مایوس ہونے کی ضرورت نہیں

مایوس ہونے کی ضرورت نہیں

تکلف برطرف : سعید حمید
سخت و سنگین حالات مسلمانوں کیلئے آزمائش ہیں ،
ضروری ہے کہ ان حالات میں مسلمان ثابت قدم رہیں،
متحد رہیں ،
اللہ تعالی پر بھروسہ رکھیں کہ جس کی ان کو تعلیم دی گئی ہے ،
وقتی حالات اور صورتحال سے پریشان نہ ہوں ،
اپنے راستہ پر یعنی اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے پر
استقامت کے ساتھ قائم رہیں ۔
اللہ تعالی حالات کو پلٹنے پر قادر ہے ،
اللہ تعالی دلوں کو پلٹنے پر قادر ہے ،
اگر مسلمان اپنی جگہ مستحکم ہوں ،
تو حالات بھی پلٹ سکتے ہیں ۔
ہم اپنے اطرف میں نظر دوڑائیں ،
تو اس بات میں یقین ہوجاتا ہے کہ آزمائش کی بھٹی
سے گذر کر کامیاب رہیںگے ۔
کیا ہم سے پہلے کی نسلوں کو ایسے حالات کا سامنا
نہیں کرنا پڑا کہ جب حالات آج سے بھی زیادہ خطرناک تھے ؟
کیا ہمارے اسلاف نے باطل کے سامنے
گھٹنے ٹیک دئیے تھے ؟
اگر ایسا ہوتا تو گذشتہ ر دو صدی اور خاص طور پر حالیہ
تین دہائیوں میں ایک بابری مسجد کی جگہ ہر شہر ، ضلع ، قصبہ میں
کئی مسجدیں شہید کردی جاتی اور ان پر مندر ہونے
کا دعوی کردیا گیا ہوتا ،
لیکن ۔
ہمارے بزرگوں نے ایک بابری مسجد تک ازخود نہیں
چھوڑی اور اس کی جنگ جاری رکھی ۔
یہ جنگ آج تک جاری ہے ۔
سپریم کورٹ نے جو فیصلہ سنایا وہ ملا جلا فیصلہ ہے ۔
اس فیصلہ کا جو خلاصہ ہے ،
اور جو حکم دیا گیا ،
اسے ہم اپنی شکست سمجھتے ہیں
لیکن۔
اسی فیصلہ میں جو مشاہدات (observations ) ہیں ،
وہ مسلمانوںکے موقف کی فتح ہے ۔
بابری مسجد کے دشمنوں کی
اور ان کے من گھڑت موقف کی کھلی شکست ہے ۔
کیسے ؟
برٹش زمانہ سے مسلمانوں پر الزام عائد کیا گیا
کہ بابری مسجد رام مندر کو مسمار کرکے تعمیر کی گئی ،
یہ الزام عائد کیا گیا کہ بابری مسجد ہی رام، جنم استھان ہے ۔
پھر یہ دعوی کیا گیا کہ بابری مسجد کے نیچے
محکمہ آثار قدیمہ کو ایک ڈھانچہ ملا ،
وہ ایک مندر کا ڈھانچہ ہے ، اور اس بات کا
ثبوت کہ بابری مسجد رام مندر کو منہدم کرکے تعمیر کی گئی تھی۔
بابری مسجد تنازعہ میں سپریم کورٹ کا جو ایک ہزار سے
زائد صفحات پر مشتمل فیصلہ سامنے آیا ہے ،
اس نے اپنے مشاہدہ میں مسلمانوں کے موقف کی
تائید کی ہے ، اور ان پر عائد الزام کو غلط قرار دیا ۔
بھارت کی سپریم کورٹ کی ۵ ججوں کی بنچ کا یہ فیصلہ
اس معاملہ کی 164 سالہ تاریخ کا ایک غیر معولی فیصلہ
ہے جس نے بابری مسجد کس طرح تعمیر کی گئی ؟
اس تنازعہ پر اپنے مشاہدہ کے ذریعہ دودھ کا دودھ
پانی کا پانی کردیا کہ یہ مشاہدات بھی اس فیصلہ کا حصہ ہیں۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں یہ کہا ؛
(۱) بابری مسجد کے نیچے ایک ڈھانچہ برآمدہوا ہے ،
لیکن یہ ڈھانچہ بارہویں صدی عیسوی کا ہے ،
( ۲) بابری مسجد سولہویں صدی میں تعمیر کی گئی تھی ،
مذکورہ ڈھانچہ اور بابری مسجد کی تعمیر میں چارسو سال کا فرق ہے۔
(۳) مذکورہ ڈھانچہ سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی ہے
کہ بابری مسجد کی تعمیر سے قبل یہاں کوئی مندر تھا ،
یا یہ کہ بابری مسجد کی تعمیر مندر کو منہدم کرکے کی گئی تھی ۔
(۴) ہوسکتا ہے کہ بابری مسجد کے نیچے جو ڈھانچہ برآمد ہوا،
وہ قدرتی آفات کی وجہ سے منہدم ہوا ہو ۔
جس ڈھانچہ کی ASI رپورٹ کو وجہ بنا کر ہندوتوا
جماعتیں تیس برس سے ہنگامہ بپا کر رہی تھیں ،
کہ رام مندر کے انہدام کا ثبوت مل گیا ہے ،
ان کو سپریم کورٹ کے فیصلہ کے ان مشاہدات نے ہی
منہ توڑ جواب دے دیا ہے ،
مسلمانوں کے موقف کو مزیدتقویت مندرجہ ذیل مشاہدات
