ہندی ، ہندو ، ہندوستان

ہندی ، ہندو ، ہندوستان
تکلف برطرف : سعید حمید
جن کٹر وادی عناصر نے بھارت کو ہندو راشٹر میں
تبدیل کرنے کا خواب دیکھا تھا ،
وہ آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد میں
یہ نعرہ لگاتے تھے ،
ہندی ، ہندو ، ہندوستان
مسلم جاؤ پاکستان ۔
جن سنگھیوں کا یہ نعرہ سنگھی عناصر
آج تک نہیں بھول سکے ؟
یہ بات آج کئی باتوں سے ظاہر ہو رہی ہے ۔
امیت شاہ اپنے آپ کو جدید بھارت کا
سردار پٹیل کہلوانا پسند کرتے ہیں،
( حالانکہ سردار پٹیل نے ہی آزاد بھارت میں
سب سے پہلے آر ایس ایس پر پابندی عائد کی تھی ،
اور مشروط طور پر یہ پابندی ختم کی گئی تھی )۔
اس لئے وہ ایسے کام کر رہے ہیں ،
جس سےغلط فہمی کے شکار کٹر وادی عناصر
انہیں آج کا سردار پٹیل سمجھ لیں،
لیکن۔
وہ یہ یاد رکھیں کہ وہ جس آگ کو ماضی کی چنگاریوں سے
دوبارہ سلگانے کی کوشش کر رہے ہیں ،
ایک اور تقسیم ، ایک اور پارٹیشن ، ایک اور وبھاجن
کا راستہ ہموار کر رہے ہیں ،
لیکن ماضی کی آگ کے یہ شعلے ؛
وہ انہیں آج کے زمانہ کا ـ ’’ہندو جناح ‘‘ بناکر نہیں رکھ دے ؟
انہیں غلط فہمی ہے کہ وہ سردار پٹیل کا کام پورا کر رہے ہیں ،
حقیقت تو یہ ہے کہ آج کے حکمرانوں پر ساورکر ، ہیڈگیوار ،
گولوالکر ،گوڈسے کا جنون اور خبط سوار ہے ،
اس عجیب خبط کیلئے تاریخی حقائق کو ملیا میٹ کیا جا رہا ہے ۔
امت شاہ نے بھی ایک بار یہ کوشش کی کہ
’’ایک راشٹر ؛ ایک راشٹر بھاشا ‘‘ کا جو سپنا ہے ،
اسےبھی پورا کرنے کی کوشش کی جائے ،
( تاکہ اس بے تکے نعرہ ؛ ہندی ، ہندو ، ہندوستان
کو بھی روبہ عمل کیا جا سکے )،
انہوں نے جب ہندی کو تھونپنے کی بات کہی
تب جنوبی ہند سے زبردست مخالفت ہوئی ،
اور انہوں نے اپنا قدم واپس پیچھے لے لیا ۔
اب بی جے پی نے شہریت ترمیمی بل اور قانون کے ذریعہ
ہندی ، ہندو ، ہندوستان
مسلم جاؤ پاکستان
اس نعرہ کو حقیقی رنگ دینے کیلئے قدم بڑھایا ہے ۔
اس بات میں کوئی شک نہیں
کہ اس ملک میںآج جو حکومت برسر اقتدارہے ،
وہ آر ایس ایس کی ریموٹ کنٹرول سرکار ہے ،
اور وہ آر ایس ایس کے ہندوتوا وادی ایجنڈہ کو
روبہ عمل کر رہی ہے ،
تاکہ اس ملک کو براہ راست نہیں
تب بھی بالراست یا عملا ً ہندو راشٹر بنا دیا جائے ۔
سیٹیزن شپ امینڈمنٹ ایکٹ سیدھے سیدھے
ملک کو ہندو راشٹر بنانے کا اعلان ہے ،
جو دستور ہند کو ایک دھمکی اور چیلنج ہے۔
آج یہ کہا جا رہا ہے
کہ اس ملک میں شہریت کی بنیاد بھی عقیدہ
(FAITH ) پر مبنی ہوگی ۔
یہ قانون ایودھیا معاملہ میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی
بنچ کے فیصلہ کے بعد لایا گیا ہے ۔
ایودھیا فیصلہ مسلمانو ں کیلئےملا جلا ہے ،
جس میں مشاہدوں کے ذریعہ کئی ریلیف مسلمانوں
کو دی گئی لیکن فیصلہ رام مندر کے حق میں گیا ۔
کیوں ؟
بابری مسجد کس بنیاد پر رام مندر کی تعمیر کیلئے
دے دی گئی ؟
تو اس کا جواب ہے ؛ عقیدہ (FAITH ) ۔
اس ملک میں قانون و دستور کی بنیاد پر نہیں
بلکہ عقیدہ کی بنیاد پر عدالتوں کے فیصلہ ہونگے ؟
ابھی اس پر ملک میں بحث جاری ہے ،
اس دوران جو سیٹیزن شپ امینڈمنٹ ایکٹ
لایا گیا ہے ، اس کی بنیاد بھی دھرم ، مذہب ، عقیدہ ہے ۔
دھرم ، عقیدہ اور مذہب کی دیواریں اور سرحدیں
قانون کی آڑ میں پھر ایک بار کھڑی کی جا رہی ہیں ۔
اب اس شہریت کے نام نہاد قانون کے ذریعہ
ہندی ، ہندو ، ہندوستان
مسلم جاؤ پاکستان
اس نعرہ کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔
بھارت کی آبادی کے توازن کو بگاڑنے
کی یہ ایک سوچی سمجھی اور پرانی سازش ہے ،
اس کا ایک مقصد یہ ہے کہ بھارت کی آبادی میں
مسلمانوں کے تناسب کو کمزور کرنا،
بھارت کے مسلمانوں کو سیاسی طور پر بے اثر بنانا ،
بھارت کے مسلمانوں کے ووٹوں کی طاقت
کو طاقت کو غیر موثر بنانا ہے ۔
یہ دوسری بات ہے کہ اس سازش میں ہندوتوا وادی
عناصر کس قدر کامیاب ہونگے ؟
یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا ،
کیا اس قانون کے نفاذ کے بعد پاکستان ، بنگلہ دیش
اور افغانستان کے ہندو اپنا اپنا وطن چھوڑ کر
بھارت کی طرف کوچ کرنے لگیں گے ؟
تاکہ بھارت کا ایک ہندو راشٹر کی طرف سفر تیز ہوجائے ؟
کیا یہ اس کٹر وادی ذہنیت اور منصوبہ کی طرف
اشارہ نہیںہے جس کے تحت یہ کوشش ہوگی ،
کہ بنگلہ دیش ، پاکستان ، افغانستان سے سارے
ہندو بھارت آجائیں ؟
اور پھر کٹر وادی جس طرح ہندو بمقابلہ مسلم
جنگ چھیڑنا چاہتے ہیں ،
ان کے بھیانک ، خوفناک اور شیطانی منصوبوں
کی تکمیل ہوجائے ؟
تاریخ کی کتابوں میں آج بھی اس بات کا
تذکرہ موجود ہے کہ ہندوتوا وادیوں نے تقسیم ہند
کے وقت ہی یہ کوشش فسادات اور تشدد کے ذریعہ
کی تھی کہ سارے مسلمان پاکستان چلے جائیں ،
اور سارے ہندو ،بھارت آجائیں۔
اسلئے یہ نعرہ لگایا جاتا تھا ؛ ہندی ۔ ہندو۔ ہندوستان !!!
کہیں اس نفرت انگیز منصوبہ کی تکمیل کیلئے
دروازہ کھولنے کی کوشش اس قانون اور این آر سی
کے ذریعہ نہیں کی جارہی ہے ؟
اس بات پر غور کرنا انسانیت ، سیکولرزم اور دستور
میں یقین رکھنے والوں کا کام ہے ۔
جو طاقتیں دہلی کی ریموٹ کنٹرول سرکار کے ذریعہ
۱۹۴۷ ء کے ان کی دانست میں ان کے ادھورے
منصوبوں کو پورا کرنے کیلئے
ملک کو ایک بار پھر ۱۹۴۷ ء جیسے حالات کی جانب
دھکیلنے کی سازش کر رہی ہیں ،
وہی دیش دروہی ہیں ،
وہی دیش کے دشمن ہیں ،
وہی بھارت کے دشمن ہیں ،
وہی قومی ایکتا کے دشمن ہیں۔
وہی ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے بنائے ہوئے
دستور کے دشمن ہیں ، اور یکے بعد دیگرے
دستور سے چھیڑ چھاڑ کے عنوانات تلاش کر رہے ہیں ،
کیونکہ ۔
ایک دن وہ اس دستور کو ہی ختم کرنا چاہتے ہیں ،
اور منو سمرتی جیسا دستور بنا کر ملک کو دوبارہ
پیشو راج ، یا برہمن راج کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔
اسے وہ ہندو راشٹر کا نام دے رہے ہیں ،
بی جے پی کے الیکشن مینی فیسٹو میں ہندو راشٹر
بھی شامل ہے ۔
کیا یہ اس شیطانی منصوبہ کا کھلا ثبوت نہیںہے ؟

اپنا تبصرہ بھیجیں