بھیونڈی ایسٹ اور ویسٹ کا یہ فرق

بھیونڈی ایسٹ اور ویسٹ کا یہ فرق
تکلف برطرف : سعید حمید
بھیونڈی شہر سے اس اسمبلی الیکشن میں ایک سبق ملا ۔
ایسٹ اور ویسٹ بھیونڈی کے دو اسمبلی حلقہ ہیں ۔
حالیہ اسمبلی الیکشن میں بھیونڈی ایسٹ اور
ویسٹ کے نتائج متضاد رہے ،
یہاںکے نتائج سے سبق حاصل کرنا بہت ضروری ہے ،
یہ نتائج کیا تھے ؟
بھیونڈی ایسٹ میں دو بڑے ہندو امیدوار
آپس میں ہی لڑ پڑے ،
اس لڑائی میں ایک مسلمان امیدوار کامیاب ہوگیا ۔
اور بھیونڈی مغرب میں کیا ہوا ؟
یہاں دو بڑے مسلمان امیدوار آپس میں لڑ پڑے ،
اس لڑائی میں ایک ہندو امیدوار کامیاب ہوگیا ۔
ہم بھیونڈی ایسٹ اور ویسٹ کے نتائج کو قدرے
تفصیل سے پیش کرتے ہیں ،
بھیونڈی ایسٹ میں پہلے تین امیدواروں کے حاصل کردہ
ووٹوں کو ملاحضہ کیجئے ۔
(۱) رئیس قاسم شیخ ( سماج وادی پارٹی ) ؛
حاصل کردہ کل ووٹ:
۴۵۵۳۱ ( ۴۵ ہزار ۵ سو ۳۱ )
(۲) سنتوش منجیا شیٹی ( کانگریس )
حاصل کردہ کل ووٹ :
۳۲۱۶۵ ( ۳۲ ہزار ایک سو ۶۵ )
(۳) روپیش لکشمن مہاترے ( شیو سینا )
حاصل کردہ کل ووٹ :
۴۴۰۸۱ ( ۴۴ ہزار ۸۱ ووٹ )
اگر دونوں ہندو امیدواروں کو ملنے والے
ووٹ اکٹھا کرد ئیے جائیں ۔۔ تو ۔۔؟
اب بھیونڈی ویسٹ کا اسی طرح تفصیلی نتیجہ بھی
ایک نظر میں دیکھ لیجئے :
(۱) چوگلے مہیش پربھاکر ( بی جے پی )
حاصل کردہ کل ووٹ :
۵۸۸۱۶ ( ۵۸ ہزار ۸ سو ۱۶ )
(۲) خالد گڈو ( آزاد ۔ مجلس )
حاصل کردہ کل ووٹ :
۴۳۹۳۷ ( ۴۳ ہزار ۹ سو ۳۷ )
(۳) خان شعیب گڈو ( کانگریس )
حاصل کردہ کل ووٹ :
۲۸۳۴۵ ( ۲۸ ہزار ۳ سو ۴۵ )
اگر بھیونڈی ویسٹ میں دونوں مسلم امیدواروں
کو ملنے والے ووٹ اکٹھا کرلیئے جائیں تو ۔۔؟
بس یہی ہے ،
وہ پرانا سبق اتحاد کا
جو بار بار نئے نئے انداز میں ہمارے سامنے
آتا ہے کہ اتحاد میں طاقت ہے ،
انتشار موت ہے ۔
بھیونڈی ایسٹ اور ویسٹ کے ان نتائج نے
ایک بارپھر ثابت کیا کہ اتحاد میں طاقت ہے ،
انتشار کمزوری اور ناکامی کا سبب ہے ۔
آج کے زمانہ میں جب کہ مخالفین مسلم دشمنی
کے ایجنڈے پر ہی اپنی سیاست چلا رہے ہیں ،
یہ ضروری ہے کہ مسلم اتحاد کا راستہ
قومی و ریاستی سیاست میں ہموار کیا جائے ،
افسوس کہ ہماری قوم میں ایسے شاطر
افراد اور تنظیموںکی کمی نہیںہے ،
جو اتحاد کے عنوان کو بھی انتشار پھیلانے کا
ایک ذریعہ یا ہتھیار بنا لیتے ہیں ۔
بھولے بھالے عوام کی آنکھ بڑی دیر بعد کھلتی ہے ،
اس وقت تک
انتشار پسند طاقتوں کا کھیل کامیاب ہو جاتا ہے ۔
اب اس کی مثال ہم اورنگ آباد ۔ایسٹ حلقہ کی پیش
کرسکتے ہیں کہ یہ حلقہ مسلم ۔ دلت اکثریتی حلقہ ہے ،
لیکن۔
یہاںسے پردیپ جیسوال جو شیوسینا کا امیدوار تھا ،
وہ کامیاب ہوکر ایم ایل بن گیا ۔
کیسے ؟
وہی فارمولہ پھوٹ ڈالو ، اور سیٹ حاصل کرو !!!
