اف ! یہ شادی کھانا بربادی

اف ! یہ شادی کھانا بربادی
تکلف برطرف : سعید حمید
آج کل کی شادیاں ؟
انہیں شادی خانہ آبادی نہیں بلکہ
شادی کھانا بربادی کہا جا سکتا ہے ۔
چاہے جس طبقہ کی شادی ہو ،دعوت ہو یا ولیمہ ،
اکثر یہ دیکھا جاتا ہے
کہ بڑی مقدارمیںکھانا برباد ہوتا ہے ۔
دوسری طرف ،
ہمارے ، معاشرے میں ایسے غریب خاندان
بھی ہوتے ہیں جن کو دو وقت پیٹ بھر کھانا
بھی بڑی مشکل سے میسر ہوتا ہے ۔
اگر
شادیوں میں جو کھانا برباد ہوجاتا ہے ،
اسے اکٹھا کیا جائے ،
اسےمحفوظ کیا جائے ،
اس کا بر وقت اورصحیح استعمال کیا جائے ،
اس کی مناسب تقسیم کا انتظام کیا جائے ،
تو کتنے ہی غریبوں کا بھلا ہوسکتا ہے ۔
افسوس کہ اس جانب توجہ کم ہے ۔
اب غریبوں کا بھلا تو خود غریب بھی نہیں
سوچتے ہیں ،
اور شادی بیاہ کے مواقع پر غریب و متوسط طبقہ
کے خاندان بھی زمانہ کے نام نہاد چلن کی
پیروی کرنے کی کوشش میں
شادی بیاہ کو مہنگا بنادیتے ہیں ،
اور پھر شادی کے بعد قرض کے بوجھ میں دب جاتے ہیں۔
شادی کا یہ ہر گزمطلب نہیں
کہ اس کی وجہ سے ایک خاندان قرض میں ڈوب جائے ،
اس لئے مذہب اسلام نے نکاح کو سہل بنایا ،
شادی میں سادگی کی تلقین کی ،
تاکہ شادی کوئی بوجھ یا مصیبت نہیں بن جائے ۔
لیکن۔
آج کل کی شادیاں اگر قرض کا بوجھ یا
مصیبت بن رہی ہیں ،
تو اس میں ہمارا اپنا ہی قصور ہے ۔
آج شادی میں دعوتوں کا چلن بدل چکا ہے ،
اس نئی روش نے شادی بیاہ کو مہنگا بنانے میں
بڑا رول ادا کیا ہے ۔
ایک زمانہ میں محلہ میں ہی شادی کی دعوت
اور ولیمہ کا اہتمام ہوجاتا تھا ،
ہال وغیرہ کرایہ پر لینے کی ضرورت ہی
پیش نہیںآتی تھی ،
ٹیبل ۔ کرسی کا فیشن ایجاد نہیں ہوا تھا ،
کرائے کے ویٹرس نہیں بلائے جاتے تھے ،
دولہا دلہن کے رشتہ دار ، اقارب اور محلہ
والے ہی مہمانوں کو کھانا کھلایا کرتے تھے ،
زمین پر ہی دسترخوان بچھا دیا جاتاتھا ۔
اور ایک دو ہی ڈش عموماًہوا کرتی تھی ،
سالن ۔ نان اور پلاو ٔ
یا پھر دال گوشت ، چاول ، پھر میٹھا ۔
سادگی اور خلوص کی مثال ان دعوتوں کو دیکھنے
اور ان سے لطف اندوز ہونے والی
نسلیں آج بھی موجود ہیں ۔
لیکن ۔
زمانہ نے کروٹ لی اور ہمارے سماج
میں بھی تبدیلی آنے لگی ۔
ایک زمانہ میں انگریزوں یا امیر ترین طبقہ
کی دعوتوں کا جو طریقہ تھا ،
پہلے وہ ہمارے اعلی طبقہ ، پھر متوسط طبقہ
اور آج تو غریب طبقہ میں بھی عام ہوچکا ہے ۔
ا سکو زمانہ کا چلن کہااور سمجھا جاتا ہے ۔
اگر کسی غریب کی مالی حیثیت نہیں ہے کہ وہ
زمانہ کے اس چلن کے مطابق شادی ، بیاہ کا اہتمام کرے ،
تو اسے قرض لینے پر بھی مجبور ہونا پڑتا ہے ،
سماجی دباؤ اس قدر ہے کہ والدین بھی مجبور ہیں ۔
اس لئے ہمار اسماج بھی آج دو طبقوں میں بٹ چکا ہے ،
ایک جانب امیر اور خوشحال طبقہ ہے ،
جو شادی کے ایک استقبالیہ (RECEPTION ) پروگرام
پر بھی ایک رات میں کروڑوں روپئے
ہال ، ڈیکوریشن ، آرکسٹرا ، ویڈیو شوٹنگ اور کھانے پینے پر
خرچ کردیتا ہے ، اور روپئے پانی کی طرح بہا دیتا ہے ۔
دوسری جانب ۔
متوسط اور غریب طبقہ کے والدین ہیں ۔
جو انتہائی TIGHT – BUDGET لیکر چلتے ہیں ،

پھر بھی قرض میں ڈوب جاتے ہیں ۔
کیونکہ ۔
شادی بیاہ کے اہتمام اور تقریبات میں
رفتہ رفتہ متوسط اور غریب طبقہ نے بھی
امیر اور خوشحال طبقہ کی پیروی شروع کردی ،
اسلئے۔
آج ہر ایک شادی میں ہال کی تلاش کی جاتی ہے۔
