کی محمدﷺسے وفا !!!

کی محمدﷺسے وفا !!!
تکلف برطرف : سعید حمید
ہر سال یہ دیکھا جاتاہے
کہ کچھ لوگ جشن عید میلاد النبی ﷺ
کو بھی کسی اتسو یا جینتی یا تہوار کی طرھ سمجھ کر
ایسی حرکتیں کرتے ہیں
جو پیغمبر اسلام ﷺ کے شیان شان نہیں۔
نعرہ لگاتے ہیں ؛
رسول ﷺ کا دامن نہیں چھوڑینگے ،
لیکن ۔
جلوس کے دوران کئی نمازیں چھوڑ دیتے ہیں ۔
نعرہ لگاتے ہیں ؛
علی ــ‘ کا دامن نہیں چھوڑیں گے ،
اور ڈی جے میوزک پر بیہودہ ڈانس کرتے ہیں،
نعرہ لگاتے ہیں؛
غوث کا دامن نہیں چھوڑیں گے ۔
اور جلوس میں ڈرامہ بازی کرتے ہیں ،
عجب عجب طرز کے نقاب چہرہ پر لگاتے ہیں ،
عجیب حلیہ بناتے ہیں ،
منہ میں گھاسلیٹ بھر کر آگ پھونکتے ہیں،
لوہے کی پائپ گن بنا کر
اس سے پٹاخہ داغتے ہیں ، آتش بازی کرتے ہیں۔
یہ کس کردار کی جھلک دکھاتے ہیں ؟
یہ کس کردار کا مظاہرہ کرتے ہیں ؟
یقینا ً یہ اسلامی کردار نہیں،
کہ جس سے اسلامی تعلیمات کا دیکھنے والوں پر اثر ہو ،
جلوس عید میلاد النبی ﷺ میں جو خرافات کی جاتی ہے ،
اس کے خلاف صرف زبانی جمع خرچ کیا جاتا ہے ،
اس لئے دیکھا جاتا ہے
کہ علما ء برسہا برس سے اپیل کرتے چلے آرہے تھے ،
جلوس میں ڈی جے مت بجاؤ ،
جلوس کے راستوں میں ڈی جے مت بجاؤ ،
لیکن۔
بھلے مسلمان کوئی اثر نہیں لیتے تھے ،
گذشتہ دو برس سے ایک تنظیم جو صوتی آلودگی
کے خلاف کام کرتی ہے ، اور جس میں
مسلم عہدیداران بھی شامل ہیں ،
وہ ہائی کورٹ میں چلی گئی ،
یہ تنظیم گنپتی اور دیگر تہواروں پر بھی ہونے والی
صوتی آلودگی کے خلاف سرگرم رہتی ہے ،
اب ہائی کورٹ میں پولس کو جواب دینا پڑتا ہے ،
اور ہر سال جلوس عید میلادالنبی ﷺ پر
اہم مسلم علاقوں میں NOISE – POLLUTION
کی ماہرین اور کارکنان جانچ کرتے ہیں ،
اسلئے ڈی جے کے استعمال کے متعلق پولس کا
رویہ قدرے سخت ہوگیا ہے ،
ذرا پوچھئیے کہ ایک مسلمان کو اللہ اور رسولﷺ
سے ڈرنا چاہئے یا پولس سے ؟
اللہ و رسول ﷺ کی ناراضگی سے ڈرنا چاہئے ؟
یا پولس افسران کی ناراضگی سے ؟
ڈی جے تو بجانا ہی نہیں چاہئے ،
اور ڈی جے موسیقی پر رقص کرنا بھی نہیں چاہئے
اس جلوس میں جس کی نسبت رسولﷺ سے ہے ،
وہ سارے کھیل تماشہ جو اغیار کی کسی جینتی ، یا تہوار یا اتسو
سے گویا ادھار لئے گئے ،
وہ شور شرابہ ، وہ دھینگا مستی
جو کسی اور تہوار کا کردار ہو ، اسلامی کردار کا آئینہ نہ ہو ،
اسے تو اس جلوس میں کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں
کیا جانا چاہئے ،
لیکن۔
کون سمجھائے کہ کوئی سمجھنے کیلئے تیار نہیں !!!