اس مسلم دلت اکثریتی حلقہ میں ۳۴ ؍امیدوار میدان میں تھے ،
( اور ایک تھا ۔۔۔نوٹا NOTA ،
جس نے ایک ہزار ۹ سو ۴۱ ووٹ ضایع کئے ) ،
ان ۳۴ امیدواروں میں سے ۱۳ ( تیرہ ) امیدوار
مسلمان تھے ، اور بیس( ۲۰ ) دلت امیدوار ۔
صرف ایک جیسوال ۔
جس نے ۴۸ فیصد ووٹ حاصل کئے ،
اور ۵۲ ( باون فیصد ) ووٹ ۳۳ ؍ امیدواروں
میں تقسیم کردئیے گئے ۔
ایک جیسوال کامیاب ہوگیا ۔
جہاں اس ملک کی سیاست میں مسلم اتحاد
حیرت انگیز نتائج برآمد کر سکتا ہے،
وہیں ؛ مسلم ۔ دلت اتحاد تو انقلاب بپا کرسکتا ہے ۔
لیکن ۔
دلت مسلم اکثریتی حلقوں میں کیسا کھیل کھیلا جاتا ہے ،
اس کی ایک مثال اورنگ آباد ایسٹ کا حلقہ ہے ،
جہاں بیس دلت اور تیرہ مسلمان امیدوار
کھڑے ہوگئے یا کھڑے کردئیے گئیے ،
اور فرقہ پرست طاقتوں نے مسلم ۔ دلت اکثریتی علاقہ
میں بھی بازی مار لی ۔
الیکشن کے قریب آتے آتےمسلمانوں میں
یہ بحث بھی زور پکڑ جاتی ہے
کہ اسمبلی میں مسلم نمائیندگی بھی ریاست میں
مسلم آبادی کے متناسب ہونی چاہئے ،
چونکہ الیکشن کا تعلق براہ راست عوام سے
ہوا کرتا ہے ،
اسلئے ، مسلم نمائیندگی کو بڑھانے یا گھٹانے
کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی ؟
یقیناً ؛ زیادہ تر مسل ووٹروں پر ۔
مہاراشٹر میں مسلمانوں کی آبادی گیارہ فیصد ہے ۔
اس لحاظ سے مہاراشٹر اسمبلی میں انتیس ( ۲۹ )
مسلم ایم ایل ہونے چاہئیں ۔
بی جے پی تو کسی بھی مسلمان کو ایم ایل اے
یا ایم پی کا ٹکٹ نہیں دیتی ہے ،
شیوسینا نے اس مرتبہ ایک مسلمان کو ایم ایل اے
کا ٹکٹ دیا ،
لیکن یہ دونوں پارٹیاں تمام مسلم اکثریتی علاقوں
یا ان حلقوںمیں بھی جہاںمسلم ووٹ کافی سیاسی اثر
رکھ سکتے ہیں ،
اپنے اپنے امیدوار ضرور کھڑا کرتی ہیں ،
کیوں ؟
اس لئے کہ انہیں یہ اعتماد ہوا کرتا ہے
کہ مسلم ووٹ بہ آسانی منتشر کئے جاسکتے ہیں ،
اور مسلم اکثریتی حلقوں
یا مسلم دلت اکثریتی حلقوں سے بھی بی جے پی
اور شیوسینا کا امیدوار کامیاب ہوسکتا ہے ،
اس کی انتہائی اہم و حالیہ مثالیں
بھیونڈی ویسٹ اور اورنگ آباد ایسٹ
کے نتائج ہیں ۔
انہیں ہمارے اتحاد سے خطرہ محسوس ہوتا ہے ،
اس لئے وہ ہماری صفوں میں انتشار پیدا کرنے کی
پوری کوشش کرتے ہیں۔
ہم اپنے اتحاد سے اسمبلی میں مسلم نمائیندگی
میں اضافہ کرسکتے ہیں،
ہم یہ بات بھول جاتے ہیں ،
اسلئے چاندیولی ممبئی ، جیسے نتائج بھی ہمیں کم از کم
پانچ برس تک کیلئے افسوس میں مبتلا کر جاتے ہیں۔
چاندیولی سے اسمبلی میں مزید ایک مسلم نمائیندگی
ممکن ہوسکتی تھی ،
لیکن ۔ سٹنگ ایم ایل اے عارف نسیم خان
۸۵۴۷۰( ۸۵ ہزار چار سو۷۰ ) ووٹ
حاصل کرنے کے باوجود محض چار سو نو
ووٹوں کے فرق سے شکست کھا گئے اور ایک مسلم
امیدوار کو اسی حلقہ سے آٹھ ہزار سے زیادہ ووٹ ملے ۔
اس حلقہ سے اسمبلی میں ہونے والی مسلم نمائیدگی
شیو سینا کے کھاتے میں چلی گئی ۔
مہاراشٹر اسمبلی میںریاست میں مسلم آبادی کے
تناسب سے ۲۹ مسلم ممبران اسمبلی ہونے چاہئیں،
لیکن۔
نئی اسمبلی میںدس مسلم ممبران منتخب ہوئے ہیں ۔
ان میں بھی کچھ مسلم ایم ایل اے ایسے منتخب ہوئے جنہیں
اپنے حلقوں میںغیر مسلم ووٹرس کے انتشار کا فائدہ ہوا ۔
پھر بھی مسلم آبادی کے تناسب سے نئی اسمبلی میں
مسلمان ممبران اسمبلی کی تعداد بہت کم ہے ،
مزید انیس( ۱۹ ) مسلمان ایم ایل اے کامیاب ہوں ،
تب مسلم نمائیندگی متناسب ہوگی ،
اس کا مطلب یہ ہیکہ مسلمانوںکے حق کی انیس (۱۹)
ایم ایل اے سیٹوں پر اغیار ایم ایل اے بنے ہوئے ہیں ،
اگر قوم کا حق نہیں مل سکا ہے ،
تو کیا اس میں ہمارا اپنا قصور ، ہمارے اختلافات کا قصور
نہیںہے کہ ہم سیاسی طاقت بننے کیلئے درکار
اتحاد پیدا نہیںکر پا رہے ہیں اور مخالفین ہماری
ہی صفوںمیں انتشار پیدا کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں؟
اس اسمبلی الیکشن کے کئی حلقوں کے نتائج ہمیں
ان باتوں پر غور کرنے کیلئے مجبور کر سکتے ہیں !!!

اپنا تبصرہ بھیجیں