۶ دسمبر : بابری مسجد اور ڈاکٹر امبیڈکر

۶ دسمبر : بابری مسجد اور ڈاکٹر امبیڈکر
تکلف برطرف : سعید حمید
آزادی کے بعد ۶ دسمبرکا دن ایک الم ناک دن بن گیا ،
پہلے بھارت کے دلتوں کیلئے ،
پھر بھارت کے مسلمانوں کیلئے ۔
اب یہ دن دونوں مظلوم طبقات کیلئے غم و الم کا دن ہے ،
ہاں ،
البتہ ، دستور و جمہوریت کے دشمن فرقہ پرستوں
کیلئے ۶ دسمبر کا دن خوشی کا دن ہے ،
جسے کچھ لوگ وجئے دوس کے طور پر بھی مناتے ہیں ۔
ٓزادی سے پہلے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے
جدوجہد آزادی سے زیادہ
ملک کے ان کروڑوں دلت و پسماندہ اقوام کے
لوگوں کی اعلی ذات کے طبقات کی غلامی
سے سینکڑوں برس کی غلامی سے آزادی کیلئے
جدوجہد کی تھی ،
انہیں اسی لئے دلتوں کا مسیحا کہا جاتا ہے ۔
بھارت ۱۵ ؍اگست ۱۹۴۷ ء کو آزاد ہوا ،
جس کیلئے سیکولر دستورڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے
اپنی ساتھیوں کے ہمراہ مل کر مرتب کیا ۔
۶دسمبر ۱۹۵۶ ءکو معمار دستور ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر
کا بیماری کے سبب دیہانت ہوگیا ۔
تب سے اس ملک کے دلت و پسماندہ طبقات
۶دسمبر کو ایک الم ناک دن کے طور پر یاد رکھتے ہیں ۔
اس دن کو ڈاکٹر امبیڈکر کی یاد میں
مہا پری نروان دوس کے طور پر مناتے ہیں ،
ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کی موت قدرتی تھی ،
اسلئے ۔
۶ دسمبر کا دن اس ملک کے دلتوں کیلئے
گو کہ غم و الم کا دن ہے ، لیکن یہ قدرت کا فیصلہ تھا ۔
ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کی موت کے ۳۶ سال بعد
یعنی ؛
۶ دسمبر ۱۹۹۲ ء ملک میں دوسرا سانحہ ہوا ،
لیکن یہ کوئی قدرتی سانحہ نہیں تھا ،
یہ ایک سازش تھی ۔
منصوبہ بند مجرمانہ عمل تھا ،
جس کے تحت اس ۶ دسمبر کے دن
جبکہ سارے دیش میں امبیڈکر وادی دلت عوام
ڈاکٹر امبیڈکر کی موت کا سوگ منا رہے تھے ،
کٹر فرقہ پرستوں نے اسی دن ہجومی دہشت گردی
کا مظاہرہ کرتے ہوئے
ایودھیا میں بابری مسجد کو شہید کردیا ۔
اس دن سے ۶ دسمبر مسلمانوں کیلئے بھی
غم و الم کا دن بن گیا ۔
۱۹۹۲ ءکے بعد سے
۶ دسمبر کی تاریخ آتی ہے ، اور ملک کی
نصف سے زائد آبادی کیلئے
یہ دن غم و الم ، افسوس اور دکھ کا دن بن گیا ہے۔
۶ دسمبر ۱۹۹۲ ء کو ایودھیا میں بابری مسجد شہید کی گئی ،
پورے ملک میں فسادات پھوٹ پڑے ،
جن ممبئی کے بھیانک فسادات بھی شامل ہیں ۔
صرف ممبئی فساد میں دو ہزار افراد موت کے گھاٹ
اتار دئیے گئے ، اسلئے متاثرہ خاندانوں کیلئے ہمیشہ
یہ دن ایک الم ناک دن بن چکا ہے ۔
اس دن لاکھوں لوگ برباد کردئیے گئے ،
بے گھر کر دئیے گئے ،
ان کیلئے بھی تب سے یہ دن بھیانک یادیں
لیکر آتا ہے ، اور انہیں رلاتا ہے ۔
البتہ ، کچھ جنونی فرقہ پرست ، نفرتوں کے سوداگر
اس دن کو وجئے دوس کے طور پر مناتے ہیں ،
حالانکہ حال ہی میں سپریم کورٹ آف انڈیا نے بھی
اپنے ایودھیا فیصلہ میں یہ تسلیم کیا
کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ ء کو ایودھیا میں جس طرح
بابری مسجد کو ہجوم کے ذریعہ شہید کیا گیا
وہ ایک مجرمانہ حرکت تھی ۔
افسوس کہ شہید بابری مسجد کو قانونی انصاف نہیں ملا ۔
اسی طرح ، جس طرح ملک کو جمہوری دستور
دینے والے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کو اس ملک
میں جمہوری انصاف نہیں ملا ۔
ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے بنائے ہوئے دستور
نے اس ملک کے شہریوں کو ووٹ کا حق دیا ،
الیکشن لڑنے کا حق دیا ،
لیکن۔
ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر آزادی کے بعد
لوک سبھا کیلئے دو مرتبہ دو حلقوں سے کھڑے ہوئے ،
لیکن ۔
ان کو غیر اہم امیدواروں کے ذریعہ شکست دی گئی ،
جیتے جی ، معمار دستور کہلائے جانے والے
ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر ۱۹۵۲ ء اور ۱۹۵۴ ء میں
لوک سبھا الیکشن میں جیت نہیں سکے۔
جس شخص نے ملک کو دستور دیا ،
اس کو اس ملک نے کیا دیا ؟
ایک لوک سبھا سیٹ بھی نہیں ؟
یہ ناانصافی تھی ، جمہوری نا انصافی ،
شائد اسے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر برداشت
نہیں کرسکے ،
اور ۶دسمبر ۱۹۵۶ ء کو وہ اس دنیا سے چل بسے ۔
جسٹس لبرہن کمیشن رپورٹ اور دیگر کئی
حوالوں سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے
کہ سنگھ پریوار نے ایودھیا کارسیوا کی آڑ میں
بابری مسجد کو شہید کرنے کا خفیہ منصوبہ بنا لیا تھا ۔
لیکن۔
نوٹ کرنے کی بات یہ ہے کہ انہوں نے اس
مجرمانہ سازش کو انجام دینے کیلئے
۶دسمبر کی تاریخ کا انتخاب ہی کیوں کیا ؟
جبکہ اس دن اس سے قبل ۳۶ بر س سے
ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکی کی برسی منائی جا رہی تھی ،
ملک میں امبیڈکر وادی طبقہ سوگوار ہوا کرتا تھا ۔
کروڑوں امبیڈکر وادی ڈاکٹر امبیڈکر کا سوگ مناتے تھے ۔
کیا سنگھ پریوار کی یہ منصوبہ بندی تھی
کہ اس دن مسلمان بھی بابری مسجد کا سوگ منائیں ؟
شائد ، یہی منصوبہ تھا ۔
بابری مسجد کی قانونی جنگ جاری ہے ،
اب یہ قانونی جنگ نہیں بلکہ عدلیہ کی امیج کی جنگ ہے ،
دستور کی عزت کی جنگ ہے ،
بہت سے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ جو فیصلہ
سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بنچ نے سنا دیا ،
وہ آخری فیصلہ ہے ،
ریویو پٹیشن میں بھی یہی فیصلہ آئے گا ،
کچھ مسلمان یہ پوچھتے ہیں ،
فرض کیجئے ، سپریم کورٹ نے بابری مسجد
کے حق میں فیصلہ سنا دیا ،
تو کیا اس جگہ ( جہاں کسی زمانہ میںبابری مسجد تھی )
مسلمان دوبارہ مسجد تعمیر کر سکیں گے ؟
یعنی ، چاہے جو فیصلہ آئے ،
بابری مسجد کی شہادت حقیقت بن چکی ہے ؟
بابری مسجد مرحوم بن چکی ہے؟
اب دوبارہ اس جگہ بابری مسجد
یا کوئی بھی ، کسی بھی نام سے دوسری مسجد
تعمیر نہیں ہوسکتی ؟
۶ دسمبر کو ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر چل بسے ،
امبیڈکر وادیوں کا کہنا ہے کہ اب کوئی دوسرا
ڈاکٹر امبیڈکر پیدا نہیں ہوسکتا ۔
۶ دسمبر کو بابری مسجد شہید کردی گئی ۔
ایک عام خیال یہ ہے کہ اب کوئی دوسری
بابری مسجد تعمیر نہیں ہوسکتی ۔
لیکن۔
کیا جس طرح ۶ دسمبر کو دنیا کی کوئی طاقت
دلتوں کو ڈاکٹر امبیڈکر کا غم منانے سے روک نہیں سکتی ،
کیا کوئی طاقت مسلمانوں کو بابری مسجد کی
شہادت کا غم منانے سے روک سکے گی ؟
ہوسکتا ہے کہ یہ مشترک دن ، اور مشترک غم
ایک دن اس ملک میں کوئی ایسا بڑا سیاسی انقلاب
بپا کردے کہ مظلوم اقوام کے ہاتھوں میں
اقتدار آجائے ، تب ہر مظلوم کے ساتھ خود مظلوم
ہی انصاف کریں گے ،
چاہے وہ ڈاکٹر امبیڈکر کا طبقہ ہو ، یا بابری مسجد
کیلئے انصاف کی آواز لگانے والی قوم !!!

اپنا تبصرہ بھیجیں