اب ، مسلم اکثریتی علاقوں میں اسکول ، کالج کی طرح
ہال کا دھندہ بھی چل نکلا ہے ،
اس لئے جگہ جگہ شادی بیاہ کے ہال بن چکے ہیں ،
اور بن رہے ہیں ۔
ہال میںآج کل مونوپولی (MONOPOLY ) بھی ہوا
کرتے ہے ، جو درحقیقت استحصال کا دوسرا نام ہے ۔
اب جو ہال لیا ، تو اس میں مونوپولی رکھنے والے
گنتی بھر ڈیکوریٹرس ، اور کیٹررس میں سے
کسی ایک کا انتخاب کیجئے ۔
کھانے کیلئے ٹیبل کرسیوں کا اہتمام اب ہر طبقہ کیلئے لازمی
ہوگیا ہے ، اور زمین پر بیٹھ کر کھانے کا چلن ختم ہوگیا ہے ۔
ساتھ ہی اب ویٹرس ( جن میں مرد و خواتین شامل ہیں)
کا ا نتظام بھی ضروری سمجھا جاتا ہے ۔
آج کل کی دعوتیں ؟
اب ویلکم ڈرنک لازمی ہوچکا ہے ۔
مہمان تشریف لائیں ، تب بھی سوکھے سوکھے
کیسے بیٹھے رہیں ؟
اس لئے انہیں خوش آمدید کہنے کیلئے ویلکم ڈرنک
پیش کیا جاتا ہے ،
ایک دہائی سے شروع ہونے والا یہ نیا سلسلہ
اب غریب طبقہ تک کی شادیوں میں چلن بن چکا ہے ۔
شربت یا پھلوں کا جوس ، قسم قسم کا ہو،
کم ازکم تین چار قسم کے ویلکم ڈرنکس تو چھوٹی موٹی
شادیوںمیں ہی رکھے جاتے ہیں ،
اور پھر۔
ویلکم ڈرنکس بھی تعریف یا تنقید کا موضوع بن جاتے ہیں۔
ویلکم ڈرنکس گویا کہ شادی بیاہ کی تقریبات
کا ٹائم پاس آئٹم بن چکے ہیں ۔
غریب طبقہ اکثر اپنے TIGHT – BUDGET کی
وجہ سے BOUFETT SYSTEM سے گریز
کرتا ہے ، کیونکہ کیٹرر تو فی پلیٹ اپنا چارج لیتا ہے ،
اور بوفے سسٹم میں پلیٹوں پر قابو پانا بڑا مشکل ہوتا ہے ،
دوئم ، جب شادیوں میں کھانا بربادی کی بات کی جاتی ہے ،
تو یہ دیکھا جاتا ہے
کہ بوفے سسٹم میں ہی کھانا بہت برباد کیا جاتا ہے ۔
قسم قسم کے پکوانوںکے اسٹلز کی قطاریں
دیکھ کر کھانے والا للچا جاتا ہے ،
اور اپنے پیٹ کی گنجائش پر نظر رکھنے کی بجائے
ہر آئیٹم اپنی پلیٹ میں ڈال دیتا ہے ،
لیکن۔
پیٹ کی بھی حد ہوتی ہے ،
جولالچ اور پلیٹ کی حد سے بہت کم ہوتی ہے ،
اسلئے ۔
بوفے اسٹائل میں دیکھا جاتا ہے ؛
کہ ڈھیر سارا کھانا جھوٹی پلیٹ کے ساتھ
کچرے کے ڈبہ میں پھینک دیا جاتا ہے ۔
امیر و خوشحال طبقہ کیلئے یہ نقصان معمولی سی بات ہے ،
لیکن متوسط و غریب طبقہ کا محدود بجٹ اس کی اجازت نہیں
دے سکتا اس لئے وہ بوفے طرز کو ترک کرتے ہیں ،
ویٹرس کے ذریعہ ٹیبل پر کھانا سرو کیا جاتا ہے ،
ٹیبل پر بیٹھنے کے بعد دعوت کااصلی اہتمام دیکھنے ملتا ہے ۔
پہلے تو اسٹارٹر (STARTER ) ، وہ بھی کئی قسم کے ،
اب کسی دعوت میں کتنے اسٹارٹرس تھے ، کیا کیا تھے ،
اس پر بھی تعریف و تنقید ہوتی ہے ،
اس کے بعد مین کورس ( MIAN – COURSE )
جن میں کئی قسم کے سالن ، نان ، روٹیاں ، بریانی ، پلاؤ
اور پھر (DESSERT ) یعنی میٹھا ۔
اس سسٹم میں بھی کھانا ضائع ہوتا ہے ،
لیکن بوفے سسٹم سے کچھ کم ۔
البتہ ، شادی کے بعد رات دیر گئے
کئی دعوتوں میں یہ پتہ چلتا ہے کہ مہمانوں نے
کھاکر جو چھوڑ دیا ، وہ کھانا ۔
اور مہمان اگر اندازہ سے کم آئے تو بچا ہوا کھانا
اب نصف شب یا اس کے بعد کس کو دیا جائے ،
یہ مسئلہ کھڑا ہوجاتا ہے ،
اور اگر کھانا زیادہ دیر تک تقسیم نہ ہو
کسی مستحق کے ہاتھ نہ لگے ، تو خراب ہوجاتا ہے ۔
دوسرے دن ایسا کھانا کچرے کے ڈھیر میں نظر آتا ہے ،
آج کل ایسا کچھ زیادہ ہی ہو رہا ہے ،
اس لئے شادی خانہ آبادی کو
شادی کھانا بربادی بننے سے روکنا ضروری ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں