مہاراشٹر : نئی حکومت ، پرانے مطالبات

مہاراشٹر : نئی حکومت ، پرانے مطالبات
تکلف برطرف : سعید حمید
۱۹۶۰ ء میں مہاراشٹر ریاست کا قیام ہوا تھا ،
آج اس ریاست کی تاریخ نیا موڑ لے چکی ہے ،
ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس ریاست کی سیاست
نے بھی ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے ،
جو اس سے قبل دیکھا نہیں گیا ۔
پرانے گٹھ جوڑ ٹوٹ رہے ہیں ،
نئے گٹھ جوڑ جنم لے رہے ہیں !!!
اب توقع ہے کہ ایک نئے طرز کی ایسی حکومت
مہاراشٹر میں عنقریب قائم ہوگی ،
جو اس سے قبل اس ریاست نے نہیں دیکھی تھی ۔
شیوسینا مہاراشٹر کی نئی سرکار کی قیادت کرے گی ،
این سی پی اور کانگریس اس سرکار میں شامل رہیں گی ۔
یعنی ۔
اب نظریات کودوسرے درجہ پر رکھا گیا ہے ،
اقتدار نے پہلے نمبر کا درجہ حاصل کرلیا ہے ۔
نظریاتی طور پر شیوسینا بی جے پی سے زیادہ نزدیک ہے ،
لیکن ۔
اقتدار کی کشمکش نے دونوں کو ایک دوسرے سے
بہت دور کردیا ،
وہ بھی اس الیکشن کے فوری بعد
جو انہوں نے ساتھ ساتھ لڑا تھا ،
اس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ اب ریاست
کی سیاست ایک نئے موڑ میں داخل ہوچکی ہے ،
جہاں نظریات نے بیک سیٹ لے لی ہے ،
اقتدار اور موقعہ کو اولیت اور ترجیح حاصل ہوچکی ہے ۔
موقعہ این سی پی ۔ اور کانگریس کیلئے
الیکشن سے قبل یہی تھا کہ اپوزیشن کی صفوں میں
بیٹھ کر آنے والے دنوں کا انتظار کریں !!!
لیکن۔
اقتدار کے جھگڑے نے اچانک بازی پلٹ دی ،
سی ایم کون ہوگا ؟
بس ایک ہی بات نے سیاسی نظریہ کو پس پشت ڈال دیا ،
اور یہ بتایا کہ آج مہاراشٹر کی سیاست میں
اقتدار ہم ہے ، نظریات نہیں ۔
اس کے بعد ممبئی سے دہلی تک سیاسی ہل چل ہونے لگی ۔
حال یہ ہے اور صورتحال یہ ہیکہ
مہاراشٹر اسمبلی الیکشن کے نتائج کا اعلان۲۴ ؍اکتوبر
کو ہوا ۔ اور دسمبر تک یہاں سرکار نہیں بن سکی ،
سب سے بڑی پارٹی بی جے پی نے تو ہتھیار ڈال دئیے ،
چونکہ سیاست اقتدار کی بن چکی ہے ،
نظریات کی نہیں ، اسلئے حکومت بنانا بھی آسان نہیں۔
امیت شاہ بری طرح مہاراشٹر کی سیاسی بساط پر
ناکام ہوئے لیکن مہاراشٹر کے پرانے کھلاڑی شرد پوار کیلئے
یہ نئی صورتحال اپنی صلاحٰت کو منوانے کا موقعہ ثابت ہوئی ۔
لگتا تو یہی ہے کہ شردپوار اپنے آپ کو منوانے میں کامیاب رہے ۔
مہاراشٹر میں ایک نئی سرکار برسر اقتدار ہونے والی ہے ،
ایک نیا سیاسی تجربہ ہونے والا ہے ،
ایک نیا سیاسی گٹھ جوڑ بر سر اقتدار ہونے والا ہے ،
جس کے نظریات آپس میں نہیں ملتے ہیں ،
لیکن ۔
اقتدار نے انہیں ایک ساتھ آنے کیلئے آمادہ کرلیا ۔
آج اقتدار کا ہی زمانہ ہے ،
آج نظریات کو پچھلی نشست پر بٹھا دیا گیا ہے ،
اسلئے ۔
مہاراشٹر میں نئی سرکار کے قیام کا امکان بھی پیدا ہوچکا ہے ،
ورنہ ، صدر راج تو نافذ ہی ہوچکا ہے ،
وہی جاری رہتا تھا ،
اور بالواسطہ ریاست پر امت شاہ ( وزارت داخلہ ) کا ہی
راج چلتا ، صدر جمہوریہ اور گورنر مہاراشٹر کی مہر لگا کر ۔
اب مختلف نظریات والی پارٹیاں ایکساتھ حکومت
کیسے بنا سکتی ہیں اور چلا سکتی ہیں ؟
تو اس کیلئے ایک راستہ نکالا گیا ،
اقل ترین پروگرام یا کامن منیمم پروگرام ،
(COMMON – MINIMUM – PROGRAM )
مہاراشٹر میں یہ صورتحال پہلی بار پیدا ہوئی ہے ،
لیکن۔
مرکز میں ایسی صورتحال ماضی میں پیش آچکی ہے ،
اور تب یہی اقل ترین پروگرام کا فارمولہ کام آیا تھا ۔
اب یہی فارمولہ مہاراشٹر میں ایک ایسی حکومت بنوارہا ہے ،
جو ریاست کی تاریخ میں
اپنے آپ میں ایک نیا اور پہلا تجربہ ہوگا ،
لیکن ۔
اس نئی حکومت کے سامنے مسلمان کیا ڈیمانڈ رکھیں ؟
حکومت تو نئی ہے ، لیکن مسلمانوں کے مسائل
وہی پرانے ہیں ، جو کاغذ پر ہی رہتے ہیں۔
گذشتہ ۵ برس کی مدت میں
مہاراشٹر کے مراٹھا سماج کا ایک بڑا مطالبہ
منظور کیا گیا ، جس کیلئے مراٹھا نوجوانوں نے بڑی
جدوجہد کی تھی ، اور قربانی پیش کی ۔
مراٹھا سماج کو تعلیم و سرکاری نوکریوں میں
سولہ فیصد ریزرویشن ملا ۔
مسلمانوں کیلئے ہائی کورٹ نے بھی تعلیم میں
۵ فیصد ریزرویشن کو ہری جھنڈی دکھائی تھی ،
اسے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیاتھا ،
اسلئے مسلم ریزرویشن کا معاملہ سر فہرست ہے ۔
اب نئی حکومت جس میں کانگریس ۔ این سی پی بھی شامل ہیں ،
جنہوں نے ۲۰۱۴ ء میں اپنے اقتدار کے
ٓآخر آخر میں ۵ فیصد ریزرویشن کا جی آر جاری کیا ،
ہائی کورٹ نے ۵ فیصد تعلیم میں مسلم ریزرویشن کی
تب اجازت دی تھی جب سولہ فیصد مراٹھا
ریزرویشن کو مسترد کیا تھا ،
مسلمانوں نے مراٹھا ریزریشن کی بھی حمایت کی تھی ،
اسلئے ،
نئی حکومت کے اقتدار میں مسلمانوں کو بھی ریزرویشن
ملنا چاہئے ، یہ بھی ایک پرانا مطالبہ ہے ۔
ایودھیا معاملہ میں سپریم کورٹ نے بابری مسجد
تو رام مندر والوں کے حوالہ کرنے کا فیصلہ کیا ،
اور مسلمانوں کو پانچ ایکڑ زمین دینے کا بھی حکم دیا ۔
اب بہت سے مسلمان یہ کہہ رہے ہیں
کہ اس ۵ ایکڑ زمین پر مسجد نہیں اسکول ، کالج
یا پھر اسپتال بنا دیا جائے ۔
مسلم پرسنل لا ء بورڈ نے تو مسجد کیلئے ۵ ایکڑ
زمین دینے کی آفر ہی ٹھکرا دی ہے ،
کیونکہ فیصلہ کے خلاف رویو پٹیشن داخل کرنے
کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔
ممبئی میں جوگیشوری علاقہ میں اسمعیل یوسف کالج ہے ،
جو ۶۵ ایکڑ زمین پر پھیلا ہوا تھا ،
آج بھی اس کی ۲۵ ایکڑ زمین خالی ہے ،
اس زمین کو کیوں حاصل نہیںکیا جاتا ہے ؟
اس پر کیوں اسکول ، کالج ، یونیورسٹی ، اسپتال ،
میڈیکل کالج وغیرہ بنایا جاتا ہے ؟
آخر کار یہ ساری زمین ہی ایک مسلمان
سر محمد یوسف کے عطیہ سے مسلمانوں کی تعلیمی فلاح
کیلئے خریدی گئی تھی !!!
جو لوگ بابری مسجد کے عوض دئیے گئے ۵ ایکڑ
پلاٹ پر اسکول ، کالج ، اسپتال کی تجویز
پیش کر رہے ہیں ، ان میں سے کچھ مشہور لوگ
ممبئی میں ہی رہتے ہیں ، انہوں نے کبھی بھی
اسمعیل یوسف کالج کے بارے میں کچھ نہیں کہا ۔
آج بھی یہاں ۲۵ ؍ایکڑ زمین خالی (VACANT )
ہے ، اس پر ہی حکومت کو رضامند کر لیجئے ۔
اس مطالبہ کو بھی نئی حکومت کے سامنے پیش کرنا چاہئے ۔
مہاراشٹر میں اوقاف کی ایک لاکھ ایکڑ زمینات ہیں ،
اگر ان زمینات کو جن میں اسی فیصد پر ناجائز
قبضہ ہے ،
اور قبضہ کرنے والوں یا وقف املاک کی لوٹ مار
کرنے والوں میں مسلمان ہی پیش پیش ہیں ۔
اگر ان وقف املاک کو ہی سدھار لیا جائے ،
تو مہاراشٹر کے مسلمانوں کے تعلیمی ، اقتصادی ،
سماجی مسائل حل ہوجائیں گے ،
اور حکومت سے کسی مدد کی ضرورت ہی پیش نہیں
آئے گی ، اس لئے وقف لینڈ مافیا کا خاتمہ ضروری ہے ،
یہ بھی ایک پرانا مطالبہ ہے ۔
مہاراشٹر میں اقلیتوںکی آبادی ۲۰ ( بیس ) فیصد ہے ،
اور اقلیتی فلاح کا بجٹ زیرو اعشاریہ پانچ فیصد ،
اقلیتی ویلفئر ڈپارٹمنٹ کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ بھی
ایک بنیادی اور پرانا مطالبہ ہے ۔
سچر کمیٹی رپورٹ ، محمود الرحمن کمیٹی رپورٹ ، منڈل کمیشن
اور رنگناتھ مشرا کمیشن رپورٹ پر عمل ہوجائے ،
تو پھر بھلے نظریات بیک سیٹ پر چلے جائیں ،
مسلمانوں کو بھی اقتدارکے ساتھ چلنے میں زیادہ
مشکل پیش نہیں آئے گی ؛ شائد ۔
اقل ترین پروگرام ایک حل ثابت ہو سکتا ہے !!!

اپنا تبصرہ بھیجیں