فرضی تاریخ اور انصاف کی بے بسی؟

فرضی تاریخ اور انصاف کی بے بسی؟
تکلف برطرف : سعید حمید
سوال یہ ہے کہ
کیا انصاف جھوٹی اور من گھڑت تاریخ کے آگے
بےبس ہوجائے گا ؟
کمزور کو صبر کرنا ہوگا ؟
اور جو طاقتور ہوگا وہی بازی لے جائے گا ؟
انصاف کا مطلب انصاف ہوتا ہے ،
لاء اینڈ آرڈر ، تشدد ، فساد کا خطرہ یا ڈر
انصاف کے راستہ کی رکاوٹ نہیں بننا چاہئے ۔
ایک منصف کو صرف یہ دیکھنا چاہئے ،
کہ اس کے فیصلہ سے کہیں انصاف کا خون تو
نہیں ہوجائے گا ؟
اس لئے اسے لاء اینڈ آرڈر ، دنگہ فساد ، تشدد
کی بالکل بھی پرواہ نہیں ہونی چاہئے ،
یہ جس کا کام ہے ، اسے اس پر چھوڑ دیناچاہئے ۔
انصاف ہونا چاہئے ، انصاف کر ناچاہئے ،
سب کو انصاف ملنا چاہئے ،
منصف اور عدالت کا یہی نظریہ ہونا چاہئے ،
عدالت اور پنچایت میں بڑا فرق ہے ،
پنچایت مفاہمت کا کام کرتی ہے ،
عدالت انصاف کرتی ہے ،
فیصلہ سناتی ہے ۔
اور عدالت کے فیصلہ پر عمل لازمی ہے ،
ورنہ ہتک عدالت کی کارروائی ہو سکتی ہے ۔
عدالت اس لئے متبرک ہے ،
کہ ضروری نہیں کہ انصاف کا ترازو
طاقتور کے حق میں جائے ،
اگر کمزور حق پر ہے ،
تو اسے بھی انصاف ملنا چاہئے ،
اس کے حق میں بھی فیصلہ جاسکتا ہے ،
طاقتور کے خلاف بھی فیصلہ جاسکتا ہے ،
لیکن ۔
اگر عدالت بھی پنچایت کی طرح کام کرنے لگے ،
انصاف کی بجائے مفاہمت یا مانڈوالی کا راستہ اپنالے ،
تو اس سے انصاف کی روح متاثر ہوگی ۔
بھارت ایک جمہوری ملک ہے ،
ہمیں اس بات پر ناز ہے
کہ ہم دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہیں ،
ہمیں ناز ہے کہ ہمارا یہ جمہوری ملک سیکولر ہے ،
اس کا ایک دستور ہے ،
اس دستور کی دنیا کا سب سے طویل تحریری دستور
بھی تسلیم کیا جاتا ہے ۔
اس دستور کی بنیاد آزادی ، مساوات ، بھائی چارہ
اور انصاف ہے ، ایسا ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے
کہا تھا ، جو اس دستور کے آرکٹیکٹ تھے ۔
لیکن۔
ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے یہ وارننگ بھی دی تھی ،
اگر اس دستور پر ایمانداری سے عمل ہوگا ،
تب ہی ایک صحیح جمہوریت قائم ہوگی ،
عدالت کا عقیدہ دستور ہے ،
اس کیلئے عدالت کا کوئی دوسرا عقیدہ نہیں ہونا چاہئے ،
دستور کی بنیاد پر انصاف ہونا چاہئے ،
کسی دوسرےعقیدہ کی بنیاد پر نہیں ، کیونکہ عدالت کیلئے
دستور ہی مقدم ہے ،
لیکن۔
جیسا کہ ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے وارننگ دی تھی
اگر اس دستور پر ایمانداری سے عمل نہیں کیا گیا ،
تو پھر یہ دستور محض کاغذات کا پلندہ ہی رہے گا ۔
یہ محض کاغذ پر ہی رہے گا ،
عملاً کچھ اور ہی ہوتا رہے گا ۔
کیا دستور کو کاغذ کا پلندہ بنانے کی کوششیں تیز ہوچکی ہیں ؟
آج کے حالات میں یہ سوال اٹھ رہا ہے ،
جس کا جواب حاصل کرنا بھی لازمی ہے ۔
جھوٹی تاریخ کو آج سے ستر برس پہلے
مذاق ہی سمجھا جاتا تھا ،
لیکن۔
آج اس کو سچ مانا جا رہا ہے ،
اور جھوٹی تاریخ کی بنا ء پر فیصلہ بھی ہو رہے ہیں ،
ان فیصلوں کو تھونپا بھی جارہا ہے ۔
اسلئے ۔
اگر کچھ نہیں کیا گیا ،
کچھ سوچا نہیں گیا ،
تو پھر آگے جانے کیا کیا ممکن ہے ،
یا کیا کچھ ممکن نہیں ہے ؟
اسلئے ، آنے والی نسلوں کیلئے کچھ سوچنا ہوگا ،
کیا فرضی تاریخ کی آڑ میں مستقبل کیلئے
ہماری قوم کی راہ میں کانٹے بچھائے جائیں گے ،
اور ہم خاموش تماشا دیکھتے رہیں گے ؟
کیا پھر تاریخ میں ہمارا نام خاموش تماشائیوں کے طور پر
درج نہیں ہوجائے گا اور آنے والی نسلیں ہمیں
قصور وار نہیں ٹہرائیں گی ؟ اسلئے حالات حاضرہ کو
مستقبل کے تناظر میںدیکھنا ضروری ہے ،
آج کی وقتی پریشانیوں سے راستہ بدلنا درست نہیں۔
فرضی تاریخ اور فرضی الزامات کا بہانہ بنا کر
فاشسٹ طاقتوں نے مظلوم عوام پر کب اور کہاں ظلم نہیں کیا ؟
ہمارے ملک میں یہ سلسلہ آزادی سے پہلے سے جاری تھا ،
آزادی سے قبل بھی فرقہ وارانہ فسادات ہوتے تھے،
کمزور طبقات و اقلیتوں کو نشانہ بنایا جاتا تھا ،
فرضی تاریخ اور فرضی بہانوں کی تب بھی آڑ لی گئی تھی ،
آزادی کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا ۔
آزادی کےبعد سے آج تک پندرہ ہزار سے
زیادہ فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ،
اور حالیہ برسوں میںماب لنچنگ کا سلسلہ شروع کیا گیا ،
تو اس کا مقصد کیا ہے ؟ نشانہ کون ہے ؟ کیوں ہے ؟
ایسے حالات پر ہمارے بزرگوں کی بھی نظریں تھیں ۔
لیکن وہ اپنے موقف سے دست بردار نہیںہوئے ،
اپنے ایجنڈے سے پیچھے نہیں ہٹے ۔
کیوں؟
اس لئے کہ قوموں کی زندگی میں ستر ، اسی ، سو سال کی
کوئی حیثیت ہی نہیں ہوا کرتی ہے !!!