موٹر سائیکل سواروں سے تو
مسلم اکثریتی علاقوں میں عام دنوں میں بھی بڑی
تکلیف اور خاصی پریشانی ہوا کرتی ہے ،
لیکن ۔
عید میلادالنبی ﷺ کے جلوس میں
ٹو وہیلر والوں کی دہشت عروج پر ہوتی ہے ،
ان کو گویا اس موقعہ پر ٹرافک قوانین کی کھلی خلاف
ورزی کا کھلا لائسنس مل جاتا ہے ،
ہیلمٹ تو پہننے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے ،
ایک موٹر سائیکل پر کتنی سواری ؟
کس قدر تیز رفتار سواری ؟
گویا جلوس عید میلادالنبی ﷺ ان کیلئے
پلے گراونڈ بن جاتا ہے ،
اپنے کرتب دکھانے کیلئے ،
اور جب پولس والے یا محلہ
کے سمجھ دار افراد وبزرگ انہیں روکنے کی کوشش کریں ؟
تو حجت اور ہلڑ بازی ؟
کیا یہی اسلامی کردار ہے ؟
کیا یہی رسول ﷺ کی تعلیمات ہیں ؟
یا یہ نوجوان اپنے عمل و حرکتوں سے اسلام اور
مسلمانوں کو بدنام کر رہے ہیں ؟
ایک بات جو ممبئی میں جلوس عید میلاد النبی ﷺ کے
آغاز کے متعلق بتائی جاتی ہے ،
وہ یہ کہ اس جلوس کا مقصد ہندو مسلم اتحاد تھا ،
اسلئے ۱۹۱۹ ء میں اس جلوس کی قیادت
مہاتما گاندھی کو سونپی گئی تھی ، اور خلافت تحریک
نے اس زمانہ میں ہندو مسلم اتحاد کے فروغ کا کام کیا ۔
لیکن۔
آزادی کے بعد سے اتحاد کا مقصد پس منظر میں چلا گیا ۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ
ہندو مسلم اتحاد تو درکنار ، کچھ لوگ اس جلوس کو
مسلمانوں کے آپسی انتشار کیلئے استعمال کرنے سے
بھی نہیں چوکتے ہیں ، اور مسلکی اختلافات
کو ہوا دینے کیلئے متنازعہ نعرہ بازی کرتے ہیں ،
بھائی ، بھائی میں تفرقہ پیدا کرنے کی حرکت کرتے ہیں ۔
ایسے عناصر کو روکنے اور ان کی حوصلہ شکنی کی
کوشش بھی نہیں کی جاتی ہے ۔
آج دنیا کے ہی نہیں ، ملک کے حالات بھی نازک ہیں۔
مسلمانوں کیلئے حالات مشکل سے مشکل ہوتے
چلے جارہے ہیں ۔
مسلم اور اسلام دشمن طاقتیں متحد ہوتی جارہی ہیں،
اسلئے ، حالات کا تقاضہ ہے کہ
مسلمان بھی اپنے اختلافات بازو میں رکھ دیں
اور آپس میں متحد ہوجائیں ،
مسلکی اور فرقہ کے اختلافات
کو ابھارنے کی کوشش نہیں کی جائے ،
آج پورے ملک میں ہندو مسلم اتحاد کی باتیں ہورہی ہیں ،
تو کیا اس موقعہ پر یہ یاد دلانا ضروری نہیں ہے
کہ جلوس عید میلادالنبیﷺ کو کچھ لوگ
مسلکی دل آزار نعروں کے ذریعہ مسلمانوں کے درمیان
انتشار کا ذریعہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں،
ایسے افراد کی حوصلہ شکنی ہونی چاہئے ،
جلوس عیدمیلادالنبی ﷺ کا آج سے سو برس
قبل علی برادران نے ہندو مسلم اتحاد کیلئے آغاز کیا تھا ۔
آج اس بات کی شدت سے ضرورت محسوس
کی جارہی ہے ، کہ اس جلوس میں اس سے پہلے
مسلم ۔ مسلم اتحاد کی بات کی جائے ،
مسلم ۔مسلم اتحاد کے نعرہ لگائے جائیں ،
اور کیوں نہ ہو ؟ پیارے نبی ﷺ کا فرمان ہے
کہ ساری امت ایک جسم کی مانند ہے
کہ ایک حصہ کو چوٹ پہنچے تو سارا جسم درد محسوس کرتا ہے ،
اس لئے پیارے نبی ﷺ کی نسبت سے جو جلوس
نکالا جاتا ہے ، اس میں کسی کی بھی دل آزاری نہیں ہونی چاہئے ،
کسی کی مذمت نہیں ہونی چاہئے ،
کسی کا مذاق نہیں اڑانا چاہئے ،
چاہے وہ کوئی غیر مسلم ہو ، یا دوسرے مسلک کا مسلمان۔
جیسے جیسے دن گذرتے ہیں ،
جلوس عید میلادالنبی ﷺ کے مقدس موقعہ کو
کچھ نیا رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے،
اب کچھ لوگوں نے کچھ مسلم علاقوں میں اس مقدس
موقعہ کو میلہ ٹھیلہ کا رنگ دے دیا ہے ،
عورتوں ، مردوں کے ہجوم سڑکوں ، گلیوں میں امڈ پڑتے ہیں ۔
ٹرکوں پر سوار بچے اور نوجوان یوں حرکتیں کرتے ہیں ،
گویا کوئی سیاسی جلوس نکلا ہے ۔
بعض اوقات ، بعض جگہوں پر امڈ پڑنے والی بھیڑ
کی ہجومی حرکات
ناشائستہ اور غیر اسلامی راستہ اختیار کرلیتی ہیں ،
اس لئے اس موقعہ کا تقدس و احترام متاثر ہوتا ہے ،
اس جانب اب تک ذمہ داران کی توجہ بھی کم ہے ۔
اسلئے ۔
ضروری ہے کہ جلوس عیدمیلادالنبی ﷺ کو
ناپسندیدہ حرکات سے پاک کیا جائے ،
اسے قرآن و سنت کی روشنی میں اسلامی کردار کا نمونہ
بنایا جائے ، تاکہ صرف مسلمانوں ہی نہیں
غیر مسلموں پر بھی اس کا مثبت اثر ہو !!

اپنا تبصرہ بھیجیں