سے بھی ملی ہے ،
(۱) سپریم کورٹ نے یہ کہا ہیکہ ۲۲؍ دسمبر ۱۹۴۹ ء
کی رات میں جس طرح مورتیاں رکھ دی گئیں ،
اور یہ دعوی کیا گیا کہ بابری مسجد میں رام للا پرکٹ
ہوگئے ، یہ حرکت غیر قانونی تھی ۔
(۲) سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں یہ بھی کہا
کہ ۶ ؍ دسمبر ۱۹۹۲ ء کو جس طرح بابری مسجد پر حملہ
کیا گیا اور اسے شہید کیا گیا ،
یہ بھی ایک مجرمانہ اور غیر قانونی عمل تھا ۔
ایک تاریخی فیصلہ میں ان مشاہدات کو شامل کرنا
مسلمانوں کی بڑی کامیابی ہے ،
اور اگر صبر ، استقامت ، دور اندیشی کے ساتھ
اگر قائدین ملت بابری مسجد کی قانونی لڑائی کو
اس سطح تک نہیں لاتے ،
اس سے قبل ہی مایوسی میں یا دباؤ کا شکار بن کر
کسی نام نہاد سمجھوتہ کے فریب کا شکار بن جاتے ،
تو کیا اس ملک کی عدلیہ کی تاریخ میں یہ مشاہدات
اہم دستاویزات کا حصہ بن سکتے تھے ؟
کیا ہم مسلمانوں کے ماتھے سے یہ داغ مٹا سکتے تھے
کہ بابری مسجد کی تعمیر رام مندر کومنہدم کرکے ،
اور رام جنم بھومی استھان پر کی تھی ؟
کیا ہم ان جارح اور فاشسسٹ لوگوں کو مدلل جواب
دے سکتے تھے ، جو ۱۹۴۹ ء سے ۱۹۹۲ ء تک
اپنی مجرمانہ حرکتوں کو دھرم بھکتی ، دھرم شکتی اور بہادری
کا جھوٹا نام دے رہے تھے ؟
آج ہمارے پاس ایک ایسا عدالتی فیصلہ ہے
جس کا خلاصہ (CONCLUSION ) یا حکم
(VERDICT ) ہمارے موقف کے مطابق نہیںہے ،
لیکن۔
ایک ہزار سے زائد صفحات کے اس فیصلہ میں
جگہ جگہ مشاہدات کی شکل میں مسلمانوںکے موقف
کی تائید و حمایت موجود ہے ،
اس فیصلہ کو اور اس دستاویز کو اب بھارت کے مسلمان
ملک کے انصاف پسند عوام کے سامنے ہی نہیں
ساری دنیا کے سامنے پیش کرکے کہہ سکتے ہیں ،
کہ مسلمانوں پر جو الزام عائد کیا گیا کہ
رام جنم استھان پر ، رام مندر منہدم کرکے
بابری مسجد کی تعمیر کی گئی تھی ، وہ جھوٹ ہے ۔
بلکہ ۔
یہ بات روشن آفتاب کی طرح صاف ہے
کہ بابری مسجد میں بت رکھے گئے ،
اور جس طرح ایک مسجد کو شہید کیا گیا ،
وہ سراسر مجرمانہ اور غیرقانونی حرکت تھی ۔
کہاجاتا ہے کہ مایوسی کفر ہے ،
استقامت ، صبر اور دور اندیشی کا تقاضہ ہے
کہ عدالت میں بابری مسجد کی جو قانونی جنگ جاری ہے ،
اسے آخری منزل تک پہنچایا جائے ،
کیا کبھی کوئی جنگ ادھوری چھوڑی جاتی ہے ؟
ہم آج کے زمانہ میں بابری مسجد کی جو قانونی جنگ لڑ رہے ہیں
اسے بھی کیوں ادھورا چھوڑنے کیلئے
دباؤدالا جارہا ہے ؟ افسوس کہ ان میں کچھ مسلمان بھی ہیں ۔
ان میں ایسے بھی مسلمان ہیں
جو نرسمہا راؤ سرکار کے زما نہ میں بھی عدالت
کے باہر سمجھوتہ کیلئے زور دے رہے تھے ۔
کانچی مٹھ کے شنکر اچاریہ سرسوتی سے لیکر
آرٹ آف لونگ کے سری سری روی شنکر تک ،
کئی سادھو سنتوں کی تحریک پر کئی نام نہاد مسلمان بھی
سمجھوتہ ( SETTLEMENT ) کے نام پر
خود سپردگی ( SURRENDER ) کا سبق پڑھانے
کی کوشش کر رہے تھے ،
یہاں تک کہ ایک سادھو سنت نے تو دھمکی بھی دے دی تھی
اگر مسلمان نہیں مانے تو ملک میں شام ( SYRIA )
جیسے حالات بن جائیں گے !!!
سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھنے کے بعد یہ بات سمجھ میں
آجاتی ہے کہ گذشتہ تیس برس میں عدالت کے باہر
(OUT – OF – COURT ) سمجھوتہ کیلئے کیوں
بے جا دباؤ ڈالا جا رہا تھا ؟
آج سپریم کورٹ کے فیصلہ میں ہمارے لئے کچھ
مشکلات ( DIFFICULTIES ) تو ہیں
لیکن کچھ مواقع (OPPORTUNITIES)بھی ہیں ،
جن کا مثبت انداز میں استعمال ہو سکتا ہے ،
اور چونکہ ۵رکنی بنچ حصول انصاف کیلئے آخری منزل
نہیںہے ، اس لئے رویزن پٹیشن کا راستہ
اختیار کرنا بھی ضروری ہے !!

اپنا تبصرہ بھیجیں