہی بڑی تیزی سے فساد مجگاؤں ، ٹینک بندر ، کماٹی پورہ ، گرانٹ روڈ ، چنچپوکلی ، پریل تک پھیل گیا ۔ان علاقوں میں جہاں ہندو مسلمانوں کی بستیاں آس پاس تھیں ، گروہی تشدد ہونےلگا ۔جب پولس ان علاقوں میں پہنچی تو ایک دوسرے سے لڑنے والے ہندو اور مسلمان فسادی پولس سے ہی لڑنے لگے ، یہ بات پولس افسران نے اپنی رپورٹ میں بتائی ۔اس فساد میں ڈنڈے ، لاٹھی اور پتھروں کا آزادانہ استعمال کیا گیا ، البتہ فسادی ہجوم کے ہتھے اگر کسی دوسرے فرقہ کا کوئی
اکا دکا فرد لگ گیا تو اسے لاٹھی ، پتھروں سے ہی مارڈالا گیا ۔ بامبے کے پولس کمشنر نے شہر کے حالات سنگین ہوتے دیکھ شام چار بجے ہی فساد کو روکنے کیلئے فوج کی مدد طلب کرلی ۔ کئی علاقوں میں فوجی دستہ تعینات کر دئیے گئے لیکن اس کا بھی بہت سے فسادیوں پر کائی اثر نہیں ہوا ۔تب فوج کو فائرنگ کا حکم دیا گیا ۔ فوجی دستہ نے گرانٹ روڈ پر فسادیوں پر پہلی مرتبہ فائرنگ کی ۔
فوج سڑک پر اتر آئی لیکن فسادی اندر ہی اندر گلیوں میں تشدد بپا کرتے رہے ۔ دوسرے دن یعنی ۱۲ ؍ اگست ۱۸۹۳ ء کو یہ فساد شہرکے دیگرعلاقوں میں بھی پھیل گیا تھا ۔ ۱۳؍ اگست کو بھی کئی وارداتیں ہوئیں۔ فوجی دستوں نے کئی جگہ فسادیوں پر فائرنگ کی ۔ آخرکار ۱۳ ؍اگست کی شام تک فساد کی یہ آگ بجھ گئی ۔
بامبے کے اس پہلے تین روزہ ہندو مسلم فساد میں تقریبا ً سو افراد ہلاک ہوئے تھے ۔
پولس نے ایک ہزار پانچ سو فسادیوں کو گرفتار کیا تھا ۔
اس فساد میں جتنے مندروں اور مسجدوں کو نقصان پہنچایا گیا تھا ، اس کا اندازہ پچھتر ہزار روپئے لگایا گیا ۔
بامبے شہر کے باہر مضافاتی علاقہ میں بھی اس فساد کے اثرات مرتب ہوئے تھے ۔ اس فساد کے خلاف احتجاج کے طور پر باندرہ کی قصاب برادری نے ایک دن کی ہڑتال بھی کی تھی اور اپنا کاروبار بند رکھا تھا ، یہ بات بھی سرکاری ریکارڈس( مہاراشٹر اسٹیٹ گورمنٹ گزٹ ) میں درج ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں