گم شدہ چہروں کی تلاش

گم شدہ چہروں کی تلاش
معصوم مراد آبادی
میں گزشتہ چند روز سے ان شناسا چہروں کو پوری شدت کے ساتھ تلاش کررہا ہوں جو ہر مسئلہ میں ٹانگ اڑانا فرض منصبی سمجھتے ہیں اور خود کو ہر مرض کی دوا بھی تصور کرتے ہیں ۔لیکن شہریت ایکٹ میں ترمیم کے بعد یہ لوگ نہ جانے کہاں کھو گئے ہیں۔اس وقت شہریت ایکٹ کے خلاف پورے ملک میں بے چینی اور شدید اضطراب کی جو لہر اٹھی ہے اسے تھامنے کی کوئی کوشش ان لوگوں کی طرف سے نہیں کی گئی ہے۔ انھوں نے صرف کاغذی شیروں کی طرح اخباری بیان دے کر اپنا فرض پورا کرلیا ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ، علیگڑھ مسلم یونیورسٹی،دارالعلوم دیوبند اور ندوہ کے طلباء کے جوش اور جنون کو سمت ورفتار دینے کے لیے دہلی یونیورسٹی،جے این یو اور بنارس ہندو یونیورسٹی کے طلباء تو میدان میں اتر آ ئے ہیں اور وہ ان کے شانہ بشانہ چل بھی رہے ہیں لیکن اس نازک موقع پر بھی ہمارے قائدین مظلوم طلباءسے صرف تعلیم اور نظم و ضبط قائم کرنے کی اپیلیں کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ ایک بڑے ادارے کے سربراہ نے تو احتجاج کو غیر اسلامی بھی قرار دے دیا ہے۔ بلا شبہ طلباء کو اپنی توجہ صرف تعلیم پر مبذول کرنی چاہیے کیونکہ مستقبل سازی کے لئے یہی ضروری بھی ہے۔ لیکن جب پرامن طلباء کو لائبریری میں گھس کر مارا جائے، انھیں بے سبب سڑکوں پر گھسیٹا جائے ، جنگی قیدیوں کی طرح ان کی پریڈ کرائی جائےاور ان کے ساتھ عادی مجرموں جیسا سلوک کیا جائے تو پھر عزت نفس کو بچانے کا راستہ کیا ہے۔ بلاشبہ ہم جس نظام میں سانس لے رہے ہیں وہاں مخالفت کی آ وازوں اور احتجاج کو طاقت سے کچلنے کا چلن ہے لیکن ایسے ہی حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق ادا کرنے کی تلقین بھی کی گئی ہے۔ خدارا ان غیور طلباء کو تنہا مت چھوڑئیے۔ ان کے جائز دستوری مطالبات اور جمہوریت کو بچانے کی آ خری کوشش کا ساتھ دیجئے۔
اٹھو وگر نہ حشر بپا ہوگا پھر کبھی
دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا

اپنا تبصرہ بھیجیں