قوموں کے حالات ، اور قسمت پلٹتے پلٹتے کئی سو برس
لگ جاتے ہیں ،
اور جو قوم اس عرصہ میں ثابت قدم رہتی ہے ،
وہی کامیاب ہوجاتی ہے ،
اسلئے ، قومی معاملات میں صبر واستقامت کے ساتھ ساتھ
ثابت قدمی اور دور اندیشی بھی بہت ضروری ہے ،
برٹش راج کو اکھاڑ پھینکنے میں کتنا وقت لگا تھا ؟
دو سو برس !!!
اور کتنی قربانی دی گئی؟
کس قدر جدوجہد کی گئی ؟
کتنے مظالم برداشت کئے گئے؟
جدوجہد آزادی کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے ۔
اب یہ حالات کی ستم ظریفی ہیکہ
آزاد بھارت میں کمزور طبقات اور اقلیتوں کو
دوسری قسم کی غلامی کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے ،
انہیں آج آزادی کی حفاظت اور انصاف کیلئے
اسی طرح جدوجہد کرنا پڑرہا ہے
جس طرح ایک زمانہ میں سارے بھارتیوں نے
آزادی کی حفاظت کیلئے جدوجہد کی تھی ۔
اسلئے ، کامیابی اسی طرح ملے گی ، جس طرح
ہمارے بزرگوں نے برٹش سامراج کا مقابلہ کیا تھا ۔
یہ سچ ہے کہ آج مسلمان ٹارگیٹ نمبر ون ہیں ،
لیکن ۔
یہ بات سچ نہیں ہے کہ آج صرف مسلمان ہی
فاشسٹ اور جارح طاقتوں کا نشانہ ہیں ،
بہت سی دیگر مظلوم اقوام بھی ہیں ،
جو مسلسل نشانہ پر ہیں ،
ان کا بھی مسئلہ فرضی تاریخ ہے ،
ان کو بھی انصاف سے محروم کیا جارہا ہے ،
ان کو بھی برابری کا درجہ نہیں دیا جارہا ہے ۔
یہ کوشش کی جارہی ہیکہ یہ اقوام بھی دوسرے درجہ
کے شہریوں کی طرح زندگی گذارنے پر مجبور ہوجائیں ،
اسلئے انہیں بھی تشدد ، فساد اور
ماب لنچنگ کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔
یہ مظلوم سماج اس ملک کا بہوجن سماج ہے ،
لیکن ، بہوجن سماج بری طرح بکھرا ہوا ہے ،
اس کے آپسی انتشار اور اختلافات نے اسے نقصان پہنچایا ہے ۔
اقتدار سے محروم کیا ہے ، اقتدار سے دور کیا ہے ،
اسلئے ، اس بہوجن سماج کو
اقتدار میں حصہ داری کی جدوجہد کرنی پڑے گی ،
لیکن ، جب بھی وہ اپنی منزل کے قریب آتے ہیں،
دنگہ ، فساد ، تشدد ، بم بلاسٹ یا پھر فرضی تاریخ اور جھوٹے
پروپگنڈہ کے ذریعہ ان کو پھر منتشر کردیا جاتا ہے ۔
یہ بھی پرانا حربہ ہے ، جو نئے نئے انداز میں
استعمال کیا جاتا ہے ۔
اگر ، مطلوم طبقات ،بہوجن سماج نے اپنی وقعت
خود نہیں پہچانی اوراپنی طاقت اسی طرح انتشار کے راستہ
کھوتے رہے ،
تو اب یہ دیش اس منزل کی طرف بڑھ رہا ہے ،
جہاں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کا دستور محض کاغذات
کا پلندہ بنادیا جائے گا ،
قانون بھاری بھاری کتابوں میں دب کر رہ جائے گا ،
فاشسٹ جارحیت میں یقینرکھنے والی طاقتیں اپنا کام کرجائیں گی ،
اور آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی ؛
اب تو جاگو ؛ آنکھیں کھولو !!

اپنا تبصرہ بھیجیں